کرب ناک چیخیں

14

عالیہ ذوالقرنین
سانحہ قندوز… تاریخ کا ایک سیاہ دن… کیا لکھوں… دکھ بھی کبھی لکھے جاتے ہیں؟ آہیں، سسکیاں بھی کبھی الفاظ میں ڈھل سکے ہیں؟ ایک ماں اور باپ کی زندگی کا خوبصورت ترین دن جب ایک ننھی جان ان کی جھولی میں ڈال دی جاتی ہے۔ باپ کی مشقت اور چہرے پر پڑتی جھریاں بڑھتی ہیں تو بچہ قدم قدم چلنا سیکھتا ہے۔ ماں کی صحت اور طاقت بچے میں منتقل ہوتی ہے تو وہ قلقاریاں مارنا شروع کرتا ہے ۔ لمحہ لمحہ اس کی زندگی کی پلاننگ کرتے ماں باپ اپنی زندگیاں بچے پر نچھاور کرتے جاتے ہیں تب کہیں جا کر وہ اس قابل ہوتا ہے کہ مستقبل میں کچھ کر سکے۔ مگر میں یہ سب قلم کیسے بیان کر سکتا ہے؟
قلم کیسے بیان کر سکتا ہے کہ الحمد سے و الناس تک قرآن سینے میں کیسے اترتا ہے؟ ننھی جانیں اپنی نیندیں ختم کرتی ہیں، کھانے کے بجائے منزل، سبق، سبقی کی فکر کرتی ہیں۔ بیٹھے ہوئے گلے اور سوجے ہوئے پاؤں کے ساتھ التحیات کی شکل میں بیٹھے ہل ہل کر کلام اللہ کو دل میں اتارنے کی مشقت۔ یہ سب قلم کیسے بیان کر سکتا ہے؟
وہ عید سے بڑھ کر دن کی خوشی کیسے الفاظ میں بتائی جا سکتی ہے؟ جب والدین اور بچے ساری رات سوتی جاگتی کیفیت میں گزارتے ہیں کہ صبح ان کو اس محنت کا صلہ ملنا ہے جو سالہا سال پر محیط ہے کہ اس دن ان معصوموں نے فخر ملائکہ بننا ہے۔ نہا دھو کر نئے کپڑے پہن کر سر فخر سے بلند کیے سینے چوڑے کیے مدرسے میں داخل ہونے کی کیفیت قلم کیسے بیان کر سکتا ہے؟ آج ساری نظروں کا قابلِ رشک انداز میں دیکھنا، اساتذہ کے خوشیوں سے دمکتے اور جگمگاتے چہرے، لمحہ لمحہ میں پھوٹ پڑنے والی ہنسی، وصول ہوتی ہوئی محنت کی خوشی قلم کیسے بیان کر سکتا ہے؟ سجے ہوئے اسٹیج پر لمبی قطار میں باری باری آگے بڑھتے، احترام سے سرجھکا کر اپنے اساتذہ کے ہاتھوں کا بوسہ لیتے طلبہ کے تمتاتے چہرے اور پھر یکلخت منظر بدلتا ہے۔
قلم کیسے بیان کر سکتا ہے اس کان پھاڑ دینے والے دھماکوں کو جنہوں نے کئی ننھے پھولوں کے دل پہلے ہی بند کر دیے اور پھر اس بارود کی بو اور جسم میں جا بجا اترتے آگ کے نوک دار نشتر جنہوں نے وار بھی کیا تو قرآن کے باوضو طلبہ پر۔ قلم کیسے بیان کر سکتا ہے اس قیامت صغریٰ کو جس نے دو سو گھروں میں ماتم بپا کر دیا۔ جس نے ننھے پھولوں کو خوشی کی چند گھڑیاں بھی گزارنے نہیں دی۔ قلم کیسے بیان کر سکتا ہے ان ماؤں کے نوحے جنہوں نے اپنے بچوں کو تیار کر کے سند حفظ قرآن لینے بھیجا تھا آج تو گھروں میں شیرنیاں تقسیم ہونی تھیں آج تو ان معصوم شہداء کو دستارِ فضیلت سروں پر سجائے پھولوں کے جھرمٹ میں گھر جانا تھاجو اب کٹے پھٹے چیتھڑے نما جسموں کے ساتھ گھر پہنچے ہیںمگر یہ سب نیا تو نہیں قلم کیسے بیان سکتا ہے ۔
دنیا کے سب سے بڑے دریا ’’دریائے خون مسلم‘‘ کی فراوانی ہے۔ جو کابل سے بغداد تک اور کشمیر سے شام اور القدس تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ دریا گزشتہ آدھی صدی سے کبھی خشک نہیں ہوا، اس میں ہر وقت تازہ خون بہتا رہتا ہے مگر اب اور نہیں۔ ہمیں اٹھنا ہوگا، شاید اب خواب غفلت سے نکلنا ہوگا۔ جو کچھ کر سکتا ہے اپنے آپ سے پوچھے۔
لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں کیا ہے۔۔؟ ہم کیا کر سکتے ہیں ۔۔ آپ کے ہاتھ میں قلم تو ہے، آپ کے پاس سوشل میڈیا کی طاقت تو ہے، آپ کے پاس ووٹ کی طاقت تو ہے۔ آپ کے پاس دلاسہ دینے کے لیے زبان تو ہے۔ آپ کے پاس وہ دل تو ہے جو امت مسلمہ کا درد محسوس کرے۔ اٹھائیے قلم سچ لکھیے اور دنیا کو دکھا دیجیے کہ اصل دہشت گرد کون ہے۔ ان انسانیت کے علمبرداروں کی اصلیت کیا ہے۔ امت کا درد اگر محسوس ہو رہا ہے تو اس کو بیان کیجیے۔۔ چیخ چیخ کر سر پر اٹھا لیں اس میڈیا کو جیسے برما کے لیے کیا تھا، شوشل میڈیا کے ذریعے برما کے ظلم و ستم سب نے دیکھے سب اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ اب بھی ان کے لیے بھی آواز اٹھائیں سوئی ہوئی اس قوم کو جگائیں ہتھیار سے نا سہی قلم سے ہی جہاد کیجئے وقت کی نزاکت ہے۔ جب موقع ملا تو ان شاء اللہ ہتھیار سے بھی کریں گے۔ قیامت کے دن یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ ہاں بتاؤ کہ تمہارے ہاتھ میں کیا تھا؟ آئیں مل کر پوری دنیا میں آواز بلندکریں، اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی مدد کر کے اپنا حق ادا کریں ۔ اپنی جانوں سے اپنے قلم سے ورنہ ہم خدا کے حضور اپنا جواب سوچ لیں۔

حصہ