اللہ اور اللہ کے دوست

28

سیدہ عنبرین عالم
عبید 17 سال کا ہوچکا تھا، اس کے والد ایک جید عالم تھے اور مذہبی تقاریب میں اکثر تقریر و تدریس کے لیے مدعو کیے جاتے تھے، اور جیسا کہ دستور ہے، ان تقاریر کا وہ بھاری معاوضہ بھی وصول کیا کرتے تھے۔ عبید کے دونوں بڑے بھائیوں نے بھی دینی علوم حاصل کیے تھے اور جلسے جلوسوں میں تقاریر کا شغف رکھتے تھے۔ عبید کے دادا تقسیم ہند سے پہلے بڑھئی کا پیشہ کرتے تھے اور اب متروک سامان کی طرح ایک کمرے میں مقید تھے۔ ایک کُل وقتی ملازم اُن کا خیال رکھتا تھا۔ البتہ عبید کو اُن سے خاصی انسیت تھی۔ آج بھی وہ آئسکریم لایا تو دادا کے لیے بھی لایا۔ وہ شروع ہی سے آئسکریم کے دیوانے تھے۔
’’پتر اوئے! تُو عالم نئیں بنیا، تیرا پیو تو بڑا ہی ناراض ہوئے گا تیرے سے‘‘۔ دادا نے مسکرا کر کہا۔
’’دادا جی! عالم تو تُسی بھی نہیں بنے، میرا پیو آپ سے بھی ناراض ہی رہتا ہے، آپ کو ملاتا نہیں کسی سے کہ کہیں اس کا شجرہ نہ کھل جائے لوگوں کے آگے‘‘۔ عبید نے قہقہہ لگاکر کہا۔ دادا بھی ہنس پڑے ’’شجرہ چھپانے سے شجرہ بدل نہیں جاتا۔ وڈا آیا عالم! ہے تو بڑھئی کی اولاد۔ دل وچ ایمان ہونا چاہیے پتر، دل رب سوہنے دا گھر ہے‘‘۔ وہ بولے۔
’’کتھوں دادا جی، مینوں تو پتا ہی نہیں لگتا کہ اللہ ہے کون، عالم کیا بننا؟‘‘ عبید نے کہا۔
’’ساڈا مالک ہے، رازق ہے، موت بھی اس کے ہاتھ، زندگی بھی اس کے ہاتھ‘‘۔ دادا نے جواب دیا۔
’’وہ تو پتا ہے، پر میں چاہتا ہوں کہ پتا لگے کہ اللہ ہے کون؟‘‘ عبید نے ناسمجھی سے اصرار کیا۔
’’اچھا…!‘‘ دادا نے سوچتے ہوئے کہا ’’پتر جی! ایک بار میں اپنے چاچے کے پاس شہر جارہا تھا، تڑکے دا ویلا تھا، مجھے چھ کتوں نے ایک ساتھ گھیر لیا۔ پورے چھ، خطرناک، بڑے بڑے… میں تو پتر جی بڑا گھبرایا… پتر! پہلی بار مجھے ایسا لگا کہ کوئی ہے جو اس ویرانے میں، بیابان میں بھی ہے، جو اس سناٹے میں بھی مجھے دیکھ رہا ہے، میرے لیے فکرمند ہے اور مجھے بچانے کی طاقت رکھتا ہے… میں بڑی زور سے چلاّیا ’’ربّا بچا لے…‘‘ تو یقین کر، سارے کتے بھاگ گئے، میں اکیلا ہی کھڑا رہ گیا۔ پتر! میں نے پہلی بار سجدہ کیا اُس روز۔ ہمارے گائوں میں نہ مسجد تھی نہ ملّا، نہ کسی کو نماز پڑھتے کبھی دیکھا۔ پَر پتر میں نے اپنے آپ اُس روز سجدہ کیا… اللہ ہے پتر، اللہ ہے… اور بڑا مہربان ہے۔ پھر میں پاکستان آگیا اور اپنے پتر کو سارا رب سوہنے دا علم سیکھنے مسجد میں بٹھا دیا۔‘‘ انہوں نے تفصیل سے بتایا۔
