شریک مطالعہ

27

نعیم الرحمٰن
عرفان جاویداردوکے نوجوان قلمکارہیں۔انہوں نے بہت کم وقت میں اپنے پراثر،سادہ اوردلنشین اسلوب کاسکہ جمادیاہے۔عرفان جاوید کی تخلیقات ملک کے مستند ادبی جرائد ’’فنون‘‘، ’’سویرا‘‘، ’’دنیازاد‘‘، ’’معاصر‘‘ ’’نقاط‘‘ اور ’’سمبل‘‘ میں شائع ہوکرمعروف اہل قلم سے داد حاصل کرچکی ہیں۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ’’کافی ہاؤس‘‘ نے قارئین کو چونکا دیا تھا۔ پھر آصف فرخی اور محمد الیاس کے افسانوں کا انتخاب اور تنقیدی تعارف پر مبنی دو کتابیں ’’سمندر کی چوری‘‘ اور ’’مورتیں‘‘ شائع ہوئی۔ عرفان جاوید نے افسانے سے خاکہ نگاری کی جانب رجوع کیا۔ ان کے خاکوں کی کتاب ’’دروازے ‘‘ سنگ میل نے شائع کی ہے۔ بڑے سائز کے دوسوچھپن صفحات کی کتاب کی قیمت بارہ سوروپے مناسب ہے۔ کتاب کے چند خاکے معاصراردو روزنامے کے سنڈے ایڈیشن میں شائع ہو کر قارئین کی داد حاصل کرچکے ہیں۔
مشہور ادیب، شاعر، ہدایت کار، فلم ساز اور دانشور گلزار کا کہنا ہے کہ ’’عرفان صاحب خوب لکھتے ہیں۔ کچھ لوگ یادرہتے ہیں اپنی تہذیب کی وجہ سے اورکچھ تہذیبیں اورتمدن یادرہ جاتی ہیںکچھ لوگوں کی وجہ سے !اس باب میں ایک پوری کی پوری تہذیب زندہ ہوجاتی ہے عرفان صاحب کے بیان سے۔افسوس کہ وہ لوگ نہ رہے لیکن تغیرکوکون روکے۔نہ لوگ رُکتے ہیں،نہ وقت رُکتاہے،نہ تہذیبیں، نہ تمدن۔ تغیرلازمی ہے۔
نامور ناول نگار مرحوم عبداللہ حسین نے عرفان جاوید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھاکہ ’’حیرت ہے کہ اس کم عمری عرفان جاوید نے اتنا طویل تجربہ حاصل کرلیاکہ اپنے سے کہیں سینئرادیبوں پرکمندپھینک کران کے برابرجاکھڑے ہوئے ہیں اوران کے ورق ورق کوالٹ کران کے کام اورزندگی کومنظرعام پرلارہے ہیں۔نصیرکوی صاحب کی روداد نے مجھے سب سے زیادہ متاثرکیاہے۔تنگ دستی میں گزاراکرتے رہے،صلہ کچھ طلب نہ کیا،عقیدہ کسی حالت میں ترک نہ کیا،اورآخرمیں گم نامی کی موت مرے۔ایک معمولی آدمی کونام ورلوگوں کے برابر کھڑا کرکے عرفان جاوید نے انسان دوستی کا ثبوت دیاہے۔‘‘
مصنف ،ناول نگار، کالم نگار، اداکار اورنہ جانے کیا کیا مستنصر حسین تارڑ کہتے ہیںکہ’’عرفان ایک بھٹکی ہوئی خودسر اور بے چین روح ہے اور روحوں کاکچھ پتانہیں ہوتاکہ وہ بھٹک کرکہاں نکل جائیں۔وہ افسانے کے کوچے میں توبھٹکتاہی ہے لیکن جب کبھی خاکہ نگاری کی گلی میں آنکلتا ہے تواپنی جادوگری سے ہم سب کومتحیرکردیتاہے۔وہ اُس ادبی شخصیت کوصرف بیان ہی نہیں کرتابلکہ اُ س کے رگ وپے میں حرکت کرتااُس کاایک حصہ بن جاتاہے کہ کچھ خبرنہیں ہوتی کہ ان میں ہیرکون اوررانجھاکون ہے۔عرفان جاوید کے یہ خاکے کبھی خاک نہیں ہوں گے۔‘‘
بھارتی ادیب، تنقید نگار، مستند مدیر اور دانشور شمس الرحمن فاروقی کا کہنا ہے کہ ’’عرفان جاویدکی یہ تحریریں اصطلاحی معنی میں خاکے نہیںہیںبلکہ مصنف کی اپنی شخصیت کی بھرپور آمیزش، صاحب ِ خاکہ کے بارے میں دوسروں کے بھی تاثرات کی عکاسی کی بنا پر یہ تحریریں افسانوی رنگ رکھتی ہیں۔ یعنی یہ افسانے ہیں، سچے افسانے، اس کتاب کو پڑھتے وقت میں کبھی اس کے انداز تحریر میں کھو گیا تو کبھی اس کے بیان کردہ واقعات اورحقائق کا تماشائی بن گیا۔ ایسی کتابیں کم ہوتی ہیں۔‘‘
