میں تو جھوٹ نہیں بولتا

عابد علی جوکھیو
بحیثیت مسلمان ہم اس بات کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ اسلام ایک ایسا مکمل دین ہے جو ہماری پوری زندگی پر محیط ہے، اسلام نے زندگی کے ہر گوشے میں ہماری رہنمائی کی ہے، اسلام اعلیٰ اخلاق کا نام ہے، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سراپا اخلاق تھے، ان کا اخلاق بعینہٖ قرآن تھا۔ کیونکہ اسلام اتنا مہذب، باوقار اور بااخلاق دین ہے تو ہم مسلمان بھی تمام دنیا کے انسانوں سے بہتر ہیں۔ اسلام کی حقانیت اور تعلیمات اپنی جگہ، لیکن آج ہم مسلمانوں کی صورتِ حال انتہائی ابتر ہے، ہماری ذاتی زندگی میں اسلام دور تک نظر نہیں آتا۔ ہم نے عبادات سے لے کر معاملات تک اسلام کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، آج واقعی اسلام اجنبی بن چکا ہے۔ اس میں کسی اور کا کوئی قصور نہیں، ہم مسلمانوں نے بھی اسلامی تعلیمات پر عمل نہ کرکے نہ صرف اپنے آپ کو بدنام کیا بلکہ اسلام کی ساکھ کو بھی متاثر کیا۔ اسلام عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاق پر بھی زور دیتا ہے، کیونکہ عبادات کا اثر انسان کے عمل و اخلاق سے ہی ظاہر ہوتا ہے۔ محبت اورپیار سے پیش آنا، گفتگو میں شائستگی، سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، کسی کو اپنی ذات سے تکلیف نہ پہنچانا، دوسروں کی مدد کرنا، ان کے کام آنا وغیرہ سب اچھے اخلاق کا نام ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اٹھا کر دیکھیں تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قدم قدم پر ایسے ہی اخلاقِ حسنہ نظر آئیں گے۔ اور ان اخلاقِ حسنہ اور اوصافِ حمیدہ کا تعلق صرف اپنوں کے ساتھ نہیں تھا بلکہ دشمن بھی آپؐ کے اخلاقِ حسنہ کی گواہی دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزارہا دشمنیوں کے باوجود کوئی بھی آپؐ کے اخلاق پر انگلی نہ اٹھا سکا۔ آپؐ ہر معاملہ سچائی اور امانت داری سے کرتے اور جو وعدہ کرتے اس کو پورا کرتے۔ آپؐ کے تجارتی ساتھی عبداللہ بن ابی الحمساء بیان کرتے ہیں کہ میں نے بعثت سے پہلے ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خرید و فروخت کا ایک معاملہ کیا۔ میرے ذمے کچھ دینا باقی تھا، میں نے عرض کیا کہ میں ابھی لے کر آتا ہوں۔ اتفاق سے میں گھر جانے کے بعد اپنا وعدہ بھول گیا۔ تین روز بعد یاد آیا کہ میں آپؐ سے واپسی کا وعدہ کرکے آیا تھا، یاد آتے ہی فوراً آپؐ کے گھر پہنچا۔ معلوم ہوا کہ آج تیسرا دن ہے آپؐ گھر پر نہیں آئے، گھر والے خود پریشان ہیں۔ میں یہاں سے روانہ ہوا اور جہاں جہاں خیال تھا، سب جگہ آپؐ کو تلاش کیا۔ کہیں نہیں ملے تو احتیاطاً اُسی جگہ چلا گیا جہاں ملنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہاں پہنچ کر حیرت کی انتہا نہ رہی… جب دیکھا کہ آپؐ اسی مقام پر موجود ہیں اور میرا انتظار کررہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر حیرت اس بات پر ہوئی کہ مسلسل تین دن انتظار کی زحمت اٹھانے کے بعد بھی جب میں نے معذرت کی تو آپؐ نہ ناراض ہوئے، نہ لڑائی جھگڑا کیا اور نہ ڈانٹ ڈپٹ کی، صرف اتنا کہہ کر خاموش ہوگئے اور وہ بھی دھیمی آواز میں کہ ’’ارے بھائی! تُو نے مجھے زحمت دی، میں تین دن سے اسی جگہ تمہارا انتظار کررہا ہوں۔‘‘ (ابوداؤد بحوالہ سیرۃ المصطفیٰ، سیرۃ النبی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اصولوں پر مبنی تھی۔ معاملہ چاہے کیسا ہی ہو، ہمیشہ سچی اور کھری بات کرتے۔ قرض کے معاملات ہوں یا تجارت کے ، آپؐ اصولوں اور قول و قرار کی پابندی کرتے۔ ایک بار کسی عورت پر چوری کا مقدمہ چلا، لوگوں نے سفارش کروانا چاہی کہ اسے چھوڑ دیا جائے، اس پر آپؐ نے اللہ کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ اگر فاطمہؓ بنتِ محمدؐ چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا (مسلم)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے، جن سے اسلام کا حسن عیاں ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم مسلمانوں نے ان اوصاف کو یکسر بھلادیا ہے، جس کی وجہ سے ذلیل و خوار ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت کی کالم نگار طیبہ ضیاء نے ایک مضمون میں برطانیہ میں حصولِ تعلیم کے لیے مقیم ایک سعودی طالب علم کا واقعہ بیان کیا ہے جو اُس کی زبانی کچھ یوں ہے:
’’ مجھے ایک ایسی انگریز فیملی کے ساتھ ایک کمرہ کرائے پر لے کر رہنے کا اتفاق ہوا جو میاں بیوی اور ایک چھوٹے بچے پر مشتمل تھی۔ ایک دن وہ دونوں میاں بیوی کسی کام سے باہر جارہے تھے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگر آپ گھر پر ہی ہیں تو ہم اپنے بچے کو کچھ وقت کے لیے آپ کے پاس چھوڑ دیں؟ میرا باہر جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس لیے میں نے ہامی بھر لی۔ وہ بچہ مجھ سے خاصا مانوس تھا، کچھ دیر کھیلنے کے بعد وہ مجھ سے اجازت لے کر کچن میں گیا اور تھوڑی ہی دیر بعد مجھے کسی برتن کے ٹوٹنے کی آواز آئی، اور ساتھ ہی بچے کی چیخ سنائی دی، میں جلدی سے کچن میں گیا اور دیکھا کہ شیشے کے جس گلاس میں بچہ پانی پی رہا تھا وہ اُس کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ چکا تھا اور بچہ ڈرکر اپنی جگہ سہما کھڑا تھا۔ میں نے بچے کو تسلی دی اور کہا کہ تم پریشان نہ ہو، امی واپس آئیں تو اُن سے کہنا کہ گلاس انکل سے ٹوٹ گیا تھا۔ پھر میں نے سوچا کہ اگلے دن ایک گلاس لاکر کچن میں رکھ دوں گا۔ یہ ایک معمولی واقعہ تھا اور میرے خیال میں پریشانی والی کوئی بات نہیں تھی۔ جلد ہی وہ دونوں میاں بیوی واپس آگئے اور میں نے بچے کو ان کے حوالے کردیا۔ وہ عورت جب کچن میں گئی اور گلاس ٹوٹا ہوا پایا تو بچے سے پوچھا۔ بچے نے اس کو وہی بتایا جو کہ میں اس کو سمجھا چکا تھا۔ اسی شام کو وہ بچہ میرے پاس بہت افسردہ حالت میں آیا اور مجھ سے کہا کہ انکل میں نے امی کو سچ بتا دیا ہے کہ وہ گلاس آپ نے نہیں بلکہ میں نے توڑا ہے۔
اگلی صبح میں یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہورہا تھا کہ میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے اس بچے کی ماں کھڑی تھی۔ اس نے مجھے صبح بخیر کہا اور نہایت شائستگی سے میرا نام لے کر کہا کہ ہم آپ کو ایک نفیس اور شریف آدمی سمجھتے ہیں مگر آپ نے ہمارے بچے کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دے کر اپنا وقار خراب کرلیا ہے، ہم نے آج تک کسی بھی معمولی یا بڑی بات پر اپنے بچے سے جھوٹ نہیں بولا، نہ کبھی اس کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دی ہے، لہٰذا ہم آپ کو مزید اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے، برائے مہربانی آپ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اپنے لیے کسی دوسری رہائش کا بندوبست کرلیجیے۔‘‘
یہ واقعہ اخلاقیات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ اخلاقیات کا تعلق کسی مذہب سے نہیں، دنیا میں شاید ہی ایسا کوئی مذہب ہو جس میں اخلاقیات نہ ہوں، یا اخلاقی معیار مختلف ہو۔ سچ ہر مذہب میں پسندیدہ، اور جھوٹ قابلِ نفرت ہے۔ سیدھی اور کھری بات کو ہر جگہ پسند کیا جاتا ہے، ٹال مٹول، حیلے بہانے اور لارے لپّے کو کہیں بھی پسند نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن نے بھی اس کے لیے قولا سدیدا کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(ترجمہ) ’’اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔‘‘ (الاحزاب 70)
