بات یہ ہے

عبدالرحمن مومن
کبھی آپ امتحان میں ناکام ہوئے ہیں؟ نہیں ہوئے؟ اچھا آپ کے امتحان میں نمبر تو کبھی نہ کبھی کم ضرور آئے ہوں گے۔ کیا کہا آپ ہر بار اچھے نمبروں سے پاس ہوتے ہیں؟ اچھا بھئی مان لیتے ہیں کہ آپ کا شمار اچھے طالب علموں میں ہوتا ہے۔ آپ کی کوئی چیز غائب تو ضرور ہوئی ہوگی۔(شکر ہے آپ نے مان لیا ورنہ ہم تو آپ کو کسی اور دنیا کی مخلوق سمجھتے) ۔ جب آپ کی چیز غائب ہوتی ہے تو آپ کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟ چلیں چھوڑیں آپ کی بات نہیں کرتا۔ مجھے تو افسوس ہوتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ مجھے کسی طرح پہلے ہی علم ہوجائے کہ میری کوئی چیز غائب ہونے والی ہے تاکہ میں اس کا خیال رکھ سکوں۔ کیا کہا آپ نے؟ ایسا لگتا ہے کہ میں تقدیر پر جاننا چاہتا ہوں! تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟
آپ بھی یہ خواہش رکھ سکتے ہیں اس کو پایہ تکمیل تک پہنچاسکتے ہیں۔ جی ہاں اقبال کہتے ہیں کہ آپ اپنی تقدیر نہ صرف جان سکتے ہیں بلکہ اسے خود بھی لکھ سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے آپ کو کچھ کرنا ہوگا! پریشان نہ ہوں علامہ اقبال یہ بھی بتارہے ہیں کہ آپ کو اپنی تقدیر لکھنے کے لیے کیا کرنا ہوگا۔ آپ کو ایک ایسی ہستی کو اپنا رہنما بنانا ہوگا جو دنیا اور آخرت کی کامیاب ترین ہستی ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے منتخب کیا اور جس کے طرز زندگی کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا۔ جی آپ ٹھیک سمجھے ہم اللہ کے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرکے نہ صرف اپنی تقدیر جان سکتے ہیں بلکہ اپنی تقدیر خود بناسکتے ہیں‘ کیونکہ:

کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

بھینسا اور میں

انتخاب: عبداللہ سعد
مجھے درخت پر بیٹھے شام ہو گئی تھی مگر یہ بَلا کسی طرح بھی ٹلتی نظر نہیں آرہی تھی۔ جنگلی بھینسا مسلسل درخت کے چکر کاٹ رہا تھا۔ میں اس انتظار میں تھا کہ بھینسا تھک کر یہاں سے چلا جائے گا تو میں نیچے اُتروں اور اس منحوس جنگل سے نکلوں۔
اُدھر بھینسا اس انتظار میں تھا کہ نیچے اُتروں تو وہ اپنے نوکیلے سینگوں اور کُھروں سے میرا بُھر تا بنا دے۔
میرا پیشہ چڑیا گھروں کوجانور مہیا کرنا ہے۔ میرے ایک دوست نے مجھے خرگوشوں کے ایک نایاب جوڑے کے بارے میں اطلاع دی، جنھیں اس نے اس جنگل میں دیکھا تھا۔
کافی دنوں سے میرے ہاتھ کوئی بڑا شکار نہیں لگاتھا اور میری جیب بالکل خالی ہو چکی تھی۔ میں نے سوچا کہ چلو خرگوش پکڑ کر میں کچھ رقم کمالوں۔
چناں چہ میں آج صبح ان خرگوشوں کی سُن گُن لینے جنگل میں آیا تھا۔اپنا کھانے پینے کا سامان اور خرگوش پکڑنے کے پھندے وغیرہ میں ایک بڑے درخت کی کھوہ میں چھپا دیے تھے اور خود خرگوش کی کھوج میں نکل پڑا۔
مگر ایک تنگ سی پگڈنڈی پہ میرا سامنا خرگوش کے بجائے اس جنگلی بھینسے سے ہو گیا۔ یہ اس طرح اچانک میرے سامنے آیا کہ میرے لئے چھپنا ممکن نہ رہا۔ اگر میں بھاگ کر فوراََ ایک قریبی درخت پر نہ چڑھ جاتا تو یہ بھینسا یقینا مجھے گرا کر اپنے کُھروں سے کچل دیتا۔
مجھے درخت پر چڑھے دیکھ کر اس نے اتنے زور سے درخت کو ٹکر ماری کہ اس زور دار جھٹکے سے درخت کی شاخ میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور میں نیچے گرتے گرتے بچا۔ اب سورج مغرب کی طرف ڈھل رہا تھا، مگر یہ بھینسا یہاں سے ہلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
میرا کھانے کا جو تھوڑا بہت سامان تھا میرے پہنچ سے دور درخت کی کھوہ میں رکھا تھا۔ جیب میں چند بسکٹ اور چاکلیٹ تھی۔ جو میں وقفے وقفے سے کھا کر اپنی بھوک کو بہلا تا رہا۔ بھینسے کے لیے بھوک کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ وہ نرم نرم گھاس سے اپنا پیٹ بھر لیتا، مگر بڑے چوکنے انداز میں کھاتے ہوئے بھی اس کی ایک نظر اوپر میری طرف ہی رہتی۔
شام کا اندھیرا پھیلا تو مجھے اُمید بندھی کہ شاید اب یہ بَلا ٹَل جائے۔ مگر اس وقت میری اُمیدوں پہ اوس پڑگئی جب بھینسا وہیں درخت کے نیچے پاو?ں پسار کر لیٹ گیا۔ ساری رات درخت پہ بیٹھے بیٹے میرے بازو ، ٹانگیں اور کمر اَکڑ گئی۔
مچھروں نے کاٹ کاٹ کر بُرا حال کر دیا۔ ای بار میں نے اندھیرے کا فائدہ اُٹھا کر درخت سے اُتر کر بھاگنے کا ارادہ کیا، مگر پٹوں کی ذراسی کھڑ کھڑاہٹ ہوئی تو بھینسا چوکنا ہو گیا اس لیے میں نے درخت پر بیٹھے رہنے میں ہی عافیت جانی۔
صبح کا اُجالا ہوا تو میں نے سکون کا سانس لیا۔ پیاس سے حلق خشک ہو گیا تھا۔ بھوک کے مارے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ پھر ہلکی ہلکی دھوپ نکلی تو مجھے اونگھ آگئی اور میں درخت کی شاخوں سے لپٹ کر سو گیا۔ آنکھ کھلی تو دیکھا بھینسا نیچے موجود نہیں تھا۔
مارے خوشی کے میرے منھ سے چیخ نکل گئی۔ میں نے اِدھر اُدھر نگاہیں دوڑائیں۔ اردگرد بھینسے کا کوئی نشان نہ پاکر میں جلدی سے نیچے اُترا اور جنگل سے باہر جانے والے راستے کی طرف دوڑ لگا دی۔
میں جلد سے جلد سے دور جانا چاہتا تھا۔
بھاگتے ہوئے میں پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھ رہا تھا کہ کہیں بھینسا پیچھے تو نہیں آرہا ہے۔ اسی گھبراہٹ میں ، میں ایک گہرے گڑھے میں گرتے گرتے بچا۔ یہ گڑھا میرے جیسے ہی کسی شکاری نے کسی جانور کو پھانسنے کے لئے کھود رکھا تھا۔ گڑھا اوپر سے بڑی مہارت سے جھاڑ جھنکار سے ڈھکا ہوا تھا۔
جیسے ہی میرا پاو?ں گڑھے میں پڑا، میں نے قریب ہی آُگی ہوئی ایک مضبوط جھاڑی کو پکڑ لیا اور میں گڑھے میں گرنے سے بچ گیا۔ ابھی میں اس حادثے سے سنبھلا ہی تھا کہ مجھے اپنے پیچھے کسی کے بھاگنے کی آوازیں سنائیں دیں۔ پلٹ کر دیکھا تو بھینسا گردوغبار کا طوفان اُڑاتا اس طرف آتا نظر آیا۔
مکار بھینسا یقینا کہیں چھپ گیا تھا مجھے درخت سے اُترتے دیکھ کر اس نے خاموشی سے میرا پیچھا کیا اور اب موقع دیکھ کر مجھ پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔
جیسے ہی بھینسا بھاگتا ہوا میرے قریب پہنچا اور ایک زور دار ٹکر مار کر مجھے گرانا چاہا میں پھرتی سے ایک طرف ہٹ گیا۔
بھینسا اپنی ہی جھونک میں آگے نکل گیا اور پھر زور دار آواز سے گڑھے میں جا گڑا۔ اس کے گرنے سے جو دھماکا ہوا، اس سے آس پاس کی زمین ہل گئی۔ گڑھے سے مٹی کا ایک طوفان سا اُٹھا۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا اور اس درخت کی طرف چل پڑا، جہاں میری چیزیں رکھی ہوئی تھی۔
بھینسے سے مجھے کوئی غرض نہیں تھی، کیوں کہ کوئی بھی چڑیا گھر بھینسے کا خریدار نہیں تھا۔ میرا کام بس اتنا تھا کہ گڑھا کھود نے والے شکاری کو بھینسے کے گڑھے میں گرنے کی خبر دے دوں، تاکہ وہ اس کے ساتھی آکر اس خونخوار بھینسے کو سبق سکھائیں کہ کسی کو بلاوجہ تنگ کرنے کاکیا انجام ہوتا ہے۔

حصہ