ایک مرد، ایک عورت کی کہانی، بھروسے و اعتماد کا قتل

افروز عنایت
زینت: لیکن بچوں کی پڑھائی کا کیا ہوگا؟ وہ ایک چھوٹا شہر ہے، بہت مشکل ہوجائے گی۔
عمار: ہاں… جانا ضروری ہے، سرکاری نوکری میں یہ سب تو چلتا ہے، حالانکہ ’’ترقی‘‘ کے ساتھ حکومت کی طرف سے بہت سی مراعات بھی میسر ہیں۔ بچوں کو ان کی خالہ کے گھر… نہیں… یہ مناسب نہیں لگتا، کیا کرسکتے ہیں!
زینت: یہی کرسکتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کراچی میں رہ جائوں، آپ چلے جائیں۔ ویسے بھی خیرپور کون سا دور ہے، ہر ہفتے آپ آسانی سے آجا سکتے ہیں، کبھی میں بھی بچوں کے ساتھ چکر لگا لیا کروں گی۔
٭٭٭
زینت ایک پڑھے لکھے معزز گھرانے کی لڑکی تھی۔ عمار بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ عہدے پر فائز تھا۔ دونوں کی محبت اور خلوص کی وجہ سے یہ گھرانہ مثالی تھا۔ زینت نہایت ہی سگھڑ، سلیقہ مند اور بہترین بیوی اور ایک سمجھ دار ماں تھی۔ شادی کو دس بارہ سال ہوچکے تھے لیکن کبھی ایک دوسرے سے دور نہیں رہے تھے، اس لیے عمار کے اچانک تبادلے کی وجہ سے دونوں میاں بیوی پریشان تھے، لیکن مجبوری تھی اس لیے عمار خیرپور روانہ ہوگیا البتہ ہر ہفتہ وہ باقاعدگی سے کراچی ایک دو دن کے لیے آتا۔ عمار کو خیرپور میں سرکار کی طرف سے گاڑی، نوکر وغیرہ سب ملے ہوئے تھے، لیکن وہ بیوی، بچوں کو یاد کرتا… بے چینی سے چھٹی کے دن کا انتظار کرتا کہ ان سے ملنے جائے۔ دوسری طرف زینت کی بھی یہی حالت تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے احساسات سے واقف تھے۔
٭٭٭
زینت: تمہارے پاپا کو آج آنا تھا، ابھی تک نہیں آئے اللہ خیر کرے۔ ان پانچ چھ مہینوں میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ فون بھی نہیں اٹھا رہے۔
زوہیب: اماں آپ دوبارہ فون کرکے دیکھیں، بابا شاید مصروف ہوں گے۔ (اس نے ماں کو تسلی دینے کے لیے کہا حالانکہ دس سالہ زوہیب خود بھی پریشان تھا)
زینت: کہاں ہو عمار! میں دو دن سے مسلسل فون کررہی ہوں، آج اگر تم سے رابطہ نہ ہوتا تو میں خود آنے کا سوچ رہی تھی۔
عمار: (گھبراتے ہوئے) ارے نہیں نہیں، تم نہ آنا۔ میں ذرا دفتری کام کی وجہ سے شہر سے باہر تھا، ابھی بھی بہت مصروف ہوں۔ میں اس ہفتے آنے کی کوشش کروں گا۔
٭٭٭
اگلے ہفتے عمار آیا بھی تو ایک دن کے لیے… بلکہ اب اکثر یہی ہونے لگا، کہ کسی ہفتے ایک دن کے لیے آجاتا اور کبھی فون کرکے مصروفیت کا بہانا بنا دیتا کہ وہ نہیں آسکتا۔ بلکہ فون پر بھی بات کم ہی ہوئی۔
٭٭٭
زینت: (بچوں سے) اس مرتبہ تم تینوں کی تین دن کی اسکول کی چھٹی ہے، ہم آپ کے پاپا کو سرپرائز دیں گے۔ خود خیرپور چلتے ہیں۔ آپ کے پاپا بیچارے تو دفتری کام کی وجہ سے بہت مصروف رہنے لگے ہیں۔
بچے: واہ… یس مما بہت مزا آئے گا۔
٭٭٭
زینت: بس خیرپور آنے والا ہے، آپ کے پاپا تو دفتر میں ہوں گے۔
ثاقب: (بڑا بیٹا، جوش سے) جب پاپا دفتر سے آئیں گے تو ہمیں دیکھ کر حیران ہوجائیں گے۔
عمار کے ملازمین جو گھر میں موجود تھے، انہوں نے زینت کو دیکھا تو گھبرا گئے اور ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ عجیب صورت حال تھی جیسے زینت نے بھی محسوس کیا۔ ڈرائیور اور ایک ملازم کو اُس نے گاڑی سے سامان لانے کے لیے کہا اور خود گھر میں داخل ہوئی۔ زینت اور بچوں کی آواز سن کر گھر کے اندر سے ایک خاتون باہر نکلی… ’’کون ہے…؟‘‘
زینت کو دیکھ کر خاتون ٹھٹک گئی… ’’جی… وہ…‘‘