’’اللہ نے آپ کو کیوں بچوایا دادا جی! آپ نے تو کبھی نماز بھی نہیں پڑھی تھی؟‘‘ عبید نے پوچھا۔ دادا مسکرا اٹھے ’’وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے ناں۔ ہاں پتر اسی روز سمجھ آیا کہ کوئی ہے جو مجھ سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے، 70 مائوں کی مامتا سے زیادہ پیار۔ وہ تم سے بھی پیار کرتا ہے۔ وہ ہم کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا، ہر وقت ہمیں دیکھتا رہتا ہے کہ ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ ہماری ہر بات لکھ لیتا ہے تاکہ ہم سے ناانصافی نہ ہو۔ ہمارے لیے ہدایت بھیجتا ہے، ہمیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے، مگر امتحان بھی لیتا ہے‘‘۔ انہوں نے ملائمت سے جواب دیا۔
’’پیار کرتا ہے تو امتحان کیوں لیتا ہے؟ اسی نے تو ہمیں بنایا ہے، پھر کیسا امتحان؟‘‘ عبید نے پوچھا۔
’’واہ بیٹا! یہی تو بات ہے، جو بہت زیادہ پیار کرتا ہے ناں، وہ چیک بھی کرنا چاہتا ہے کہ میرا بندہ بھی مجھے پیار کرتا ہے یا نہیں۔ پتر جی! وہ امتحان کے لیے کتے بھیجے گا تو بچائے گا بھی وہی۔ تیرا امتحان اتنا ہے کہ اللہ کے نام کی صدا لگاتا ہے یا نہیں۔ بس اللہ کے نام کی صدا لگا، اس کی اذان دے۔ چاہے جتنے مرضی کتے تجھے گھیر لیں، چاہے تیری تکا بوٹی کردیں، تیری آواز نہ بند ہو‘‘۔ دادا نے سمجھایا۔
’’داداجان وہ نظر کیوں نہیں آتا؟ موسیٰؑ تک کو اپنا دیدار نہیں کرایا۔ وہ مجھے بڑا چنگا لگتا ہے، بڑا ہی سوہنا، میں اس کو دیکھنا چاہتا ہوں دادا جی‘‘۔ عبید نے ایسے لاڈ سے فرمائش کی جیسے چہیتا پوتا دادا سے کوئی من پسند کھلونا مانگ رہا ہو۔
دادا نے زوردار قہقہہ مارا۔ پھر اوپر خیالوں میں دیکھنے لگے جیسے واقعی اللہ کو دیکھنے کی کوشش کررہے ہوں۔ ’’وہ بڑا حسین ہے پتر! بڑا ہی حسین ہے۔ اتنا حسین کہ اگر ہم نے اسے دیکھ لیا تو ہوش کھو بیٹھیںگے، اور کتے ہم پر حملہ کردیں گے، لیکن ہم آواز لگانے کے قابل بھی نہ رہیں گے… ہم کو ابھی امتحان دینا ہے، ہوش وحواس میں رہنا ہے۔ وہ کیسے اپنے جلوے دکھائے! موسیٰؑ بے ہوش، خلقت بے ہوش۔ کون سا امتحان، کاہے کا امتحان! گل ہی نے مُک جانا ہے پتر جی۔ پھر تو فرشتے اتریں گے، نتیجہ نکلے گا‘‘۔ انہوں نے بتایا۔ ایسے مدہوش، جیسے ابھی پردے کھل جائیں گے، جلوے بکھر جائیں گے، چند گھڑی کی بات ہے… آئس کریم ختم ہوچکی تھی۔
کھڑکیوں سے ٹھنڈی ہوا آرہی تھی، دھوپ دادا جی کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ یہ گھر کا واحد کمرہ تھا جہاں ائرکنڈیشنر نہیں تھا، اور کھلی ہوئی کھڑکیاں نہ صرف قدرتی موسم کا خزانہ بے تحاشا لٹاتی تھیں بلکہ چڑیوں کی چہکار، بچوں کی آوازیں اور دور ہوتی اذان بھی تحفتاً پیش کرتی تھیں، جب کہ باقی کمرے قبروں کی طرح بند رہتے اور اندر ہی اندر ٹی وی، موبائل کی آوازوں سے گونجتے۔ ہوا بھی قید، سانسیں بھی قید، خیالات بھی قید۔ پھر ایک تازہ جھونکا، اس بنگلے میں سرسرانے لگا۔ دادا جی! ابا کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے اور وہ خود ساتویں آسمان پر رہتا ہے‘‘۔ عبید نے آئسکریم کے ریپر کوڑے دان کی نذر کرتے ہوئے کہا اور ٹشو پیپر دادا کی طرف بڑھا دیے۔
