میری پیاری امی جان، لیکن گھر کے کام

جامعۃ المحصنات جھنگ
بیٹیاں تو چہچہاتے ہوئے پرندوں کی طرح ہوتی ہیں، جو ماں باپ کے آنگن میں اترتی ہیں اور چہچہاتی ہیں،گنگناتی ہیں، ماں باپ اور گھر والوں کے دل کی ٹھنڈک بنتی ہیں… اور پھر اگلے دیس پرواز کر جاتی ہیں۔ اس ’’اگلے دیس‘‘ کے لیے تیاری ’’ماں‘‘ کا فرض ٹھیرتی ہے۔ اور اس فرض کو نبھانے کے لیے مائیں اپنی بیٹیوں کو ’’ہر کام میں طاق‘‘ کرنے کے لیے بڑے پاپڑ بیلتی ہیں کہ بیٹی کا سر کبھی نیچا نہ ہو۔ اس ضمن میں گھر کے کام کاج کے سلسلے میں جو دلچسپ صورتِ حال ہوتی ہے وہ ہر گھر کی کہانی ہے۔ جامعۃ المحصنات جھنگ نے اس حوالے سے طالبات کے مابین ’’میری پیاری امی جان، اور گھر کے کام ‘‘ کے عنوان سے ایک دلچسپ سروے کروایا، اس میں سے منتخب جوابات نذرِ قارئین ہیں۔
…………
عمارہ اسلم… جامعۃ المحصنات جھنگ
یہ دنیا تضادات کا مجموعہ ہے۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ بیٹیاں گھر کی مہمان ہوتی ہیں، اور دوسری جانب ان سے اتنے کام کروائے جاتے ہیں۔ یہ کھلا تضاد نہیں تو پھر کیا ہے! بھلا کوئی مہمانوں سے بھی کام کرواتا ہے! ہم بیٹیوں کو گھروں کی رانیاں اور شہزادیاں کہا جاتا ہے مگر ہم سے کام سارے ماسیوں والے لیے جاتے ہیں۔ کیا آپ نے کسی شہزادی کو جھاڑو دیتے یا پوچھا لگاتے دیکھا ہے؟ ویسے تو میری امی جان ’’میری لاڈو، میری دھی رانی‘‘ کہتے نہیں تھکتیں، لیکن اگر دھی رانی کا صبح سویرے زیادہ سونے کو دل چاہ رہا ہو تو بس نازوں پلی دھی رانی ایک دم سے نالائق اور نکمی بن جاتی ہے، اور اماں جان دھی رانی کے ہاتھ میں جھاڑو رسید کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔
ابا جان ویسے تو بڑا پیار جتاتے ہیں لیکن اگر استری کرتے وقت اُن کی قمیص جل جائے اور اس میں صرف چھوٹا سا روشن دان بن جائے تو اُن کا صرف ایک ہی جملہ ہوتا ہے ’’تم تو ماں پر ہی گئی ہو‘‘۔ سوچنے کی بات ہے کہ گھر کی رانیاں ہی گھر کے کام کیوں کریں! گھر کے راجے یعنی بیٹے کیا صرف سیر و تفریح کرنے کے لیے دنیا میں آتے ہیں!
یقین مانیں اگر مائیں بیٹوں کو بیٹیوں جیسے گھر کے کام کاج مثلاً جھاڑو پوچھا، برتن دھونا وغیرہ سکھا دیں تو بیٹوں کی شادی کے بعد کی زندگی بہتر گزر سکتی ہے۔ بیویاں خوش ہوں گی تو وہ بھی خوش رہیں گے۔ ہم بیٹیوں کی آدھی زندگی سسرال والوں کی خدمتیں کرتے کرتے گزر جاتی ہے۔
مجھے یہ بات آج تک سمجھ میں نہیں آئی کہ روٹی کے گول ہونے سے اس کی لذت میں آخر کون سا اضافہ ہوجاتا ہے! روٹی توڑ کر ہی کھانی ہے… وہ گول ہو، چوکور ہو یا مثلث، اس سے کیا فرق پڑتا ہے!
