گناہوں کی دلدل، جیل کی کہانی

قدسیہ ملک
ویمن ایڈ ٹرسٹ کی طرف سے قیدی خواتین کی کس کس طرح مدد کی جا رہی ہے، ڈی ڈبلیو اخبار کے مطابق اس کی ایک مثال حکمت یار نامی خاتون بھی ہیں۔ حکمت یار پر اپنے شوہر کے قتل کا مقدمہ چلا تو انہیں اور اُن کے تین بیٹوں کو، جو شریک ملزم تھے، سات سات سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ حکمت یار نے ڈی ڈبلیو ویب سائٹ کو اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا: ’’اس ٹرسٹ نے گھر میں اکیلی رہ جانے والی میری تین بیٹیوں کو اسلام آباد میں آشیانہ نامی ادارے میں پناہ دلوائی، میری قانونی مدد کی، اور اب جیل سے باہر بھی زندگی گزارنے میں میری معاونت کی جا رہی ہے۔‘‘
حکمت یار نے پاکستان میں اجتماعی معاشرتی رویوں کی شکایت کرتے ہوئے کہا: ’’غلطی اور گناہ تو سب سے ہو ہی جاتے ہیں، لیکن یہ معاشرہ جیل میں قید کی سزا ختم ہوجانے کے بعد بھی پوری زندگی کے لیے سزا دیتا ہے۔ جرم ایک لمحے کا، سزا آخری سانس تک۔ معاشرہ کبھی معاف نہیں کرتا۔‘‘
آن لائن اخبار ’’ابلاغ‘‘ کے مطابق مختلف کیسوں میں جیلوں میں قید خواتین اور نوجوانوں کی اکثریت کا تعلق کراچی سے ہے، کراچی سینٹرل جیل میں 126 عورتیں قید ہیں۔ کراچی میں کم عمر قیدیوں کے لیے قائم جیل میں قیدی لڑکوں کی تعداد 140 ہے۔ خواتین قیدیوں کی اکثریت کا تعلق کراچی سے ہونے کے باعث بے گناہ قید کاٹنے والے ان کے معصوم بچوں کی بڑی تعداد کا تعلق بھی کراچی سے ہے۔
مائوں کے ساتھ جیلوں میں قید معصوم بچوں میں سے 22 بچے کراچی ویمن جیل میں ہیں، جبکہ 10 بچے ویمن جیل حیدرآباد اور 5 بچے لاڑکانہ کی خواتین جیل میں مقیم ہیں۔ سکھر میں قید عورتوں میں ایک بھی ایسی نہیں جس کا کوئی معصوم بچہ ہو۔ اعداد وشمار کے مطابق مجموعی طور پر سندھ کی مختلف جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 18 ہزار 899 ہے، جن میں 14 ہزار 410 قیدی مختلف کیسوں میں سزا یافتہ ہیں، جبکہ 390 ایسے قیدی ہیں جنھیں مختلف وجوہ کی بنا پر نظربند کیا گیا ہے۔ قیدیوں کی مجموعی تعداد میں تقریباً 10 ہزار قیدی کراچی کی دوجیلوں میں قید ہیں۔ ہمیشہ کی طرح سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھنے کا مسئلہ تاحال جیلوں کی انتظامیہ کو درپیش ہے۔ موجودہ اعداد وشمار کے مطابق سینٹرل جیل کراچی میں قیدیوں کی گنجائش 2400 ہے، لیکن جیل میں 4 ہزار 954 قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔ اسی طرح 1500 قیدیوں کی گنجائش رکھنے والی ڈسٹرکٹ جیل ملیر میں قیدیوں کی موجودہ تعداد 4 ہزار 785 ہے۔
1994ء میں ویمن ایڈ ٹرسٹ (WAT) کی سرگرمیوں کے آغاز کے وقت مرکزی نظم میں شاہدہ سمیع اور فریدہ علوی شامل تھیں جو تمام صوبوں سے رپورٹ لیتی تھیں۔ کام کے پھیلائو کے باعث 1999ء میں تمام صوبوں کا نظم علیحدہ کام کرنے لگا، جس کی رپورٹ مرکز کو جاتی ہے۔ کراچی میں صوبائی نظم بنا، جس کی صدر فیض آپا تھیں، اور ان کی نائبات میں اقبال النساء اور اسماء شاہین تھیں۔ اب مرکز کی نگرانی عافیہ سرور کو سونپی گئی۔
