اغوا برائے تاوان کے حربے

51

قدسیہ ملک
۔28 فروری 2018ء کو اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہورکی شمالی چھائونی میں ڈولفن اسکواڈ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کمسن بچے کے اغوا کی کوشش ناکام بنادی، ایک ملزم گرفتار جبکہ اُس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
ڈان نیوز کے مطابق خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور سے پولیس نے نومولود بچوں کو اغوا کرکے فروخت کرنے والا 6 رکنی گروہ گرفتار کرلیا۔ یہ گروہ پشاور کے مختلف اسپتالوں سے نومولود بچوں کو اغوا کرکے انہیں فروخت کرتا تھا۔ ایس ایس پی آپریشنز عباس امجد مروت کا کہنا تھا کہ سرکاری اسپتالوں کی نرسیں، ڈاکٹرز اور دیگر عملہ نومولود بچوں کے اغوا میں ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر ہشت نگری پولیس اسٹیشن کی حدود میں ڈبگری کے علاقے میں ایک گھر پر چھاپہ مارا اور ایک نومولود بچے کی فروخت کی ڈیل کرنے والی خاتون کو گرفتار کرلیا۔
پنجاب سے بھی 98 فیصد مغوی بچے بازیاب ہوئے ہیں۔ عباس امجد مروت کا کہنا تھا کہ گرفتار خاتون کی نشاندہی پر پولیس نے اغوا کار گروہ کے دیگر 5 کارندوں کو بھی گرفتار کیا ہے جنہوں نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ انہوں نے 70 ہزار سے 3 لاکھ روپے تک کی رقم کے عوض 9 نومولود بچوں کو فروخت کیا۔ واضح رہے گزشتہ چند روز کے دوران پشاور کے سرکاری اسپتالوں سے نومولود بچوں کے اغوا کے کئی واقعات پیش آئے جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی۔ بچوں کے اغوا کے واقعات پنجاب کے مختلف علاقوں مں بھی پیش آرہے ہیں اور اب تک مختلف عمر کے سیکڑوں بچے لاپتا ہوچکے ہں۔ تاہم پنجاب کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس نے بچوں کے اغوا کے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو پیش کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا تھا کہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے 2011ء سے 2016ء کے دوران اغوا یا لاپتا ہونے والے تقریباً ساڑھے 6 ہزار بچوں میں سے 98 فیصد بچے بازیاب ہوچکے ہیں جب کہ صرف 132 بچے ایسے ہیں جو اب تک لاپتا ہیں۔
اس سے ملتی جلتی عائلہ کی کہانی ہے، جو جیل میں موجود ہے اور رہائی کی خواہش لیے اپنے دن گن گن کر گزار رہی ہے، اس کی کہانی سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں اغوا کار کس منظم نیٹ ورک کے ساتھ اپنا کام کررہے ہیں۔ یہ سچی کہانی ویمن ایڈ ٹرسٹ کے جیلوں میں کمپیوٹر کے شعبے سے وابستہ اور جیلوں میں قیدی خواتین کو کمپیوٹر کورس کروانے والی ویمن ایڈ ٹرسٹ کی رکن زینب منیرکے توسط سے معلوم ہوئی ہے۔ اس آپ بیتی کو ہم ضروری ردوبدل کے ساتھ عائلہ ہی کی زبانی قارئین کی نذر کررہے ہیں جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم اس واقعے سے عبرت حاصل کریں اور بچوں کی حفاظت کے معاملے میں کسی پر بھروسا نہ کریں۔
……٭٭٭……
’’میں پختونوں کے ایک متمول اور معتبر گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرے والد کی فیکٹری ہے جہاں کا سارا مال ملک سے باہر بھیجا جاتا ہے۔ میرا نکاح اپنے خالہ زاد سے ہوا جو گھریلو جھگڑوں کی نذر ہوکرختم ہوگیا۔ اس کے بعد میری شادی ابو کی فیکٹری میں کام کرنے والے ایک شخص عمران سے ہوئی، جس کے بارے میں ابو نے پہلے سے اچھی طرح معلومات کروائی تھیں، جو کہ پنجاب کے ایک گاؤں میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا اور معاشی تنگ دستی سے نجات اور اچھے روزگار کی تلاش میں کراچی آگیا تھا اور ابو کی فیکٹری جو گارمنٹس کے حوالے سے مشہور تھی، اس میں اپنی محنت کے سبب اچھے عہدے پر فائز ہوگیا تھا۔ یہیں وہ کرائے کے ایک کمرے میں رہتا تھا اور اپنے اچھے اخلاق اور بہترین کام کی بدولت جلد ہی ابو کی نظروں میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ ابو نے شادی میں ہمیں ایک چھوٹا سا دو کمروں کا گھر لے کر دیا۔ شادی کے ایک سال بعد ہی اللہ نے مجھے ایک خوبصورت بیٹے سے نوازا۔ وقاص نے آکر ہماری زندگی خوشیوں سے بھردی۔ اس کی پیدائش کے دو ماہ بعد ہی عمران کو اپنے گاؤں کی یاد ستانے لگی۔ ابو نے ہمارے گاؤں جانے کے لیے پیکنگ، ٹکٹ اور تحائف سے لے کر سارے انتظامات کیے۔ گاؤں پہنچی تو سب نے خوب آؤ بھگت کی۔ میں بہت خوش تھی کہ یہ اتنے اچھے لوگ ہیں۔ عمران کے بھائی کا کسی حادثے میں انتقال ہوگیا تھا۔ ان کی بیوہ بھی اسی گھر میں رہتی تھی۔ وہ بھی مجھ سے بہت اچھی طرح ملتی تھی۔ خیر، گاؤں آنے کے کچھ عرصے بعد عمران کراچی واپس آگیا، لیکن مجھے وہیں چھوڑ دیا۔ اس کے جانے کے بعد سسرال والوں کا رویہ تبدیل ہوتا گیا۔ اب میں وہاں وہی سب کام کرتی جو وہاں کی دیہاتی عورتیں کیا کرتی تھیں۔ ایک بار میرے ابو مجھ سے ملنے گاؤں آئے تو میری صحت دیکھ کر بہت پریشان ہوئے اور واپس جاکر انہوں نے میرے شوہر پر زور دیا کہ مجھے بھی کراچی لے آئے۔ عمران نے کچھ عرصے تو برداشت کیا، پھر نوکری چھوڑ کر وہ بھی گاؤں ہی آگیا۔ اب گھر کے ایک چھوٹے کمرے میں مَیں، عمران اور ہمارا بیٹا وقاص رہنے لگے۔ ہمارے ساتھ والے کمرے میں عمران کی بیوہ بھابھی بھی رہتی تھی جو کہ ان کے خاندان کی بااثر عورت تھی۔ وہیں مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ عمران نے جو کہ اپنے گاؤں والوں، خاندان اور جرگے سے بہت ڈرتا تھا، جرگے کے فیصلے کے تحت اس بیوہ سے شادی کرلی تھی اور دل سے تسلیم نہ کرنے کے سبب وہ کراچی آکر نوکری کرنے لگا تھا۔ لیکن یہاں آکر وہ حالات سے مجبور تھا۔
تھوڑے عرصے بعد ہی میں دوبارہ امید سے ہوئی۔ یہ بات میری سوکن کو بہت ناگوار گزری۔ اس نے اپنے بھائیوں کے ذریعے جرگہ بلوایا اور مجھے بآسانی طلاق دلوا دی۔ مجھ سے میرا بچہ بھی چھین لیا اور بذریعہ ٹرین کراچی بھجوا دیا۔ میرا تمام جہیز، قیمتی تحائف، روپے پیسے جو میرے ابو مجھے بھیجا کرتے تھے، سب رکھ لیے۔ میں روتی پیٹتی اپنے باپ کے گھر پہنچی۔ میرے ابو میری حالت دیکھ کر بہت روئے۔ لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔
کچھ عرصے بعد اللہ نے مجھے ایک اور بیٹے سے نوازا۔ جب عمران کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ مجھ سے بچہ چھیننے کے لیے مختلف حربے استعمال کرنے لگا۔ ایک بار میں اپنی دادی کے ہاں مانسہرہ آئی ہوئی تھی، اُن کو میری طلاق کا علم نہ تھا۔ مانسہرہ میں سب نے میری خوب آئو بھگت کی، مجھے اور میرے بچے کو خوب تحائف ملے۔ دادی نے بھی بہت سے تحائف دیے جن میں نقدی بھی شامل تھی۔ اسی اثنا میں میرے موبائل پر عمران کا فون آگیا جس نے مجھے بتایاکہ وقاص بہت بیمار ہے، تم فوراً گاؤں پہنچو۔ بچے کی علالت کا سن کر میرے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔ میں مانسہرہ ہی سے اپنے تمام تحائف و نقدی لیے عمران کے گاؤں چلی گئی۔ بچے کو دیکھا، وہ واقعی بیمار تھا۔ اس کا علاج کروایا۔ اپنے پاس موجود تمام رقم عمران کو بچے کے علاج کی غرض سے دے دی۔ اسی دوران عمران میرے پیسوں سے سعودی عرب چلا گیا۔ ابو کو پتا چلا کہ میں عمران کے گائوں گئی ہوں تو انہوں نے مجھ سے سارے رابطے توڑ لیے۔ عمران نے سعودی عرب جاتے ہی گھر والوں کو فون کردیا کہ مجھے واپس کراچی بھیج دو۔ ان لوگوں نے دوبارہ مجھے میرے بچے سے جدا کرکے کراچی بھجوا دیا۔
