امن کی سفیر دخترانِ پاکستان

افشاں نوید
کرنے والے کسی صلہ و ستائش کی تمنا سے بے نیاز بڑے بڑے کام کررہے ہیں۔ معاشرے میں خیر کی الحمدللہ کوئی کمی نہیں۔ اگر کمی ہے تو اس کی تشہیر کی۔ میڈیا کو مثبت کاموں کو ہائی لائٹ کرکے پاکستان کا روشن چہرہ دنیا کو دکھانا چاہیے اور اچھے کاموں کی سرپرستی کرنی چاہیے، اس کے بجائے وہ سنسنی پھیلانے والی خبروں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ سیاست دان کیا گل کھلا رہے ہیں، میڈیا کو ان کی آپس کی رسّا کشی دکھانے سے فرصت ہی نہیں، یا پھر جرم کی خبریں۔
کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ پچھلے ماہ ملک بھر کے مختلف مکتبہ ہائے فکر کے علما ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے، انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اعلانِ جہاد کیا اور ایک دستاویز تیار کی۔ 200 صفحات کی ایک کتاب ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے نام سے منظرعام پر آچکی ہے۔ ملک بھر کے علما نے دہشت گردی کے خلافِ اسلام ہونے کے بارے میں متفقہ فتویٰ دیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ ٹاک شوز کا موضوع بنتا، کالم نگار کالم لکھتے، اخبارات اداریے لکھتے۔ صدر ممنون حسین کے پیش لفظ کے ساتھ اس کتاب کا اجرا ہوا ہے۔
بات بہت بڑی ہے کہ دنیا دہشت گردی کو مذہب سے جوڑ رہی ہے، اُن کا نزلہ مدارس اور یہاں کے نصاب اور طلبہ پر گرتا ہے۔ ملک بھر کے علما نے دہشت گردی سے لاتعلقی کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ اس متفقہ اعلامیے میں اسلام کی امن پسند تعلیمات کو بھی کھول کر بیان کیا کہ شریعت میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد مبارک باد کی مستحق ہے جس نے دیگر اداروں کے اشتراک سے اس عظیم الشان سلسلے کا بیڑا اٹھایا۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے یکم فروری 2018ء کو اقبال آڈیٹوریم فیصل مسجد میں اسی طرز کی خواتین کی مشاورت رکھی گئی۔ دینی مدارس کے درج ذیل وفاقوں کی نمائندہ خواتین نے شرکت کی جس میں وفاق المدارس العربیہ، تنظیم المدارس اہلسنت، وفاق المدارس السلفیہ، وفاق المدارس الشیعیہ اور رابطہ المدارس پاکستان شامل ہیں۔سبز رنگ کے خوب صورت دعوت نامے پر جو جنوری کے وسط میں موصول ہوا، درج تھا کہ پروگرام کے منتظمین میں اسلامی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، ڈائریکٹر خواتین کیمپس، اسلامی نظریاتی کونسل، گورنمنٹ آف پاکستان کے تعاون سے ویمن پارلیمنٹری کوکس (WPC)، نیشنل کمیشن آف دی اسٹیٹس آف ویمن (NCSW)، کوڈ پاکستان اینڈ بیداری شامل ہیں۔یقینا اتنے بڑے کام کے لیے اسی طرح کے اشتراکِ عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختلف مرحلوں پر سب نے اپنے حصے کے کام کیے ہوں گے۔ ہم نے پروگرام کی روحِ رواں ڈاکٹر فرخندہ ضیا منصور (جو خواتین کیمپس کی ڈائریکٹر ہیں)، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی (ممبر اسلامی نظریاتی کونسل) کو پروگرام کے شروع سے آخر تک سرگرم پایا۔ WPC کی نمائندہ ہما چغتائی صاحبہ کی پروگرام کی میزبانی کرتے ہوئے مکمل گرفت رہی موضوع اور وقت کے کنٹرول پر۔