نئے شاعر، شہیر سلال

اسامہ امیر
نوجوان شعرا میں خوبصورت اضافہ، شہیر سلال پنجاب کے خوبصورت شہر لاہور میں پیدا ہوئے، ان دنوں کراچی میں مقیم ہیں۔ ایف، اے کے طالب علم ہیں۔ آپ کی پسندیدہ صنفِ سخن نظم وغزل ہے۔ آپ کے پسندیدہ شعرا میں فیض احمد فیض، قابل اجمیری، قمر جلالوی، پروین شاکر شامل ہیں۔ آئیے ملاقات کرتے ہیں خوبصورت شاعر سے، ان کے چند متفرق اشعار آپ پیارے قارئین کی نذر :

سائنس، اس دورِ عجب میں عجب ایجاد ہوئی
اس نے انسان کو تسخیر پہ مامور کیا
٭
دینے والے نے صدا دی تھی کہ مانگو مجھ سے
چھوڑ کر اس کی عطا، میں نے اسے مانگ لیا
٭
وقت پوچھے گا ان خدائوں سے
جو فقیروں کو پوچھتے بھی نہیں
٭
کتب خانوں میں فارغ گھومتے ہم پھول سے بچے
ہوا کی خاطر اگتے عام پھولوں سے تو اچھے ہیں
٭
یہ حکایتِ شبِ آرزو مرے عہد میں تو نئی نہیں
میں کہاں سے لائوں وہ داستاں جو کہی گئی نہ سنی گئی
٭
خوشی غمی تو زمانے کے ہیں نشیب و فراز
ہمارے آگے جو آتے ہیں گردشیں کرتے
٭
مری یاریاں مرے ذہن کی تھیں بس الجھنیں
میں نے کر دیا وہ سبھی بیاں، جو ہوا نہیں
٭
وہ لوگ چراغوں کے بھی رتبے کو نہ پہنچے
جو دیکھتے تھے خواب بھی خورشیدِ سحر کا
٭
سکون و چین کے مارے ہوئے عجیب سے لوگ
سمجھتے ہیں کہ سکون ان کو دنیا دے دے گی
٭
اے خداوند! تری راہ پہ نکلے ہوئے ہم
گر بھی جاتے ہیں مگر تیری قسم تیرے ہیں
٭
تری چاہتوں پہ ہے منحصر، مری زندگی، مرے کوزہ گر!
یہ تری رضا کہ بنا اسے، یا بنا کہ پھر سے بگاڑ دے
٭
عمر بھر زخمِ محبت کو رفو کرتے رہے
زندگی گزری گریبان کو سیتے سیتے
٭
مسلم تو ہوئے ہند کے ہندو سے خود آزاد
پر بھول گئے ہند میں اسلام ہے قیدی
٭
عشق لکھنے کا فائدہ کیا ہو؟
جب وہ معشوق تک نہیں پہنچے

حصہ