نظریات ٹھونسنے والا سوشل میڈیا

گذشتہ دنوں پیما کے زیر اہتمام جدیدیت کے موضوع پر احمد جاوید صاحب کے ساتھ تبادلہ خیال کی ایک نشست میں شرکت کا موقع ملا۔نشست کے نتیجے میں جو کچھ بات سمجھ آئی اور حالات و واقعات پر نظر ڈالی تو واقعی محسوس ہواکہ جدیدیت ، اس وقت غافل حالت میں پڑی پوری امت مسلمہ کے سامنے اتنا بڑا چیلنج ہے جس کا مقابلہ تو دور کی بات سامنا کرنے کی بھی کوئی سکت پورے عالم اسلام میں نظر نہیں آتی ۔احمد جاوید صاحب کے بقول ’’جدیدیت کے کچھ پس پردہ ،گہرے ،پہلی نظر میں گرفت میں نہ آسکنے والے مظاہر ہیںجو آنکھوں کو دھوکہ دینے والے اور خوشنما مذہبی لبادوں میں لپٹے ہوئے ہیں ۔
اُن مظاہر کے ساتھ ہمارے تصور دین میں جدیدیت اپنی فتح کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے اور یہ پیش قدمی کسی قسم کی مزاحمت کے بغیر ہے ۔اس کے نتیجے میں اب دین کی جو تعبیرات آرہی ہیں اور آسانی سے پھیلیں گی وہ تمام دین کو خدا کی مراد سے نکال کر جدیدیت کے پراجیکٹ میں کھپانے کا باریک کام کر رہی ہیں ۔اس کا انداز بڑا جاذب نظر مگر دین کے اصل روح سے خالی ہے ،اس کی مثال اُس رٹے کی مانند بات کی طرح ہے جو ہر جانب بلند آواز سے کہی جا رہی ہے کہ ’’دین کو زمانے کے مطابق ہونا چاہیے ‘‘۔یہ جدیدیت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے کہ دین کو اپنے زمانے کے مطابق ہونا چاہیے ، تاریخ کے ساتھ ہم قدم اور ہم آہنگ ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ جو ہمارے جدید دینی مفکرین ہیں اُن کا بہت زیادہ زور اِس بات پر ہے کہ دین کو موجودہ تاریخی، تہذیبی و نفسیاتی حالات کے مطابق ترتیب دیا جائے ۔اب یہ نعرے لگائے جا رہے ہیں کہ ’’یہ فقہ بے کار ہے،پرانے مذہبی علوم بے معنی ہیں ،نئے علم الکلام کی ضرورت ہے ، نئے فقہ ، نئی قانون سازی کی ضرورت ہے‘‘ ۔انسانوں اور دنیا میں اب کچھ ’’نیوٹرل زون ‘‘ ہیں جہاں دین کو نافذ کرنے کی بحث نہیں چھڑنی چاہیے اُن انسانوں اور نیوٹرل زون کا احترام کرنا چاہیے کہ ہر معاملے میں دین دین نہ کرو ۔یہ چیزہماری مذہبی گفتگو discourseمیں داخل ہو چکی ہے ۔ اس کی ایک مثال جمہوریت ہے جو گویا اب ایمان لانے والی چیز بن چکی ہے، یہ ہمارے مذہبی ڈسکورس میں داخل ہو چکی ہے اس کے لیے قرآنی شواہداور نصوص فراہم کیے جا رہے ہیں۔ سب سے پریشانی کی بات یہ ہے کہ اب دین کے ، قرآن کے ،بعض مطلق نوعیت کے احکام اور اَقدار کتنی تیزی کے ساتھ ہماری گفتگوؤں ، وعظوں، تقاریر سے نکل گئے ہیں۔جیسے جہاد کا لفظ اب کہاں استعمال ہوتا ہے ، حیاء اور اس کے تقاضوں پر اِسرار کی صورتیں کہاں موجود ہیں؟ پردے کی بحث تو پہلے اکیڈمک انداز میں موجود تھی اب پردے کا حکم زبان سے دُہرانے کے لیے بھی اتنی بہادری درکار ہے جتنی غزوات عہد نبوت میں شرکت کے لیے درکار تھی۔دین کی اَصل روح کو نکال کر جدیدیت کے سانچے میں ڈھالنے کا کام جاری ہے کیونکہ دین تبدیلی کا پیغام لانے والی خدائی آواز اگر نہیں ہے تو وہ دین نہیں ہے۔ دین اصل میں حالات سے ہم آہنگی نہیں ہے بلکہ حالات اور ایمانی شعور کو یکجان رہ کر منشائے الہی کو پورا کرنے کی ذہنی، ذوقی و عملی کوشش پر اُکساتے رہنے والا ایک مستقل نظام ہے۔اس لیے دین سے ، دنیا سے خداکی بے دخلی کے رویے کو کیسے ختم کیا جائے ۔ سیکولر ازم میں جھونکے جانے سے کیسے بچا جائے ، وہ علم ، اخلاق اور اعلیٰ مہارت کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہم نظام بدلنے کی جدو جہد کر رہے ہیں ، انقلاب لانے کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ ساری دنیا میں اسلام کاجھنڈا اونچا کرنے کے بڑھکیں مار رہے ہیں لیکن یہ کہ ہم یہ نہیں دیکھ رہے کہ جو اللہ کے دین کا جھنڈا پنے ہاتھوں میں پکڑا ہوا ہے یہ جھنڈا مفلوج ہاتھوں میں پھنسا ہوا ہے ، اسے زندہ ہاتھوں نے نہیں اٹھایا ہوا ، پہلے ہاتھ میں زندگی کی لہر دوڑائیں اس کا فالج ختم کریں پھر جھنڈا تو تیار ہے ہی وہ آپ لہراتے رہیے گا۔‘‘
ہوسکتا ہے اس ابتدائیہ سے آپ سوچیںکہ اس میں سوشل میڈیا کیا کر رہا ہے ۔تو عرض یہ ہے کہ اس جدیدیت کے ہتھیار کے ابلاغ کے لیے تمام تر اِبلاغی ذرائع پوری قوت کے ساتھ اپنے حصہ کا پورا کام تندہی سے ، بہتر نتائج کے ساتھ کام کر رہے ہیں ۔جو ذریعہ جتنا موثر ہے وہ اتنا ہی اپنے زہر کو معاشرے میں سرایت کروا رہا ہے۔نظریات ٹھونسنے میں سوشل میڈیا ایک موثر ٹول ثابت ہوا ہے ،آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا کب آپ پر ی مسلط ہو جاتے ہیں ۔آپ مشال خان کیس پر دوبارہ اٹھنے والی بازگشت پر ہی ایک نظر ڈالیں تو واضح طور پر لگے گا کہ اس سیلاب میں بہت سارے اپنے بہہ گئے ہیں۔اچھا اب سوشل میڈیا پر ’’ویری فائڈ ‘‘ یا مصدقہ اکاؤنٹس کی بدولت یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ میرا موقف نہیں، کسی نے ہیک کر لیا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس ہفتہ مشال خان قتل کیس کے سلسلے میں عدالت کی جانب سے کچھ گرفتار ملزمان کو سزائیں اور کچھ کو عدم ثبوت کی بناء پر رہا کیا گیا تو اہل محلہ کی جانب سے اُن کے استقبال کی بھی تیاریاں کی گئیں۔ان تیاریوں میں مقامی شہر مردان کی کئی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی حصہ ملایا مگر نمایاں اعتراض جماعت اسلامی کے استقبال کرنے پر شروع ہوا۔واضح رہے کہ جماعت اسلامی ، یا اسلامی جمعیت طلبہ اتفاق سے اس پورے کیس میں کہیں بھی شامل نہیں رہی نہ ہی گرفتار شدگان میں نہ ہی ملوث افراد میں۔جماعت اسلامی کا مشال قتل پر جو بھی موقف تھا وہ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے اپنے متعلقہ فورم سینیٹ میں پہنچا دیا تھا۔رہا ئی پانے والوں کے استقبال سے جن افراد کو ، جتنی تکلیف ہوئی اُس کا اظہار انہوں نے اپنی اپنی وال پر بخوبی کیا، جس کے ذیل میں خاصی مباحث چھڑے ۔