دکھ سکھ

ثنا علیم
دوم انعام یافتہ افسانہ
’’سلمیٰ پلیز اچھی سی چائے پلا دو، آج پورے شہر میں گھوم گھوم کر میرا سر بھی گھوم رہا ہے۔‘‘
’’کیوں سارا کام خود کرتے ہیں آپ، آفس کے جوان ٹھنڈی ہوا میں بیٹھے ہوتے ہیں اور آپ سارے درد اپنے سر لے لیتے ہیں۔‘‘
’’بی بی چائے پلا دو، لیکچر نہیں…‘‘ شاہد نے بے زاری سے کہا۔
شاہد اور سلمیٰ شہر کے متوسط علاقے میں خوبصورت گھر بنانے کے بعد بچوں کی شادیوں کے لیے فکرمند تھے۔ حسن کی پڑھائی جاری تھی، جب کہ سارہ کے لیے آئے دن رشتے آتے رہتے تھے۔
آج بھی کسی کو آنا تھا۔ سلمیٰ زیادہ تکلفات کے چکر میں پڑنے والی نہیں تھی، اس لیے سادہ سے انتظامات کے ساتھ مہمانوں کی خاطر تواضع کی۔ پڑھے لکھے سیلف میڈ لوگ، لڑکا دبئی میں انجینئر، سارہ کے لیے آئیڈیل۔
’’تم کو کیسے لگے ہمارے مہمان؟‘‘ سلمیٰ نے چمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ اپنی دوست فرح سے پوچھا۔
’’ہاں ٹھیک تھے۔‘‘
’’کیا مطلب! اچھے نہیں تھے؟‘‘
’’بہن سچ پوچھو تو ہماری سارہ گوری چٹی، خوب صورت… اور یہ سانولا سا لڑکا، کچھ میچ بن نہیں رہا۔‘‘ فرح نے سارہ کی موجودگی میں رائے دی۔ ’’کیوں سارہ تم کیا کہتی ہو؟ اتنی پیاری بچی کے لیے بہت رشتے آئیں گے۔ سلمیٰ تم جلدی میں کوئی فیصلہ نہ کرنا۔‘‘ فرح نے اپنی گفتگو جاری رکھی۔
’’میں کون ہوتی ہوں فیصلہ کرنے والی! سارہ پڑھی لکھی، سمجھ دار ہے، دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے، اور سچ پوچھو تو میں اپنی بیٹی کے ساتھ زبردستی نہیں کرنا چاہتی، جو اس کی مرضی وہ میری مرضی۔‘‘
علی کی امی کے مسلسل فون آرہے تھے ’’بہن آپ کے جواب کی منتظر ہوں، علی کو واپس بھی جانا ہے۔‘‘
’’تم ایک بار پھر سارہ سے پوچھ لو، شاید اس کا ذہن بن گیا ہو۔‘‘ شاہد صاحب نے پُرامید نظروں سے سلمیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہاںسارہ کیا سوچا تم نے۔‘‘
’’میری ساری دوستوں کے شوہر اتنے اسمارٹ اور خوب صورت کہ ساتھ کھڑے ہوں تو دیکھتے رہ جائیں، اور ایک آپ ہیٍں کہ مجھے مجبور کیے جارہی ہیں ایک سانولے، چھوٹے قد کے معمولی سے لڑکے کے لیے…‘‘ سارہ کہتی چلی گئی۔
’’بیٹا لڑکوں کی شکل و صورت کون دیکھتا ہے۔ باکردار، برسر روزگار، اور کیا چاہیے؟‘‘
’’آج کے دور میں سب دیکھا جاتا ہے امی۔ آپ نہیں سمجھیں گی۔‘‘ سارہ نے اپنا فیصلہ سنایا اور تیز تیز قدموں کے ساتھ باہر نکل گئی۔
شاہد صاحب بوجھل دل کے ساتھ اٹھ گئے۔ وہ بیٹی کے سامنے مجبور تھے۔ سارہ کو حد سے زیادہ نڈر اور بے باک بنانے میں سلمیٰ سے زیادہ اُن کا ہاتھ تھا۔
ماہ و سال تیزی سے گزر رہے تھے۔ دونوں چھوٹے بیٹے کالج سے یونیورسٹی میں پہنچ چکے تھے۔ سارہ پڑھائی ختم ہونے کے بعد جاب کررہی تھی۔ بہت سارے اچھے رشتوں کو منع کرتے کرتے اب انتظار کی نوبت آچکی تھی۔ دور تک اور گہرا سوچنے والی سلمیٰ فکرمند رہنے لگی تھی۔