اسلام ہر معاملے میں سچی اور کھری بات کرنے کا حکم دیتا ہے، تاکہ معاملات درست رہیں۔ اس سورت کی اگلی آیت میں درست بات کرنے کا فائدہ بھی بیان کیا ہے کہ
(ترجمہ) ’’اللہ تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا۔‘‘ (الاحزاب 71)
یعنی جو لوگ بھی راست بازہوں گے، معاملات کو واضح اور صاف رکھیں گے، عرف میں کسی کو ٹوپی نہیں کرائیں گے یا ٹرک کی بتی کے پیچھے نہیں لگائیں گے، اللہ ان کے معاملات میں برکت عطا فرمائے گا، ان کے معاملات کا سازگار بن جائے گا۔ اسی آیت میں ٹال مٹول یا ٹوپی کرانے والوں کو بھی خوشخبری سنائی گئی کہ اگر تم اس بری عادت کو چھوڑ دو تو اللہ تعالیٰ تمہارے معاملات بھی آسان اور گزشتہ خطاؤں کو بھی معاف کردے گا۔
آج ہمارے معاشرے میں ٹوپی پہنانے، ماموں بنانے، ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے اور لارے لپّے کے واقعات کی کثرت ہوگئی ہے، کوئی کاروباری معاہدہ ہو یا ذاتی زندگی کا معاملہ… بات بات پر جھوٹ بول کر دوسروں کو اذیت میں ڈالنے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔ کاروباری حضرات تو مال قبضے یا وجود میں آنے سے قبل ہی ڈیل کرلیتے ہیں، اور پھر بہانے در بہانے پر مبنی جھوٹ کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوجاتا ہے کہ بس سر مال تیار ہوگیا ہے… پیکنگ ہو رہی ہے… گاڑی میں ہے… راستے میں ہے… جھوٹ پر جھوٹ بولے جاتے ہیں، اور انہیں اس بات کا ادراک تک نہیں ہوتا کہ وہ کتنا بڑا گناہ کررہے ہوتے ہیں۔ سونے پر سہاگا، اسے کاروباری تکنیک کہہ کر فخر کیا جاتا ہے کہ دیکھو! کیسے گاہک کو گھیرا ہوا ہے۔ اسی طرح ذاتی زندگی میں دیکھ لیں، کسی جگہ پر ملنے کا کوئی وقت مقرر ہو تو صاحب ملنے کے وقت پر تیاری شروع کرتے ہیں، رابطہ کیا جائے تو کہا جاتا ہے: بھائی میں بس نکل رہا ہوں… گھر سے نکل چکا ہوں… راستے میں ہوں… ٹریفک جام ہے… گاڑی خراب ہوگئی… بائک پنکچر ہوگئی… اور نہ جانے کیا کیا… لمحہ فکر تو یہ ہے کہ اس بری عادت سے پڑھے لکھے یا بظاہر دیندار تک محفوظ نہیں، کیونکہ ہم اس حرکت کو جھوٹ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں… بدقسمتی سے یہ سب ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ جب ہماری زندگی اور معاملات ایسے ہوں گے تو پھر برکت کہاں سے آئے گی! خوشی کیسے ملے گی! اللہ کا ہاتھ کہاں سے ساتھ ہوگا…! بظاہر یہ بہت چھوٹی بات ہے لیکن یہی چھوٹی سی بات ہماری پوری زندگی کو متاثر کیے ہوئے ہے، معاملات میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے، بداعتمادی کی فضا ہے، بھروسہ نہیں، اخلاص نہیں، محبت نہیں… خطبۂ نکاح میں اس آیت کو شامل کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ جہاں دو افراد اور خاندان ایک دوسرے کے ساتھ تعلق جوڑ رہے ہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے سے کھری، سچی اور صاف بات کریں، کوئی بات نہ چھپائیں، ’’ماموں‘‘ بنانے کی کوشش نہ کریں… کیونکہ یہ کوئی ایک دن کا نہیں بلکہ پوری زندگی کا تعلق ہے، اسی لیے اس تعلق کو سچائی اور صاف باتوں سے مضبوط کریں… آج شادی کے فوراً بعد حالات کی خرابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ سچائی جنت (کامیابی) کی طرف لے جاتی ہے جبکہ جھوٹ جہنم (ناکامی) کی طرف۔ (مسلم)

حصہ