اتنے میں عمار بھی آفس سے آگیا، وہ سب کو دیکھ کر بوکھلا گیا۔
عمار: ارے تم… آئو… آئو اندر آئو۔
زینت: یہ… یہ کون ہے؟
خاتون عمار کو چپ دیکھ کر بولی: میں عمار کی بیوی ہوں۔
زینت بڑے حوصلے سے کام لے کر بچوں کو اندر کمرے میں لے آئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس صورتِ حال پر چیخے، چلاّئے یا روئے۔
عمار: وہ دراصل میں… تمہیں بتانے والا تھا، مگر۔
زینت: بچو! آپ لوگ… میرا مطلب ہے صبح ہمیں جلدی نکلنا ہوگا۔
عمار: تم میری بات تو سنو۔
زینت: (آہستہ سے) بچوں کے سامنے مجھے اور اپنے آپ کو تماشا نہ بنائو۔
عمار: اچھا میں رضیہ سے کہہ رہا ہوں وہ رات کے کھانے کا بندوبست کروائے۔
زینت: شکریہ، میں کچھ نہ کچھ بچوں کے لیے بنا لوں گی۔
صبح فجر کی نماز پڑھ کر اس نے ڈرائیور کو کہلوایا کہ وہ تیار رہے، ہم آدھے گھنٹے میں یہاں سے نکلیں گے۔
بچوں کے ساتھ زینت گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اس نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا اور ڈرائیور سے کہا: چلو کریم بابا۔ گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز پر عمار باہر نکلا، اُس وقت تک گاڑی نظروں سے اوجھل ہوچکی تھی۔
خاتون: (دوسری بیوی) یہ سب تو ہونا ہی تھا… آپ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہوجائے گا۔ میں ناشتہ بناتی ہوں، آپ دفتر کے لیے تیار ہوجائیں۔
عمار زینت کے کمرے میں آیا تو زینت کے ہاتھ کا لکھا ایک خط پلنگ پر نظر آیا… تحریر تھا:
’’یہ ہماری آخری ملاقات تھی۔ مجھ سے اور بچوں سے آئندہ ملنے کی کوشش نہ کرنا۔ مجھے تمہاری دوسری شادی پر اعتراض نہیں، تمہارے ذوق کی داد دیتی ہوں… شادی کرنی تھی تو ایسی عورت سے تو کرتے کہ جو مجھ سے بھی اچھی ہوتی، میں بڑے فخر سے دوسروں کو تمہارے اعلیٰ ذوق کے بارے میں بتاتی… اس ادھیڑ عمر معمولی شکل و صورت کی خاتون کو دیکھ کر مجھے تو اپنی ہی توہین محسوس ہورہی ہے کہ شاید میں اتنی’’بری‘‘ ہوں کہ تم اس سے شادی کرنے پر مجبور ہوگئے۔
اس واقعہ کے بعد عمار نے زینت سے ملنے کی بارہا کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا، بلکہ زینت نے اسے تنبیہ کی کہ آئندہ اگر تم نے ملنے کی کوشش کی تو میں خلع لینے پر مجبور ہوجائوں گی۔
زینت نے محنت مشقت سے اپنے تینوں بچوں کی پرورش کی اور انہیں معاشرے میں عزت کا مقام دلایا۔
٭٭٭
زینت نے اپنی کہانی ختم کی تو میں نے حیرانی سے پوچھا: آنٹی آپ انکل کو معاف کردیتیں… آپ نے تمام زندگی خود بھی بڑی تکلیف میں گزاری…
زینت: معافی… نہیں بیٹا، بات معافی کی نہیں تھی، بات تو بھروسے اور اعتماد کی تھی… بات تو عزت اور محبت کی تھی… اگر اسے دوسری شادی کی طمع تھی تو میں خود اس کی اپنے سے بھی اچھی خاتون سے شادی کرواتی۔ اس کی دوسری بیوی کو دیکھ کر تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں ’’کچھ بھی‘‘ نہ تھی۔ اس کی دوسری بیوی کو دیکھ کر مجھے اپنی بے عزتی کا احساس ہوا تھا۔ بے شک دین ِاسلام نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے جس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ پوشیدہ ہو۔ عمار نے بغیر وجہ کے دوسری شادی کی۔
میں: بچے باپ سے ملتے تھے؟
زینت: میں نے بچوں کو کبھی باپ سے ملنے سے منع نہیں کیا۔ میں نے اسی لیے عمار سے طلاق نہیں لی کہ بچوں کے ساتھ اور میرے ساتھ اس شخص کا نام جڑا رہے۔

حصہ