دروازے میں بارہ طویل شخصی خاکے ہیں۔ جن کے عنوان سے ہی شخصیت کاروپ قاری کی نظرمیں پھرجاتاہے۔دراصل یہ خاکے خاکوں سے کچھ بڑھ کرشخصیت نامہ بن کرسامنے آتے ہیں۔احمدندیم قاسمی کے خاکے کو’’پارس‘‘ کاعنوان دیاہے۔عنوان ہی سے قاسمی صاحب کے ادبی جریدے فنون اوراس کے ذریعے متعارف ہونے والے بے شمارادیب وشعراء کے نام نظرمیں پھرجاتے ہیں۔بلاشبہ احمدندیم قاسمی کے لئے پارس ایک بہترین عنوان ہے۔
مرحوم ادیب اے حمیدکے خاکے کو’’بارش،خوشبواورسماوار‘‘کانام دیاگیاہے۔جس کے بارے میں انتظارحسین کاکہنا ہے کہ ’’ اے حمید کا خوب تذکرہ ہے، وہ اپنے سارے رومانی مزاج کے ساتھ یہاں چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔‘‘
دورِ حاضر کے مقبول ترین شاعر احمد فرازکے خاکے کا عنوان ہے ’’شریر‘‘ اوراس ایک لفظ سے فراز مجسم ہو کر قاری کی نظرمیں آجاتے ہیں۔ خاکے کاآغاز ملاحظہ کریں ’’فراز صاحب نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ ’’میری شہرت اچھے شاعرکی ہے لیکن میرا اصل کمال شاعری نہیں کچھ اور ہے۔‘‘ وہ کیا؟ میں نے اشتیاق سے پوچھا۔ ’’حصص اور پلاٹوں میں بہترین سرمایہ کاری! اسی لیے میں شاعروں میں سب سے امیر شاعر ہوں۔‘‘ کیا اس کے بعد قاری اس خاکے کو ادھورا چھوڑ سکتا ہے۔
مستنصر حسین تارڑ کا خاکہ ’’کاہن ‘‘ کے نام سے ہے۔ عرفان جاوید خاکے میں لکھتے ہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ ہزاروں خالی صفحات میں رنگ بھرنے والا تاڑر اپنے مزاج کی شوخی اور انداز کی برجستگی کو برقرار رکھے ہے۔ عام زندگی میں بہت نارمل اور بے تکلف تارڑ اپنے ماحول کی جزئیات پر ایسی نظر رکھتا ہے جیسے چوٹی پر بیٹھا عقاب وادی میں بہتے دریا کے کنارے بیٹھے شکار پر رکھتا ہے۔
عبد اللہ حسین کے خاکے کا عنوان ’’باگھ‘‘ اور احمد بشیر کے خاکے کا ’’کامریڈ‘‘ اور عطا الحق قاسمی کے خاکے کا ’’کھلکھلاتا آدمی‘‘ ہے۔ ان عنوانات سے صاحب ِ خاکہ سامنے آجاتا ہے۔
سب رنگ ڈائجسٹ کے مدیر اور صاحب طرز ادیب شکیل عادل زادہ کا طویل خاکہ ان کی مشہور زمانہ سلسلہ وار ناول ’’بازی گر‘‘ کے نام سے ہے۔ یہ ایک بہت دلچسپ اور منفر دتحریر ہے۔ جس میں شکیل عادل زادہ کی شخصیت کے کئی پوشیدہ گوشے عیاں ہوتے ہیں۔ خاکہ ابتدا ہی سے قاری کو جکڑ لیتا ہے۔’’نوجوان شکیل عادل زادہ، عظیم اداکارہ میناکماری کی زندگی میں ایک جانب سے داخل ہوتے ہیں چند دن گزرتے ہیں، کچھ مکالمات بوتے ہیں اوردوسری جانب سے نکل جاتے ہیں۔ اُس وقت شکیل عادل زادہ کون ہیں اور مینا کماری کون، ایک سننے کی کہانی ہے۔‘‘ قاری کا تجسس اس آغاز ہی سے اسے اختتام تک پڑھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
تصدق سہیل کا خاکہ ’’نانگا پربت‘‘ اورنصیرکوی جس کی تعریف عبد اللہ حسین نے بھی کی ہے’’ٹلا جوگیاں کا مصلی‘‘ کے زیرِعنوان ہے۔ کالم نگار اور اینکر جاوید چوہدری کا خاکہ ’’دوسرا آدمی ‘‘ اور کتاب کا آخری خاکہ محمد عاصم بٹ کا ’’دھندلا آدمی‘‘ کے نام سے ہے۔ اس بے مثال کتاب کو پڑھنے کے بعد عرفان جاوید کی آئند ہ کتاب کا بے چینی سے انتظار ہے۔ وہ مزید خاکے ’’سرخاب‘‘ کے نام سے لکھ رہے ہیں۔