جیل کی زندگی کے بعد بہت سے لوگ اپنے جاننے والوں، عزیزوں، چاہنے والوں، رشتہ داروں اور احباب کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ جیل میں قید کے دوران اور سزا کے بعد قیدی خواتین کی معاشی و قانونی امداد کے لیے کوشاں یہ ادارہ اگرچہ وسائل کی شدیدکمی کا شکار رہتا ہے، لیکن خدمت کے جذبے سے سرشار ’ویٹ‘ کے کارکنان اپنے پایۂ استقلال میں لغزش نہیں آنے دیتے، اور پاکستان کے اندر ہی ایسے افراد کو تلاش کرنے کے لیے ہمہ تن مصروفِ عمل ہیں جو ایسی غریب، لاچار اور بے بس خواتین کی مدد کرسکیں اور معاشرے میں اُن کا کھویا ہوا مقام واپس دلاسکیں۔ کراچی ویمن ایڈ ٹرسٹ میں گزشتہ 13 برسوں سے آئی ٹی انچارج کے طور پر وابستہ زینب منیر نے جیلوں میں کام کے حوالے سے بتایا کہ ایم ایس آفس جس کا نام ’’آئی ٹی ٹریننگ فار پرزنرز‘‘ ہے جو آئی جی سندھ کا مرتب کیا ہوا نصاب ہے، یہ خواتین جیلوں میں کروایا جاتا ہے۔ اس میں قیدی خواتین کی دلچسپی کا پہلو یہ ہے کہ اس کورس کو کرنے سے اُن کی سزا میں 6 ماہ کی تخفیف کردی جاتی ہے، جس کی وجہ سے قیدی خواتین دلچسپی سے کمپیوٹر پر کام سیکھتی ہیں۔ پھر نصاب مکمل ہونے کے بعد آئی جی کے ذریعے ان خواتین کو سرٹیفکیٹ بھی دلواتے ہیں، جس کے بعد ان کی سزا کم کردی جاتی ہے۔ جیل کی انتظامیہ نے اس مقصد کے لیے آئی جی سندھ کی خصوصی اجازت سے ایک کمرہ کراچی جیل کے اندر مخصوص کیا ہوا ہے جس میں ہم قیدی خواتین کو کمپیوٹر کی تعلیم دیتے ہیں تاکہ جیل کی زندگی کے بعد وہ خود اپنے پیروں پر کھڑی ہوکر اپنی معاشی زندگی کا بوجھ بہ حسن و خوبی اٹھا سکیں۔
کراچی جیل میں مخیر و صاحبِ ثروت حضرات کے تعاون سے خواتین قیدیوں کی امداد کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ ماہانہ دروسِ قرآن، خصوصی ایام کی مناسبت سے مختلف پروگرامات اور قیدی خواتین میں کپڑے، ضروری استعمال کی اشیاء کی تقسیم، رمضان و عید میں خصوصی گفٹ پیکٹس ویمن ایڈ ٹرسٹ کے تعاون سے قیدی خواتین میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ وقفے وقفے سے قیدی خواتین کو اپنے مالکِ حقیقی اور مقصدِ زندگی سے روشناس کروانے کے لیے کراچی جیل کے اندر مختلف مدرسات جن میں کوثر مسعود، افشاں نوید، اقبال النساء، صفیہ محمود، نیر باجی، رافعہ شاہد اور خیر النساء شامل ہیں، قرآن سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ خیرالنساء جو ویمن ایڈ ٹرسٹ کی ایک معتبر رکن بھی ہیں، قیدی خواتین کی مالی امداد کے علاوہ ان کی ہر قسم کی مدد کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ بچوں کے لیے خصوصی گفٹ بھی دیئے جاتے ہیں۔ ’ویٹ‘ کی انہی کوششوں کے نتیجے میں بہت سی خواتین اپنے مقصدِ زندگی سے آگاہ ہوکر گناہوں کی دلدل سے نکلنے کا عزم مصمم لیے جیل میں قید کے بقیہ ایام گزار رہی ہیں۔ بعض قیدی خواتین قید ختم ہونے کے بعد گناہوں سے پاک زندگی گزارتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کررہی ہیں۔ ویمن ایڈٹرسٹ کے بہت سے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ قیدی خواتین کے گھر والوں کی کونسلنگ کی جائے تاکہ وہ قید کے بعد ان خواتین کو اپنانے میں عار محسوس نہ کریں۔
یہاں ہم جیل میں موجود 26 سالہ شہزین کی کہانی معمولی ردوبدل کے بعد اپنے قاری تک پہنچا رہے ہیں کہ کس طرح ایک معصوم جان گناہوں کی دلدل میں دھنستی چلی گئی۔
شہزین کا تعلق خدا کی بستی کے ایک چھوٹے سے گھرانے سے ہے۔ 12 سال کی تھی جب اُس کی سہیلیاں، دوست، احباب اس کی خوبصورتی کی تعریف کرتے نہ تھکتے تھے۔ تھوڑی بڑی ہوئی تو بیوٹی پارلر میں جاب کرلی۔ پارلر والی بھی یہی کہتی: تمہیں تو ماڈل ہونا چاہیے تھا۔ پھر وہ اسے بتاتی کہ ماڈلنگ کی فیلڈ میں بہت پیسہ ہے، لڑکیاں اگر مشہور ہوجائیں تو وہ راتوں رات امیر ہوجاتی ہیں۔ شہزین یہی سوچتی رہتی کہ میں کس طرح ماڈل بن سکتی ہوں۔ ایک دفعہ پارلر والی آنٹی نے اُسے اپنے پاس بلایا اور رازداری کے انداز میں اسے ایک میڈیا سینٹر کا پتا بتایا جو ڈیفنس میں تھا۔ نام نہ بتانے کی شرط پر وہ شہزین کے ساتھ چلنے پر آمادہ بھی ہوگئی۔ آنٹی نے بتایا کہ انہیں نئے چہروں کی ضرورت ہے اور تم اس جاب کے لیے پرفیکٹ ہو۔ شہزین نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ایک اچھی جاب کی آفر آئی ہے، شاید ہمارے دن پھرنے والے ہیں۔ گھر والے بآسانی راضی ہوگئے۔ وہ آنٹی کے ساتھ ڈیفنس جاپہنچی۔ شہزین کے مطابق انہوں نے ایک اسٹیٹ ایجنسی بنائی ہوئی تھی۔ ہم اندر داخل ہوئے تو پتا چلا اندر ایک اور کمرہ ہے جو فوٹو شوٹ کے لیے مختص تھا۔ یہاں تین لوگ تھے جن میں ایک اسٹیٹ ایجنٹ، ایک فوٹوگرافر اور ایک وکیل تھا۔ تینوں مل کر یہ اسٹیٹ ایجنسی چلا رہے تھے۔ مجھ سے ایک فارم فِل کروایا گیا، جس میں میرے ضروری کوائف، میرے گھر کا پتا، فون نمبر سب کچھ درج تھا۔ وہاں ایک اور لڑکا بھی ماڈلنگ کے لیے آیا ہوا تھا۔ آنٹی ان کے ساتھ گھل مل گئی۔ تھوڑی دیر بعد چائے آگئی۔ ہم سب نے چائے پی۔ پھر مجھے کچھ ہوش نہ رہا۔ جب ہوش آیا تو میری ساری امیدوں پر پانی پھر گیا تھا۔ وہ تینوں مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ میں جیسے تیسے گھر پہنچی۔ ایک ہفتے بعد دوبارہ میرے نمبر پر کال آئی۔ مجھے وہیں بلایا گیا تھا۔ پھر یہ سلسلہ چل پڑا۔ گھر والوں کو کیا بتاتی؟ یہی کہا کہ جاب کے لیے انٹرویوز ہورہے ہیں۔ ایک دفعہ وہاں سے واپس آرہی تھی کہ وہی لڑکا نظر آیا جو میری ہی طرح ماڈلنگ کے لیے آیا ہوا تھا۔ مجھے اُس نے آفر کی کہ آئو تمہیں اسٹاپ تک چھوڑ دوں۔ میں اُس کی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اُس سے باتوں باتوں میں پتا چلا کہ وہ یہیں ڈیفنس کا رہائشی ہے۔ اُس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا ہے جو میرے ساتھ ہوچکا تھا۔ اُس کو بھی مسلسل بلیک میل کیا جارہا تھا۔
