بلیک ہول

تلخیص و تحقیق: خرم عباسی
بلیک ہول ایک ایسا معمہ ہے جو سائنس دانوں کے مختلف نظریات و قوانین کو کھا رہا ہے یعنی نظریات مفروضے بنتے جارہے ہیں لیکن اِن تمام ادھوری تحقیقات کے باوجود قرآن پاک میں بلیک ہولز کے بارے میں جو انکشاف کیا گیا وہ متعصب سائنسی ماہرین کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے: تو مجْھے قسم ہے اِن جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں اور تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے۔ (الواقعہ) اللہ رب العزت نے ستاروں کے ڈوبنے کی جگہ کی ناصرف قسم فرمائی بلکہ اس کے بڑے ہونے کا بھی ذکر کیا ہے۔ اِسی طرح ایک جگہ اور تاروں سے ہی متعلق فرمایا: پھر جب تارے محو کردیئے جائیں۔(سورۂ مرسلات)۔
تقریباً دو سو سال پہلے تک کائنات میں ستارے ان فلکی اشیائکو کہا جاتا تھا جو روشنی پھیلا کر کائنات کو منور کرتے ہیں مگر اس پرسرار کائنات میں کچھ ایسے ستاروں کا سائنسدانوں نے پتہ چلایا جو کہ روشنی کی بجائے تاریکی پھیلانے کے شوقین ہیں، یہ ستارے آج بھی نظر نہ آنے کے باعث سائنسدانوں کے لئے ایک پہیلی بنے ہوئے ہیں، اس پہیلی کا آغاز 1784ء میں تب ہوا جب جان مشل نے حادثاتی طور پر ریاضی کی مساوات حل کرتے ہوئے ایک انکشاف کیا کہ اس کائنات میں ایسے گڑھے موجود ہیں جن سے نکلنا کسی کے بس کی بات نہیں، اس نے کہا کہ اس سے نکلنے کے لئے روشنی سے بھی تیز رفتار چاہیے ہوگی (روشنی ایک سیکنڈ میں 3 لاکھ کلومیٹر طے کرلیتی ہے) چونکہ اس وقت تک یہ بات ثابت نہیں ہوپائی تھی کہ کشش ثقل کا روشنی پر اثر ہوتا ہے کہ نہیں، جس کے باعث سائنسدان جان مشل کے اس نظریے کو ماننے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے تھے بعد ازاں آئن سٹائن نے مساوات سے ثابت کیا کہ کشش ثقل کا روشنی پر بھی اثر ہوتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق کائنات کا آغاز میں پہلی قسم کے بلیک ہولز موجود تھے بلکہ کچھ کے نزدیک بیگ بینگ کے واقعے کے ذمہ دار یہی بلیک ہول ہیں بلکہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ بلیک ہولز سائنسدان اپنی سرن لیبارٹری میں بنا چکے ہیں، دوسری قسم کے بلیک ہولز کائنات میں اب بھی بے پناہ تعداد میں موجود ہیں جبکہ تیسری قسم کے بلیک ہولز ہر کہکشاں کے درمیان میں ہوتے ہیں، ستاروں کو بکھرنے نہیں دیتے اور کہکشاں بنائی رکھتے ہیں، بے شک بلیک ہولز کائنات کے اربوں رازوں میں سے ایک راز ہے۔کائنات کی الجھنوں کو سلجھاتے ہوئے حضرت انسان اس میں مزید الجھتا جارہا ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ کائنات کو کوجھنے کے اس انتھک اور پرسرار سفر کی کوئی منزل بھی ہے کہ نہیں۔