وقار میرے پاس ہی تھا۔ میں واپس آکر اپنے گھر کے دروازے ہی پر بیٹھ گئی۔ پورے ایک دن ایک رات بیٹھی رہی۔ ابو کو شاید رحم آگیا، انہوں نے اپنی نوکرانی سے بات کی کہ اسے اپنے پاس رکھ لے۔ خرچہ سارا ابو برداشت کرنے کو تیار تھے، بس وہ مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ ہماری نوکرانی پوش علاقے ہی میں ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتی تھی۔ وہیں میری ملاقات عنبرین سے ہوئی جس کے شوہر کی اپنی ایک اسٹیٹ ایجنسی تھی۔ اس علاقے میں تقریباً سبھی لوگ اس کے شوہر سے واقف تھے۔ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ جب اسے میرے حالات کا علم ہوا تو اس نے مجھ سے ہمدردی کی۔ اس نے مجھے اسی علاقے میں دو کمروں کا ایک فلیٹ لے کر دیا، شہر کے مشہور پارلر میں میری جاب لگوائی، میرے بیٹے وقار کو مدینۃ العلوم کے ہوسٹل میں داخل کروایا۔ وہ لوگ مجھ سے اتنی ہمدردی کیوں کررہے تھے میں نہیں جانتی تھی۔ بس اتنا جانتی تھی کہ یہ لوگ واقعی بہت ہمدرد اور خدا ترس ہیں۔
میں اب پہلے سے کہیں زیادہ خوش تھی۔ اس گھر میں آئے مجھے ایک ماہ ہی ہوا تھا کہ عنبرین ایک دن مجھ سے ملنے آئی۔ اُس کے پاس ایک 7 سالہ بچہ تھا۔ عنبرین نے کہا کہ اس کی ماں سخت بیمار ہے، تم دو دن کے لیے اسے سنبھال لو۔ بچہ بہت بری طرح رو رہا تھا۔ میں عنبرین اور اُس کے شوہر کے احسانوں تلے اتنی دبی ہوئی تھی کہ انکار نہ کرسکی اور اسے رکھنے کی ہامی بھر لی۔ وہ شاید جلدی میں تھی، بچہ چھوڑ کر میرے گھر سے چلی گئی۔ بچہ مسلسل رو رہا تھا اور میری زبان بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔ میں مسلسل اسے بہلانے کے لیے مختلف چیزیں بناتی تاکہ وہ کچھ کھالے، لیکن وہ کچھ نہیں کھا رہا تھا۔ دو دن گزر گئے، وہ بیمار ہوگیا، اسے شدید بخار ہوگیا۔ جیسے ہی اس کی آنکھ لگی، میں فلیٹ سے نیچے آئی اور عنبرین اور اس کے شوہر کو فون کیاکہ بچہ بیمار ہوگیا ہے اسے آکر لے جائو۔ یہ سننا تھا کہ عنبرین مجھے میرے اوپر کیے اپنے احسانات یاد دلانے لگی اور کہا کہ ایک بچہ نہیں سنبھال سکتیں! یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا۔ اُس کے شوہر کا بھی یہی رویہ تھا۔
خیر میں گھر آگئی۔ اسی شام وہ لوگ میرے گھر آئے، لیکن بچے کے سامنے آنے سے کتراتے رہے۔ مجھے یہ بات سمجھ نہ آئی۔ بڑی جلدی میں آئے اور کچھ ضروری سامان دے کر نکل گئے، جاتے جاتے وہ اپنا ایک موبائل بھی چھوڑ گئے۔ میں نے موبائل آن کیا، اس میں بیلنس تھا۔ میں نے اس سے عنبرین اور اس کے شوہر کو فون کیا۔ وہ مجھے گالیاں دینے لگے اور کہا کہ تم نے یہ فون کیوں آن کیا؟ اب مجھے سب کچھ سمجھ میں آنے لگا۔ یہ اغوا کا کیس تھا۔ عنبرین کے والدین کو جیسے ہی اس واقعے کا علم ہوا انہوں نے اُسے دبئی کے راستے بھارت بھجوا دیا۔ میرے گھر دو دن بعد پولیس آگئی اور میری نشاندہی پر عنبرین کے شوہر خان اسٹیٹ کے مالک کو گرفتار کرلیا۔ مجھے یقین نہ آتا تھا کہ اتنے کھانے پیتے لوگ بھی اغوا برائے تاوان میں ملوث ہوسکتے ہیں!
انہوں نے بچے کے والد سے دس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ میری بے گناہی صرف اس صورت میں ثابت ہوسکتی تھی کہ میں سب سچ سچ عدالت کو بتا دوں۔ میں نے وہی کیا۔ اب یہاں آکر مجھے ’’ویٹ‘‘ کی طرف سے قانونی و مالی امداد بھی ملی، میرے بچے کے لیے بھی ان لوگوں نے ہر طرح کی مالی معاونت کی۔
میرا انسانیت پر سے اعتماد اٹھ گیا تھا۔ میں ان کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرتی ہوں۔ رب سے ٹوٹے تعلق کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کرتی ہوں۔ یہاں آکر میں نے کمپیوٹر کورس بھی کیا، اور امید ہے میں جلد رہا ہوجائوں گی، کیونکہ مجھ پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا ہے۔ اللہ ہم سب کو نیک لوگوں کا ساتھ نصیب کرے، آمین۔

حصہ