تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا

سید اقبال چشتی
گائوں میں کسی کی بھینس چوری ہوجاتی ہے۔ بھینس کا مالک بھینس کی تلاش کے لیے گائوں کے سب سے تجربہ کار کھوجی کو بلاتا ہے۔ کھوجی ایک شرط پر کھوج لگانے کی ہامی بھرتا ہے کہ میں صرف آخری مقام تک تمہیں لے کر جائوں گا، اس کے بعد تمہاری مرضی ہوگی جو چاہو کرو۔
سب کہتے ہیں: مجرم کو پکڑنا ہمارا کام، تم اپنا کام کرو۔
کھوجی نشانات کی جانچ پڑتال کرتا ہوا آگے بڑھنے لگتا ہے۔ ایک جگہ جاکر کھوجی رُک جاتا ہے۔ سب معلوم کرتے ہیں کہ تم رک کیوں گئے؟ کھوجی کہتا ہے: اس سے آگے کیا تم میرا یقین کرو گے…؟ سب کہتے ہیں: کیوں نہیں، اپنا کام جاری رکھو۔ کھوجی سب کی طرف دیکھتا ہے اور ایک لمبی سانس لے کر اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ کھوجی بابا چودھری کے گھر کے سامنے جاکر رک جاتا ہے اور کہتا ہے: اس سے آگے سراغ نہیں مل رہا۔ لوگ کہتے ہیں: کھوجی بابا بوڑھا ہوگیا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ کھوجی بابا کو پتا ہی نہیں کہ یہ کس کے گھر سرا کھینچ لایا ہے۔ الغرض کوئی یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ کھوج کا سرا چودھری کے گھر تک آیا ہے۔
رائو انوار کی گرفتاری کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں چاروں صوبوں اور وفاق کے ساتھ ساتھ فوج سے بھی مدد مانگ لی گئی ہے، لیکن تاحال تمام ادارے رائو انوار کو گرفتار کرنے میں ’’ناکام‘‘ رہے ہیں، لیکن متحدہ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے اس حوالے سے بیان دیا ہے کہ ’’رائو انوار کو بلاول ہائوس میں تلاش کیا جائے۔‘‘
اس بیان کی حقیقت پر غور کیا جائے تو جرم کا سرا یہیں سے ملے گا، کیونکہ اخباری اطلاعات کے مطابق رائو انوار کو محترم آصف علی زرداری کی پشت پناہی حاصل ہے۔ جس طریقے سے رائو انوار اپنی مرضی سے کارروائیاں کرتا رہا ہے اور اب اُس کی جائداد سے متعلق جو خبریں شائع ہورہی ہیں اُن سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ظالموں نے طاقت کے نشے میں بے گناہ معصوم لوگوں کو مارا اور اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اُٹھاکر اربوں روپے کے مالک بن گئے۔ ایک پولس آفیسر کو جب تک حکمرانوں کی پشت پناہی حاصل نہ ہو، وہ قانون کو مذاق نہیں بنا سکتا۔ اگر رائو انوار کے ہاتھ معصوم انسانوں کے خون سے رنگے نہ ہوتے تو وہ یوں بزدلوں کی طرح نہ بھاگتا، اور اس طرح نہ چھپتا کہ پورے پاکستان کی انتظامیہ ایک فرد کو تلاش نہ کرسکے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ

کئی برسوں سے لوگوں کا غائب ہوجانا اور پھر اخبارات میں خبر چھپنا کہ پولیس مقابلے میں دو، تین یا چار دہشت گرد مارے گئے، ان افراد کے پاس سے جدید ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔ رائو انوار کے ساتھ ہونے والے تمام پولیس مقابلوں میں کبھی پولیس کا ایک بھی سپاہی معمولی زخمی تک نہیں ہوتا تھا، لیکن مقابلے میں مارے جانے والوں کی تفصیلات پڑھنے سے پتا چلتا تھا کہ وہ اتنے تربیت یافتہ تھے لیکن ملیر کے علاقے میں پولیس کو دیکھ کر تمام تربیت بھول جاتے تھے، بلکہ لڑنے سے اپنے فرار کے تمام راستے بند کرکے، بلکہ یوں کہا جائے کہ کشتیاں جلاکر ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہن کر مقابلہ کرتے تھے کہ مر جائیں گے میدان سے نہیں بھاگیں گے۔ ملیر کا علاقہ نہ ہوا پانی پت کا میدان ہوگیا کہ ہر پولیس مقابلہ ایک خاص مقام اور دن کے وقت ہوتا، بلکہ حملہ آور تمام دستاویزات اور شناختی کارڈ جیب میں رکھ کر آتے۔ پولیس مقابلے کی داستان پڑھ کر عقل اور شعور رکھنے والا ایک عام فرد بھی جان جاتا کہ ایک جان پھر پولیس گردی کی نذر ہوگئی ہے۔ ان جعلی مقابلوں کی تشہیر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے کی جاتی رہی، مگر کسی نے بھی مظلوموں کی آواز نہیں سنی۔ لیکن حق اور صداقت کی بات کرنے والے اخبارات نے ان پولیس مقابلوں کو مشکوک قرار دیا، اور مارے جانے والے افراد کی ہتھکڑی پہنے تصاویر شائع کی جاتی رہیں، مگر سچائی کی اس آواز کو نقار خانے میں طوطی کی آواز سمجھا گیا۔ لیکن کمزور آواز آج معاشرے کی توانا آواز بن چکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ’’ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے‘‘ اور بالآخر بے گناہوں کا خون رنگ لایا اور آسمان والے نے بھی غم کے ماروں کی التجائیں سن لیں اور ظالم کے ظلم کا پردہ حکمرانوں سے لے کر عوام تک کی آنکھوں سے اُٹھ گیا۔ سوال یہ ہے کہ پولیس کا ایک ایس ایس پی اس قدر سفاک اور ظالم کس طرح ہوگیا کہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنا اس کا مشغلہ بن گیا؟ اس فرد کو اتنا طاقت ور بنانے میں جہاں میڈیا کا کردار ہے وہیں حکمرانوں کے ساتھ عوام بھی اس خون میں برابر کے شریک ہیں، کیونکہ کرپٹ اور ظالم حکمرانوں کو عوام ہی اپنے ووٹ سے منتخب کرتے ہیں۔ خیر اور بھلائی کا سرچشمہ حکمران ہی ہوتے ہیں، اسی لیے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے کہا تھا کہ دنیا میں آپ جتنی برائیاں دیکھتے ہیں ان سب کی جڑ دراصل حکومت کی خرابی ہے، کیونکہ طاقت اور دولت حکومت کے ہاتھ میں ہوتی ہے، قانون حکومت بناتی ہے، انتظام کے سارے اختیارات حکومت کے قبضے میں ہوتے ہیں، پولیس اور فوج کا زور حکومت کے پاس ہوتا ہے، لہٰذا جو خرابی بھی لوگوں کی زندگی میں پھیلتی ہے وہ یا تو خود حکومت کی پھیلائی ہوئی ہوتی ہے یا اس کی مدد سے پھیلتی ہے، کیونکہ کسی چیز کو پھیلنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ حکومت ہی کے پاس ہوتی ہے۔ کرپٹ حکمرانوں کے کرتوت عوام ستّر برسوں سے بھگت رہے ہیں، 2018ء الیکشن کا سال ہے۔ پانچ یا چھ ماہ بعد عوام کو اپنے حکمران منتخب کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ اگر عوام اپنا مستقبل سنوارنے کے ساتھ سُکھ اور چین کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو کرپٹ اور جرائم کی دنیا سے تعلق رکھنے والے سیاسی شعبدہ بازوں کو مسترد کرکے کرپشن سے پاک نمائندوں کو منتخب کریں، ورنہ کھوجی کا سرا کرپٹ حکمرانوں کے ساتھ آپ کے گھر پر بھی آسکتا ہے۔
ملک میں امن و امان اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکمرانوں کی ذمے داری ہے، اور حکمران عوام کو ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھنے اور تحفظ کے لیے پولیس کے ادارے کو استعمال کرتے ہیں، مگر ہمارے ملک میں یہ دیکھا گیا ہے کہ پولیس ’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘ کی مثال کی طرح حکمرانوں ہی کی خادم بنی ہوتی ہے، جس سے پولیس کی کارکردگی متاثر ہی نہیں ہوتی بلکہ معاشرے میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ جس پولیس کا کام جرائم کا خاتمہ اور مجرموں کو قابو میں رکھنا ہو، وہ خود جرائم کرنے لگے اور ظالم بن جائے تو پولیس کی وردی خوف اور دہشت کی علامت بن جاتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جرائم کی پشت پناہی پولیس، اور پولیس کی پشت پناہی حکمرانِ وقت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے مل کر بھی جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں ایک معطل پولیس آفیسر کو گرفتار نہیں کرسکے۔ شاید اس لیے کہ اگر ہم نے کارکردگی دکھائی تو کوئی شخصیت ناراض نہ ہوجائے۔ اس لیے فاروق ستار نے صحیح کہا کہ رائو انوار کو اِدھر اُدھر تلاش کرنے کے بجائے وہاں تلاش کیا جائے جن کے لیے وہ کام کرتا تھا، کیونکہ فاروق ستار اچھی طرح جانتے ہیں کہ مجرم کو کہاں سے ہدایات ملتی ہیں اور مجرم مصیبت کے وقت کہاں پناہ لیتا ہے۔ ایم کیو ایم کے مرکز 90 سے رینجرز کے چھاپے کے دوران جرائم کی دنیا کے بڑے بڑے نام اور عدالتوں کو مطلوب مجرمان جو ٹارگٹ کلنگ، ڈاکے، لوٹ مار اور بھتا خوری میں ملوث تھے، گرفتار ہوئے۔ اسی لیے رائو انوار اپنے ہی محکمے سے چھپتے پھر رہے ہیں، شاید اس لیے بھی کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں تو شطرنج کا ایک مہرہ ہوں، جب چاہے راستے سے ہٹا دیا جائوں، البتہ جن سیاسی شخصیات کے لیے کام کیا اُن کی سیاست چلتی رہے گی۔ رائو انوار کی روپوشی اس بات کو ثابت کررہی ہے کہ اس نے 440 معصوم انسانوں کا ناحق خون کیا ہے۔
چیف جسٹس نے پولیس مقابلے میں قتل کیے گئے نقیب اللہ اور دیگر افراد کے ماورائے عدالت قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ملزموں کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عوام اور مظلوموں کی آخری اُمید عدلیہ ہے، اگر ملک کی اعلیٰ عدلیہ سے مظلوموں کو انصاف اور قاتل کو سزا نہیں ملی، تو جس طرح رائو انوار نے جنگل کا قانون رائج کیا ہوا تھا، عوام بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے میں دیر نہیں کریں گے، کیونکہ حکمرانوں نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا تھا آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے۔ پھر عدلیہ کے بجائے جرگوں میں فیصلے ہوں گے۔ پولیس کی کارکردگی پر اعلیٰ عدلیہ پہلے ہی اعتراض کرچکی ہے، اس لیے چیف جسٹس صاحب جلدی کیجیے کہیں دیر نہ ہوجائے۔

تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہے
کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کر
خون چلتا ہے تو رُکتا نہیں سنگینوں سے
سر جو اُٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے

حصہ