فہیم اسلام انصاری ادب کی زیرادارت تابندہ روایات کا ترجمان انتہائی خوب صورت ادبی کتابی سلسلہ ’’اجمال‘‘ کئی سال سے اشاعت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اجمال کا تیرہواں شمارہ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ جس میں حسب سابق نظم ونثرکی مختلف اصناف کے عمدہ تحریریں شامل ہیں۔ بہترین سفید کاغذ پردو سو چالیس صفحات کے اس کتابی سلسلہ کی قیمت پانچ سوروپے بہت مناسب ہے۔ اور اس کا صوری اور معنوی حسن فہیم انصاری کو صاحب ِ ذوق بھی ثابت کرتا ہے۔ اداریہ فہیم انصاری صاحب نے جامعہ کراچی میں منعقدہ سرسید کانفرنس پر تحریر کیا ہے۔ جس میں کئی فکر انگیز سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے بعد نسیم سحر اور ریاض ندیم نیازی کی خوب صورت نعتیں ہیں۔
مضامین میں ڈاکٹر ضیا الحسن نے ’’اردو ادب کا عالمی تناظر‘‘ میں جائزہ لیا ہے۔ پانچ صفحات پر مبنی تحریر میں ڈاکٹر صاحب نے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ ’’قدیم اردو غزل کے عناصر خمسہ‘‘ کے زیرعنوان خاور اعجاز ’’مابعد جدیدیت‘‘ اور خرم سہیل نے’’پاکستان کے شعرو ادب میں علمی دہشت گردی‘‘ کے منفردموضوع پر قلم اٹھایا ہے۔
کتاب اور صاحبِ کتاب میں صبا اکرام نے ’’جوگندرپال کے افسانے‘‘، اے خیام نے ’’صبا اکرام ایک شفاف روح‘‘، اجمل اعجاز نے ’’ہمہ جہت تخلیق کار‘‘ کے عنوان سے اچھے مضامین تحریر کیے ہیں۔ ا س حصے کے دیگر مضامین بھی عمدہ ہیں۔
حصہ غزل میں احمد صغیر صدیقی، حمیدہ شاہین، اکبر معصوم اورکاشف حسین غائرکی غزلوں کاجواب نہیں۔ احمد سعید فیض آبادی اوربشیر بدر کی ہم قافیہ غزلیں بھی منفرد انتخاب ہیں۔
افسانوں میں اجمل اعجاز کا ’’نیلی آنکھیں نیلی جھیل ‘‘ اور آغا گل کا ’’نیا جرنیل‘‘ دونوں موضوع اور ٹریٹمنٹ میں مختلف ہونے کے باوجود انصاف، قانون اورکرپشن کے حوالے سے عمومی تصورات کوعمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔ نجیب عمرکا افسانہ ’’یادوں کا البم‘‘ شاکر انور کا ’’اڈیالہ جیل کا قیدی‘‘ کے علاوہ دیگر افسانے بھی اچھے ہیں۔ اس پرچے میں ایک اچھا تجربہ افسانہ اور اس کا انگریزی تجربہ بھی کیا گیا ہے۔ شاکر انور کے افسانے ’’جمیرا بیچ‘‘ اور اس کا انگلش ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔
نظموں میں شفیق احمد شفیق کی نظر ’’آرمی اسکول کے شہدا کے نام‘‘ نے آنکھیں نم کر دیں۔ کاوش عباسی، عطا الرحمٰن قاضی اور وجیہ وارثی کی نظمیں بھی اچھی ہیں۔
آخر میں ماضی سے انتخاب میں جسٹس رانا بھگوان داس کی خوب صورت نعت، جون ایلیا اورعبیداللہ علیم کی غزلیں اور اپندرناتھ اشک کی تحریر ’’بینگن کا پودا‘‘ نے ماضی کی یادوں کو تازہ کیا ہے۔ ’’اجمال‘‘ ایک بہت عمدہ ادبی کتابی سلسلہ ہے جس کی مسلسل اشاعت پر فہیم اسلام انصاری مبارک باد کے مستحق ہیں۔