شرکاء کو ایک دن پہلے مدعو کیا گیا تھا کہ وہ رات کو عشائیے پر اکٹھے ہوں تاکہ اگلے دن کی کارروائی کے لیے بریفنگ لے سکیں۔ چاروں صوبوں سے آئی ہوئی مہمان خواتین کے استقبال کے لیے نہ صرف ڈاکٹر فرخندہ ضیا اور ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، بلکہ خود اسلامی یونیورسٹی کے صدر احمد یوسف الدریوش بھی موجود تھے۔ وہ عربی میں فرداً فرداً تمام خواتین کی خیریت پوچھ رہے تھے۔ بیشتر خواتین اردو میں اُن کا شکریہ ادا کررہی تھیں جو کہ مترجم اُن تک پہنچا رہے تھے۔ اعلامیے کی کاپیاں شرکاء کے ہاتھوں میں آئیں تو اکثر وہ خواتین جن کا اس فورم پر پہلی بار ایک دوسرے سے تعارف ہوا تھا، یوں گھل مل گئیں جیسے پرانی شناسا ہوں۔ سب نے اُسی وقت اعلامیے پر غوروخوص شروع کردیا جس پر ڈاکٹر فرخندہ نے توجہ دلائی کہ ڈنر کے بعد کل صبح دس بجے آڈیٹوریم میں پہنچنے سے قبل اس پر نظرثانی کرلیں، چاہے گروپس میں ممکن ہو یا تنہا۔ مارگلہ ہوٹل کے کمروں میں رات تک چہل پہل رہی، اعلامیے پر گفتگو ہوتی رہی۔ بیشتر خواتین بعداز فجر لائونج اور کمروں میں سر جوڑے نظر آئیں۔ انتہائی محنت سے تیار کیا گیا اعلامیہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستانی عورت چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم، اپنے ملک سے محبت کرتی ہے۔ دہشت گردی سے ہماری نسلیں متاثر ہورہی ہیں۔ پاکستان کو جس دہشت گردی کا سامنا ہے اس میں بحیثیت ماں، بیوی، بہن اور بیٹی کے ہمارا کردار بہت بڑھ جاتا ہے۔ ایک مسلمان عورت کو قرآنی تعلیمات کی طرف پلٹنا ہوگا۔ احادیثِ مبارکہ جن اخلاقی صفات کی طرف توجہ دلاتی ہیں اپنے گھروں سے ان کا آغاز کریں چاہے وہ صبر ہو، حلم ہو، برداشت ہو، یا اعلیٰ ظرفی۔ نیز گھروں اور تعلیمی اداروں میں بچوں کو بتایا جائے کہ اسلام غیر مسلموں سے کس قدر حسنِ سلوک کی تاکید کرتا ہے۔ خواتین اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اس وقت ان کے گھر کے ساتھ سماج کو بھی ان کے مثبت کردار کی ضرورت ہے تاکہ ہم بحیثیت قوم دہشت گردی کی اس جنگ سے کامیاب و کامران ہوکر پلٹیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے۔ 1973ء کا آئین متفقہ آئین ہے جس کا آغاز قراردادِ مقاصد سے ہوتا ہے۔ دستور کی دفعات مسلمانوں کو اسلامی طرزِ زندگی اپنانے کے لیے مختلف پالیسی کے اصول وضاحت کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔
اعلامیے پر شرکاء خواتین کی ورکنگ آڈیٹوریم میں پہنچنے سے قبل مکمل ہوگئی۔ 10 بجے قومی ترانے کے احترام میں ریکٹر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی سمیت تمام شرکاء ادب سے کھڑے تھے، نظریں اسکرین پر تھیں، مگر اسکرین پر نہ کوئی منظر نمودار ہوا نہ آواز۔ چند ثانیے گزرے کہ ہمارے بائیں جانب سے ایک صاحب بآوازِ بلند بولے ’’چلیں ہم سب مل کر پڑھ لیتے ہیں‘‘۔ اسٹیج کے مہمانوں نے شروع کیا تو سب شرکا ہم آواز ہوگئے۔ نامعلوم انفرادی طور پر کس کس کو قومی ترانہ یاد ہوگا مگر اجتماعی طور پر کچھ نے سب کی لاج رکھ لی۔ اسٹیج پر ترانہ نشر ہوتا تو سب ہونٹوں کی ہلکی سی جنبش سے کام چلا لیتے، مگر اس وقت سب نے انتہائی جذبے کے ساتھ قومی ترانہ پڑھا جیسے کبھی اسکول کی اسمبلی میں پڑھا کرتے تھے۔ڈاکٹر فرخندہ ضیاء نے انتہائی گرم جوشی سے تعارفی کلمات ادا کیے۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے پروگرام ’’امن وامان کے قیام میں دخترانِ پاکستان کا کردار‘‘ کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ مدارس کے پانچوں وفاق کی نمائندوں نے مختصر اور انتہائی جامع انداز میں خواتین کے مدارس اور معلمات کی ذمے داریوں پر بات کی۔ مدارس کا جو مثبت کردار ہے سماج کی تعمیر میں، اُس پر روشنی ڈالی اور طالبات کی فکری تربیت کے لیے مدارس کے پاس کیا پروگرام ہے اس کی وضاحت کی۔ اس امر پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا کہ دہشت گردی کو مذہب کے ساتھ جوڑ کر اسلامی تعلیمات کی توہین کی جاتی ہے۔
بعدازاں محترمہ فرحانہ قمر نے پارلیمنٹ میں ’ویمن کوکس‘ کے رول پر مختصر اور جامع روشنی ڈالی۔ ماہر نفسیات محترمہ عمارہ خان نے شدت پسندی کے نفسیاتی اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے انتہائی فکر انگیز تجزیہ پیش کیا کہ معاشرتی شدت پسندی کس طرح ہماری نسلوں کی نفسیات کے سانچے تبدیل کررہی ہے۔ ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے اس امر پر گفتگو کی کہ شدت پسندی صنفی تخصیص کے بغیر بحیثیت انسان عورت اور مرد دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
اقلیتی نمائندہ رومینہ خورشید عالم کی گفتگو ’’پاکستانیت‘‘ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں دنیا میں جہاں بھی جاتی ہوں پاکستان کا روشن چہرہ پیش کرتی ہوں۔ اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی ہمارے پڑوسی ملک میں پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتی ہے مگر اس حوالے سے منفی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مجھے پاکستان میں رہتے ہوئے کسی اجنبیت یا عدم تحفظ کا احساس نہیں ہوا۔ قائداعظم کا پاکستان جتنا مسلمانوں کا ہے اتنا ہی ہم غیر مسلموں کا بھی ہے۔ جذبات سے لبریز رومینہ خورشید کی گفتگو کے دوران آڈیٹوریم بار بار تالیوں سے گونجتا رہا۔ معروف اسکالر خانم طیبہ بخاری نے خوب صورت فارسی اشعار کے ذریعے عورت کی عظمت کو اجاگر کیا۔ محترمہ راحیلہ درانی اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی گفتگو بہت فکر انگیز تھی جنہوں نے اس سیشن کی صدارت کی۔ ماقبل اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر پروفیسر معصوم یٰسین زئی کی تقریر ان کی مومنانہ بصیرت کی عکاس تھی۔ انہوں نے خواتین کو پُرجوش پیغام دیا کہ نسلوں کی آبیاری آپ کے ذمے ہے۔ سماجی تبدیلیوں کے لیے آپ کی ذمے داری بھی برابر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت وہ تھا جب سائنس دان اور ڈاکٹر سب عالمِ دین ہوا کرتے تھے۔ دین اور دنیا کی علیحدہ تعلیم ہماری نسلوں کے لیے سب سے بڑے بگاڑ کا باعث بنی۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہاں پاکستان کا مستقبل دیکھا جاسکتا ہے۔ اصل محنت تعلیمی اداروں میں کرنا ہے، یہاں پاکستان کے نظریاتی تشخص کی آبیاری کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند ہفتے قبل ہم نے ملک بھر کے وائس چانسلرز کو یہاں مدعو کیا تھا۔ 80 سے زیادہ جامعات اور پروفیشنل اداروں کے وائس چانسلرز یہاں آئے اور ہم نے مل کر سوچا کہ ہم نوجوان نسل کو کیا دے رہے ہیں؟ ہم کیسے ان کو شدت پسندی سے بچا سکتے ہیں؟ ایک مثبت اور متوازن سوچ اساتذہ اپنائیں گے تو طالب علم بھی وہی سیکھیں گے۔
