تھوڑی سی کوشش آپ کو نیکی سے سرفراز کرسکتی ہے

37

افروز عنایت
ارم: آنٹی مجھے تو رمضان سے پہلے والی کمیٹی دیجیے گا۔
آنٹی: مجھے معلوم ہے بیٹا آپ رمضان سے پہلے والی کمیٹی لیتی ہیں، شاید رمضان اور عید کی خریداری وغیرہ کے لیے۔
ارم کی خاموشی دیکھ کر آنٹی دوبارہ گویا ہوئیں ’’یا زیور وغیرہ بنانے کے لیے؟‘‘
ارم: آنٹی رمضان میں زکوٰۃ دیتی ہوں۔ میرا مطلب ہے رمضان میں زکوٰۃ مکمل کرتی ہوں۔ اللہ نے زیور دیا ہے، اس کی زکوٰۃ تو نصاب کے مطابق ادا کرنا لازمی ہے۔
آنٹی: زکوٰۃ کے لیے؟ ماشاء اللہ، تم دونوں میاں بیوی ملازمت کرتے ہو، کیا وہ زکوٰۃ کے لیے رقم نہیں دیتے ماہانہ؟
ارم: زیور میرا ہے اور یہ میری ذمے داری ہے کہ نصاب کے مطابق رمضان تک زکوٰۃ مکمل کرلوں۔ ویسے ہر مہینے تھوڑا تھوڑا دیتی بھی ہوں۔ ویسے بھی زیب کے اوپر اُس کے ماں باپ، بہن بھائیوں کی بھی ذمے داری ہے جو اُس کا فرض ہے۔ اس لیے میں ہر مہینے اپنی تنخواہ میں سے کمیٹی ڈال دیتی ہوں، تھوڑی سی کوشش کی بدولت میں یہ فریضہ بآسانی ادا کرلیتی ہوں۔
…٭…
صولت: دیکھیں بھابھی انگوٹھی کیسی ہے؟
ریحانہ: بہت خوب صورت، ماشاء اللہ، اللہ نصیب اچھے کرے، تمہیں تو زیور جمع کرنے کا شوق ہے، کیا سونے کے ان تمام زیورات پر زکوٰۃ نصاب کے مطابق ادا کرتی ہو؟
صولت: (خاصی دیر خاموش رہنے کے بعد) یہ تو آپ کے دیور کی ذمے داری ہے، وہ نہیں دیتے تو میں کہاں سے لائوں اتنی رقم؟
ریحانہ: لیکن صولت بھابھی، یہ تو آپ کی ذمے داری ہے کہ کسی طرح بھی اپنے مال کی زکوٰۃ نکالیں، یہ اللہ کا حکم ہے۔
صولت: (ناگواری سے) میری ذمے داری؟ میں کیا ملازمت کرتی ہوں؟
ریحانہ: اچھا بھابھی یہ انگوٹھی خریدنے کے پیسے کہاں سے آئے؟
صولت: وہ تو میرے شوہر ہر مہینے مجھے جیب خرچ کے لیے رقم دیتے ہیں جس میں سے کچھ تو خرچ ہوجاتے ہیں، باقی کمیٹی ڈالتی ہوں۔
ریحانہ: اس کمیٹی سے زکوٰۃ ادا کردیا کریں، اگر شوہر اضافی رقم نہیں دے رہے ہیں۔ میری ایک کولیگ کے پاس زکوٰۃ نکالنے کے لیے رقم نہیں تھی، اُس نے اپنا ایک زیور بیچ کر زکوٰۃ ادا کی۔ آپ بھی تھوڑی سی کوشش کریں، اپنے جیب خرچ میں سے ہی پس انداز کرکے کچھ رقم بچائیں، یہ کام ناممکن نہیں ہے۔
…٭…
سیرت: حسن! ہمیں اماں کو ہر مہینے کچھ رقم دینی چاہیے۔ پہلے کی بات اور تھی، بابا زندہ تھے، ان کا وسیع کاروبار تھا… اور اب…
حسن بڑی حیرانی سے سامنے بیٹھی ہوئی عورت کو، جو اس کی بیوی تھی، جسے سسرال والوں نے بے عزت کرکے گھر سے بے گھر کردیا تھا، دیکھ رہا تھا۔
