پاک بھارت تعلقات، اسلامی تناظر میں

سیدہ عنبرین عالم
ایک جنگل سے باپ اور بیٹا گزر رہے تھے کہ کہیں سے ایک سانپ نکل آیا اور بیٹے کو کاٹنے کی کوشش کی‘ باپ نے جو یہ منظر دیکھا تو کلہاڑی لے کر سانپ پر ٹوٹ پڑا‘ اس دھینگا مستی میںجہاں سانپ کی دُم کٹ گئی‘ وہیں بیٹے کے پائوں کی دو انگلیاں بھی کٹ گئیں۔ بہرحال قصہ ختم ہوگیا۔ 5 سال بعد باپ بیٹا پھر وہیں سے گزرے اور پھر اس سانپ سے ملاقات ہوئی‘ اس بار باپ نے سانپ کو پہچان کر کہا کہ چلوہم دوستی کر لیتے ہیں‘ سانپ نے جواب دیا ’’نہ بابا نہ! تمہاری اور میری دوستی بنتی ہی نہیں کیونکہ تمہیںکسی وقت بیٹے کی دو انگلیاں یاد آئیں تو تم دشمنی پر اتر آئو گے اور اگر کسی وقت مجھے اپنی دُم یاد آگئی تو میں دشمنی کرنے لگوں گا‘ تم اور میں کبھی بھی ایک دوسرے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اس لیے ہمارا دور دور رہنا ہی بہتر ہے۔‘‘
یہ مثال مجھے بھارت پاکستان کی دوستی کے تناظر میں یاد آئی‘ کبھی ہمیں بنگلہ دیش کی جدائی یاد آجاتی ہے تو کبھی ’’را‘‘ کی بلوچستان میں کارروائیاں دل دکھاتی ہیں‘ کبھی ہمارے خشک دریا ہماری آنکھیں گیلی کر دیتے ہیں‘ تو کبھی کشمیر کلیجے کے زخم کی طرح تکلیف دیتا ہے‘ یہی کچھ تکلیف ہندوستانیوں کو ہے‘ وہ آج تک نہ بھول سکے کہ ہم نے ان کو ان کی دھرتی ماتا پر 1000 سال تک غلام بنا کر رکھا اور وہ بار بار ہمارا ستیاناس مارنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم کہیں اتنے طاقتور نہ ہو جائیں کہ انہیں پھر غلام بنا لیں۔ اس طرح کی ذہنی کشیدگی جب دونوں طرف ہو تو دور دور رہنا ہی بہتر ہی نہیں‘ بہترین ہے۔
شاید آپ نے غور کیا ہو کہ دنیا میں جتنی بھی بت پرست اقوام تھیں وہ تاریخ کے بہتے دھارے میں گم ہو گئیں‘ زیادہ تر انبیا بت پرست اقوام کے پاس ہی آئے‘ جس نے سدھرنا تھا‘ سدھر گیا‘ باقی مٹ گئے۔ باقاعدہ بت پرستی کو اپنا شعار بناکر اگر کوئی قوم آج تک زندہ و تابندہ ہے تو وہ صرف بھارت کی ہندو قوم ہے‘ جو ایک مکمل بت پرست قوم ہے‘ جو عام رجحانات‘ عقائد اور توہمات سمیت بت پرست قوم ہونے کی تعریف پر بالکل پوری اترتی ہے۔ آخر اللہ رب العزت نی اس قوم کو کیوں صفحہ ہستی سے نہیں مٹایا؟
بھارت کی ہندو قوم کا Origin کیا ہے؟یہ لوگ بھارت میں کیسے آئے؟ ان کی کتابوں میں وید‘ مہا بھارت‘ گیتا وغیرہ شامل ہیں جو سراسر غیر منطقی قصے کہانیوں پر مشتمل ہیں ایسی باتیں جن پر بچے بھی مشکل سے یقین کریں‘ بہرحال ہم ہر مذہبی کتاب کا احترام کرتے ہیں‘ قابل ذکر بات یہاں یہ ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے زیرک انسان نے ان کتابوں کا مطالعہ کیا اور کئی احکامات ایسے ڈھونڈ نکالے جو الہامی مذہب سے مماثلت رکھتے تھے‘ یہاں تک کہ ایک حکم یہ بھی موجود ہے کہ دنیا کے بیچوں بیچ اللہ کا گھر ہے‘ اس کی زیارت زنددگی میں ایک دفعہ کرنا فرض ہے… یہ حکم