آج بہت دن بعد فرح کی یاد آئی تو اُسے گھر بلا لیا۔ چھوٹی سی دعوت بھی ہوجائے گی اور باتیں بھی۔ بہت دن ہوگئے ہیں۔
’’ارے سلمیٰ یہ دو، تین برسوں میں تمہیں کیا ہوگیا! ایسی تو نہ تھیں۔ ہشاش بشاش، تروتازہ… کون سا غم لگ گیا میری دوست کو؟‘‘ فرح نے اپنائیت سے پوچھا۔
’’نہیں بس گھر کی مصروفیات اور تھوڑا بہت بیمار بھی رہنے لگی ہوں۔ ظاہر ہے جوان بیٹی کی فکر بھی بہت بڑی ہوتی ہے۔‘‘
’’ارے سلمیٰ فکر نہ کرو، اللہ خیر ہی کرے گا، میں کچھ کرتی ہوں، بس تم دعا کرنا۔‘‘
موبائل فون کی بیل مسلسل بج رہی تھی، سلمیٰ بیگم پرس میں موبائل رکھ کر بھول چکی تھیں۔ بے زار ہوکر فرح نے سلمیٰ کے گھر کی راہ لی۔ ’’آخر تم فون کیوں نہیں اٹھاتیں؟ دو دن سے فون کررہی ہوں۔ اتنا ضروری کام ہے، اور کام بھی تمہارا۔‘‘
’’بہن معاف کرنا، موبائل کی دنیا سے زیادہ شغف نہیں۔ فون بھی کم ہی آتے ہیں، اس لیے بیگ سے نکالنا یاد نہیں رہا۔‘‘
’’اچھا چھوڑو، یہ بتائو سارہ کہاں ہے؟‘‘
’’وہ تو جاب پہ ہے۔‘‘
’’اچھا…! دراصل میرے نئے کرائے دار کو اپنے بیٹے کے لیے لڑکی کی تلاش ہے۔ بڑے ہی اچھے لوگ، رکھ رکھائو والے۔ سجا سجایا گھر، بے شمار چیزیں، نئی گاڑی اور لڑکا… مت پوچھو، خوبرو اور حسین… پرائیویٹ یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنے کے بعد نوکری کررہا ہے۔ کہو تو لے آئوٍں تمہارے گھر؟‘‘
’’میں شاہد سے پوچھتی ہوں۔‘‘
’’ارے تو کیا شاہد بھائی منع کریں گے! بس اس ویک اینڈ پر ملاقات پکی ہے۔ او کے… اور ہاں، انتظامات ذرا اچھے کرنا۔ سارہ کو بھی سجا سنوار کر رکھنا۔ بہت اسٹیٹس ہے اُن کا سوسائٹی میں۔‘‘
مسز رحمن کو اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے سارہ پسند آگئی۔ انتہائی دھوم دھام سے منگنی کی تقریب منعقد ہوئی۔ شاہد صاحب اپنی تمام جمع پونجی گھر پر خرچ کرچکے تھے، پھر بھی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے سب کچھ کرنے پر تیار تھے۔
روز روز مسز رحمن کا عالی شان گاڑیوں میں گھر آنا، تحفے تحائف… سلمیٰ کو یہ سب عجیب لگتا۔ مگر سارہ کی خوشی کے آگے بے بس تھی۔ آج سارہ کی سالگرہ تھی۔ مسز رحمن نے اپنے ہاتھ سے اسپیشل ڈش اور کیک بناکر سارہ کے آفس میں بیٹے کے ساتھ سالگرہ منائی۔ سب رشک کررہے تھے، اور سارہ کا فیس بک اسٹیٹس جگمگا رہا تھا۔
’’خوش نصیب ہو سارہ۔ اماں، بیٹا ابھی سے قابو میں۔‘‘ دوست نے کمنٹ کیا اور بے شمار لائیکس میں سارہ اپنے آپ کو فضائوں میں اڑتا محسوس کررہی تھی۔
’’بھئی شادی، ولیمے کا سوٹ میں اپنی ایک مخصوص دکان سے بنواتی ہوں، پسند تمہاری ہوگی اور شاپ ہماری۔ اور ہاں پیسوں کی فکر نہ کرنا۔ ایسا جوڑا بنوائوں گی کہ دنیا دیکھتی رہ جائے گی۔‘‘ مسز رحمن نے لاپروائی سے کہا۔