’’او نئیں اوئے‘‘ دادا جی جیسے بلبلا اٹھے ’’میرا رب تو ہر طرف ہے، ہر جگہ ہے… رب ہی رب۔‘‘
’’وہ کیسے دادا جی! ابھی تو یہ بات مجھے سمجھ میں نہیں آرہی‘‘۔ عبید نے کہا۔
’’پتر دیکھ، ہم سمجھتے ہیں کہ بجلی تار میں ہے، پَر کبھی تار کھول کر دیکھ ،کہیں تجھے بجلی نظر نہیں آئے گی۔ پنکھے میں، بلب میں، ٹارچ میں کب کس نے بجلی دیکھی… مگر بجلی ہوتی ہے تو چیز کام کرتی ہے… پتر! ہم سمجھتے ہیں روح ہمارے جسم میں ہے۔ بڑے بڑے آپریشن ہوتے ہیں، دل چیرتے ہیں، پیٹ چاک کرتے ہیں… کب، کس نے، کہاں روح دیکھی؟ مگر روح ہے، سب کو پتا ہے کہ روح ہے۔ بیٹا اسی طرح رب ہے، ہر طرف ہے، ہر شے میں میرا رب ہے۔ وہی تو روح ہے، وہی تو جان ہے، وہی تو حرارت ہے… ورنہ تو ہر چیز صرف کچرا ہے، بے روح، مُردہ، کسی کام کی نہیں۔ یہ الگ ہی نظام ہے بیٹا۔ تیری میری اوقات ہی کیا ہے! میں کیا بتائوں گا تُو کیا پوچھے گا! اور تیرا باپ بھی کسی لائق نہیں‘‘۔ دادا نے سمجھایا۔
عبید گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ ’’دادا اگر اللہ اکیلا ہے تو وہ باتیں کس سے کرتا ہوگا؟ باقی سب تو مخلوق ہے، ہم مخلوق تو باتیں نہیں کرسکتے، وہ بور ہوتا ہوگا ناں؟‘‘ عبید نے پوچھا۔ دادا ہنس پڑے۔ ’’وہ کدھر اکیلا! ساری مخلوق اس کا ٹبر ہے، بس یہ ہے کہ اس کے جیسا کوئی نہیں، اور ہم سب کو اُس نے بنایا ہے۔ یہ تُو بیٹھا، یہ میں بیٹھا، ہم سب اس کا ٹبر ہیں۔ تُو نے اللہ کے آگے رولا ڈالا ہوا ہے کہ تُو بڑے ہی اعلیٰ نمبروں سے پاس ہو، میں نے رولا ڈالا ہوا ہے کہ میرا پتر سدھر جائے، ساری مخلوق نے بک بک لگائی ہوئی ہے، سب نے دامن پھیلایا ہوا ہے۔ وہ تو صبح شام جھولیاں بھر بھر کر نواز رہا ہے، تیری سن رہا ہے، میری سن رہا ہے، سب کو جواب دے رہا ہے، وہ کہاں فارغ ہے بیٹا! فارغ تو ہم ہیں، اُس کی ایک نظرِ عنایت کے لیے ساری عمر تیاگ دیتے ہیں، پھر جب اس کی نظرکرم ہوجائے…‘‘ وہ بول ہی رہے تھے کہ عبید نے جملہ اچک لیا۔
’’اس کی نظر کرم ہوجائے تو جاہل اجڈ عمرؓ خلیفۃ المسلمین بن جاتا ہے، اس کی نظر پڑجائے تو غلاموں کی زندگی جینے والا بلالؓ کعبے پر چڑھ کر اذان دینے لگتا ہے‘‘۔ عبید نے کہا۔
’’پتر! وہ بات کرے نہ کرے تُو ہر وقت اُس سے بات کر، اُس سے اپنے راز کہہ دے، اپنے دکھ سکھ بول، اپنی خواہشیں بتا، معافی مانگ، پیار کا اظہار کر، کچھ نہ کچھ کہتا رہ، کہتا رہ… وہ سنے نہ سنے، تُو کہتا جا۔ تعلق نہ ٹوٹے، پتر تعلق بناکر رکھ، وہ سب سے اونچی سرکار ہے‘‘۔ دادا نے کہا۔