بلیک ہولز کی پہیلی کو سلجھانے کے لئے اسٹیفن ہاکنگ نے بے پناہ محنت کی، سٹیون ہاکنگ بلیک ہول پر اپنی کتاب میں تفصیلی سائنسی تجربات کہ احاطہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں، (تاریک غار) کی اصطلاح خاصی نئی اصطلاح ہے ، اس کو امریکی سائنس دان جان وھیلر نے ایک ایسے خیال کی واضح تشریح کے لیے وضع کیا جو کم از کم دو سو سال قبل کے اس دور سے آیا تھا جب روشنی کے بارے میں دو نظریات تھے ، ایک تو نیوٹن کا حمایت کردہ نظریہ کہ روشنی ذرات پر مشتمل ہے اور دوسرا یہ کہ روشنی لہروں سے بنی ہے ، اب ہم جانتے ہیں کہ در حقیقت دونوں نظریات درست تھے۔ کیا ستاروں اور کہکشاؤں کے لیے مطلوبہ بے قاعدگیاں ایک خاص تعداد میں ‘اولین’ (primordial) بلیک ہول کی تشکیل کا باعث بنی ہوں گی، اس کا واضح انحصار ابتدائی کائنات میں حالات کی تفصیل پر ہو گا، چنانچہ اگر ہم اس بات پر یقین کر سکیں کہ اب کتنے اولین بلیک ہول موجود ہیں تو ہم کائنات کے تحت ابتدائی مراحل کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں، ایک ارب ٹن سے زیادہ کمیت والے بلیک ہول (جو ایک بڑے پہاڑ کی کمیت ہے) کا سراغ دوسرے نظر آنے والے مادے کا کائنات کے پھیلاؤ پر ان کے تجاذبی اثرات سے لگایا جا سکتا ہے۔ہماری اپنی دودھیا کہکشاں میں ایک دوسرے نظام شمسی کی دریافت ہوئی ہے، جسے ٹریپسٹ اوّل (TRAPPIST-1) کا نام دیا گیا ہے۔ فلکیات کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب زمین سے مشابہہ سات سیّارے دریافت کیے گئے ہیں جو کہ سورج سے اتنے فاصلے پر ہیں ان میں زندگی پائی جانے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ سیارے ہم سے40 نوری سالوں کی دوری پر ہیں۔
عمومی نظریہ اضافیت کے 100 برس(2015-1915) مکمل ہوتے ہی ڈرامائی طور پر کائنات اور بلیک ہولز کے بارے میں تحقیقات میں تیزی سے پیش قدمی جاری ہے اور خاص طور پر بلیک ہولوں کے بارے میں نت نئی معلومات سامنے آرہی ہیں اور سیاہ گڑھے یا بلیک ہولز جو کہ اب تک انسانوں کے لیے محض ایک معما بنے رہے ہیں بڑے امکانات روشن ہیں کہ ہم جلد ان کی اصل حقیقت سے آگاہی حاصل کرلیں گے۔
ستمبر 2015 ء میں ثقلی لہروں کے وجود ثابت ہونے کے ساتھ ہی سیاہ گڑھوں کی حقیقت اور ان کی سچائی مجسم حقیقت بن چکی ہیں۔ فلکیات کے دو اہم ترین ایونٹس کے علاوہ پچھلے سال ہی بلیک ہول کے حوالے سے ایک نہایت اہم پیش رفت ممکن ہوچکی ہے جس میں بلیک ہول کو ایک عام فلکیاتی دوربین کی مدد سے بھی دیکھ لیا گیا ہے، جو کہ اب تک محض مخصوص ایکس ریز یا مقناطیسی نوعیت کی فلکیاتی دوربینوں کی مدد سے دیکھا جانا ممکن تصور کیا جاتا تھا۔ بلیک ہول دراصل ستارے کی زندگی کے مختلف ادوار کی ایک ممکنہ شکل ہے، جب کوئی ستارہ اپنی زندگی پوری کرلیتا ہے تو پھر اس میں سکڑنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور ایک مقام پر وہ اپنی ہیت تبدیل کرنا شروع کردیتا ہے، جس کی ممکنہ صورتیں یہ ہوتی ہیں کہ بونے ستارے کے طور پر اپنا وجود قائم رکھے یا پھر دوسرا امکان یہ ہوتا ہے کہ ستارہ بڑھنے کے عمل کی طرف تیزی سے گام زن ہوجائے اور اتنا بڑھ جائے کہ ایک زور دھماکے سے پھٹ پڑے۔