ہر فرد کو چھٹی ملتی ہے لیکن ہم بیٹیوں کو چھٹی والے دن بھی چھٹی نہیں ملتی۔ ہم ایک تنظیم بھی نہیں بنا سکتیں اور ہڑتال بھی نہیں کرسکتیں، کیونکہ ہمیں امی جان کے جوتے کا ڈر سب سے بڑھ کر ہوتا ہے۔
امی جان! ویسے تو آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں، لیکن اگر میں اپنی پسند کا کوئی ناول پڑھ رہی ہوں تو آپ کی یہ آواز کہ ’’کچن سمیٹ لو‘‘ طبع نازک پہ اچھا اثر نہیں ڈالتی۔ بس امی جان مجھے کوئی کام نہ کہا کریں۔
یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کھانا پکاتے وقت ہمارا دل تھوڑا سا ٹی وی دیکھنے کو کرے، اس چکر میں سالن جل جائے تو ہمیں جھاڑ پلائی جاتی ہے اور سسرال میں ناکامی کے طعنے ملتے ہیں۔
اب ہم سے پہلے سسرال والے بھوکے تو نہیں بیٹھے ہوں گے کہ ہم ہی انہیں جاکر پکاکر کھلائیں گے تو وہ کھائیں گے۔ جو وہ لوگ بنائیں گے وہی ہم سب مل کر کھالیں گے۔ لیکن امی کو یہ بات کون سمجھائے؟
…………
حلیمہ بی بی۔ جامعۃ المحصنات جھنگ
حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔‘‘
اس وجہ سے مجھے اپنی امی جان بہت اچھی لگتی ہیں۔ مجھے امی جان سے تو بہت زیادہ پیار ہے لیکن… اُن کے گھر کے کاموں سے نہیں۔ میری امی جان میرے ساتھ مل کر باتیں بھی کرتی ہیں، اور باتیں کرتے کرتے جب گھر کے کام یاد آجائیں تو مجھے کرنے کو کہہ دیتی ہیں، اس وقت ایسا لگتا ہے جیسے زمین پائوں سے نکل گئی ہو۔
ایک دن امی جان نے مجھے پلائو بنانے کے لیے کہا۔ جب میں نے تیار کرلیا تو پوچھا ’’بیٹا اس میں پیاز ڈالی تھی؟‘‘ میں نے کہا ’’جی امی جان‘‘۔ پھر پوچھا ’’مسالے ڈالے تھے؟‘‘ میں نے کہا ’’جی امی جان‘‘۔ امی جان نے عرض کیا ’’اس کے باوجود اس کا ذائقہ اچھا نہیں۔‘‘
قیامت یہ ہے کہ پلائو ہم نے گھر میں ہی بنایا
ستم یہ کہ امی جان کو اعتبار پھر بھی نہ آیا
امی جان جب کچن سے آواز لگاتی ہیں ’’بیٹا ذرا پیاز تو چھیل دو‘‘… تو پیاز چھیلنے سے پہلے ہی آنکھوں سے کڑوی بارش برسنا شروع ہوجاتی ہے، اور یہ بارش پیاز چھیلنے کے بعد بہت دیر تک برستی رہتی ہے۔ معاملہ تو تب گڑبڑ ہوتا ہے جب گھر میں کوئی مہمان آتا ہے۔ امی جان خود تو مہمان کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھ جاتی ہیں اور اُدھر سے ہی آوازیں لگانا شروع کردیتی ہیں ’’بیٹا ذرا جلدی کرو‘‘، ’’بیٹا جلدی چائے لائو‘‘، ’’ارے بھئی بہت دیر کردی‘‘۔ اُس وقت ہمیں لگتا ہے کہ جیسے ہم ہوٹل کے کوئی شیف ہیں۔ اِدھر آرڈر کرو اور چیز پیش ہوجائے۔
مجھے اپنی امی جان اُس وقت بہت اچھی لگتی ہیں جب وہ بڑی بہن کی چیزیں مجھے دیتی ہیں، اور جب وہ میری حمایت میں آواز اٹھاتی ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی بات سے لے کر بڑی سے بڑی بات تک جو میں ابا جان تک نہیں پہنچا سکتی، وہ بڑی آسانی سے پہنچا دیتی ہیں۔ لیکن امی جان جو گھر کے کام کرواتی ہیں وہ… اُف، اب میں کیا کہوں… جب امی جان نے مجھے کپڑے دھونے کے لیے کہا تو دھونے سے پہلے ہی