ڈاکٹر صاحب کی تقریر ہر ایک کو اپنے دل کی آواز لگی۔ میں سوچنے لگی کہ یہاں سب کتنے مخلص ہیں، اپنے دین کی قدروں سے آشنا، وطن کی محبت سے سرشار۔ ’ویمن کوکس‘ کی نمائندگان پاکستانی عورت کے مقام اور حقوق کی بحالی چاہتی ہیں تو دینی اداروں کی منتظمین بھی پاکستان کا قرض ادا کرنے میں ہمہ تن مصروفِ عمل ہیں۔ پھر پاکستان دہشت گردی کا شکار کیسے ہوگیا؟ یقینا ہم نے اپنا کردار ادا کیا مگر اپنے دشمن کو پہچاننے میں ہم سے غلطی ہوئی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم بار بار سر جوڑ کر بیٹھیں اور اپنے دشمن کو پہچانیں، اس کے اہداف پر نظر رکھیں اور مقابلے کی تیاری کریں۔ سیشن کا اختتام ایک گروپ ڈسکشن پر ہوا کہ مختلف جہتوں میں خواتین کا کیا کردار ہوسکتا ہے سماج کے استحکام میں۔ ایک پُرامن پاکستان کے قیام اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟ چار گروپس کو ڈاکٹر فرخندہ ضیاء منصور، محترمہ زبیدہ جلال، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی اور محترمہ ہما چغتائی نے کنڈکٹ کرایا۔ ان گروپس میں اعلامیہ بھی زیر بحث آیا اور اس میں ترمیم و اضافے پر شرکا نے اپنی تجاویز نوٹ کرائیں جن کا خوش دلی سے خیر مقدم کیا گیا۔ پروگرام کے دوسرے اور آخری سیشن میں گروپ کنڈکٹرز نے اسٹیج پر اپنے اپنے گروپ کی سفارشات پیش کیں۔ اس سیشن کی صدارت خیبر پختون خوا کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا کی اہلیہ نے کی۔ بعدازاں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے خواتین کی طرف سے منظور کردہ مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا یادگار دن ہے، ہم اسی طرح مشترکہ کوششوں کے ذریعے اپنے دشمن کو ناکام کرسکتے ہیں۔دخترانِ پاکستان امن کانفرنس کا اختتامی خطاب صدر اسلامی یونیورسٹی احمد یوسف الدریوش کا سورج ڈھلے جاری تھا جو خواتین کی کاوشوں پر انہیں خراجِ تحسین پیش کررہے تھے، خوشی کا اظہار کررہے تھے کہ ملک کے چاروں صوبوں سے نمائندہ خواتین نے شرکت کرکے اس کانفرنس کو تاریخی بنادیا۔ اس پلیٹ فارم سے ہم ساری دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستانی خواتین باشعور اور ہر طرح کے چیلنجوں سے عہدہ برا ہونے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے اس لیے کہ یہاں کی خواتین متحرک اور اپنی ذمے داریوں سے آگاہ ہیں۔
خواتین ایک نیا عزم و حوصلہ لیے کانفرنس سے اپنے گھروں کو روانہ ہوئیں کہ اس دھرتی کو جب بھی ان کی ضرورت پڑے گی وہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی۔ وہ نہ صرف چیلنجوں سے واقف ہیں بلکہ ان سے نمٹنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیں۔

حصہ