تقریباً ہمارے حج کی جگہ ہے لہٰذا یہ کہنے میں شاید میں غلط نہ ہوں کہ ہندوئوں کی الہامی کتابیں حضرت ابراہیمؑ کے بعد کی ہیں جب کہ کعبہ کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی اور شاید ہندو مذہب بھی کسی الہامی مذہب کی بگڑی ہوئی شکل ہو۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل بہت پھیلی‘ ان پر اللہ کا خاص کرم تھا‘ یہودی قوم بھی حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں سے ہے اور یہودیوں اور ہندوئوں میں یہ بات مشترک پائی جاتی ہے کہ کبھی نہ کبھی انہوں نے گائے کی پوجا کی‘ باقی بت پرست اقوام میں یہ پہلو نمایاں نہیں ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد کا ایک خطبہ سننے ک موقع ملا۔ محترم فرماتے ہیں کہ کیا عجیب اتفاق ہے کہ ابراہیمؑ اور رام کچھ یکساں آواز والے الفاظ ہیں کہیں’’رام‘‘ کا لفظ ’’ابراہیم‘‘ کی بگڑی ہوئی شکل تو نہیں‘ جنہیں ہندو اپنا جدّ امجد مانتے ہیں‘ گویا وہ کہنا چاہتے تھے کہ شاید ہندو بنی اسرائیل کا کوئی کھویا ہوا حصہ ہوں اور چونکہ بنی اسرائیل اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتے جب تک حضرت عیسیٰؑ نہ آجائیں‘ لہٰذا ہندو قوم بت پرست ہونے کے باوجود آج تک انجام کو نہیں پہنچائی گئی۔
مجھے کافی عرصے ان باتوں پر یقین نہیں آیا‘ لیکن جب جب امریکا اور اسرائیل کا بھارت کی جانب حیرت انگیز جھکائو دیکھتی ہوں تو کچھ کچھ اس تھیوری میں جان نظر آنے لگتی ہے۔ غیر مسلم تو چائنا اور رشیا بھی ہیں مگر وہ دلی قرابت جو امریکا اوراسرائیل اور بھارت میں ہے‘ وہ مفقود ہے۔ کہیں یہ تینوں ملک ہی تو بنی اسرائیل نہیں؟ امریکا اور اسرائیل تو یہودی ریاستیں ہیں مگر بھارت؟ ممتاز عالم دین ذاکر نائیک ہندو مذہبی کتابوں سے یہ بھی ثابت کر چکے ہیں کہ ان کتابوں میں پاک نبی محمدؐ کی آمد کی بشارت بھی موجود ہے‘ صاف لکھا ہوا ہے کہ امن والے شہر میں ایک ایسا پیغمبر آئے گا جو سچا اور امانت دار ہوگا۔ ہم اس بات کو اسلامی اندازسے دیکھیں تو یہ جملہ یوں بنتا ہے ’’مکہ میں ایک پیغمبر آئے گا جو صادق اور امین ہوگا۔‘‘ ہم جانتے ہیں کہ پاک نبی محمدؐ، حضرت ابراہیم علیہ السلام می دعا کا نتیجہ ہیں۔ جو لوگ ذاکر نائیک کی تقریریں باقاعدگی سے سنتے ہیں وہ میری بات پر گواہ ہوں گے اور جو لوگ حالاتِ حاضرہ کی خبر رکھتے ہیں وہ گواہ ہیں کہ امریکا‘ اسرائیل اور بھارت ہم مزاج و ہم فطرت ہیں کہ نہیں؟ چلیے اس بحث کو ایک جانب رکھتے ہیں‘ اب سوال یہ ہے کہ ہمارا بھارت کے ساتھ کیسا تعلق ہونا چاہیے؟
آپ کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ سناتی ہوں۔ محمدؐ وہ پیغمبر ہیں جنہوں نے اللہ کا پیغام مکہ میں پہنچانا شروع کیا‘ ان کی اللہ سے محبت اور تابعداری مکے والوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور ان کے اوپر مکے میں زندگی تنگ کر دی گئی‘ لہٰذا میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف اس نیت سے ہجرت کی کہ وہ ایک مکمل اسلامی ریاست کا قیام عمل میں لائیں‘ یہاں بھی بے حد مشکلات پیش آئیں مگر وہ اللہ کاقانون ایک خطۂ زمین پر نافذ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