میں پھسل گئی غسل خانے میں
کبھی اِدھر گری کبھی اَدھر گری
لیکن گھر کے کام سے چھٹی نہیں مل سکتی، غرض یہ کہ
دبے نہیں ہم اسکول کے کام سے
لیکن شہید ہو گئے گھر کے کام سے
…………
مریم وہاب۔ جامعۃالمحصنات جھنگ
یہ تو ہے کہ ماں اور اولاد کی محبت ایک اٹل حقیقت ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سب کو اپنی مائوں سے بہت محبت ہے، جیسے کہ مجھے اپنی ماں سے بہت محبت ہے۔ اتنی محبت ہے کہ جب وہ کچن میں کام کررہی ہوتی ہیں تو مجھے گڑ شکر سے زیادہ میٹھی نظر آتی ہیں۔ اور جب وہ میرے کپڑے دھوتی ہیں تو اُس وقت تو مجھے ان سے عظیم کوئی نظر ہی نہیں آتا۔ اور جب وہ میرے کمرے کی صفائی کرتی ہیں، پھر تو پوچھیے ہی ناں، آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اور جب وہ میری بکھری ہوئی چیزیں سمیٹتی ہیں تو مجھے امی پر ٹوٹ کر پیار آتا ہے اور میری ان سے محبت شدید اعتراضات کی زد میں آجاتی ہے۔ آپ غلط نہ سمجھیے گا، میری جانب سے معصوم سی حرکتیں ان کی نظروں میں خودغرضی ٹھیرتی ہیں۔ دیکھیے ذرا میری محبت کی توہین… بھلا اس میں کوئی غلط بات ہے کہ جب امی مجھ سے کہتی ہیں کہ بیٹا ذرا آج میرے ساتھ کپڑے دھلوا لینا تو میں فوراً اپنی امی سے ’’عملی محبت‘‘ کا اظہار کرنے کے لیے اُن کے گلے کا ہار بن کر انہیں چومنا شروع کردیتی ہوں۔ اس کے بڑے خوش آئند نتائج برآمد ہوتے ہیں، یعنی کپڑے بھی دھل گئے اور میرا پیار بھی سامنے آگیا۔کبھی امی جان مجھے برتن دھونے کا کہتی ہیں تو میں اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے امی کو برتن دھونے کے ’’سائیڈ ایفکٹس‘‘ مثلاً ہاتھوں کی جلد کا خراب ہونا وغیرہ سے آگاہ کرتی ہوں، لیکن امی کے ماتھے پر یہ سن کر بل پڑ جاتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیں کہ لوگ اس کو محبت نہیں سمجھتے تو اس میں میرا کیا قصور…؟

نہ ہو پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو

مہرین ذوالفقار
اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو فطرتِ انسانی کے تمام پہلوئوں پر نظر رکھتا ہے۔ جہاں وہ روح کی طمانیت کی بات کرتا ہے وہیں وہ جسمانی ضروریات سے بھی انکار نہیں کرتا۔ انسان تنوع پسند ہے، وہ ہمیشہ ایک جیسی روٹین سے اکتا جاتا ہے اس لیے تفریحی مواقع کا بھی منتظر رہتا ہے، اور اسلام اُس تفریح سے منع نہیں کرتا جو شرعی حدود کے ساتھ ہو۔ لہٰذا ہماری جامعہ میں بھی جہاں روح کی غذا کی فراہمی کے مواقع میسر آتے ہیں وہیں تفریحی مواقع بھی وقتاً فوقتاً آتے رہتے ہیں، اور انھی میں سے ایک موقع ’’پکنک‘‘ ہے، جس کے لیے طالبات کو شدت سے پورا سال انتظار رہتا ہے۔
