برصغیر میں اسلام کے احیا اور آزادی کی تحریکیں

62

نجیب ایوبی
قسط نمبر : 132
(دسواں حصہ )
جنگِ ستمبر 1965ء کا تذکرہ نامکمل رہے گا اگر ہم اپنے سپاہیوں کی خدمات اور جرأت و جواں مردی کا ذکر نہ کریں۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اُس وقت کی سرحدی صورتِ حال اور جنگی حکمتِ عملی سے پوری طرح آگاہ رہا جائے۔
سرحدوں پر جنگی کیفیت تو ’’آپریشن گرینڈ سلام‘‘ کے وقت سے ہی شروع ہوچکی تھی اور ہندوستانی افواج نے پاکستانی سرحدی چوکی کی جانب اپنا زور بڑھاتے ہوئے اپنی فوج کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ ہندوستانی فوج کی اس غیر معمولی سرگرمی پر پاکستان نے ہندوستان کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا، جس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’’یہ ہماری فوجی مشق ہے، اس لیے پاکستان کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
پاکستانی انٹیلی جنس کی اطلاعات کے بعد جنرل موسیٰ نے اُسی وقت کمانڈروں کی مشاورت سے 4 ستمبر 1965ء کو سرحدی چوکیوں کو ممکنہ خطرے سے خبردار کرتے ہوئے پیغام بھیجا کہ ’’تازہ ترین انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق ہندوستان سرحدوں پر فوج جمع کررہا ہے اور آل انڈیا ریڈیو پاک فوج کی پیش قدمی کی جھوٹی خبریں نشر کررہا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ بھارت کے عزائم جارحانہ ہیں، لہٰذا تمام فارمیشنز دفاعی نقطہ نظر سے ضروری اقدام بروئے کار لائیں۔‘‘
اس کے اگلے ہی دن ہندوستانی ریڈیو نے اس طرح کی خبریں دینی شروع کیں: ’’وزیراعظم لال بہادر شاستری اگلے 24 گھنٹوں میں کوئی اہم اعلان کرنے والے ہیں‘‘۔ اِدھر ریڈیو پاکستان بھی حوصلہ مند خبروں سے اپنے سننے والوں کے دلوں کو گرما رہا تھا کہ ’’ہماری پاک فوج ’’اکھنور‘‘ پر جلد قبضہ کرنے والی ہے‘‘۔ دونوں جانب کے اخبارات کی جلی سرخیاں بھی اسی طرح کی مسالے دار خبروں سے مزین ہوتیں۔
اسی اثنا میں کشمیر محاذ کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 5 ستمبر کو قرارداد منظور کی جس میں ہندوستان اور پاکستان کو جنگ بندی کے لیے کہا گیا۔ اس کا جواب مقبوضہ کشمیر میں قائم انقلابی کونسل نے یہ کہہ کر دیا کہ ’’ہم سلامتی کونسل کی اپیل کو رد کرتے ہیں اور کشمیری حریت پسند وادیٔ کشمیر کو آزادی ملنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘
تاہم جب ’’آپریشن گرینڈ سلام‘‘ روکا گیا اُس وقت کسی کو بھی یہ گمان نہیں تھا کہ کشمیر کے جیتے ہوئے محاذ پر اچانک جنگ بندی کے ذریعے ہم پاک فوج کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کو اچانک روک لیں گے۔ اس جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کے فوجی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی پاکستان کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوئی۔ لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کا کہنا ہے کہ ’’اگر یہ آپریشن اپنے وقت سے دو تین دن پہلے شروع کرلیا جاتا تو امکانات تھے کہ صورتِ حال بہت مختلف ہوتی، اور’’آپریشن گرینڈ سلام‘‘ کے اہم ترین مرحلے پر جب کہ ’’اکھنور‘‘ پر قبضہ چند گھنٹوں بعد ممکن دکھائی دیتا تھا، پاک فوج کی پیش قدمی نہ روکی جاتی تو کشمیر کے اہم علاقے پاکستان کے قبضے میں آجاتے اور ہندوستان بین الاقوامی سرحد پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوتا۔‘‘