اب میں آپ کو ایک دوسرا واقعہ سناتی ہوں‘ یہ واقعہ برصغیر پاک و ہند کا ہے‘ یہاں بھی اللہ کے چاہنے والے اور شیطان کے چیلے ایک ساتھ رہتے تھے‘ کشیدگی اس قدر بڑھی کہ اللہ کے چاہنے والوں نے فیصلہ کیا کہ ایک ایسا خطۂ زمین حاصل کیا جائے جہاں اللہ کا قانون نافذ کیا جائے اور بڑی قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا گیا تاہم جیسے مدینہ اوّل کو یہودیوں اور کافروں کی ریشہ دوانیوں کا سامنا تھا‘ پاکستان بھی یہی مشکل جھیلتا رہا اور اللہ کا قانون نافذ نہ ہوسکا‘ بہرحال پاکستان کی مدینہ ثانی کی حیثیت برقرار ہے اور بڑے پیمانے پر اللہ کے نام پر ہجرت کرنے کا تاریخ کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔
پہلے قصے میں ہوا یہ کہ مدینے میں اللہ کے احکامات نافذ کرنے کے بعد میرے نبیؐ نے بلیک فرائیڈے اور ویلنٹائن ڈے پر تقریریں نہیں شروع کردیں بلکہ مجتمع ہو کر پہلی فرصت میں مکے پر پلٹ کر حملہ کیا‘ عام معافی کا اعلان ضرور کیا‘ مگر مفسد عناصر کی سرکوبی بھی کی تاکہ آئندہ امن تباہ نہ ہو اور عوام اللہ کے راستے پر چل سکیں۔ غور کیجیے کہ ان کے کوئی ذاتی مقاصد نہیں تھے صرف ایک چاہ تھی کہ اللہ کو راضی کر لیا جائے‘ بہرحال پہلے قصے میں یہ ہوا کہ تمام عرب سرنگوں ہوا اور فتح بالآخر حق تعالیٰ کی ہوئی۔
اب سب میں ہی لکھوں کیا؟ قارئین دوسرے قصے میں سنت نبویؐ کے مطابق کیا ہونا چاہیے‘ وہ آپ لکھیے‘ ہاں سنت کی پیروی مقصود نہ ہو‘ تو جو چاہے کرتے پھریے‘ لبرل بنیے‘ سیکولر بنیے اور ذلت کو امت مسلمہ کا تاج بنایئے ‘ یہ ہے پاک بھارت کشیدگی کا وہ حل جو عین اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔
جہاں تک مسئلہ ہے اپنی نسلوں کو کفریہ ثقافت سے بچانے کا‘ تو جناب یہ بات چھی طرح ذہن میں بٹھا لیجیے کہ ثقافت اسی قوم کی دنیا پر حاوی ہوتی ہے جو طاقتور اور دولت مند ہو‘ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یورپ کی عورتیں برقعہ پہننا شروع کر دیں تو آپ کو امت مسلمہ کو سپر پاور بنانا ہوگا‘ پھر جو مسلمان کرے گا وہی تازہ ترین فیشن ہوگا اور اگر یہ نکتہ آپ کو سمجھ میں نہیں آرہا تو اخباروں کے اخبار کالے کرتے رہیے‘ بلیک فرائیڈے بھی منایا جائے گا اور ویلنٹائن ڈے بھی۔ بات وہی ہے کہ ’’روک سکو تو روک لو۔‘‘
کیا وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں یا صلاح الدین ایوبیؒ کے دور میں پیارے نبی محمدؐ کے کارٹون بناکر اخباروں میں شائع نہیں کیا جاتے تھے‘ کوئی یہودی مسمانوں کو اسلام نہیں سکھاتا تھا‘ کوئی مسلمان عورتوں کے اسکارف کھینچ کر نہیں پھینکتا تھا‘ گائے کھانے کے الزام میں مسلمان ذبح نہیں کیے جاتے تھے‘ کیا وجہ تھی؟ طاقت… طاقت… طاقت… پاور… سپر پاور۔
