سپنوں کا شہزادہ

12

عارف رمضان جتوئی
مشرقی معاشرہ شرم و حیا میں صفِ اوّل ہے تاہم مغربی معاشرے کے اثرات مشرقی سرحدوں پر پڑ رہے ہیں۔ نوجوان غیر ملکی میڈیا سے متاثر ہوکر اپنی طرز زندگی اور رہن سہن میں ان کے کلچر اور ثقافت کو اپنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ عمر کے ایک خاص حصے میں خود کو تنہا محسوس کرتے ہوئے نوجوان نسل اپنے جیون ساتھی کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور جب تک وہ نہیں ملتا تب وہ ایک سپنوں کا شہزادہ یا پھر شہزادی ہوتے ہیں۔ شہزادی اپنی جگہ توجہ بحث ہے مگر یہاں بات شہزادے کی ہورہی ہے۔سپنوں کا یہ شہزادہ کبھی تو کسی کلاس فیلو کی صورت میں اور کبھی کسی رشتے دار، گلی، محلے کے رہائشی کی صورت میں بھی دل کے نہا خانوں میں پنہا ہوتا ہے۔
نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی عمر کے اس خاص اسٹیج پر جب خود کو ادھورا محسوس کرنے لگتے ہیں تو وہ سپنوں کے شہزادے کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ ان شہزادوں کی ایک طویل اور لمبی قطاریں عموماً یونیورسٹیوں اور کالجز کے آس پاس کثیر تعداد میں نظر آتی ہیں۔ جہاں معصوم دوشیزائیں حالات کی تلخیوں اور سختیوں سے ناواقف معاشرے کے ان درندوں کا شکار ہوجاتیں ہیں۔ جنہیں وہ اپنے سپنوں کی نظر انتخاب سمجھنے لگتی ہیں۔ ایسے شہزادوں کے جھانسے میں آنے کے بعد ان کے دل و دماغ میں ایک ہی تصویر نقش کرجاتی ہے۔ دن کا چین و آرام، راتوں کا سکون بس اپنے ہونے والے محبوب اتفاقی پر قربان کردیا جاتا ہے۔ ہر پل اپنے سپنوں کے شہزادے کے ساتھ بیتانے کی تمنائیں، آرزوئیں اور آخر میں دعائیں لب پر رقص کرتی رہتی ہیں۔ امت کو ایک پڑھا لکھا اور ہونہار معاشرہ دینے والی یہ دوشیزہ اپنے حقیقی مقصد کو بھول کر لایعنی خیالات کی کھیتی کو دل میں پالنا شروع کردیتی ہے۔ یوں محبت کا یہ ننھا سا پودا وقت بیتنے کے ساتھ ساتھ تناآور درخت بن جاتا ہے۔ اس دوران عفت و عصمت کی پیکر معاشرتی خرابیوں سے بے خبر یہ دوشیزہ بے خود ی میں خود کو حالات کے دہارے پر چھوڑ دیتی ہے۔اپنے وجود کا مکمل حق اپنے غیر شرعی محبوب کے حوالے کردیتی ہے۔ کل کا وہ سپنوں کا شہزادہ آج کا جیتا جاگتا محبوب اس پر اپنا پورا حق حاصل کرلیتا ہے۔ یہیں وہ دن ہوتا ہے کہ جس کی تلاش یہ سپنوں کا شہزادہ ایک بے صبری میں ایک طویل عرصے سے کر رہا ہوتا ہے۔
اپنی مرضی کا اظہار کیے بغیر کسی بھی اظہار محبت کرنے والی لڑکی کو یہ باور کرا رہا ہوتا ہے کہ وہ ہی ہے اس کے سپنوں کا شہزادہ جس کے لیے وہ دنیا میں آئی تھی۔ یہ یقینی دہانی سننے کے بعد تو گویا وہ اس پر لٹو ہوئے جارہی ہوتی ہے مگر ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ جب محبت پر مر مٹنے کے وعدے کیے جاتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ حالات کی تلخیوں سے لڑنے اور ایک دوسرے کے حصول کے لئے ہر حد کو پار کرنے کا عزم کرچکے ہوتے ہیں تو پھر معصوم دوشیزہ اپنے وجود کو خود کے ساتھ ساتھ اپنے خیالی ہمسفر کو بھی مکمل حق دار ٹھہرانا شروع کردیتی ہے اور جب وہ مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ محبت کے زوال کی پہلی سیڑی کو عبور کرچکا ہوتا ہے۔ پھر دنوں اور ہفتوں پر محیط یہ محبت ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے اور دھڑم سے نیچے گر جاتی ہے۔ یوں آسمان کی بلندیوں کو چھونے والی اتفاقی محبت اپنے انجام کو پہنچ چکی ہوتی ہے۔ نام نہاد محبوب اپنی حوس کو پورا کرکے کہیں دور جا چکا ہوتا ہے اور بابا کی شفقت، بھائیوں کی غیرت، بہنوں کا انس اور ماں کی ممتا کے سائے میں پلنے والی یہ عفت و عصمت کی پیکر دوشیزہ اپنی کرچی کرچی عزت کو سنبھالتی ٹوٹے وجود کے ساتھ وہیں کی وہیں کھڑی رہ جاتی ہے۔ حالات بدلتے رہتے ہیں مگر عزت کا بیوپاری نام نہاد محبت کا مدعی کبھی لوٹ کر واپسی کی راہ نہیں لیتا۔ یوں سپنوں کے شہزادے کی تلاش میں در در پھرتی یہ دوشیزہ اپنے وجود تک سے نفرت کرنے لگ جاتی ہے جس کے نتائج خودکشی، منشیات کی عادت، اخلاقی خرابیوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
