حاتم طائی اور لکڑ ہارا

21

مہوش کمال
آج سینکڑوں برس پہلے عرب کے ایک قبیلے ’’طے‘‘ میں حاتم نامی شخص پیدا ہوا۔ وہ اتنا سخی تھا کہ اس کی سخاوت کی قصے دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔ اس کے دروازے پر جو شخص بھی آیا‘ اپنی ضرورت پوری کر کے گیا۔ کہتے ہیں اسے اپنے ایک گھوڑے سے بہت پیار تھا‘ گھوڑا بھی اپنے مالک کا وفادار تھا۔ ایک روز آدھی رات کی قریب اس کے گھر میں چند مہمان آگئے‘ اتفاق کی بات کہ اس وقت حاتم کے پاس اپنے مہمانوں کی دعوت کے لیے کچھ نہیں تھا اور رات کے وقت اس کا انتظام بھی بہت مشکل تھا۔ حاتم طائی نے اپنا پسندیدہ گھوڑا ذبح کرکے مہمانوں کی دعوت کر ڈالی اور مہمان نوازی کی لاج رکھ لی۔
ایک دفعہ اس نے عرب کے سرداروں کی دعوت کی۔ اس روز چالیس اونٹ ذبح کیے گئے۔دعوت ختم ہوگئی اور سردار آپس میں اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے۔گفتگو حاتم طائی کی سخاوت کے متعلق ہونے لگی۔ ایک سردار نے کہا ’’حاتم جیسا فراخ دل آج تک پیدا نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔‘‘
’’کیوں نہ یہ سوال حاتم سے کیا جائے۔‘‘ دوسرے سردار نے کہا۔
چنانچہ حاتم سے پوچھا گیا کہ کیا اس نے اپنے آپ سے زیادہ سخی اور عظیم انسان دیکھا سنا تھا۔‘‘ حاتمی کافی دیر تک سر جھکا کر سوچتا رہا اور پھر مسکرا کر بولا ’’بہت زیادہ مال و دولت لٹانے کا نام سخاوت نہیں نہیں‘ میرے نزدیک سخی اور عظیم انسان وہ ہے جو اپنے بڑے سے بڑے فائدہ کے لیے کسی کا چھوٹے سے چھوٹا احسان بھی قبول نہ کرے۔ میں اپنی زندگی میں ایک ایسا شخص دیکھا جس کا دل میرے دل سے بہت بڑا تھا۔‘‘
’’وہ ضرور کسی ملک کا بادشاہ ہوگا جس کے پاس بہت بڑا خزانہ ہوگا؟‘‘ سرداروں نے بیک آواز کہا۔
’’نہیں دوستو! ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ حاتم طائی نے جواب دیا۔ ’’وہ تو ایک غریب لکڑہارا تھا۔‘‘
تمام سرداروں نے حیرت سے اپنے میزبان کو دیکھا تو حاتم نے کہا کہ ’’ایک روز میں نے سارے شہر کی دعوت کی‘ مہمانوں کو کھلانے پلانے کے بعد میں جنگل کی طرف نکل گیا‘ وہاں میں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا اس نے اپنے سر پر لکڑیوں کا بھارا گٹھڑا اٹھا رکھا تھا‘ جس کے بوجھ سے اس کی کمر دہری ہو رہی تھی‘ اس کے پھٹے پرانے کپڑے پسینی میں بھیگے ہوئے تھے‘ میں نے ترس کھا کر اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا ’’بابا جی آپ سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر میں نے اس کے سر سے بوجھ اتارنے کے لیے اپنے ہاتھ بڑھائے تو وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ پھر اس نے اپنا بوجھ زمین پر رکھا اور کہنے لگا ’’انسان کو اپنا بوجھ خود اٹھانا چاہیے‘ لوگوں کے کاندھوں پر سوار ہو کر تو صرف قبر کی طرف جایا جاتا ہے۔‘‘
’’مگر بابا جی آپ اس عمر میں اتنی محنت کیوں کر رہے ہیں؟‘‘
’’تو پھر مجھے کیاکرنا چاہیے؟‘‘ اس غیرت مند لکڑہارے نے مسکرا کر پوچھا۔
’’آپ کے شہر میں حاتم طائی رہتا ہے‘ وہ سینکڑوں انسانوں کو ہر روز کھانا کھلاتا ہے‘ آپ اس کے دروازے پر کیوں نہیں جاتے؟‘‘ یہ سن کر لکڑہارے نے گھور کر مجھے دیکھا اور بڑی بے نیازی سے کہا ’’تمہارے دو ہاتھ ہیں‘ خدا نے مجھے بھی دو ہاتھ عطا فرمائے ہیں۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ میں اس کی کمائی ہوئی روٹی کھائوں۔ کسی کا احسان اٹھانے سے بہتر ہے کہ میں بے جان لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھا لوں۔‘‘ سب سردار حیران ہو کر حاتم کودیکھنے لگے تو حاتم نے کہا ’’وہ غریب انسان مجھ سے بڑے دل کا مالک تھا۔‘‘
سبق: دوسروں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے ہاتھ سے رزق کمانا باعث عزت ہے۔

حصہ