ایک سفر، شہرِ ناپُرساں، کراچی سے مکلی کے شہرِ خموشاں تک

حمیرا اطہر
کراچی۔۔۔۔ جو کبھی پاکستان کا عروس البلاد کہلاتا تھا، اب شہرِ ناپُرساں بن چکا ہے۔ کھُدی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، بہتے گٹر، پینے کے پانی، بجلی اور گیس کی قلّت، بدترین ٹریفک، تعلیمی اور طبی سہولتوں کا فقدان، امن وامان کی ابتر صورتِ حال، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر۔۔۔۔ ایسے میں کچھ لوگ اسے کراچی کی جگہ ’’کچراچی‘‘ بھی کہنے لگے ہیں، اور ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہتے۔ سو ہم بھی اسے ’’شہرِ ناپُرساں‘‘ ہی سمجھتے ہیں۔ تاہم، اِن تمام ’’خرابیٔ بسیار‘‘ کے باوجود اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے۔ لہٰذا، تمام سرکاری ادارے بھی اسی شہر میں واقع ہیں۔
مغلیہ دَور میں سندھ کا صوبہ ’’ٹھٹھہ سرکار‘‘ کہلاتا تھا۔ گویا یہ سندھ کا اوّلین دارالسلطنت تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ٹھٹھہ کبھی عالم میں انتخاب ہوا کرتا تھا۔ جب شہنشاہ جہانگیر نے شاہ جہاں کو جلاوطن کیا تو کالی کٹ سے کابل تک پھیلی مغلیہ سلطنت میں اس کا انتخاب بھی یہی شہر ٹھٹھہ ٹھہرا۔ یہ اپنے اطراف میں بہتی نہروں، سمندری ہوائوں، ہریالی اور شادابی میں بھی بے مثال تھا۔ اس کی امارت کی وجہ سے اسے سونے کی چڑیا بھی کہا جاتا تھا۔ شاید اسی لیے دِلّی کی طرح یہ شہر بھی کئی مرتبہ لوٹا گیا۔ اس لوٹ مار، حملہ آوروں، خانہ جنگی، قدرتی آفات اور دبائو نے جہاں اس شہر کو برباد کیا وہیں اس سے کچھ فاصلے پر واقع پہاڑی علاقے مکلی کا ’’شہرِخموشاں‘‘ آباد کیا۔ چھ مربع میل، بعض مورّخین کے نزدیک آٹھ مربع میل، کے رقبے پر پھیلے اس شہرِخموشاں میں لاکھوں قبریں موجود ہیں۔
مکلی کے شہرِ خموشاں کی موجودہ حالت سے آگاہی کے لیے صوبائی محکمۂ ثقافت سیّاحت ونوادرات اور انڈومنٹ فنڈ ٹرسٹ(Endowment Fund Trust) برائے سندھ کے ورثے کی حفاظت، نے فیصلہ کیا کہ تیرہ اور چودہ جنوری کو وہاں دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے۔ چناںچہ دونوں دن کراچی سے بسوں میں بھر بھر کے ’’حاضرین‘‘ لے جائے گئے۔ ان میں ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ کراچی کی مختلف جامعات کے شعبہ آثارِ قدیمہ اور تعمیرات کے طلبا وطالبات بھی شامل تھے۔ ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد میں پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ (پی ایف سی سی) کے پانچ رکنی وفد میں مجھے بھی پہلے دن کی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ کراچی سے روانگی کے وقت ہماری بس میں ہم پانچ کالم نگاروں کے سوا تمام لوگ طالب علم تھے، سو وہ۔۔۔۔ خصوصاً لڑکیاں پورے راستے مختلف گانوں کے ٹوٹے گا گا کر پکنک کا سماں باندھتی رہیں۔ جس وقت ہماری بس مکلی پہنچی، سرکاری افسران کی آمد بھی شروع ہوچکی تھی چناںچہ ان کے استقبال کے لیے سندھ کے روایتی رقص بھی جاری تھے۔
مکلی کی اس پہلی بین الاقوامی کانفرنس میں امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اسپین، ایران، لبنان اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے مندوبین سمیت پاکستانی ماہرین نے22 تحقیقی مقالہ جات پیش کیے۔ وہ سب مکلی کی عالمی ورثے کی حیثیت تسلیم کرتے ہوئے اس ایک نکتے پر متفق تھے کہ سندھ میں ہونے والی جنگوں، حملوں اور بادشاہوں کے طرزِ حکم رانی پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے برائے تعلیم، سائنس وثقافت (یونیسکو) نے 1981ء میں مکلی کے اس شہرِخموشاں کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا۔ تاہم، ایک طویل عرصے تک اس کی دیکھ بھال نہ کرنے اور بہت سے آثار مٹ جانے یا مٹنے کے قریب ہونے کی بِناء پر یونیسکو نے حکومت سندھ کو خبردار کیا تھا کہ اگر مکلی کے قبرستان میں موجود آثارِقدیمہ، تاریخی قبروں اور مقبروںں کے تحفظ کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہ کیے گئے تو اسے عالمی ورثے کی فہرست سے خارج کردیا جائے گا۔ چناںچہ جولائی2017ء کے پہلے ہفتے میں پولینڈ کے شہر کراف میں یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹج کمیٹی کے منعقدہ 41ویں اجلاس میں سندھ کے وزیر سیاحت، ثقافت اور نوادرات، سیّد سردار علی نے قبرستان کی بحالی سے متعلق کیے جانے والے اقدامات اور کام پر تفصیلی بریفنگ دی اور کمیٹی کے ارکان کو یقین دلایا کہ اس سلسلے میں یونیسکو کی تمام ہدایات پر عمل کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے وزیر ثقافت کی بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مکلی کو عالمی ورثے کی فہرست سے نکالنے کی تنبیہ واپس لے لی۔ تاہم، دسمبر2017ء کے پہلے ہفتے میں امریکی قونصل جنرل گریس شیلٹن نے اس قبرستان کا دورہ کیا اور امریکی سفیر کے فنڈ برائے ثقافتی تحفظ کے تحت سلطان ابراہیم اور امیر سلطان محمد کے مقبروں کو محفوظ کرنے کے منصوبے کی تکمیل پر منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔
ان تمام حالات میں یہ ضروری تھا کہ ناصرف اس شہرِ خموشاں کی حفاظت کے کام میں تیزی لائی جائے بلکہ دنیا کو دکھایا بھی جائے۔ سو۔۔۔۔ مذکورہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اسی سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔ اس موقعے پر شائع ہونے والے کتابچے (بروشر) میں دی گئی معلومات کے مطابق، مکلی کا یہ شہرِخموشاں بارہ کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں ایک لاکھ پچیس ہزار قبریں موجود ہیں۔ ہمارے ایک ساتھی سلیم فاروقی یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہیںکہ اتنی چھوٹی سی جگہ پر سوالاکھ قبریں کیسے سما سکتی ہیں؟ کسی نے دُور کی کوڑی سُجھائی کہ ہمارے ایمان کے مطابق ایک ایک قبر سے ستّر ستّر مُردے اٹھائے جائیں گے، تو یہ اسی طرح ممکن ہے۔ بہرکیف۔۔۔۔ یہ تو یونہی جملۂ معترضہ آگیا تھا۔ بتانا یہ تھا کہ مکلی میں ہونے والی اس پہلی عالمی کانفرنس کا افتتاح وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ نے کیا۔ ان کے علاوہ وزیر ثقافت سندھ سیّد سردار علی شاہ، سینیٹر محترمہ سسّی پلیجو، صوبائی وزیر فشریز ولائیو اسٹاک محمد علی ملکانی اور انڈومنٹ ٹرسٹ کے سیکریٹری حمید آخوند، سندھ اسمبلی کے اراکین رخسانہ شاہ اور سیّد سردار احمد، ڈاکٹر رفیق مغل (آرکیالوجسٹ)، یونیسکو کے نمائندے قاضی ایاز مہیسر، پیپلز پارٹی ٹھٹھہ کے ضلعی صدر صادق علی میمن، جنرل سیکریٹری امتیاز احمد قریشی اور رہنما ڈاکٹر عبدالواحد سومرو نے بھی شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے افتتاحی خطاب میں صوبائی وزیر ثقافت، سیّاحت اور نوادرات سیّد سردار علی شاہ اور ان کی ٹیم کو مکلی میں منعقدہ اس پہلی عالمی کانفرنس پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی ورثہ مکلی ایک تاریخی قبرستان ہی نہیں بلکہ یہاں مدفون ہزاروں افراد کی شاہکار تاریخ بھی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت سندھ تاریخی مقامات کی بہتری کے لیے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں محکمۂ ثقافت، سیّاحت اور نوادرات کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہوئے اس قبرستان کو لاحق تمام خطرات اور درپیش مسائل کا سدِباب کیا جائے گا۔ انہوں نے مکلی کے تاریخی قبرستان کے تحفظ کے حوالے سے شرکاء پر بھی زور دیا کہ یہ اُن کا اپنا تاریخی سرمایہ ہے چناںچہ آپ کو چاہیے کہ اس کی ترقی وفروغ کے لیے حکومت سندھ سے تعاون کریں۔ اس عظیم تاریخی سرمائے کی دیکھ بھال ہم سب کی ذمے داری ہے۔ ہمیں صوبہ سندھ میں موجود آثارِقدیمہ اور تاریخی مقامات کو آنے والی نسل کے لیے محفوظ کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ آئندہ نسل ہمیں اچھے الفاظ میں یاد رکھے۔ صوبہ سندھ کے ہر خطے کی ثقافت اور تہذیب اپنی جگہ شاہکار ہے۔ مکلی کی طرح موئن جودڑو کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت اور لکھنے پڑھنے والے طبقے کے درمیان واقع دُوری ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ آئندہ یہ کانفرنس موئن جودڑو میں ہوگی۔
صوبائی وزیر ثقافت، سیّاحت اور نوادرات سیّد سردار علی شاہ نے کانفرنس کے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ مکلی کے قبرستان کی اہم بات یہ ہے کہ یہاں بادشاہ، غلام، صوفی، علماء اور عام آدمی ایک ساتھ دفن ہیں۔ مکلی کا یہ قبرستان انسانی تاریخ کا عظیم ورثہ ہے۔ یہاں کے لوگ زندگی سے زیادہ موت سے پیار کرتے تھے۔ وہ زندگی ہی میں اپنی قبر خود بنا لیتے تھے۔ اس موقعے پر انہوں نے یونیسکو کا شکریہ بھی ادا کیا جنھوں نے ان کی گزارشات کو قبول کرتے ہوئے اسے عالمی ورثے کی فہرست میں برقرار رکھا۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ ہم نے مکلی کے اس ورثے کی بحالی، صفائی ستھرائی، سیاحوں کے لیے شٹل سروس اور دیگر مطلوبہ سہولتیں مہیا کیں۔ آئندہ بھی اسے محفوظ اور بہتر بنانے کی خاطر یونیسکو کی سفارشات پر عمل درآمد کریں گے۔
سیکریٹری انڈومنٹ ٹرسٹ عبدالحمید آخوند نے پیر حسّام الدین راشدی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیر حسّام الدین راشدی ہی تھے جنھوں نے یہ بات یقینی بنائی کہ اسکالرز مکلی کو سمجھ سکیں، اس کے بارے میں جان سکیں۔ یہ ہمارے اصل ہیرو ہیں جنھیں مَیں سلام کرتا ہوں۔
سینیٹر سسّی پلیجو نے شرکا کو بتایا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد کئی محکمے صوبوں کو منتقل ہوگئے جس کے تحت آرکیالوجی کے 129میوزیم اور دیگر تاریخی مقامات صوبہ سندھ کے حصے میں آئے مگر بدقسمتی سے سندھ کے تاریخے مقامات بدحالی کا شکار تھے جنھیں موجودہ حکومت نے اپنے محدود وسائل کے باوجود بہتر بنایا ہے۔
سندھ اسمبلی کے رکن سیّد سردار احمد نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارا بہت سا تاریخی ورثہ بمبئی (ممبئی) اور بیرون ملک کی یونیورسٹیوں میں موجود ہے، کوشش کی جائے کہ اُنھیں واپس لایا جاسکے۔ اسی طرح موئن جودڑو کی Seals (لوحیں) پڑھنے کی کوشش بھی جانی چاہیے۔
کانفرنس کے باقاعدہ آغاز سے قبل مکلی کے حوالے سے سینئر صحافی وسعت اللہ خان کی تیارکردہ ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں بتایا گیا کہ مکلی کا شمالی حصہ عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے لیکن اس کے جنوبی قبرستان کو بھی اتنی ہی توجہ درکار ہے۔ اس میں شاہ لطیف کے روحانی دوست مخدوم معین الدین ہیں۔ ساڑھے تین سو برس قبل قرآن پاک کا سندھی ترجمہ کرنے والے عالم مخدوم عاشق ٹھٹھوی کے مزار کے احاطے میں ممتاز محقق، صحافی اور میر شیر علی قانع کے ’’مکلی نامے‘‘ کے مرتّب پیر حسّام الدین راشدی بھی محوخواب ہیں۔ جدید دَور میں سندھ کی روحانی اور اس کی میراث کے لیے زندگی وقف کردینے والی جرمن محقق ڈاکٹر این میری شمیل کی مکلی میں دفن ہونے کی خواہش تو پوری نہ ہوسکی۔ تاہم، ایک خالی قبر پر اُن کے نام کا کتبہ آج بھی موجود ہے۔ ٹھٹھہ اور مکلی کبھی تہذیبی مراکز تھے، آج یہ زوال سے لڑ رہے ہیں۔ مکلی کو ایک بڑا چیلنج غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کی شکل میں درپیش ہے۔ اس کے احاطے میں قائم269 گھروں اور دکانوں کی منتقلی کے لیے سندھ ریونیو بورڈ نے پندرہ ایکڑ زمین مختص کی ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ سرکاری اداروں اور بااثر لوگوں سے زمین کا قبضہ چھڑوانا ہے۔ اس کے لیے سیاسی لوگوں سے بھی بات کی ہے کہ یہ آپ کا اپنا ورثہ ہے، دنیا کا اہم ورثہ ہے۔ اس حوالے سے آپ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مکلی کی سیّاحت کے فروغ میں گداگری بھی بڑی رکاوٹ ہے چناںچہ ہیریٹج فائونڈیشن نے گداگروں کے لیے روزگار کے متبادل ذرائع پیدا کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔
کانفرنس کے دوسرے اجلاس میں معروف محقق اور ثقافتی تاریخ ، آثار قدیمہ اور تعمیرات کے ماہر زین مصطفی، بوسٹن یونیورسٹی کے شعبۂ آرکیالوجی اور پاکستان ہیریٹج سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد رفیق مغل، سائنسی مشیر انسائیکلوپیڈیا آف اسلامک ورلڈ، شعبۂ تاریخ، اسلامک انسائیکلوپیڈیا فائونڈیشن تہران کے ایم مہدی طوسولی اور مریم طوسولی، اسپین کے محقق اینڈ ایپخ، تین کتابوں کے مصنف اور پاکستان کے تین علاقوں (سندھ، گلگت، بلتستان اور پھوٹوہار) میں آرٹ اور آرکیٹیکچر پر کام کرنے والے ڈاکٹر ذوالفقار علی کلہوڑو، این ای ڈی یونیورسٹی کراچی، میں شعبہ آرکیٹیکچر اینڈ پلاننگ کی اسسٹنٹ پروفیسر رابیلا جونیجو، UET لاہور میں شعبۂ تعمیرات کی لیکچرار منزہ اختر اور آثارقدیمہ کے حوالے سے اپنی خدمات کے عیوض ’’انسٹی ٹیوشنز بلڈر‘‘ کا خطاب پانے والے ممتاز محقق ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے مکلی کی شان دار تاریخ، تہذیب وتمدن، علم وادب، فنِِ تعمیر، مکلی اور سندھ کے مختلف ادوار، یہاں موجود قبروں اور ان کے طرزِ تعمیر کے حوالوں سے مقالے پیش کیے۔ جن کا لب لباب یہ ہے: ۔
مکلی کے شہرِ خموشاں میں چودھویں سے اٹھارویں صدی کے بادشاہوں، ملکائوں، گورنروں، صوفیوں، علماء، فقہا، ادبأ، شعرأ، محدّثین، مغل نوابین، دانش وروں، فلسفیوں اور دیگر حکم رانوں کے ساتھ محبِ وطن سپاہیوں اور غدّاروں کی قبریں بھی موجود ہیں۔ یہاں حملہ آوروں کے نقش بھی ملتے ہیں اور مزاحمت کاروں کے ساتھ سندھ کے وطن دوست حکم راں نظام الدین سمّوں کا بھی عالی شان مقبرہ موجود ہے۔ اس قبرستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا قبرستان ہے جس سے ماضی کی چارسو سال پرانی اور عظیم تہذیب وابستہ ہے۔ یہ تاریخ کا وہ ورثہ ہے جو قوموں کے مٹ جانے کے بعد بھی ان کی عظمت وہنر کا پتا دیتا ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے ہر سال ہزاروں افراد آتے ہیں۔