جب تک آپ صرف ذاتی مقاصد کے لیے سوچو گے‘ اجتماعی طور پر امت مسلمہ کو اللہ کے احکامات نافذ کرکے سپر پاور نہیں بنائو گے‘ نہ آپ کی عزت ہوگی نہ آپ کی ثقافت کی نہ آپ کے مذہب کی… اور نہ آپ کے رسولؐ کی۔
ہندو مذہب انتہائی احمقانہ مذہب ہے‘ ایسے ایسے عقیدے ہیں کہ ہنسی آتی ہے مگر ان کے مذہب کا نہ کوئی کارٹون بناتا ہے نہ مذاق بناتا ہے… کیوں؟ کیونکہ مودی اپنے لیے پاناما میں آف شور کمپنیاں نہیں بناتا بلکہ ہندوستان کی فورتھ جنریشن وار کے لیے افغانستان اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔ آپ بلا جھجک پنے ممتاز قادری کو لٹکا دیتے ہو‘ وہ اپنے کلبھوشن یادیو کے لیے جان لڑا دیتا ہے‘ ہم حق پر ہیں مگر مخلص نہیں ہیں‘ ذاتی مقاصد میں گرفتار ہیں‘ وہ باطل پر ہیں مگر مخلص ہیں‘ اپنے سے پہلے اپنی قوم کی اجتماعی مقاصد کا سوچتا ہے۔ جب قیادت اللہ کے راستے پر ہوگی تو قوم خود بخود اپنے بجائے امت کا سوچنے لگے گی‘ پھر کون روک سکتا ہے ہمیں سپر پاور بننے سے‘ ہمارا ہر بچہ محمد بن قاسم ہوگا… ان شاء اللہ۔
ہم ذاتی حیثیت میں کیا کرسکتے ہیں؟ کم از کم اپنے بچوں کو تو یہ سکھا سکتے ہیں کہ بھارت‘ اسرائیل اور امریکا ہمارے دشمن ہیں اور وہ کسی صورت ہمارا بھلا نہیں چاہ سکتے‘ ان کے دل میں اتنی آگ بھر دیجیے جتنی آگ اللہ تبارک تعالیٰ کے الفاظ میں تھی جب وہ ابی لہب یا فرعون کا ذکر قرآن میں کرتا ہے‘ یہی آگ انہیں صحیح اور غلط کا فرق سکھائے گی‘ مسلم و ہندو بھائی بھائی نہیں ہیں اگر مصالحت ہوسکتی تو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت نہ کرتے‘ حضرت ابراہیمؑ آگ میں نہ کودتے‘ علامہ اقبالؒ الگ وطن کے لیے‘ قوم کا ضمیر نہ جھنجھوڑتے‘ ہم الگ ہیں‘ ہم میں اور ان میں اتنا فرق ہے جتنا محمدؐ اور ابوجہل میں‘ جتنا شیطان اور آدم میں‘ جتنا موسیٰؑ اور فرعون میں۔ اس فرق کو اپنے بچوں کے ذہن میں گاڑ کر رکھ دیں جس دن وہ یہ فرق بھولے اس دن ہم بھی گائے کھانے کے الزام میں ذبح ہوں گے اور ہمارے بھی دوپٹے چھین لیے جائیں گے۔
جس بارڈر کو ہمارے سیاست دان ایک لکیر کا فرق کہتے ہیں‘ یہ لکیر ہمارے بڑوں نے اپنے خون سے کھینچی ہے اور اس لکیر کو ہم اپنا خون دے کر بھی بچائیں گے‘ اب وہ وقت ہے جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر میں دعا کی تھی کہ ’’آج اگر یہ 313 مارے گئے تو قیامت تک تیرا کوئی نام لیوا نہ ہوگا۔‘‘ آج اگر یہ لکیر مٹ گئی تو پھر کوئی مدینہ نہ ہوگا‘ بری طرح مسلم امہ تباہ ہوچکی‘ ہر خطہ برباد ہے‘ اب صرف میرا مدینہ ثانی یعنی پاکستان ہی امت مسلمہ کی پہلی ڈیفنس لائن ہے اور اسے قائم رہنا چاہیے‘ اللہ ہمیں عقل سلیم اور اللہ کی محبت عطا فرمائے‘ آمین۔

حصہ