زندگی کا بلو پرنٹ

58

قاضی مظہر الدین طارق
انسان کے ذہن میں جب کوئی بھی چیز بنانے کا خیال آتا ہے،تو سب سے پہلے اس کے ذہن میں اس کا خیالی نقشہ ہوتا ہے،پھر وہ اس کو کاغذ پر بناتا ہے،اگر گھر یا کوئی جھونپڑی بنانا ہو، تو وہ اسے کم از کم زمین پرہی چھڑی سے لکیریں کھینچ کربناتا ہے،تب کام شروع کرتا ہے۔
مگر خالقِ کائنات ربِّ الّقوی ُالّعزیزُ نے جب کائنات بنانے کا اِرادہ کیا،اُس کااِرادہ ہی نقشہ تھا، پھراُس نے ’کُنْ‘ کہا اور سب کچھ اُس کی منشا کے مطابق بن گیا،’فیکون‘۔انسان کو اُس نے اپنے ہاتھ سے بنایا،ایک ایک فرد کے دس کھرب سے سو کھرب تک نظر نہ آنے والے بنیادی ’یونٹس‘ (سَیلز) کو جوڑ کر بنایا،اِن کھربوں’ سَیلز‘ کے کھربوں مرکزوں میں’خالِق ‘نے ہمارا پورا نقشہ(بُلو پرِنٹ) رکھ دیا،اوراس میںپیدائش سے موت تک کی تقدیربھی لکھ دی۔
۲۰۰۳؁ء میں انسان نے خالِق کی دی ہوئی صلاحیت ہی سے اپنی اِس’کتابِ تقدیر‘ کو پڑھ لیا ہے اور اس کی ’کاپیاں‘ بھی بنا لی ہیں،یہ ہمارا نہیں اُس کا ہی کمال ہے کہ اُس نے ہمیں اِس کی صلاحیت بھی دی اور اِجازت بھی دی،اُس کی منشا کے بغیر اِس کائنات میں کیاکوئی کام ہو سکتا ہے؟
آج کے بے خدا دَور میں کہا جاتاکہ فطرت (نیچر)نے یہ بلو پرنٹ بنا کر رکھا ہے۔کیا سطحی اورعامیانہ سوچ ہے،فطرت میںکَون ہے جو یہ کام کرسکتاے؟کیا علم ، فہم،حکمت اور طاقت(An Inteligent & Capable Designer) کے بنا ئے بنا یہ کام ہوسکتا ہے؟
پھرکیاایک نقشہ کافی نہ تھا؟ کہ سو کھرب نقشے بنائے۔سُنیئے!ہر خَلیہ(سَیل )زندہ ہے،اس کی مکمل اور منفردزندگی ہے،اگر ہر ایک فرداپنے حصہ کا کام نہیں کرے گاتو ہم بھی زندہ نہ رہ سکیں گے،لیکن یہ اور بات ہے کہ کوئی سَیل اپنا منفرد کام بھی ایک گروپ میں کرتا ہے،اکیلا نہیں!
ابتداء میںجب ہماری حیاتی تشکیل پاناشروع ہوتی ہے تو خالق نے ہمارے ماں باپ سے آدھا آدھا ’خَلیہ‘ لے کر ایک مکمل خلیہ تخلیق کرتاہے۔پھر اس کو ایک سے دو،دوسے چار،چار سے سولہ،سولہ سے چونسٹ کرتا ہوا لاکھوں تک پہنچاتا ہے۔مگر شروع شروع میں یہ سب بالکل ایک جیسے ہوتے ہیں،اُن میں سے ہر خَلیہ کے پاس خالق کا دیا ہمارا پورانقشہ(مینول) موجودتھا۔اگر یہ نہ ہوتا تووہ کیسے اپنے منفرد کام کرتے؟
پھرمنفرد کام کرنے سے پہلے پہلے ،اِن کو اِسی نقشے کی مددسے اُس کام کے لئے اپنے منفرد اعضاء بھی تشکیل دینے تھے۔کسی گروپ نے آنکھ بنانی تھی، کسی نے کان، دل، دماغ، پھیپھڑے،جگر اور جانے کیا کیا۔یہ اتنابھی سادہ کام نہ تھاکہ ایک خَلیہ اپنے نقشہ کے مطابق بناتاچلا گیا،مگر ہوتا کیا ہے کہ کروڑوں خَلیے مل کر ایک آنکھ بناتے ہیں، کچھ سے آنکھ کا ڈھیلہ بنتاہے ،کچھ سے پردہ، کچھ سے عدسہ،پلکیں،پپوٹے،ٹیئر گلینڈز اوربہت سے حصے ۔