شاہد صاحب کی ہر تیاری مسز رحمن کے آگے صفر ثابت ہورہی تھی۔ کچھ قرض آفس سے لیا اور کچھ اپنے پرانے جگری دوست سے، اور شہر کے عالی شان ہال میں سارہ کی رخصتی عمل میں آئی۔
مسز رحمن ملازمت پیشہ خاتون۔ صبح جاتیں، شام میں واپس آتیں۔ سارہ کا کام کھانا پکانا اور ماسی سے صفائی کروانا۔ زندگی کی شروعات تھی۔ مزے سے دن گزر رہے تھے۔ دعوتیں، باہر کے کھانے، سیر سپاٹے، نت نئے کپڑے اور اسٹائل، روزانہ عامر کے ساتھ ایک نئے روپ میں پروفائل پکچر اَپ لوڈ کی جاتی اور زمانہ نظارے کرتا۔ ’’کوئی جل گیا اور کسی نے دعا دی‘‘ والی کہانی دہرائی جاتی۔
’’آپ آفس کیوں نہیں جاتے؟‘‘ سارہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔
’’چلا جائوں گا، چلا جائوں گا، تم مجھے ہنی مون نہیں منانے دو گی!‘‘ عامر نے ہنستے ہوئے کہا اور بات آئی گئی ہوگئی۔
آج چھٹی کا دن تھا، سارہ حسبِ معمول خاصی دیر سے اٹھی۔ کچن میں گئی تو مسز رحمن سے سامنا ہوگیا۔ ’’بیٹا کل سے ماسی نہیں آئے گی، میں اکیلی کمانے والی، مجھ سے یہ شاہ خرچیاں برداشت نہیں ہوتیں۔‘‘
’’کیا مطلب! عامر کماتے نہیں کیا؟ یہ جو مجھے باتیں سنائی جاتی ہیں بزنس مین ہیں، اتنا فائدہ ہوا، اتنے تعلقات بنے…‘‘
’’بس بیٹا رہنے دو، اب تم اس گھر کی بہو ہو، گھر سنبھالو، پکائو، کھائو، خوش رہو۔‘‘
سارہ کو روز بہ روز اسٹیٹس کے ستارے ڈوبتے محسوس ہونے لگے۔
’’آج امی کے گھر جانا ہے، کون سا سوٹ پہنوں؟‘‘
’’پہن لو کوئی سادہ سا۔ زیادہ بنی سنوری دلہنیں بائیک پر اچھی نہیں لگتیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟ تیار ہوکر آپ مجھے بائیک پر لے کر جائیں گے!‘‘
’’تو اور کیا۔ کیا میم کے لیے گاڑی لائوں؟‘‘
’’تو کیا گاڑی نہیں ہے ہمارے پاس؟ کہاںگئی کرولا، جس میں بیٹھ کر آئے تھے آپ اور امی ہمارے گھر…؟‘‘
’’میں نے تو نہیں کہا تھا کہ میری ہے وہ۔ میرے پاس تو اپنی ذاتی ہنڈا 70 بائیک ہے، چلنا ہے تو چلو، زیادہ سوال مت کرو۔‘‘
………
’’سارہ… سارہ!!‘‘ عامر نے چیخ کر آواز دی۔
’’کیا ہوا، اتنی رات کو کہاں سے آرہے ہیں؟‘‘
مجھے کچھ پیسوں کی فوری ضرورت ہے، دو لاکھ روپے کی، کچھ کرو۔‘‘
’’میں کہاں سے لائوں؟‘‘ سارہ نے بے چارگی سے کہا۔
’’اپنے ابا سے مانگ لو…‘‘
’’کیا…!! میں اُن سے نہیں مانگ سکتی۔ شادی کے بعد وہ ویسے بھی قرض میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘
’’کچھ کرو سارہ، میں تم کو واپس کردوں گا… اچھا ایسا کرو وہ جو تمہارے ابا نے سیٹ دیا ہے وہ دے دو، بہت ضروری کام ہے۔‘‘
’’نہیں… نہیں، آپ سمجھ نہیں سکتے کس مشکل اور ارمان سے ابا نے مجھے دیا ہے، میں وہ ہرگز نہیں دے سکتی۔ اگر بہت ضرورت ہے تو اپنی امی والا لے لو۔‘‘