شہزین اور فرحان نے مل کر یہ منصوبہ بنایا کہ کسی طرح ان سے چھٹکارا پایا جائے تاکہ ہم اس عذاب سے نکل سکیں۔ دوسرے ہفتے دونوں آفس میں ان تینوں کے ساتھ موجود تھے۔ اچانک شہزین اٹھی اور کہا کہ آج چائے میں بنائوں گی۔ پھر وہی ہوا کہ وہ ان تینوں کو بے ہوش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ چائے میں نشہ آور دوا کا انتظام فرحان نے کردیا تھا۔ وہ تینوں بلیک میلر نیم بے ہوش ہوچکے تھے۔ فرحان اپنے ساتھ پستول بھی لایا تھا۔ پہلے اس نے اُن کے لیپ ٹاپ اور موبائل سے اپنی فحش تصاویر ڈیلیٹ کیں جو وہ پتا نہیں کہاں کہاں بھیج چکے تھے۔ اس کے بعد شہزین، وکیل کو گھسیٹتے ہوئے باتھ روم لے گئی جہاں پستول کے بٹ مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا اور اس کا منہ کموڈ کی طرف کردیا تاکہ چیخوں کی آواز سے اہل محلہ چوکنا نہ ہوجائیں۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے فرحان نے بقیہ دونوں کو بھی پستول کے بٹ مار مار کر ادھ موا کردیا۔ جب انہیں یقین ہوگیا کہ ان میں اب کوئی نہیں بچے گا تو خاموشی سے دکان سے باہر نکل آئے اور تالا لگا دیا۔ لیکن جس طرح جرم اپنا نشان چھوڑ جاتا ہے بالکل اسی طرح دونوں کا دھیان باہر کھڑی وکیل کی بائیک کی جانب نہیں گیا۔ دو دن وہ لوگ گھر ہی میں رہے، تیسرے دن عین اُس وقت جب وہ دونوں کراچی سے باہر جانے کے لیے سہراب گوٹھ میں گاڑی میں سوار ہورہے تھے، پولیس کے نرغے میں آگئے۔ اور وہ انہیں لے کر مکمل شواہد کی موجودگی میں جیل لے آئی، جہاں یہ دونوں اپنے جرم سے مکمل انکاری تھے۔ لیکن چائے کی پیالیوں، کموڈ، دروازوں پر موجود انگلیوں کے نشانات سے ان دونوں کے جرم کی تصدیق ہورہی تھی۔ دوسری جانب یہ ہواکہ جب یہ دونوں واردات کرکے نکلے تو اہلِ محلہ نے انہیں دیکھ لیا،کسی کو کوئی شک نہ گزرا، کیونکہ وہ لوگ یہاں آتے رہتے تھے۔ لیکن دو دن تک دکان کے دروازے پر موٹر سائیکل کھڑی رہی جس پر اہلِ محلہ نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس تالے توڑ کر اندر گئی تو دو دن پرانی لاشیں اور ان پر انگلیوں کے نشانات بہت کچھ بتارہے تھے۔ پولیس بآسانی شہزین و فرحان کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اب مختلف وکلا اور این جی اوز کی مدد سے ان دونوں کا کیس پچھلے دس سال سے کرمنل کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ گناہوں کی دلدل سے نکلنے اور نیکی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ’ویٹ‘ کی جانب سے شہزین کی کونسلنگ کی گئی۔ وہ ’ویٹ‘ کے تحت کمپیوٹر کورس کرچکی ہے۔ مختلف دروس میں شرکت کرتی ہے اور نعتیں بھی پڑھتی ہے۔

حصہ