کیا ہم کسی اُستاد کی مدد کے بغیرکوئی ’انجینیئرِنگ‘ کی کتاب پڑھ کر کچھ بنا سکتے ہیں؟ہم سب کچھ سیکھنے کے بعد بھی جبکہ ایک پروجیٹ میں بہت سارے کام ایک ساتھ کرنے ہیں،ہم توکسی ایک پروجیکٹ ڈائریکٹر کے ’کوآرڈینیٹ‘ کئے بغیر کوئی پروجیکٹ شروع بھی نہیں کر سکتے۔’کوآرڈینیٹر‘اتنے بہت سے کاموں کی ترتیب بناتاہے۔ کون سے کام پہلے ہونے ہیں کون سے بعد میں،ایک عمارت بنائی جارہی ہو تو دیوار بنانے سے پہلے پلاسٹر اور پلاسٹر سے پہلے رنگ تو نہیں کیا جا سکتا ۔
تو خالِق نے ان سب کاموں کامناسب اور معقول انتظام کر رکھا ہے۔ہر سَیل کو اس نے کیمیا کی نہ صرف تعلیم دی ہوئی ہے بلکہ اُس نے اُن کو بنانے کہ بھی لوازمات عطا کر رکھے ہیں،ایک عضو کاہر سَیل اپنے نقشے کی مدد سے اِ س عضوکی ضرورت کے لئے کیمیائی مرکبات پروٹین وغیرہ تیار کر کے پیش کر رہا ہے۔پھراِس کام کو کرنے کے لئے اس کو توانائی کی بھی ضرورت پڑتی ہے جس کا انتظام بھی خَلیہ خودپھیپھڑوں سے آکسیجن لے کر نظامِ ہضم کی بھیجی ہوئی غذا پانی سے ایندھن بنا رہا ہے۔
ایک بڑا سوال جس کا جواب چند دہائیوں پہلے ہی انسان کو ملا ہے،وہ کون ہے جو اس سارے پیچیدہ کاموں کو ’کوآرڈینیٹ‘ کرتا ہے؟یہ واحد دماغ ہے جو ان کھربوں سَیلزکو ایک ہی وقت میں ہدایات دے رہا ہے کہ کس نے، کس وقت، کیا کرنا ہے۔اگر ہدایات دینے والے ایک سے زائد ہوتے تو یعنی ایک فیکٹری میں اگر کئی مینیجر ہوتے اور ہرمینیجر آکر کارکنان کو الگ الگ کام سپرد کرتا جاتا، تو کیا کوئی ایک کام بھی پورا ہوتا؟
ایک اور سوال ، اہم سوال ، والدین سے اُن کے بچوں کو جو جینوم ملتی ہیں، وہ ایک ہی جیسی ہوتی ہیں، پھر ان کے بچوں کی شکلیں الگ الگ کیوں ہوتی ہیں؟ پھر یہ کبھی دادا،دادی،نانا،نانی، چاچا،پُھوپھو، ماموں،خالہ جیسی کیوں محسوس ہوتی ہیں؟پھر پرانی نسلوں کی موروثی بیماریاں کیوں در آتی ہیں؟
ان سوالات کے جوابات کے لئے کتابوں کی ضرورت ہوگی ۔لیکن میں کوشش کرتا ہوں کہ اس صفحے میں بات پوری کرلوں۔
جب کوئی کتاب لکھنی ہوتو،ہم حروف سے الفاظ بناتے ہیں،الفاظ سے جملے،جملوں سے پیرے،پیرے سے ابواب،ابواب سے کتاب بنتی ہے،کتاب پڑھنے کے کمرے میںرکھی ہوتی ہے۔
فرض کیجیئے! یہ کمرہ ایک خَلیہ(سَیل)ہے،پھرفرض کیجیئے یہ کتابیں ’انجینیئرینگ‘ کے بارے میں ہیں، اس میں کچھ بنانے اور اس کو چلانے کی ہدایات درج ہیں۔مختلف ’عناصر‘( حرف)سے ملکر ایک’ نیوکلیوٹائیڈ‘(لفظ)بنا۔الفاظ سے ’ڈی ،این، اے‘(یعنی جملہ)بنا۔کئی جملے (ڈی،این،اے ) ملکرایک پیرا(یعنی جین) بنا۔بہت سے پیرے مل کرباب(کروموزوم)بنے۔بہت سے کروموزو م مل کر ایک کتاب بنی۔ یہ۴۶’کروموزومز‘(ابواب) کی ایک کتاب انسان کے ہر خلیہ میں موجود اور محفوظ ہیں۔