ایم کیو ایم ، سمیت دیگر سیکولر جماعتوں نے تو جماعت اسلامی کے مقامی امیر کے اعلان پر مبنی پوسٹ کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔حالت دفاع ایسی تھی کہ جماعت اسلامی کے مرکزی ترجمان امیر العظیم کو سوشل میڈیا پر اُس استقبال کی تقریب سے اعلان برأت کرنا پڑگیا۔جبکہ اے این ہی کے رہنماامیر حیدر خان ہوتی بھی رہا ہونے والے افراد کے گھر مبارک باد دینے گئے ۔یہ تصویر بھی کئی تبصروں کے ساتھ وائرل رہی۔اصل مسئلہ جب بڑھاجب استقبال کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر آئیں۔گو کہ پشتو میں تقاریر تھیں لیکن اُن میں حکومت کے خلاف نعروں کے ساتھ مشال خان کو بطور گستاخ رسول ﷺ ، گستاخ اسلام قتل کرنے پر فخر کا اظہار کیا گیا تھا۔بظاہر تو حکمت کا تقاضا یہی محسوس ہوتا تھا کہ اگر عدالت نے باعزت بری کر ہی دیا ہے تو اُسی عزت سے گھر واپس آجاتے مگر بات اتنی سادہ نہیں تھی۔پوری مقامی آبادی کو اس بات کا یقین تھا کہ یہ سب ناموس رسالت ﷺ کے سپاہی ہیں جنہوں نے اپنے ایمانی جذبہ کے ساتھ یہ انتہائی قدم اٹھایا تھا، ہونے والے استقبال کی ویڈیو کا جائزہ لیں تو اس بات کی باآسانی تصدیق ہو سکتی ہے یااگر دور بیٹھے ہوں تو اس کیس کی منظر عام پر آنے والی تمام کڑیاں جوڑ کر دیکھیں تو اس پورے کیس میں دینی حمیت کا معاملہ غالب نظر آئے گا۔جس سماج میں آپس کی گالی گلوچ ایک دوسرے کی جان لے لیتی ہے وہاں آپ اللہ پاک کی شان اعلیٰ اور نبی کریم ﷺ کی ذات مقدس پر سخت ترین الفاظ کا استعمال کر کے اظہار آزادی کی آڑ لینا چاہیں گے تو یہ ابھی اتنا آسان نہیں ہے۔سماجی میڈیا پر ایک بار پھر تحقیقاتی کمیٹی ( آل پارٹیز کونسل برائے تحفظ ناموس رسالت ﷺ ۔مردان) کی جانب سے تقسیم کردہ ہینڈ بل کا عکس وائرل ہوا ، جس میں مشال خان کی فیس بک وال پر اور مختلف تبصروں میں کی گئی گستاخیاں وضاحت سے درج تھیں۔مزے دار بات یہ بھی سامنے آئی کہ مشال خان کے والد کو حیرت انگیز طور پر اچانک عالمی پذیرائی مل گئی اور اُن کی لندن میں کسی سیمینار کی موجودگی پر بھی سوالات اٹھادیئے گئے ۔اس عقدہ کو معروف دانشور شاہنواز فاروقی نے اپنے کالم میں یوں کھولا’
مشال ، مردان کی ولی خان یونیورسٹی کا صرف ایک طالب علم تھا۔ وہ نہ شاعر تھا، نہ ادیب اور نہ کوئی بڑا صحافی تھا ۔اس کی ایک اہلیت یہ تھی کہ وہ سوشلسٹ خیالات کے حامل خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور اس کے والد محمد اقبال کے اپنے اعتراف کے مطابق مشال خان روس میں زیر تعلیم رہ چکا تھا۔ لیکن مشال خان کی اس اہلیت نے اسے کوئی منفرد اور ممتاز شخصیت بنا کر کھڑا نہیں کیا تھا۔ مشال خان کی جس ’’اہلیت‘‘ نے اسے نمایاں کیا وہ اس پر لگنے والا توہین رسالت کا الزام تھا۔ اسی الزام کی وجہ سے مشال خان قتل ہوا۔ بہر حال یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ جس مغرب کو کراچی میں قتل ہونے والے 25 ہزار افراد اور نائن الیون کے بعد ملک میں دہشت گردی کی نذر ہونے والے 70 ہزار لوگ نظر نہ آئے اس مغرب نے ایک مشال خان کے قتل پر ابلاغی طوفان برپا کردیا۔ یہاں تک کہ 20 جنوری 2018ء کو لندن کے (SOAS) School of Oriental and African Studies نے مشال خان کے حوالے سے ’’باچا خان لیکچر‘‘ کا اہتمام فرمایا۔ لیکچر دینے کے لیے مشال خان کے والد محمد اقبال کو مدعو کیا گیا۔ لیکچر کو چار چاند لگانے کے لیے ملالہ یوسف زئی کے والد ضیا الدین بھی تشریف لائے اور انہوں نے تقریب سے خطاب فرمایا۔ اس خصوصی لیکچر کے موقعے پر مشال خان کے والد کے تین پے در پے انٹرویوز ہوئے۔ ان تمام امور کی تفصیلات میر شکیل الرحمن کے انگریزی روزنامے دی نیوز کی 28 جنوری 2018ء کی اشاعت میں پورے صفحے پر شائع ہوئی ہیں۔ ذرا پشاور سے کراچی اور کراچی سے لندن تک ’’تعلقات‘‘ بلکہ ’’Connections‘‘ کی نوعیت تو دیکھیے، اس کو کہتے ہیں ’’اصل میں سارے ایک ہیں‘‘ ۔اب سوشل میڈیا پر یہ سارے طبقات فعال ہیں اور ابتدائیہ میں احمد جاوید نے جس خطرہ کی نشاندہی کی ہے وہ اُسی کے ذیل میں کام کر رہے ہیں ۔ایک جانب ’’تسلیمہ نسرین ‘‘اپنے آفیشل ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے اظہار خوشی کرتے ہوئے ٹوئیٹ کرتی ہے کہ’’ پاکستانی عدالت نے بڑا کام کیا ہے ۔اُس نے جو ایک ملحد، فری تھنکر، اسلام کے نقاد مشال خان کے اسلامی قاتلوں کے خلاف فیصلہ سنا یا۔ایک کو سزائے موت، پانچ کوعمر قید اور بیس مزید کو سزائیں دیں۔بنگلہ دیش کی عدالتیں بھی اتنی سخت نہیں ہیں۔‘‘یہ تو دیگ کا ایک ہی مگر سب سے نمایاں چاول دکھایا ہے میں نے ، اور دکھائے تو شاید میگزین کے صفحات ہی کم پڑ جائیں گے۔جتنے مباحث اِن ملحدین یا جدیدیت کے علم برداروں نے اُس وقت کیے تھے ، یا ممتاز قادری شہید ؒ کی پھانسی پر ہوئے تھے ایسا ہی کچھ اب دوبارہ اُن کی سماجی میڈیا کی وال پر مباحث میں نظر آیا۔یہ تو تسلیمہ نسرین تھی، یہاں تو دینی لبادے اوردینی شناخت والے بھی اسی رو میں بہتے نظر آئے۔بھائی کیا ضروری ہے کہ ہر حساس موضوع پر لب کشائی کرو ۔آپ بیانیہ ملاحظہ فرمائیں ’’کتنا عجیب ملک ہے جہاں بسنت اور ویلنٹائن پر تو پابندی لگا دی گئی مگر مشال خان کے قاتلوں کو ہار پہنانے اور نفرتیں پھیلانے والے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر سر عام گھوم رہے ہیں مگر ریاست کبھی بھی آن پر پابندی نہیں لگائی گی۔‘‘ان تمام بیانیوں میں کہیں بھی یہ مطالبہ نہیں نظر آئے گا کہ ’’ توہین رسالت ﷺ و توہین اسلام کرنے والوں کو سخت ترین سزا دی جائے ، اُن کی گرفتاری وسزا کا کوئی ٹھوس اور ہر قسم کے اثرات سے پاک قانون بنایا جائے جس کی کسوٹی میں مشال خان بھی پرکھا جاسکے اور آسیہ بھی۔بہر حال سوشل میڈیا اس ہفتے بھی ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ کے مباحث، اسلام آباد دھرنے کے شور، راؤ انوار کے بعد صوبہ پنجاب میں ماورائے عدالت قتل کی شہرت رکھنے والے پولیس افسر عابد باکسربھی موضوع بنے رہے ۔

حصہ