’’دادا! یہ ولی اللہ کیسے بنتے ہیں؟ پیغمبر، نبی، مرشد، قطب، پیر، داتا… یہ کیسے بنتے ہیں؟ کون لوگ یہ سب بن جاتے ہیں؟ اور فیض دیتے ہیں۔‘‘ عبید نے پوچھا۔
’’نہیں پتر!‘‘ دادا نے سر ہلایا ’’سب بندے ہیں۔ ذرا سی نافرمانی ایک پل میں آسمان سے زمین پر لا سکتی ہے۔ کبھی نہ سمجھنا کہ تُو کوئی بڑی ہستی بن گیا ہے۔ شیطان بھی یہی سمجھا تھا کہ وہ سب سے اونچا ہے، پھر دیکھ کیسا ذلیل ہوا۔ بس پتر! اللہ کا علم حاصل کر، اُس علم پر عمل کر، اور اس علم و عمل کو اوروں تک پہنچا۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا، یہی سکھایا، اور کچھ نہیں سکھایا۔ نہ کبھی مقدموںکے لیے وظیفے لکھ کر دیے، نہ صحت کا تعویذ، نہ ٹونے ٹوٹکے۔ کوئی ولی اللہ ہوگا تو صرف ہدایت دے گا، بالکل میرے نبیؐ کی طرح۔ اور کوئی شعبدے نہیں کرے گا‘‘۔ انہوں نے سمجھایا۔
’’چنگا دادا جی!‘‘ عبید مسکرایا۔ ’’مگر رب کو سب سے زیادہ محبت کن لوگوں سے ہوتی ہے؟‘‘
’’ہاں پتر جی!‘‘ دادا سنبھل کر بیٹھ گئے ’’ہن کیتا چنگا سوال… بیٹا! دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک، جنہیں اللہ بچپن سے ہی چن لیتا ہے اور ان کی تربیت کرتا ہے اور پھر ان سے اپنا کام لیتا ہے۔ یہ لوگ اکثر سخت مشکل کی زندگی گزارتے ہیں جیسے حضرت عیسیٰؑ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، شروع سے ہی تنہا اور مصیبت میں رہے جیسے کہ حضرت موسیٰؑ پیدا ہوتے ہی سمندر کے حوالے کردیے گئے۔ اس طرح کے لوگوں کی قدم قدم پر رہنمائی ہوتی ہے۔ بالآخر ان کو خاص مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اللہ ہر قدم پر ان کی حفاظت بھی فرماتا ہے، عموماً کامیاب ہوتے ہیں‘‘۔ وہ بولے۔
’’یعنی یہ سب سے ٹاپ کے لوگ ہیں‘ انبیا و رسل وغیرہ‘‘۔ عبید نے تائید چاہی۔
’’آہو پتر، ہوسکتا ہے اور لوگوں کے ساتھ بھی ایسا معاملہ ہوتا ہو، جیسے کسی کو مصور بننا ہو تو بچپن سے ایسے حالات پیدا ہوتے ہیںکہ وہ مصور بنے، کسی کو موسیقار بننا ہو تو بچپن سے وہ ایسا سریلا ہوتا ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر پاتا، اسے تقدیر کہتے ہیں‘‘۔ دادا نے بتایا۔
’’اور دوسری قسم کون سی ہوتی ہے، جنہیں اللہ پسند کرتا ہے؟‘‘ عبید نے سوال پوچھا۔
’’پتر دوسری قسم ہے ابوبکرؓ جیسے لوگوں کی، جو منتخب نہیں ہوتے مگر ان کی ہر ادا، ہر لفظ اس قدر عشق میں ڈوبا ہوتا ہے کہ اللہ ان پر صدقے واری جاتا ہے، ان کے دل پر سے سارے پردے ہٹ جاتے ہیں، ان کو نگاہِ مردِ مومن عطا ہوتی ہے جو سب راز کھول دیتی ہے، یعنی یہ صرف اپنے عشق، قربانی اور علم و عمل کے باعث اللہ کے اتنے چہیتے ہوجاتے ہیں کہ خاص مقام حاصل کرلیتے ہیں۔ دنیا و آخرت کی عزت ان کا نصیب ٹھیرتی ہے‘‘۔ دادا نے سمجھایا۔