سوفٹ بورڈ پر پکنک پر جانے کا نوٹس لگتے ہی سب خوشی سے جھوم اٹھے اور پکنک پر جانے کے لیے مختلف منصوبے بنانے شروع کردیئے۔ مقررہ دن کی آمد کے سبھی منتظر تھے۔ اور بالآخر مقررہ دن سے قبل شام کو ٹیچرز اور تمام ڈے اسکالر طالبات کی آمد پر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ چونکہ یہ پکنک ہر بار کی پکنک سے ذرا مختلف تھی اس لیے صبح جلدی سفر کے لیے نکلنے کے باعث ٹیچرز اور تمام طالبات شام میں ہی جامعہ آگئی تھیں۔ اس دن عشاء کی نماز کے بعد میڈم نے پکنک کے حوالے سے طالبات کی رہنمائی کے ساتھ ہی وقت کی پابندی کی تاکید کی۔ اب چونکہ رات کو سلانے کی ذمہ داری خود ہماری معلمات انجام دے رہی تھیں اس لیے ہم کوئی بھی شرارت کرنے سے قاصر تھے، مگر پھر بھی باز نہ آتے ہوئے اور ایک دوسرے کو تنگ کرتے کراتے نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ اگلی صبح 5بجے معلمات کے بیدار کرنے پر سب نے لبیک کہا۔ تمام طالبات نماز اور قرآن کریم کی تلاوت سے فراغت کے بعد گرائونڈ میں جمع ہوگئیں۔ اُس وقت گرائونڈ میں بھی اتنا اندھیرا تھا کہ ایک جیسے گائون میں اپنے ساتھیوں کو شناخت کرنا مشکل ہورہا تھا۔ چونکہ سب کو ناشتا وہیں جاکر کرنا تھا، اس لیے سب اپنی بس کا انتظار کرنے لگے۔ کچھ ہی دیر بعد بس کے آنے پر تمام طالبات بس میں سوار ہوگئیں اور صبح ٹھیک 5:25 پر ہماری گاڑی منزلِ مقصود پر بروقت پہنچنے کے لیے چل پڑی۔ پورا سفر ترانے سنتے سناتے اور ایک دوسرے کو ہنستے ہنساتے گزرا۔
ویسے تو ہر بار پکنک کے لیے کسی فارم ہائوس کا انتخاب کیا جاتا ہے، لیکن اِس بار کا انتخاب کچھ منفرد تھا۔ ہاکس بے پہنچتے ہی سب کے چہرے خوشی سے جگمگا اٹھے۔ سب طالبات نے یکے بعد دیگرے بس سے اترنا شروع کیا اور ہاکس بے کے ساحل سے متصل ایک ہٹ میں قطار درقطار داخل ہوتی گئیں۔ سمندر کو دیکھتے ہی تمام طالبات کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا اور ساحلِ سمندر پر جانے کے لیے بے تاب ہوگئیں۔ اس بے تابی کی کیفیت میں ناظمہ طعام کی آواز سماعت سے ٹکرائی ’’سب ناشتے کے لیے دسترخوان پر آجائیں‘‘۔ حسرت سے سمندر کو دیکھتے ہوئے ہم سب ناشتے کے لیے جمع ہوگئے۔ جلدی جلدی ناشتے سے فراغت کے بعد طالبات نے سمندر کی جانب اس طرح دوڑ لگادی گویا قیدی پنجرے سے آزاد ہوا ہو۔ سمندر کی لہروں کا جوش، کھلی فضا، نیلا آسمان، گہرے بادل اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی کا اعتراف کرنے پر مجبور کررہے تھے۔ تمام طالبات کا جوش و خروش عروج پر تھا۔ سب کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ سمندر کی لہروں سے لطف اندوزی میں اضافہ اُس وقت اور ہوگیا جب ناظمہ طعام نے ہمیں سمندر میں بٹھاکرچائے پلانے کا اہتمام کیا۔ سمندر کے ٹھنڈے ماحول میں گرم گرم چائے پینے کا مزا ہی کچھ اور تھا۔ چائے سے لطف اندوزی کے بعد طالبات کے مشاغل مختلف نوعیت کے تھے۔ کچھ طالبات ساحل پر بیٹھی لہروں سے کھیلتے ہوئے باتوں میں مصروف تھیں، کچھ طالبات نے سمندر سے سیپیاں تلاش کرنے کا بیڑا اٹھا لیا، کچھ طالبات پانی کی طرف چلی گئیں۔ ہر طالبہ کا چہرہ اندرونی سرور کی کیفیت کا ترجمان تھا۔ لیکن شاید سمندر کو ہمارا یہ چلبلا پن ذرا نہ بھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے سمندر کی لہریں اتنی تیز ہوگئیں کہ ٹیچرزکے حکم پر ہم سب کو سمندر سے دوستی چھوڑنی پڑی، اور اب تو ہٹ کی چھت پر کھڑے ہوکر سمندر کی موجوں کو تکنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ سمندر کی لہروں کے ساتھ ہوا کی تیزی میں بھی اضافہ ہوگیا۔ پھر سب نے ظہر کی نماز ادا کی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ظہرانہ کا سلسلہ شروع ہوا۔ چکن بریانی سے دستر خوان کو سجایا گیا۔ دوپہر کا وقت… شدید بھوک… اور گرم گرم بریانی… واہ! مزہ آگیا۔ آج کا دن تو گویا ہماری تمنائوں کے پورے ہونے کا دن تھا۔ بریانی کے بعد سب نے کیلے نوش فرمائے۔
ایک حیران کن بات یہ بھی تھی کہ ساحلِ سمندر مستقل دیکھتے رہنے کے باوجود بھی قدرتی مناظر سے دل بھر نہیں رہا تھا۔ اور اللہ کی حاکمیت اور قدرت کا احساس مزید پختہ ہوا کہ سمندر بھی اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ کتنی ہی خوشی سے لہریں اٹھتی ہیں مگر ساحل سے ٹکرا کر واپس چلی جاتی ہیں، حالانکہ ان کو روکنے کے لیے کوئی آڑ نہیں ہے، اور انسان کتنا بے بس ہے کہ اگر یہ لہریں آکر اس کو لے جائیں تو انسان کچھ بھی نہ کرسکے گا۔ اور اس سمندر کے اندر بھی بے پناہ خزانے پوشیدہ ہیں۔ سمندر کو دیکھتے ہی قرآن کی وہ آیت ذہن میں گردش کرنے لگی:
(ترجمہ) ’’وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں اس پر چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر گزار رہو۔‘‘ (الجاثیہ:12)
اس آیت کے ذہن میں آتے ہی اس بات کا شدید احساس ہوا کہ اللہ کی تخلیق کے آگے انسان کی مصنوعی تخلیق کوئی اہمیت نہیں رکھتی، کیونکہ انسان کی ایجاد کی ہوئی چیز سے انسان بہت جلد اکتا جاتا ہے، اس کے برعکس تخلیقاتِ الٰہی پر نظر دوڑائی جائے تو جہاں پہاڑ اپنی ہیبت کے ساتھ اپنی جگہ براجمان کھڑا ہے، وہیںدھویں سے بنا بادل آسمان میں کس طرح گردش کررہا ہے۔ اور سمندر کی آتی جاتی لہروں کو دیکھ کر تو ہر دفعہ انسان کے دل میں اللہ کی کبریائی ایک نئے انداز سے ابھرتی ہے اور بے اختیار زبان سے سبحان اللہ کی صدا بلند ہوتی ہے۔
خیر جب پانی کا چڑھائو کچھ کم ہوا تو ہم اپنی ٹیچرز سے بہت اصرار کرنے کے بعد ایک بار پھر پانی کی طرف چلے گئے، اور پھر اس جگہ سے رخصت لیتے ہوئے… ٹھیک 3:00 بجے ہم وہاں سے واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔ اور یہ پکنک ہمارے لیے جامعہ کے باقی یادگار لمحات میں ایک اور کا اضافہ کرگئی۔ واپسی کے سفر میں دل شکر سے لبریز ہوکر رب کریم کے حضور جھکا جارہا تھا۔

حصہ