’’نہیں سارہ وہ بہت بھاری ہے، مجھے تو بس دو لاکھ کی ضرورت ہے، تم سمجھتی کیوں نہیں ہو…! میں نیا بنوا دوں گا۔‘‘
’’عامر آپ سوچیں تو ذرا… ابا آج تک محنت کرکے میرے زیور کا قرض اتار رہے ہیں، اس عمر میں بھی بائیک پر گھومتے ہیں۔ میں نہیں دے سکتی، آپ نہیں سمجھ سکتے میرے جذبات اور احساسات کو۔‘‘
’’سارہ، میری پیاری بیوی، مشکل وقت میں میرے کام نہیں آئو گی؟‘‘ عامر نے دوسری ترکیب استعمال کی۔ سارہ نے بوجھل قدموں کے ساتھ دل پر پتھر رکھ کر سیٹ عامر کے ہاتھ میں تھما دیا۔
’’آج میں امی کے گھر جا رہی ہوں، شام تک آجائوں گی۔‘‘ سارہ نے مسز رحمن کو اطلاع دی۔
’’چلو ٹھیک ہے بیٹا، یہ بتائو تمہارا زیور تو تمہارے پاس ہی ہے ناں؟‘‘
’’ہاں امی، مگر آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟‘‘
’’نہیں کچھ نہیں، بس ایسے ہی خیال آیا کہ ضرورت پڑنے پر کام آجائے گا۔‘‘ مسز رحمن کا اشارہ ہی کافی تھا۔ سارہ سمجھ چکی تھی کہ نہ صرف بیٹا بلکہ اماں بھی اسٹیٹس کے خبط میں خالی ہوچکی ہیں۔
بقرعید کی آمد آمد تھی، گلی محلے خوب صورت جانوروں سے بھر گئے، غریب اور امیر ہر بستی میں مقابلہ چل رہا ہے۔ ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر قربانی کرنا چاہتا ہے۔ ’’سارہ تمہارے سسرال میں تو بہت اچھی قربانی ہوگی؟‘‘ سلمیٰ نے پوچھا۔ ’’تمہاے ابا کا ہاتھ ذرا تنگ ہے، اس لیے ہمارے ہاں تو قربانی ہونا مشکل لگ رہا ہے۔‘‘
’’امی، کچھ پتا نہیں ان لوگوں کا، کچھ سمجھ نہیں آتا… دکان پکوڑوں کی، باتیں کروڑوں کی۔‘‘
’’کیا مطلب بیٹا؟ میں سمجھی نہیں۔‘‘
’’نہ ہی سمجھیں تو اچھا ہے۔‘‘ سارہ نے آہستگی سے کہا۔
’’آج شام عامر تم کو لینے آئے گا، کیا پکائوں؟‘‘
’’ارے امی کچھ بھی پکا لیں… د سے دال، د سے داماد‘‘۔ سارہ نے جل کر کہا۔ ’’میں تو اس سارے شو آف سے تھک گئی ہوں، آدمی کچھ بھی ہو، مگر منافق نہ ہو۔‘‘
………
’’سارہ میں تم کو لینے آرہا ہوں، بس جلدی سے تیار ہوجائو… رکوں گا نہیں، بہت اہم چیز تم کو دکھانی ہے، بس جلدی کرو۔‘‘ عامر نے فون پر تیزی سے کہا اور سارہ گھر جانے کی تیاری کرنے لگی۔
گھر کے باہر ضرورت سے زیادہ گہماگہمی دیکھ کر سارہ نے حیرت سے عامر کو دیکھا۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘
ایک انتہائی خوب صورت بیل گھر کے آگے بندھا ہوا تھا۔ ’’آپ کے پاس پیسے تو نہیں تھے… یہ کہاں سے آیا؟‘‘
’’کتنی دفعہ کہا ہے زیادہ سوال مت کیا کرو۔‘‘
سارہ ساری کہانی سمجھ چکی تھی اور سارہ کا دکھ عامر کے سُکھ میں بدل چکا تھا۔

اعتذار

انعامی مقابلے میں محترمہ ذکیہ فرحت کا مضمون اوّل انعام پانے والا دوسرا مضمون تھا جس پر غلطی سے ’’دوسرا انعام یافتہ‘‘ کی سرخی لگ گئی جس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔ (انچارج صفحہ خواتین)

حصہ