قرآن کی پیاس

راحمہ عادل
اللہ نے انسان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں سے ایک اسلام بھی ہے۔ اسلام ایک ایسا دائرہ ہے جس سے باہر جو کچھ بھی ہے، وہ تپتا صحرا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اس تپتے صحرا میں اِدھر اُدھر بھٹک رہے ہیں۔ وہ بہت پیاسے ہیں، انہیں پانی کی تلاش ہے اور پانی کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ انہیں پانی کہاں سے ملے گا؟ اس کا جواب قرآن کی ان آیات سے ہمیں ملتا ہے:
(ترجمہ) ’’اور وہ اللہ ہی ہے جو ہوائوں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوش خبری لیے ہوئے بھیجتا ہے، پھر وہ جب پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھا لیتی ہے تو انہیں کسی مُردہ زمین کی طرف حرکت دیتا ہے، اور وہاں مینہ برساکر (اسی مری ہوئی زمین سے) طرح طرح کے پھل نکال لاتا ہے۔ دیکھو اس طرح ہم مُردوں کو حالتِ موت سے نکالتے ہیں، شاید کہ تم اِس مشاہدے سے سبق لو۔ جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے رب کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے، اور جو زمین خراب ہوتی ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلنا۔‘‘ (سورۃ الاعراف)
اس میں مُردہ زمین سے مراد مُردہ پڑی ہوئی انسانیت ہے، اور مینہ سے مراد قرآن و سنت کی تعلیمات ہیں، مُردوں کو حالتِ موت سے نکالنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو پیاس کی شدت سے تڑپ رہے تھے، پریشان تھے، بے چین تھے، اندر سے بالکل خالی تھے، ان کی زندگی میں بہار آگئی، ہونٹوں پر مسکراہٹیں بکھر گئیں، دل مطمئن ہوگیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے اندھیروں سے نکل کر روشنیوں کی طرف چلنے لگے۔ یہ مشاہدہ ہمیں تب ہوتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن لوگوں پر برس رہا ہے اور ان کے اندر داخل ہورہا ہے، یعنی قرآن بارش کا سا کام کرتا ہے۔ جس طرح بارش کا پانی مُردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور اسے پاک کرتا ہے، اسی طرح جب قرآن دلوں پر برستا ہے تو انہیں زندگی بخشتا ہے اور پاک کرتا ہے۔ ’’وہی ہے جو آسمان سے پانی برساتا ہے تاکہ مُردہ زمین کو زندگی بخشے۔‘‘ (سورۃ یٰسین)
قرآن کو ہمارے ہاتھوں میں تھماکر اور دلوں میں بساکر اللہ نے یہ ذمے داری ہمارے کاندھوں پر ڈال دی ہے کہ ہم اس مُردہ زمین کو پانی فراہم کریں تاکہ اس زمین کا جو حصہ اچھا ہے اُس میں سے پھل پھول نکلیں۔ یہ حق کی نصیحت کا کام ہے جس میں بہت زیادہ صبر اور حکمت سے کام لینا ہوتا ہے۔ اگر ہمیں انسانیت سے ہمدردی اور محبت ہے تو اس بات کی فکر میں لگ جانا چاہیے کہ یہ پانی ہم زیادہ سے زیادہ دلوں تک پہنچا دیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہماری سُستی اور لاپروائی کی وجہ سے کوئی انسان پیاسا ہی رہ جائے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کام میں اپنی جانوں کو کھپا دیں اور ان لوگوں میں شامل ہوجائیں:
’’انہی لوگوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی راہ میں اپنی جان کھپا دیتے ہیں، اور اللہ ایسے لوگوں پر بہت مہربان ہے۔‘‘

حیا ہے مرضی میرے خدا کی

عائشہ عبدالرشید
اللہ رب العزت کی طرف سے انسان کی فطرت میں جو کچھ ودیعت کیا گیا ہے وہ خیر ہی خیرہے، جس میں حیا بھی شامل ہے… اسلام میں حیا کو ایمان کی شاخوں میں سے شمار کیا گیا ہے۔
حیا کیا ہے؟ ’’کسی امر منکر کو کرنے کی وجہ سے انسان اللہ کے سامنے جو جھجک اور شرم محسوس کرتا ہے اُسے حیا کہا جاتا ہے۔‘‘
حیا ایک ایسا اہم، فطری اور بنیادی وصف ہے جس کا انسان کی سیرت سازی میں بہت دخل ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو آدمی کو برے کاموں اور بری باتوں سے روکتا ہے، نیک کاموں کے لیے آمادہ کرتا ہے، فواحشات اور منکرات سے روکتا ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’دینِ اسلام کا خلق حیا ہے، حیا ہی ایسی چیز ہے جو ہر کام میں زینت بخشتی ہے‘‘ (سنن ابن ماجہ)۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب بھی فحش کسی چیز میں ہوتا ہے اسے عیب دار کردیتا ہے، اور جس چیز میں حیا ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے۔‘‘ (ترمذی)
جب حیا ختم ہوجاتی ہے تو ہر اچھائی کا خاتمہ ہوجاتا ہے، کیونکہ انسان اللہ کی مرضی کو ٹھکرا کر اپنی من مانی کرتا ہے جس کی وجہ سے اسے مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج کے معاشرے میں حیا کا بہت زیادہ فقدان پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ پورے کا پورا برائیوں کی زد میں ہے۔ چھوٹے بڑے کا لحاط نہیں رہا… بچہ بچہ میڈیا کی زد میں ہے۔ عورت کی حیثیت ٹشوپیپر کی سی ہے جسے آدمی جب چاہے استعمال کرے اور پھینک دے۔
الغرض شرم و حیا انسان کی بہت سی خوبیوں کی جڑ ہے اور فواحش و منکرات سے اس کی حفاظت کرتی ہے۔ علامہ اقبال نے فرمایا:

حیا نہیں رہی زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے تیری جوانی رہے بے داغ

حصہ