سیرت: حسن آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا؟
حسن: تمہیں خود معلوم ہے کہ ہم دونوں کی تنخواہ ملاکر بچوں کی تعلیم اور گھر کا خرچ پورا ہورہا ہے، اور اماں کے پاس تو بابا کا چھوڑا ہوا بہت کچھ ہے، اب تو سہیل (چھوٹے بھائی) کو بھی اچھی ملازمت مل گئی ہے۔
سیرت: لیکن آپ کا بھی فرض ہے کہ ان کی کفالت میں حصہ لیں۔ ہم ذرا سی کوشش سے اس سلسلے میں اضافی رقم کا بندوبست کرسکتے ہیں۔
حسن: (سوالیہ نظروں سے) وہ کیسے…؟ کچھ بچت نہیں ہوتی بلکہ بڑی مشکل سے ہمارا گزارا ہورہا ہے۔
سیرت: سامنے والی آنٹی نے اپنے دو بچوں کی ٹیوشن کے لیے مجھے کہا تھا، اُس وقت تو میں نے انکار کردیا تھا لیکن اب سوچ رہی ہوں ان دو بچوں کو پڑھانے سے ہمارا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔
حسن: تم پر ملازمت، گھر اور بچوں کی بہت سی ذمے داریاں ہیں، کیا تم ٹیوشن پڑھانے کے لیے وقت نکال پائو گی؟
سیرت: کوشش سے سب ممکن ہے، ہم ایک اچھے کام کے لیے کوشش کریں گے تو اللہ ضرور آسانیاں پیدا کرے گا۔
اس طرح سیرت کی کوشش سے حسن ہر مہینے اپنی والدہ کو کچھ رقم ماہانہ دینے کے قابل ہوگیا۔
…٭…
شکیل کی والدہ: ٹیچر، اصل میں میرا بچہ دوسرے اسکول سے یہاں آیا ہے، اس نے کبھی یہ مضامین نہیں پڑھے، اسے بہت مشکل ہورہی ہے، حالانکہ میرا بیٹا بہت ہوشیار ہے… میں اس کے تعلیمی اخراجات بڑی مشکل سے ادا کرپاتی ہوں۔ اخراجات بڑی مشکل سے پورے ہورہے ہیں، اب ٹیوشن کا…
مس زرینہ: (اس بچے کے حالات سے واقف تھی) واقعی آپ کا بچہ ذہین ہے، یوں کریں آپ اس کو ایک مہینے کے لیے میرے گھر (جو بچے کے گھر کے قریب ہی علاقے میں تھا) لے کر آئیں، میں وقت نکال کر اسے پڑھا دوں گی۔
بچے کی والدہ: میڈم، فیس…؟
مس زرینہ: نہیں اس کی ضرورت نہیں، میں ویسے ہی پڑھا دوں گی۔
زرینہ نے اپنے شوہر کو یہ بات بتائی تو وہ ناراض ہوگئے کہ لوگ اسی طرح سادہ لوح لوگوں کو شیشے میں اتارتے ہیں، اور تم اس کی باتوں میں آگئیں، تمہارے پاس وقت ہے کہ فضول میں ضائع کرو گی اس بچے پر…!
مس زرینہ: جاوید یہ کام اتنا مشکل نہیں، میں اس بچے کے مالی حالات سے اچھی طرح واقف ہوں، اگر ایک مہینہ مَیں اُسے بغیر فیس کے آدھا گھنٹہ پڑھا دوں گی تو اس کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ نیکی کے کام کے لیے تھوڑی تکلیف برداشت کرنی پڑی تو کیا مضائقہ ہے!