یہ دھماکا کائنات میں ’’سپرنووا‘‘ کہلاتا ہے جب کہ آخری ممکنہ صورت یہ ہے کہ ستارہ مزید سکڑنا شروع کردے اور اس عمل میں اتنا چھوٹا ہوجائے ہے کہ اس کا وجود محض ایک نقطے (سنگولیٹری) پر آجائے، اب یہ ستارے کی آخری منزل ہے وہ ْمردار ستارہ کہلاتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی کشش ثقل بے انتہا بڑھ جاتی ہے اور پھر وہ اپنے اطراف کے اجرام فلکی، گیس و دھول کو اپنے اندر جذب یا ہڑپ کرنا شروع کردیتا ہے، جس سے تاب کاری خارج ہوتی ہے۔ اس کے اطراف کھا جانے والی مادّے کی اسی روشنی و اثرات سے ’’سیاہ گڑھے‘‘ کی نشان دہی ہوتی ہے ورنہ بلیک ہول کا وجود آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے، جہاں روشنی جیسی شے کا بھی فرار ممکن نہیں۔آئن اسٹائن کے گریوٹشنل (تجازبی) لہروں کی تصدیق سے اب بلیک ہولوں کے بارے میں پراسراریت ختم ہونے کو ہے اور اس اہم کائناتی ایونٹ سے پردہ اٹھنے کو ہے۔ یہاں بلیک ہول کو عام دوربین کی مدد سے دیکھے جانے کا حال بیان کیا جارہا ہے جو کہ معروف سائنسی جریدے ’’نیچر‘‘ میں شائع ہوا ہے۔فلکیاتی تاریخ کا یہ پہلا اور یادگاری موقع تھا جب چند گھنٹوں کی آخری ساعتوں کے درمیان بلیک ہول سے خارج ہونے والی روشنی کی لہروں کو دیکھا گیا تھا۔یہ بلیک ہول جو کہ ’’سگنس‘‘ ستاروں کے جھنڈ میں واقع ہے اور ہماری زمین سے 7۔800 نوری سالوں کی دوری پر ہے۔ یہ اب تک فلکیاتی نقطہ نظر سے بلیک ہول کی تاریخ کا ناقابل یقین واقع حقیقت میں بدل چکا ہے کہ اس بلیک ہول سے نکلنے والی روشن چمک کی کوند کو شوقیہ فلکیاتی ٹیم نے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے عام فلکیاتی 20 سینٹی میٹرز کی دوربین سے بلیک ہول کا مشاہدہ کیا جو کہ اس سے پہلے ناممکن سمجھا جاتا ہے جو کہ ایک بڑا ثبوت ہے کہ عام دوربین سے بھی بلیک ہول کو دیکھا جاسکتا ہے۔
اس تحقیق کے روح ِرواں مرِیکو کمورا ہیں جو جاپان کی ’’کیوٹو‘‘ یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ اس بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ مظاہر قدرت میں بلیک ہول کی قربت میں ہونے والا یہ واقعہ رونما ہوا تھا، جسے بنا کسی ہائی ایپک ایکس ریز یا گاماریز والی ٹیلی اسکوپ کے برعکس ایک عام درمیانے درجے کی آپٹیکل ٹیلی اسکوپ سے دیکھا جانا ممکن ہوا۔ بلیک ہول کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں جانے والی کوئی بھی شے واپس نہیں ہوتی، لیکن ہڑپ کی جانے والی گیسوں اور دھول کے پھٹنے کے عمل میں تمام ستاروں میں نئی پیدائش ظہور میں لاسکتی ہیں۔