’’دادا! پھر جو اس طرح سے پیرومرشد بن جاتا ہے، اس کی کیا ہر دعا قبول ہوتی ہے؟ جبھی لوگ اُن کے پاس جا جا کر اپنی دعائیں کرواتے ہیں؟‘‘ عبید نے حماقت سے سوال کیا۔
دادا نے ماتھے پر ہاتھ مارا ’’پاگل کا پاگل رہے گا تُو۔ ابوبکرؓ نے اللہ کے نام پر سارا سامان اپنے گھر کا لاکر نبی پاکؐ کے قدموں میں ڈھیر کردیا تھا، یا دعا مانگی تھی کہ اللہ انہیں اور دولت دے؟ ابوبکرؓ جنگ میں اپنے بیٹے کو اللہ کے نام پر قتل کرنے کے لیے تیار ہوگئے تھے یا اولادِ نرینہ کے لیے اللہ کے دربار پر منتیں مانگ رہے تھے؟ ابوبکرؓ نے غارِ ثور میں خود کو سانپ سے کٹوایا تھا یا اپنی جان کی حفاظت کی دعا مانگ رہے تھے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
عبید سوچ میں پڑ گیا ’’نہیں دادا جی! ابوبکرؓ نے تو اپنی ساری دولت بھی اللہ کے نام پر دے دی، بیٹا بھی اللہ کے نام پر دینے کو تیار تھے اور اپنی جان بھی اللہ کے قدموں میں دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جب اتنی بڑی بڑی چیزوں کی پروا نہیں تو اور کیا مانگتے رب سے! ان کی تو اپنی کوئی دنیاوی حاجت نہیں تھی، وہ دوسروں کے لیے دنیا کی نعمتیں کیا مانگتے! وہ تو صرف اللہ کے نام پر دنیا جانتے تھے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’جی پتر جی‘‘۔ دادا نے عبید کو تھپکی دی ’’اللہ کے عاشق بس اللہ کے نام پر قربانی دیتے ہیں، جتنا دے سکیں دیتے ہیں، وہ اللہ سے کچھ نہیں مانگتے، اللہ جو دے دے اس میں راضی رہتے ہیں۔ ہاں اس کی رضا اور آخرت مانگتے ہیں، اس کی نصرت اور اس کے دین کی کبریائی مانگتے ہیں، اس کی راہ میں ہونے والی کوشش میں فتح مانگتے ہیں اور عوام کو بھی راہِ ہدایت دکھاتے ہیں، ان کے طرز زندگی بدلتے ہیں، مقصدِ زندگی بدلتے ہیں، یہ نہیں کہ خود بھی ان کے چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں الجھ کر رہ جائیں۔ یہ مسئلے تو امتحان ہیں، جب تک زندہ ہیں امتحان جاری رہے گا۔ مقصد تو اللہ کی رضا ہے‘‘۔ وہ مزید سمجھاتے رہے۔
’’دادا اک گل تو دسو، آپ اللہ کے دوست ہو یا ابا؟‘‘عبید نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
دادا نے قہقہہ لگایا ’’اللہ کرے ہم دونوں اللہ کے دوست بن جائیں۔ پتر تیرا پیو دماغ سے رب کو دیکھتا ہے، میں دل سے دیکھتا ہوں۔ کرم ہے رب کا کہ بصیرت دونوں کے پاس ہے، پَر مومن وہ ہے جو دل و دماغ دونوں کو رب کے تابع کرلے‘‘۔ دادا نے کہا۔
’’جی دادا جی! یہ وہی مومن ہے جو ستاروں پر کمند بھی ڈال سکتا ہے، پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا بھی کرسکتا ہے اور جس کی رضا اللہ پوچھتا ہے‘‘۔ عبید نے جواب دیا۔

حصہ