اس سے پہلے بھی ’’رن آف کچھ‘‘ کے محاذ پر پاکستان کو مجبور ہوکر اپنی افواج کو واپس بلانا پڑا تھا جب ہندوستانی فوج کے قدم اکھڑ چکے تھے۔ ’’رن آف کچھ‘‘ پر برطانوی وزیراعظم ہیرالڈ ولسن کی مداخلت پر 30 اپریل کو صدر ایوب خان اور وزیراعظم لال بہادر شاستری نے برطانوی ثالثی قبول کرلی اور پاکستان نے رن آف کچھ میں اپنے بڑھتے ہوئے قدم روک لیے تھے۔
اور دو ماہ کی سفارتی جدوجہد کے بعد ’’معاہدۂ کچھ‘‘کو عمل میں لایا گیا جس کے مطابق یکم جولائی 1965ء کو دونوں ملکوں کی فوجیں جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر چلی جائیں گی۔ اس معاہدے پر صدر ایوب اور وزیر خارجہ بھٹو بہت خوش تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس معاہدے کی روشنی میں کشمیر کا معاملہ بھی حل کیا جاسکتا ہے۔
جنگِ ستمبر 1965ء کے وقت ہندوستان کی فوجی طاقت کا مقابلہ اپنے سے انتہائی کم فوجی قوت کے ساتھ تھا۔ ہندوستانی ہائی کمانڈ کا اندازہ درست تھا کہ کمزور دشمن کو اس وقت آسانی کے ساتھ زیر کیا جاسکتا ہے۔
6 ستمبر سے کچھ پہلے ہمارے انٹیلی جنس سسٹم نے خبردار کردیا تھا کہ ہندوستان ایک بڑی زمینی پیادہ فوج جس کی معاونت کے لیے بڑی تعداد میں ٹینک بھی موجود ہیں، پاکستان کی سرحد سیالکوٹ کی جانب پیش قدمی کررہی ہے۔
ہندوستان کی عسکری کمانڈ نے زمینی پیش قدمی کے ساتھ ہی اپنی فضائیہ کو بھی مدد کے لیے تیار رہنے کا حکم جاری کردیا۔ ہندوستانی فضائیہ کے جنگی طیارے اپنی کمانڈ کے حکم کے منتظر تھے، کاک پٹ میں پائلٹ رات کی تاریکی میں انجانے مقام کی جانب پیش قدمی کے منتظر تھے۔ پاکستان بھی حالتِ جنگ میں آچکا تھا اور ہمارے جوانوں کو بھی اگلی چوکیوں کی جانب روانہ ہونے کا حکم مل چکا تھا۔ 6 ستمبر کو 9 بجے پاکستان کے چیف آف جنرل اسٹاف نے کمانڈروں کا مشترکہ اجلاس جنرل ہیڈ کوارٹر میں طلب کیا اور تمام تر سرحدی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سرکاری طور پر اعلان ہوا کہ ہندوستان نے لاہور اور سیالکوٹ پر بہت بڑا زمینی حملہ شروع کردیا ہے۔ چیف آف جنرل اسٹاف نے اپنا خطاب ان الفاظ پر ختم کیا: ’’جو کچھ ہمارے پاس ہے آپ سب جانتے ہیں، اس وقت متبادل اور ری پلیس منٹس ناممکن ہیں… گڈ لک‘‘۔
اس طرح پاکستانی ہائی کمان کو یہ پیغام دے دیا گیا کہ اب جو بھی وسائل اور سامانِ حرب دستیاب ہے اسی سے پاک سرزمین کا دفاع کرنا ہوگا۔
اس سے پیشتر بھی ہندوستان اور پاکستان کا ایک فضائی معرکہ ہو چکا تھا جس میں ہندوستانی فضائیہ نے منہ کی کھائی تھی۔ یہ قصہ یکم ستمبر کا ہے۔ جس وقت پاکستانی میجر جنرل اختر ملک چھمب کے محاذ پر سرحد عبور کرکے جوڑیاں اور اکھنور کی جانب پندرہ میل تک پیش قدمی کرچکے تھے، ممکنہ ہندوستانی حملے کی پیش بندی کے لیے پاک فضائیہ کے دو ایف 86 سیبر اور ایک اسٹار 104 فائٹر طیارہ جس میں اسکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی اور دوسرے طیارے میں فلائٹ لیفٹیننٹ امتیاز بھٹی عقاب کی مانند آسمان کی بلندیوں سے دشمن کے انتظار میں تھے، کہ اچانک پانچ بج کر بیس منٹ پر بھارتی طیارے فضا میں دکھائی دیے، جس پر پلک جھپکتے ہی پاک فضائیہ کے دونوں سیبر دشمن پر لپکے۔ پاکستانی شاہینوں کے اس جوابی وار سے گھبرا کر بوکھلاہٹ کے عالم میں ہندوستانی طیاروں نے جو بم پاکستان میں گرانے تھے وہ اپنی ہی فوج پر گرا کر اپنا بوجھ ہلکا کرنا شروع کردیا۔ اس شرمناک واقعے کا ہندوستانی جنرل جی ایس سندھو نے اپنی کتاب ’’ہسٹری آف انڈین کیولری‘‘ میں یوں ذکر کیا:
’’ہمارے ہندوستانی طیارے نہایت اطمینان کے ساتھ اپنی زمینی فوج کی مدد کو روانہ ہوئے، لیکن نہ جانے کیوں اپنی ہی فوج کے ایک یونٹ کے ٹینکوں پر حملہ آور ہوگئے۔ اس حملے میں ہمارے تین ٹینک، اکلوتی ریکوری گاڑی اور اسلحہ کی گاڑی تباہ ہوگئی۔ زمینی فائرنگ سے ہمارا ایک ویمپائر طیارہ بھی تباہ ہوا جسے فلائنگ آفیسر پاتھک اُڑا رہا تھا۔‘‘
پہلے سے فضا میں موجود اسکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی کی نگاہ دشمن کے طیاروں پر پڑی، انہوں نے ان طیاروں کو آڑے ہاتھوں لیا اور فضا میں ہی نشانہ لے کر فائر کھول دیا۔ دشمن شاید پاکستانی شاہینوں کی باخبری سے آگاہ نہیں تھا، اس کے دو ویمپائر طیارے سرفراز رفیقی کے حملے کا شکار ہوکر جہنم کا ایندھن بن چکے تھے، باقی رہ جانے والا تیسرا طیارہ امتیاز بھٹی کے حصے میں آیا جسے اُڑتے ہی زمین بوس ہوتے ہندوستانی فوجی دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔ اس طرح ہندوستانی فضائیہ نے فیصلہ کیا کہ اپنے فضائی حملوں کو وقتی طور پر روکنا ہوگا۔
کچھ سستانے کے بعد ہندوستانی فضائیہ نے ایک اور ہمت کی، اور پچھلی بربادی کا بدلہ لینے کا پروگرام بناتے ہوئے 6 ستمبر کو زمینی حملے کے ساتھ ساتھ پاکستان پر فضائی حملے کا بھی پروگرام بنایا۔ اسی شام پاک فضائیہ نے سورج غروب ہونے کا انتظار کیا اور ایک ہی وقت میں دشمن کے تین ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ ترتیب دیا۔ اس مرتبہ پہلے کے فاتح اسکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی نے اپنی قیادت میں تین طیاروں کا انتخاب کیا اور سرگودھا کے فضائی مستقر سے ہندوستانی مستقر ’’ہلواڑہ‘‘ کی جانب اڑان بھری، دوسرے طیارے میں ماہر ترین پائلٹ لیفٹیننٹ سیسل چودھری، اور تیسرے میں لیفٹیننٹ یونس حسین کاک پٹ میں مستعد بیٹھے تھے۔ شاہینوں کا یہ گروپ سورج ڈھلتے ہی ہندوستانی سرحد میں بلند پرواز کے ساتھ داخل ہوچکا تھا، بلندی کے سبب اس بات کے امکانات معدوم تھے کہ پاکستانی شاہین دشمن کے ریڈار میں آسکیں۔ اسی راستے پر پاکستان کے مایہ ناز پائلٹ ایم ایم عالم نے اپنے دفاعی گشت سے واپسی میں فضا میں ہندوستانی طیاروں کو دیکھا اور کنٹرول سسٹم کو خبردار کیا۔ کنٹرول سے بتایا گیا کہ اسکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی فضا میں موجود ہیں، انہیں آگاہ کرو۔ ایم ایم عالم نے سرفراز رفیقی کو محتاط ہونے کا کہا، مگر رفیقی نے جواب دیا ’’سر! اس وقت ہم دشمن کے سر پر موجود ہیں‘‘۔ اور حقیقت بھی یہی تھی کہ اسکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی ’’ہلواڑہ ائربیس‘‘ کے عین اوپر پہنچ کر دشمن کے طیاروں کا جائزہ لے رہے تھے۔(جاری ہے)

حصہ