خوش اخلاقی

کرم اسلم
زین کی ہر وقت اپنے چھوٹے بھائی سے لڑائی رہتی تھی۔ وجہ بھی خاص نہیں ہوتی تھی۔اُس کی بات اگر کسی کو ٹھیک سے سمجھ نہ آتی یا سنائی نہ دیتی اور کوئی دوبارہ اُس سے پوچھ لیتا۔ اِس پر زین بہت غصّے میں غلط جواب دیتا تھا۔ غصیلے مزاج کی وجہ سے اسکول میں بھی اُس کے دوست کم تھے۔ایک دِن اسکول میں بزمِ ادب کی کلاس تھی۔ کلاس میں سب نے کوئی ایسی کہانی یا وا قعہ سنانا تھا جس سے اچھّا سبق ملتا ہو۔ زین کے دوست شاہد کی باری آئی تو اُس نے حضرت محمد ؐ کی زندگی سے اُسوہ ٔ حَسَنہ کا ایک مختصر لیکن بہت اچھّا قِصَّہ سنایا۔آپ بھی سنیئے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے۔صحابہ کرام ؓ حسبِ معمول حضرت محمدﷺ کے پاس بیٹھے اچھّی اچھّی باتیں سُن رہے تھے۔ اتنے میں ایک اَجنبی شخص آیا۔اُس نے آپؐ سے پوچھا۔ ’’یا رسول اللہ ﷺ! خوش اَخلاقی کسے کہتے ہیں؟‘‘ آپؐ نے نرمی سے فرمایا۔’’دوسروں کے ساتھ اچھّے انداز میںمسکرا کر بات کرنا۔ غصّہ نہ کرنا ، درگزر کرنااور اچھّی بات کہنا۔‘ وہ آدمی یہ سُن کر خاموشی سے وہیں صحابہ کرام ؓ کے پاس بیٹھ گیا۔کچھ ہی دیر گزری تھی۔ وہ آدمی دوبارہ اُٹھ کر آیا۔ اُس نے آپؐ سے پھر وہی سوال کیا کہ خوش اخلاقی کسے کہتے ہیں؟ آپ ؐ نے وہی جواب دہرا دیا۔ وہ آدمی یہ سُن کردوبارہ وہیں بیٹھ گیا۔کچھ دیر بعد وہ پھر سے اُٹھا اور جا کر اپنا سوال دہرایا۔ تیسری بار بھی آپ ؐ نے اُسی تحَمُّل سے اپنا جواب دہرایا۔ اُ س آدمی نے تقریباً دس بار ، وقفے وقفے سے یہی سوال دہرایا اور آپ ؐ نے پہلی بار کی طرح نہایت بُردبَاری سے اپنا جواب ہر بار دہرایا۔صحابہ کرامؓ کو اُس آدمی کی یہ حرکت نا گوار گزر رہی تھی کہ وہ ایک ہی بات بار بار پوچھ کر آپؐکو پریشان کر رہا ہے۔جب اُ س آدمی نے دسویں بار اپنا سوال دہرایا اور آپ ؐ نے نہایت شفقت سے اپنا جواب دہرایا تو وہ آدمی بولا: ’’ اب میں بہت اچھّی طرح سمجھ گیا ہوں کہ در اصل خوش اَخلاقی کیا ہوتی ہے۔‘‘ آپؐ مسکرائے اور وہ آدمی اجازت لے کر رخصت ہو گیا۔
یہ قصّہ سُن کر زین شرمندہ ہو گیا۔اُسے احساس ہوا کہ اُس کا رَویّہ د وسروں کے ساتھ اکثر نا مناسب رہتا ہے۔
اِس کے بعد زین نے اپنے بھائی اور دوستوں سے اپنے رویے کی معافی مانگی اور آئندہ خوش اخلاقی اپنانے کا وعدہ کیا۔

دھوکہ

انتخاب:ذکریٰ طاہر
ایک عقاب اور ایک الو میں دوستی ہو گئی۔ عقاب بولا ’’بھائی الو اب تمہارے بچوں کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ مگر یہ تو بتاؤ کہ ان کی پہچان کیا ہے۔؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی دوسرے پرندے کے بچوں کے دھوکے میں ہی کھا جاؤں۔‘‘ الو نے جواب دیا۔
’’بھلا یہ بھی کوئی مشکل بات ہے۔ میرے بچے سب پرندوں کے بچوں سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ ان کے چمکیلے پر دیکھ کر تم ایک ہی نظر میں پہچان جاؤ گے اور۔‘‘ عقاب نے الو کی بات کاٹ کر کہا ’’بس بس میں سمجھ گیا۔ اب، اب میں کبھی دھوکا نہیں کھا سکتا۔
مگر بھائی ہر بات کو پہلے ہی پوچھ لینا اچھا ہے۔ پھر پچھتانے سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ اچھا پھر ملیں گے۔ اللہ حافظ۔‘‘ یہ کہہ کر عقاب اڑ گیا۔ دوسرے دن عقاب شکار کی تلاش میں ادھر ادھر اڑ رہا تھا کہ اسے ایک اونچے درخت کی شاخ پر کسی پرندے کا گھونسلا نظر آیا۔
گھونسلے کے اندر چار پانچ کالے کلوٹے بد شکل بچے موٹی اور بھدی آواز میں چوں چوں کر رہے تھے۔ عقاب نے سوچا یہ بچے میرے دوست الو کے ہرگز نہیں ہوسکتے۔ کیوں کہ نہ تو یہ خوبصورت ہیں اور نہ ان کی آواز میٹھی اور سریلی ہے۔ یہ سوچ کر عقاب نے ان بچوں کو کھانا شروع کر دیا۔
وہ سب بچوں کو کھا چکا تو الو اڑتا ہوا آیا اور شور مچا کر کہا۔ ’’ارے تم نے یہ کیا کیا؟ یہ تو میرے بچے تھے۔‘‘ عقاب گھبرا کر اڑ گیا۔ ایک چمگاڈر نے جو پاس ہی اڑ رہی تھی الو سے کہا ’’اس میں عقاب کا کوئی قصور نہیں۔ ساری غلطی تمہاری ہے جو کوئی کسی کو دھوکا دے کر اپنی اصلیت چھپانے کی کوشش کرتا ہے اس کا یہی انجام ہوتا ہے۔‘‘

حصہ