غزلیں
ڈاکٹر باقر رضا
(اسٹیفن ہاکنگز کی نذر)

لا مکاں کو مکاں سے جھانکتے ہیں
دو جہاں کو یہاں سے جھانکتے ہیں
قید ہیں اپنی کائنات میں ہم
روزنِ آسماں سے جھانکتے ہیں
ہر حقیقت کو شک سے دیکھتے ہیں
ہر یقیں کو گماں سے جھانکتے ہیں
ہم زمیں زادوں کو مہ و انجم
رات بھر آسماں سے جھانکتے ہیں
وقت کی چڑیا، عقل کے شاہین
پنجرۂ استخواں سے جھانکتے ہیں
دلِ یزداں ہدف ہے تیرِ نظر
ابروئوں کی کماں سے جھانکتے ہیں
جانثارانِ عشق سے پوچھو
سود کتنے زیاں سے جھانکتے ہیں
دامنِ کائنات میں پھیلے
داغ کچھ بے کراں سے جھانکتے ہیں
لطف نظارہ ہے وجود و عدم
کہکشاں کہکشاں سے جھانکتے ہیں
کھیل بود و نبود کا ہے دراز
آپ ہم درمیاں سے جھانکتے ہیں
معنی اشعار میں رضا کے بہت
حرف و لفظ و بیاں سے جھانکتے ہیں

ضیا ضمیر

غم کا دریا سوکھ نہ جائے اس کی روانی کم نہ پڑے
خونِ جگر بھی شامل کر لوں آنکھ میں پانی کم نہ پڑے
اُس کے بدن کی خوشبو کا کچھ توڑ نکالو آج کی رات
اور کوئی خوشبو لے آئو رات کی رانی کم نہ پڑے
سال دو سال کی بات نہیں ہے عمر بہت درکار ہے ہاں
سوچ رہا ہوں عشق کی خاطر عہدِ جوانی کم نہ پڑے
آئینے کا دل نہیں ٹوٹے اس کا بھرم آباد رہے
چہرے پر کچھ اور بڑھائو یہ حیرانی کم نہ پڑے
کارِ جہاں میں اپنی وسعت سے خود یہ حیران سا ہے
آدم زاد کو میرے مولا عالمِ فانی کم نہ پڑے
درد کے سارے ہی قصوں کی یاد دہانی کر لینا
ہجر کی رات بہت لمبی ہے ایک کہانی کم نہ پڑے
راز بہت سے ایسے بھی ہیں جو اُس کو معلوم نہیں
میرے یار کی صحبت تجھ کو دشمنِ جانی کم نہ پڑے

حصہ