ایک اور بلیک ہول کی حدود واقعاتی افق (ایونٹ ہورائزن) کے قریب یہ ڈسکیں مادّہ کی چوتھی حالت ’پلازمہ‘ کے سرچشمے کو ڈھکیلتی ہیں۔ یہ تمام کہکشاں کی کل لمبائی کے اطراف اپنا عمل کرتی ہیں، جہاں کا درجہ حرارت 10 ملین ڈگری سیلئیس یا 18 ملین ڈگری فارن ہائیٹ یا اس سے بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اس جگہ بلیک ہول کی دیوانہ وار حرارت و تپش کی گرمی کو ناقابل ِیقین روشن دہکتا ہوا بنادیتی ہے۔ جب اس کا مشاہد ہ کیا گیا تھا تو کیمورا انکی ٹیم کا فوکس V404 ستاروں جھنڈ تھا۔ اس مشاہدے نے 26 سال سے بے حس وحرکت بلیک ہول کو نیند سے جگا کر بیدار کردیا ہے۔
اس کا سراغ 15 جون 2015 ء میں ناسا کی سوئفٹ خلائی ٹیلی اسکوپ نے لگایا تھا تب اسے جاپانی تحقیق کاروں نے ٹریک کرلیا تھا جس کے تحقیق کرنے والے سائنس داں دنیا بھر میں چھبیس مقامات پر تاک لگائے بیٹھے تھے انکی نظروں کا محور بس ’’سگنس۔V404 ‘‘ تھا۔ اس بلیک ہول سے خارج ہونے والی روشنی کی چکا چوند شعاعوں کو ماہرین دو ہفتوں تک دیکھنے کے قابل رہے اور 3۔5 گھنٹے اس کی فلم بندی ہوئی۔ یہ ہماری زمین سے نزدیک ترین بلیک ہول ہے اور ناقابل بیان تاب کاری خارج کرتا ہے۔
اب ماہرین فلکیات کے پاس ایسا ثبوت ہاتھ آگیا ہے کہ اس واقعے میں عام نظر آنے والی روشنی کو دکھانے والی فلکی دوربین نے ہی کام کر دکھایا ہے کہ اس طرح کی دوربین بھی بلیک ہول کے ایونٹس کو دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس بارے میں مفروضہ ہے کہ روشنی جو کہ ایکس ریز شعاعیں پید ا کرتی ہیں،Accretion Disk یکے مرکز سے خارج ہوتی ہیں اور روشن ہونے کے ساتھ گرم ترین ہوتی ہیں۔ یہ ڈسک کے بیرونی اطراف ظہور پذیر ہوتی ہیں جو کہ روشنی ’’آپٹیکل‘‘ شعاعوں کی مرہونِ منت ہیں۔ تمام تر پْرتجسّس تحقیق کا حاصل ہے اور اس بات کی تصدیق نے ماہرین کائنات میں جوش و ولولہ پید ا کردیا ہے۔
بلیک ہول کے اس پار ہونے والے واقعے نے سوچ کی نئی راہیں کھول دی ہیں، جس سے ہمیں نئے مشاہداتی راستے کا ایک نیا وسیلہ میسر آگیا ہے اور اب شوقیہ فلکیات دانوں کے لیے بھی کھلے مواقع ہیں کہ وہ بلیک ہول کی تحقیق میں براہ راست شامل ہوسکتے ہیں اگر ان کے پاس گھر پر ایک اچھی فلکی دوربین ہے۔ فزکس کاسمولوجی کے ماہرین اس مشاہداتی نیٹ ورک سے بے حد مسرور اور پرامید دکھائی دیتے ہیں اور سب ہی نے مل کر حقیقی دستاویزی و ڈیجیٹل ذرایع سے اس اہم ایونٹ میں اپنا حصّہ بٹایا ہے۔ وہ اس نئی ممکنہ صورت حال سے جو کہ اچانک بلیک ہول کی طرف سے پید ا ہوئی ہے، کچھ حیرت میں مبتلا بھی دکھائی دیتے ہیں۔
بشکریہ :سٹیون ہاکنگ،وقت کا سفر،ترجمہ:ناظر محمود، میگزین ’’نیچر‘‘۔

حصہ