ایسی کئی داستانیں ہمارے معاشرے کے بدنما داغ کی طرح جگہ جگہ نظر آتی ہیں۔ حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی گئی جس میں بتایا گیا تھا کہ خودکشیوں کے 80 فیصد واقعات میں نوجوان طبقہ ملوث ہوتا ہے اور ان میں زیادہ تعداد ان لڑکیوں کی ہے جو عمر کے کسی خاص حصے میں قدم رکھ چکی ہوتی ہیں سپنوں کے شہزادے کی تلاش اور اس کی نام نہاد محبت کی ایک جھلک ہمارے معاشرے میں بڑے پیمانے پر سرگرم ایک برائی کی عکاسی تھی۔ جس کا اندازہ روز مرہ زندگی میں کئی ایسی نوجون لڑکیوں کی اجڑتی زندگیوں کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ اگر ہمارے معاشروں کی یہیں صورتحال رہی تو وہ وقت بعید نہیں کہ جب (خدا نخواستہ) ہم خود کسی ایسے حادثے کا شکار ہوجائیں۔ آج ہمیں اپنے معاشرے سے اس برائی کو مٹانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ خاص طور پر خواتین اور وہ بہنیں کہ جن کو ایسے حالات کا سامنا ہے وہ اپنے آپ کو سنبھالیں۔ زندگی کے ہر قدم کو خوب سوچ سمجھ کر رکھیں، بالکل اس نابینے کی طرح کہ جو پہاڑی علاقے میں اجنبی مسافر کی طرح بھٹک رہا ہو۔ زندگی ہرگز تلخ نہیں اگر اس کو گزار نے کا ڈھنگ سیکھ لیا جائے۔
کون اچھا ہے اور کون برا…..؟ اس کا فیصلہ اپنے والدین پر چھوڑا جائے۔ آپ کے سپنوں کے شہزادے کی سب سے زیادہ فکر ان کو ہے جنہوں نے آپ کو انگلی پکڑ کر چلنا سیکھایا۔ ابھی تک تو آپ نے چلنے کا طریقہ ہی نہیں سیکھا اور حالات کا مقابلہ کرنے کا کیسے سوچ لیا۔ یہ بات حقیت ہے جسے ہم بھلا بیٹھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اگر ہمارے معاشروں میں یہ برائی پائی جاتی ہے کہ صنف نازک کو ٹشو پیپرز کی طرح استعمال کیا جاتا ہے تو اس کا موقع ہم خود فراہم کرتے ہیں۔ اگر ہم یہ سوچ لیں کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ ہم نے خود نہیں کرنا بلکہ ہمارے والدین نے کرنا ہے تو شاید ہمارے سپنوں میں کوئی ایسی تصویر رقم ہی نہ ہو۔ اپنے اردگرد میں پھیلی اس خلق خدا پر اعتبار کریں مگر ایک حد تک۔ ہر مسکراکر ملنے والا آپ کا دوست نہیں ہوسکتا اپنی زندگیوں کے فیصلے مکمل ہوش و حواس اور باہمی مشاورت سے کریں۔ حالات کی تلخیوں اور جذبات کے ہاتھوں مجبور ہوکر کبھی کوئی ایسا فیصلہ نہ کریں کہ جس کے بعد فانی زندگی میں پچھتاوے اور حسرتیں رہ جائیں۔ ہر وہ شخص آپ کے سپنوں کا شہزادہ کا ہو سکتا ہے جو آپ کو اچھی اور بہتر زندگی دے۔ یہ شخص وہ بھی ہوسکتا ہے جسے آپ چاہتے اور وہ بھی کہ جسے آپ نے کبھی دیکھا، سوچا تک نہ ہو۔اسی لئے اپنے بہتر اور اچھے مستقبل اور سپنوں کے شہزادے کے لئے اپنے والدین اور سرپرست اعلیٰ پر اعتبار کریں۔ بس آپ کو ایک چھوٹا سا کام کرنا چاہئے، آپ کو جو پسند ہے اس کے بارے میں اپنے والدین اور سرپرست کو کسی طریقے سے آگاہ ضرور کردیں۔
اسی طرح بچوں کی عمر کے حوالے سے والدین پر سب سے زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو بچپن میں جس طرح خوب سنبھال کر اور پوری توجہ سے رکھتی آئی ہیں اب ان کٹھن حالات پر اپنے بچوں کوہر گز ان کے حوالے یا پھر نظر انداز نہ کریں۔ اپنے بچوں کا اعتماد حاصل کریں۔ ان سے دوستی کریں۔ ان کے جذبات کا ممکن حد تک احترام کریں۔ وہ کیا چاہتے ہیں … کیا سوچتے ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں …؟ سب والدین کو معلوم ہونا چاہئے۔ جب ایک دوسرے سے دوستی کا رشتہ بن جائے گا تو معاشرے میں نہ خودکشیاں جنم لیں گی اور نہ ہی اخلاقی برائیاں۔ خوشیوں کا گہوارہ یہ معاشرہ اور اس میں بسنے والے افراد خود کو مثالی کہلوانے کے حقدار ٹھہریں گے۔

حصہ