نگراں وزیراعظم کون ہوگا؟۔

27

محمد انور
دور رواں کی سیاست تو ویسے بھی سیاست سے زیادہ تجارت ہے۔ ملک اور قوم کی خوش قسمتی کہ عین عام انتخابات کے قریب ممتاز تاجر و سابق صدر مسلم لیگ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ نے تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس فیصلے سے قانون کی حکمرانی کی احیا ہوئی ہے۔ قانون سب کے لیے ایک ہی ہونا چاہیے اور انصاف سب کے ساتھ کیا جانا ضروری ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ملک کی حکمراں جماعت پر اپنے چیئرمین کی نااہلی سے کیا اثر پڑے گا اور اس کا آئندہ قدم کیا ہوگا۔ فی الحال میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف 22 کروڑ عوام کی جنگ لڑ رہے ہیں ، 70 سال سے عوامی نمائندوں کے ساتھ یہی کچھ ہورہا ہے۔ مسلم لیگ کو 2018 کے الیکشن میں بارش کی طرح ووٹ پڑے گا ۔
ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں سیاسی رہنماؤں کی اکثریت سیاست بھی اپنی ذات کے لیے ہی کرتیں ہیں اگر یہ تاثر غلط ہے تو آج نواز شریف اور ان کی بیٹی عدالت عظمی کے اس فیصلے پر اس طرح ردعمل ظاہر نہیں کرتیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ کے سب ہی رہنما نواز شریف کی ناہلی کو پوری پارٹی کی نااہلی تصور کرتے ہیں۔ غیر جمہوری طور پر چلائی جانے والی ایسی جمہوری جماعتوں میں ایسا ہی کچھ تو ہوتا ہے۔ اگر مسلم لیگ خالصتاً جمہوری پارٹی ہوتی تو اپنے رہنما کے خلاف قانونی اقدام کو غلط تسلیم کرکے عدالت کا فیصلہ تسلیم کرلیا جاتا۔
نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے سے نا تو قوم منتشر ہوگی اور نا ہی ملک کا کوئی نظام متاثر ہوگا لیکن خدشات ہیں کہ مسلم لیگی رہنما ائندہ کی حکمت عملی سے ایسا کچھ کریں گے جس کی وجہ سے ان کے عام کارکن سڑک پر آئیں اور امن و امان کی فضا خراب ہو ۔ اگر ایسا بھی ہوا تو کسی اور کو نہیں بلکہ خود مسلم لیگ نواز کی موجودہ حکومت کو نقصان پہنچے گا اور اسے موجودہ حکومت کی مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع نہیں مل سکے گی ۔ اس طرح مقررہ وقت یعنی 24 مئی تک موجودہ حکومت ختم ہوجائے گی اور وفاق اور صوبوں میں نگران حکومتیں قائم کردیں جائیں گی۔
نواز شریف کی تاحیات نااہلی کی وجہ سے نگراں حکومت کی تشکیل بھی مسلم لیگیوں کی سو فیصد خواہشات کے مطابق نہیں ہوسکے گی۔ چونکہ نواز شریف اپنی ہی تشکیل شدہ حکومت سے مطمئن نظر نہیں آتے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ ان کی ذہنی کیفیت مزید خراب ہوگی جس کی وجہ سے خواہشات کے مطابق وہ نگراں وزیراعظم کے لیے نام نہیں دیں سکیں گے یا ان کے تجویز کردہ نام کو خود ان کی جماعت تسلیم نہیں کرے گی۔
نگراں حکومت کے قیام کے لیے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے نام تجویز کیے جاتے ہیں۔ لیکن خیال ہے کہ دونوں طرف سے متفقہ ناموں کا فیصلہ نہیں ہو پائے گا اور پھر تیسری اور ایم قوت کی طرف سے پیش کردہ نام کو نگران وزیراعظم بنادیا جائے گا۔
ممتاز قانون دان اور آئینی ماہر بیرسٹر خواجہ نوید کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر نگراں وزیراعظم کے نام اپوزیشن اور حکومت کی جانب سے نہیں ائے تو پھر سینیٹ کے چیئرمین کی طرح کسی ایسی شخصیت کا نام سامنے آجائے گا بلکہ وہی نگراں وزیراعظم بن جائے گا جو دونوں یعنی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو کڑوے گھونٹ کے طور پر برداشت کرنا پڑے گا۔
اسی طرح کی صورتحال صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وفاق اور صوبوں کے وزرا کے لیے بھی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
ملک کی موجودہ صورتحال میں وفاق اور صوبوں کی حکومتوں کی کارکردگی سامنے رکھ کر عام افراد چاہتے ہیں کہ اب ایسی جمہوریت کا” وقفہ ” ہونا چاہیے جس کا دورانیہ کم ازکم تین سال ہو تو بہتر ہے۔
بہرحال عوام نے بہت عرصے بعد ملک کے سپہ سالار کی زبانی یہ خبر سنی ہے کہ ملک کے اچھے دن آنے والے ہیں۔
ملک مشکل حالات سے باہر نکل ایا ہے۔ کچھ لوگ باہر اور کچھ اندر سے ملکی سا لمیت کے درپے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک پاک فوج کے پیچھے قوم کھڑی ہے ملک کو کچھ نہیں ہوسکتا۔
آرمی چیف کا یہ بیان یقینا قوم کے لیے اطمینان کا باعث ہے۔ قوم کو اطمینان ہے کہ فوج تمام صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے وہ کرپٹ سیاستدانوں کے حوالے ملک کو نہیں ہونے دے گی۔
قوم کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ملک کی ضروریات کے لیے کسی بھی وقت کچھ بھی کیا جاسکتا ہے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو سول مارشل لا تک لگاچکے ہیں حالانکہ اس وقت جمہوریت کو استحکام دینے کی ضرورت تھی۔

حصہ