نوٹ کیجیئے!تیئیس۲۳ ’کروموزومز‘ باپ سے ملے،اور۲۳ ہی ماںسے،دونوں مل کربچے کے ۴۶’کروموزوم‘ مکمل ہوتے ہیں۔ ماں باپ سے ’جینز‘ دو دو جوڑیوںکی شکل میں ملتی ہیں،ان جوڑیوں میں سے’ جینیٹکس‘ کی زبان میںکچھ’غالب جین‘(ڈامینینٹ جین)ہوتی ہیں،اور کچھ ’مغلوب جین ‘ (ریسیسیو جین) ، شائدآپ خیال کریں گے، یہ توکوئی جواب نہ ہوا۔
ہاں! اب انسان کو پیدا کرنے والے کا کمال تو دیکھیئے! والدین سے ملنے والی اِن جینز میں سے کبھی’غالب ‘کے ساتھ’ مغلوب‘ کی جوڑی بناتاہے،کبھی مغلوب کے ساتھ مغلوب کی اور کبھی غالب کے ساتھ غالب کی جوڑی بناتا ہے۔اس کے بارے میں، ’اللہ‘ قوی اور غالب فرماتا ہے،’’میںتمہاری شکلیںاَرحام کے اندر جیسی چاہتاہوں بناتا ہوں۔‘‘ جینیٹکس کی زبان میںوہ کروموزومز کی ’لینکیج‘ اور ’کراسینگ اُوور‘ کے ذریعہ نیا منفرد’بلوپرِنٹ‘ بناتاہے۔اس جوڑی میں ایک غالب ایک مغلوب ہو تو غالب کوظاہر کرتا ہے،دو نوں مغلوب ہوں تو ان کوبھی چاہے تو غالب کر دیتا ہے،غالب اور غالب کا جوڑا ہو، توان کوکبھی ظاہر کبھی مخفی کردیتا ہے،یا اس کی مرضی نہ ہو تو ایسے بچے کوختم ہی دیتا ہے،وہ چاہتا ہے سو کرتا، کوئی اُس کو روکنے والا نہیں ہے ۔
جب دادا، دادی،نانا،نانی، ماں باپ کی جینز سے ملکر بچے کی جین کی ترتیب بنتی ہے ،تو ان سے جوبچہ پیدا ہوتا ہے، وہ سب سے الگ اور منفرد ہوتاہے ، لیکن پھر بھی کبھی کس سے کبھی کس سے ملتے نظرآتاہے۔جب دَدْیال اور نَنْیال سے وہی غالب جین ہمارے، چاچا ،پھوپُّھو،ماموں،خالہ کو بھی ملی ہوتی ہے،توبچے ان سے بھی ملتے جلتے لگتے ہیں۔ رہا موروثی بیماریوں کے لَوٹ آنے کا معاملہ تویہ پچھلی کئی نسلوں کی بیماریاں ،دیگر خصوصیات کے ساتھ لَوٹ کر آسکتی ہیں،اسی طرح کبھی گورے لوگوںمیں کالا بچہ ہوسکتا ہے،تو کبھی کالے لوگوں میں گورا ہوسکتاہے۔
ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے،کتنی ہی نسلوں کی کتنی ہیں خصوصیات لَوٹ کر آسکتی ہیں،مگر’ فنگر پرنٹس ‘ہر نومولود کے اپنے ہوتے ہیں ، اسی بنا پردو انسانوں کے’ فنگر پرنٹس ‘ کبھی بھی ایک جیسی نہیں ہوتی،سوائے اُن جڑواں (ہومیو ٹوینز)بچوں کے جو ایک تھیلی میں پلتے ہیں۔
توجہ فرمائیں!اس علم کے حاصل ہو جانے کے بعداور زندگی کی اتنی ساری تفصیلات،باریک بین حساب کتاب،کئی نسلوں تک کے حساب کو محفوظ رکھنے کا یہ گہراعمیق نظام دیکھ لینے کے بعد ،ایسابھی کوئی کُڑ مغز انسان ہو سکتا ہے، جس کو ذرا سا بھی یہ گمان گزرتا ہو، کہ یہ سب کچھ حادثاتی طور پر’بائے چانس‘ اپنے آپ خودبخود بن گیا ہو ؟

حصہ