زرینہ نے اس بچے پر ایک مہینہ محنت کی جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔
…٭…
بیٹا: اماں آپ ہر ایک کی مدد کے لیے چل پڑتی ہیں، کبھی کسی بیمار رشتے دار کے پاس اسپتال میں رہنے کے لیے اپنے آپ کو پیش کردیتی ہیں، کبھی کسی شادی کے گھر میں خدمت انجام دیتی ہیں۔ کیوں مشقت کرتی ہیں…؟ آرام سے گھر بیٹھ جائیں۔
اماں: بیٹا کسی کی مجبوری میں اُس کا ساتھ دے دیتی ہوں۔ اب طاہرہ بے چاری ہی کو دیکھو… سارے گھر کی ذمے داری، دونوں پوتوںکو سنبھالنا… کون اس کی بہو کے ساتھ جاکر اسپتال میں رہتا! ایک دن کی تو بات تھی، اس کا مسئلہ حل ہوگیا۔ میں رہ گئی اس کی بہو کے ساتھ… تھوڑی تکلیف تو ہوئی مجھے… دوسروں کو آرام دینے کے لیے اگر ذرا سی تکلیف پیش آئے تو برداشت کرلینی چاہیے، اس طرح اللہ اس بندے کی تکالیف اس سے دور کردیتا ہے۔
…٭…
سکینہ: میں کراچی اس لیے آئی ہوں کہ یہاں اپنا سلائی کڑھائی کا کام شروع کردوں۔ وہاں اتنی اجرت نہیں ملتی، بڑی مشکل سے دال دلیے کا انتظام کرپاتی ہوں۔ اگر یہاں کوئی دو کمروں کا اپارٹمنٹ کم کرائے پر مل جائے تو میرا مسئلہ حل ہوسکتا ہے، لیکن اس کام کے لیے مجھے وقتی طور پر ٹھکانہ چاہیے۔
امینہ: (جو اپنی اس بیوہ سسرالی رشتے دار کے حالات سے بخوبی واقف تھی) چاچی آپ چند دنوں تک میرے گھر میں رہ سکتی ہیں جب تک آپ کی رہائش کا بندوبست نہ ہوجائے۔
حالانکہ امینہ کے اپنے حالات بھی کچھ بہتر نہ تھے، بڑی تنگ دستی تھی۔ دو کمروں اور ایک چھوٹے سے لائونج کا اس کا اپارٹمنٹ تھا۔ دونوں میاں بیوی ملازمت کرکے بمشکل بچوں کی تعلیم اور گھر کا خرچا چلا رہے تھے، لیکن اس نے سوچا مجھ پر تو اللہ کا کرم ہے کہ سر پر چھت ہے، دو وقت کی عزت سے روٹی مل رہی ہے، بچے اچھی درس گاہوں میں زیر تعلیم ہیں۔ یہ بیوہ خاتون اکیلی، 7 بچوں کی ذمے داری… لہٰذا اس نے چاچی کو اپنے گھر میں نہ صرف رہنے کی جگہ دی بلکہ جو دال دلیہ خود کھاتے، انہیں بھی پیش کرتے۔ یہی نہیں بلکہ اس نے اپنے آس پڑوس کے لوگوں سے ان کے لیے سلائی کے لیے کہا اور رہائش کے لیے اپارٹمنٹ بھی تلاش کرنے لگی۔ گرچہ یہ مہینے ڈیڑھ مہینے امینہ کو بھی بڑی تکلیف اٹھانی پڑی، لیکن سکینہ کے تمام مسائل حل ہوگئے، اس کی رہائش کے لیے ایک سستے اپارٹمنٹ کا بھی بندوبست ہوگیا اور اس کے روزگار کا مسئلہ بھی حل ہوگیا۔ سکینہ، امینہ کی مشکور تھی کہ اس نے پریشانی میں ساتھ دیا جب کہ اس کے اپنے بھی اس سے آنکھیں چرا رہے تھے۔
…٭…
یہ معاشرے کی چند حقیقی جھلکیاں ہیں جو میں نے اپنے اردگرد دیکھیں اور آپ سے شیئر کی ہیں۔ ہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ اُن نیکیوں کو تو کر گزرتے ہیں جو آسانی سے ہوجائیں، جب کہ ایسی نیکی سے گریز کرتے ہیں جس سے انہیں تکلیف اٹھانی پڑے۔ اسلام ہمیں باہمی ہمدردی، محبت اور ایک دوسرے کی مدد کی تعلیم دیتا ہے۔ بعض اوقات دوسروں کی مدد کرنے میں بندے کو خود بھی تکلیف و پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ سوچ کر کہ دوسرے کی مدد سے مجھے تکلیف یا پریشانی ہوگی، اپنا ہاتھ روک دے، یہ انسانیت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کا کردار اور عمل ہمارے سامنے ہے۔ اللہ کے یہ بندے اپنی تکالیف کو نظرانداز کرکے سامنے والے کی مدد کے لیے دوڑ پڑتے۔ خلفائے راشدین اپنی راتوں کی نیند برباد کرکے عوام کی خبر گیری کرتے اور ان کی مدد کے لیے دوڑ پڑتے۔ جہاد اور غزوات میں اپنے گھروں کا تمام مال و اسباب پیش کردیتے۔ خود بھوکے پیاسے رہ کر مہمان کی میزبانی کرتے اور اس کا اتنا عمدہ طریقہ کار ہوتا کہ مہمان کو شرمندگی بھی نہ اٹھانی پڑتی (سبحان اللہ)۔ تاریخ اسلام میں ایسے بے شمار واقعات ہماری نظروں سے گزرتے ہیں جہاں اللہ کے ان برگزیدہ بندوںنے دوسروں کے آرام اور سُکھ کے لیے تکالیف برداشت کیں۔ اگر نیکی کے کسی بھی کام کے سلسلے میں تکلیف اٹھانی پڑتی یا مشقت اور کوشش کرنی پڑتی تو وہ گھبراتے نہیں تھے۔ یہی ہم سب مسلمانوں کا وتیرہ ہونا چاہیے۔ رب العزت ایسے بندوں کے درجات بلند کرتا ہے، ان کے راستے کی تکالیف دور کرتا ہے، اور آخرت کا اجر تو برحق ہے، جیسا کہ اس روایت سے ثابت ہے:
یہ روایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پر ظلم کرے، نہ مصیبت میں اس کا ساتھ چھوڑے۔ اور جو مسلمان اپنے بھائی کی حاجت میں رہتا ہے (یعنی اس سے تعاون کرتا ہے) اللہ تعالیٰ اس کی حاجت میں رہتا ہے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی کوئی سختی (امدادِ باہمی سے) دور کرتا ہے اللہ قیامت کی سختیوں میں اس کی سختی دور کرتا ہے۔ جو مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ قیامت کے روز اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ (بخاری مسلم)
…٭…
اللہ بندے کی کوئی نیکی ضائع نہیں جانے دیتا، اس کو دنیا اور آخرت میں اجر ضرور دیتا ہے۔ اللہ کے بہت سے بندے اللہ کے حکم کے مطابق ظالم اور بے انصاف رشتے داروں سے بھی صرف اللہ کے لیے قطع رحمی سے باز رہتے ہیں، حالانکہ سامنے والے کے عمل سے انہیں سخت تکلیف ہی کیوں ناں پہنچی ہو، لیکن درگزر کا معاملہ کرکے اپنے دل پر جبر کرکے وہ صرف رب کی رضا کی خاطر صلۂ رحمی کرتے ہیں تو یقینا اللہ رب العزت ان کے اس عمل پر راضی رہتا ہے۔
میں جب بھی کوئی موضوع زیر بحث لانے کا سوچتی ہوں، اُس کے متعلق اللہ تعالیٰ میرے آس پاس بہت سی جھلکیاں سامنے لاتا ہے (الحمدللہ)۔ اس مضمون کے سلسلے میں بھی چند دن پہلے ہی میری ایک دوست نے اپنا واقعہ پیش کیا جو آپ سے شیئر کررہی ہوں۔ سرکاری ملازمت کی وجہ سے موصوفہ کو سرکار کی جانب سے رعایت کے ساتھ خوب صورت بڑا گھر بھی ملا جہاں وہ سکونت پذیر ہوگئے، لیکن اس دوران اس کے شوہر نے تگ و دو کے بعد اپنا گھر بھی بنا لیا جو اپنی والدہ کے نام کیا کہ جب نوکری ختم ہوگی تو والدہ کے ساتھ رہوں گا۔ چھوٹا دیور، جو موصوفہ کی شادی کے وقت سات، آٹھ سال کا تھا، جسے اس نے اپنی اولاد کی طرح پیار دیا، اس کی پرورش میں ساس کا ساتھ دیا، شوہر اور ساس کے انتقال کے بعد اس دیور نے وہ مکان کسی طرح اپنے نام منتقل کروا لیا جس کا بھابھی (خاتون) کو سخت صدمہ ہوا۔ خود بھی ملازمت پیشہ تھی، لہٰذا ایک گھر کرائے پر لے کر اپنے بچوں کے ساتھ رہنے لگی۔ دیور کے اس عمل سے اسے سخت صدمہ پہنچا کہ اس کا اور اس کے بچوں کا حق مارا گیا ہے اور اس شخص نے دھوکا دیا جسے اس نے اپنی گود میں کھلایا۔ اب کہیں بھی خاندان میں کوئی تقریب ہوتی وہ بھابھی کے سامنے ہی نہ آتا۔ ایک دن قریبی رشتے دار کی شادی میں بھابھی کا سامنا ہوا تو فوراً پلٹ کر بھاگنے کو دوڑا۔ بھابھی نے دوڑ کر اس کا گریبان پکڑلیا۔ دیور اور تمام رشتے دار جو اس واقعہ سے واقف تھے، سمجھے کہ اب بھابھی اس کے منہ پر طمانچے مارے گی، لیکن لوگوں نے دیکھا کہ اس نے دیور کو زور سے گلے لگایا کہ بے شک تُو نے مجھے تکلیف پہنچائی، لیکن جا میں نے تجھے معاف کیا، تُو میری اولاد کی طرح مجھے پیارا ہے، میں تجھ سے بدلہ نہیں چاہتی۔ دیور اس سلوک سے ہکا بکا رہ گیا، اس نے بھابھی کے پائوں چھو لیے کہ مجھے معاف کردو۔ بھابھی نے کہا میں نے تجھے اس لیے معاف کیا کہ اللہ تجھے اس غلطی کی سزا سے بچائے۔
یہ ایک عظیم مثال ہے کہ دیور کو آخرت کی تکلیف سے بچانے کے لیے اُس نے درگزر کا معاملہ کیا، حالانکہ اس تمام صورتِ حال سے موصوفہ کو ایک لمبے عرصے تک تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اللہ رب العزت ہم سب کو اتنا اعلیٰ ظرف کردے کہ ہم دوسروں کو آرام اور مدد دینے کے لیے اپنی تکالیف کو نظرانداز کردیں (آمین)، جو کہ آسان کام نہیں۔ بلکہ اس بات پر اللہ کا شکر ادا کریں کہ اللہ نے ہمیں اس قابل بنایا ہے کہ ہم اللہ کے بندوں کے لیے آسانی اور مدد کا باعث بنے… اور ویسے بھی میرا مشاہدہ ہے (جس کی آپ سب تائید کریں گے) ایسے لوگ جو اللہ کی رضا کی خاطر اپنے آپ کو تکلیف میں رکھ کر کسی نیکی کے لیے قدم اٹھاتے ہیں، اللہ ان کی بھرپور انداز میں مدد کرتا ہے، اس ایک قدم پر دس قدم اللہ بڑھاتا ہے، اس کے راستے کے کانٹے ہٹا دیتا ہے کہ بندہ خود حیران ہوتا ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہوا! اس لیے کسی چھوٹی سے چھوٹی نیکی اور کسی بھی فرض اور عبادت کو ادا کرتے وقت تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑے تو گریز نہ کریں، کیونکہ قدرت کے ہاتھ میں ہے کہ ’’کن فیکون‘‘ ہو جا تو ہوجاتا ہے۔ میں نے حج کے مناسک کے دوران ایسے ایسے حجاج کرام کو دیکھا جو چلنے پھرنے سے معذور تھے لیکن سختی اور تکلیف کے باوجود حج کے فریضے کو اس عمدگی سے انجام دے رہے تھے کہ انہیں دیکھ کر ہم سب کی ہمت بندھ رہی تھی۔ لیکن میں نے بہت سے لوگوں کو مال کے ہوتے ہوئے اس فریضے میں کوتاہی کرتے دیکھا ہے کہ اب بڑھاپا ہے، تکلیف کہاں سہی جائے گی۔ جوانی کمانے میں اور دنیاوی کاموں کی انجام دہی میں گزار دی اور اب بڑھاپے کا بہانہ اور اس فریضے سے محرومی کہ اللہ نے بلاوا نہیں بھیجا۔
نیکی کے ہر کام کو کرنے کے لیے اپنے آپ کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار رکھنا لازمی ہے۔ اللہ ہم سب کو ایسی ہمت اور توفیق عطا کرے، آمین۔

حصہ