تاریخی اعتبار سے مکلی کی قبروں کو چار ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا سمّہ بادشاہوں کا دَور، جو 1340ء سے1520ء تک محیط ہے، دوسرا ارغون (1520-1555ء)، تیسرا ترخان بادشاہوں کا دَور، جو 1555ء سے 1592ء تک اور چوتھا مغلیہ مغلیہ دَور، 1592ء سے 1793ء تک رہا۔ ان مقابر میں مغل سردار طغرل بیگ، مرزا جانی، مرزا غازی بیگ، جان عالم، باقی بیگ ترخان، سلطان ابراہیم اور ترخان اوّل جیسے علماء، سردار اور حکم راں ابدی نیند سو رہے ہیں۔ ان مقابر پر انتہائی نفیس انداز میں قرآنی آیات اور خوب صورت نقش ونگار کندہ ہیں۔ وہ قبریں، جو کسی سردار یا بزرگ کی ہیں، ان پر خوب صورت مقبرے تعمیر ہیں۔ ان کے ڈھانچے بھی نہایت مضبوط، طرز تعمیر نہایت عمدہ اور تعمیری مواد بہت ہی اعلیٰ معیار کا ہے۔ مقابر کی تعمیر میں سندھی ٹائلوں اور سرخ اینٹوں کا استعمال ہوا ہے۔ گنبد بھی سرخ اینٹوں سے بنے ہیں۔ قبروں کی تعویذوں اور ستونوں پر اتنا خوب صورت کام ہے کہ دیکھنے والا کاری گروں کی صنّاعی کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مکلی کے مقبروں میں مَردوں کی قبریں اسلحہ، چاقو اور تلوار جب کہ خواتین کی قبریں زیورات کے نقوش اور بلاک پرنٹنگ سے آراستہ ہیں جو پتھر پر کندہ کی گئی ہیں۔ اس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ قبرستان تاریخ کا وہ ورثہ ہے جو قوموں کے مٹ جانے کے صدیوں بعد بھی ان کی عظمت وہنر کی گواہی دیتا ہے۔ اور یہی خوبی اسے عالمی ورثے میں شامل کرنے کا سبب ہے۔
اس شہرِ خموشاں میں موجود حکم رانوں کی قبریں اُن کے کمال اور زوال کی داستانیں بیان کرتی ہیں۔ ان قبروں پر کی گئی کندہ کاری اور نقش ونگار کو جتنا قریب سے دیکھیں اتنا ہی لطف آتا ہے۔ یہاں کے ہر پتھر پر چھینی سے تراشیدہ نقوش دیکھنے والے کو حیران کردیتے ہیںکہ پتھروں پر بھی ایسی نقش نگاری ممکن ہے۔ افسوس۔۔۔۔ مکلی کا یہ شہر خموشاں عظیم تاریخی وراثت کا امین ہونے کے باوجود مسلسل ناقدری اور عدم توجہی کی بدولت رو بہ زوال ہے۔ یہاں موجود مقابر کے درودیوار، گنبد، منبر ومحراب، سب زبردست ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ اسی سبب تمام مقررین نے اپنی تحقیق بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ مکلی کی تاریخی حیثیت قائم رکھنے کی خاطر ضروری ہے کہ اس بارے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ آگہی دی جائے تاکہ وہ بھی اس کی دیکھ بھال میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اس کے لیے سوونیئر سینٹر اور میوزیم قائم کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے۔
دوسرے اجلاس کے بعد قریباً ساڑھے پانچ بجے چائے کے وقفے کے ساتھ اعلان کیا گیا کہ سات بجے سمّہ حکم ران جام تماچی اور غریب مچھیرن نوری کی لازوال محبت کی داستان پر مشتمل اسٹیج ڈراما نوری جام تماچی پیش کیا جائے گا۔ حاضرین میں سے اکثر نے اس موقعے کو غنیمت جانتے ہوئے پنڈال سے نکل کر قبرستان کا رخ کیا اور جس حد تک ممکن ہوسکا، پیدل ہی چلتے ہوئے وہاں پھیلی تاریخ پڑھنے کی کوشش کی۔ ان قبروں کے درمیان چلتے ہوئے یہ احساس ہوا کہ مکلی صرف ایک قبرستان نہیں ہے بلکہ یہاں زندگی سانس لیتی ہے۔ بہتر ہوتا کہ کانفرنس کی انتظامیہ خود اپنی شٹل سروس بسوں کے ذریعے مندوبین خصوصاً ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کو تمام اہم مقابر دکھانے کا انتظام کردیتی۔ ابھی ہم مرزا جانی اور مرزا غازی بیگ کے مقبرے تک ہی پہنچ پائے تھے، جس کے مرکزی دروازے کا تالا ہمیں ٹھینگا دکھا رہا تھا کہ ہمارے گروپ نے واپسی کا بگل بجا دیا۔ وجہ یہ بیان کی کہ ڈرامے کے انتظار میں رکے تو واپسی میں بہت دیر ہوجائے گی اور ہماری بس میں چوںکہ بڑی تعداد طلبا وطالبات کی ہے جنھیں کل صبح پھر یہاں آنا ہے۔ لہٰذا، وہ جلدی جانا چاہتے ہیں۔ وجہ معقول تھی، سو ہم نے بھی اپنا یہ تاریخی سفر وہیں تمام کیا۔ البتہ چلتے چلتے اس مقبرے، اس کے نیچے تعمیر کی جانے والی نئی خوب صورت سڑک اور اس پر آمنے سامنے واقع مسجد ومندر کی تصویریں ضرور لے لیں۔

حصہ