جھگڑا، فساد کیوں۔۔۔۔؟۔

عابد علی جوکھیو
خالق نے کائنات میں موجود تمام مخلوقات میں یکسانیت کے باوجود کئی اختلافات رکھے ہیں، جن کا تفصیلی ذکر سورہ روم آیت 19تا 28 میں ملتا ہے، ان آیات میں خالق نے ساخت کے لحاظ سے ایک جیسی زبان اور منہ کے باوجود مختلف زبانوں اور ایک جیسے مادۂ تخلیق کے ذریعے انسانوں کے رنگوں کے اختلاف کو اپنی قدرت کی نشانیوں کے طور پر بیان کیا ہے۔ بلاشبہ انسان خود ایک پیچیدہ تخلیق ہے، جس کے مزاج، عادات واطوار اور رجحانات کو سمجھنا انتہائی مشکل ہے۔ اس سے یہ بات سمجھنا آسان ہوجاتی ہے کہ اختلاف ایک فطری امر ہے جو انسان کے علاوہ دیگر تمام مخلوقات میں پایا جاتا ہے۔ چونکہ انسان اس کائنات کی سب سے معزز مخلوق ہے اور اسے عقل و شعورکے ساتھ اس دنیا میں زندگی گزارنی ہوتی ہے، اس لیے انسان کے معاملات اور اختلافات کو اہمیت کے ساتھ تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔ رنگ و نسل، زبان و لہجے کا اختلاف فطری امر ہے جس کو بآسانی تبدیل نہیں کیا جاسکتا، لیکن انسان کے سوچنے، سمجھنے کے زاویے کو محنت کے بعد تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ایک انسان غصے کا تیز ہے، جھگڑالو ہے، یا جذباتی طور پر غیر متوازن شخصیت کا حامل ہے تو اُسے مجاہدے کے ذریعے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ انسانوں کے رنگ و زبان کے اختلاف اپنی جگہ… ان کے مابین معاملات میں اختلاف بھی فطری امر ہے، لیکن یہ اختلاف کس حد تک ہونا چاہیے، اس کا اظہار کیسے ہونا چاہیے، اور کیسے اس اختلاف کو ختم کیا جائے؟ اور اس اختلاف کے کیا نقصانات ہوسکتے ہیں؟ یہ سوالات غور طلب ہیں۔
اسلام ایسے ہر اختلاف کی مذمت کرتا ہے جو تشدد، فساد اور لڑائی جھگڑے تک لے جائے۔ اسلام سے قبل عربوں کی جہالت اپنی انتہا پر تھی… چھوٹی چھوٹی باتوں پر برسوں کی لڑائیاں اور خونریزی ان کا رواج تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد عرب کا جاہل معاشرہ محبتوں کا امین بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنا فضل اور احسان بتایا ہے:
(ترجمہ) ’’سب مل کر اللہ کی رسّی کو مضبوط پکڑلو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچالیا۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آجائے۔‘‘ (آل عمران 103)
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے آپس کے لڑائی جھگڑوں سے منع فرمایا کہ اس سے تمہاری طاقت کمزور ہوجائے گی اور کوئی بھی تیسرا شخص تم پر بآسانی حاوی ہوجائے گا۔ سورہ انفال کی آیت 46 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(ترجمہ) ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں، ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اس آیت کی خوب تفسیر بیان کی ہے:
’’اپنے جذبات و خواہشات کو قابو میں رکھو۔ جلد بازی، گھبراہٹ، ہِراس، طمع اور نامناسب جوش سے بچو۔ ٹھنڈے دل اور جچی تلی قوتِ فیصلہ کے ساتھ کام کرو۔ خطرات اور مشکلات سامنے ہوں تو تمہارے قدموں میں لغزش نہ آئے۔ اشتعال انگیز مواقع پیش آئیں تو غیظ و غضب کا ہیجان تم سے کوئی بے محل حرکت سرزد نہ کرانے پائے۔ مصائب کا حملہ ہو اور حالات بگڑتے نظر آرہے ہوں تو اضطراب میں تمہارے حواس پراگندہ نہ ہوجائیں۔ حصولِ مقصد کے شوق سے بے قرار ہوکر یا کسی نیم پختہ تدبیر کو سرسری نظر میں کارگر دیکھ کر تمہارے ارادے شتاب کاری سے مغلوب نہ ہوں۔ اور اگر کبھی دنیوی فوائد و منافع اور لذاتِ نفس کی ترغیبات تمہیں اپنی طرف لبھا رہی ہوں تو اُن کے مقابلے میں بھی تمہارا نفس اس درجہ کمزور نہ ہو کہ بے اختیار ان کی طرف کھنچ جاؤ۔ یہ تمام مفہومات صرف ایک لفظ ’’صبر‘‘ میں پوشیدہ ہیں، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ ان تمام حیثیات سے صابر ہوں، میری تائید انہی کو حاصل ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن)
اکثر انسان جذبات کے غلبے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کرلیتا ہے، اس کی اصل وجہ شیطان ہے جو انسان کے خون میں شامل ہوکر اسے اکساتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس سے غلط کام کروا کر دم لیتا ہے۔ ایسے میں انسان کے لیے رحمانی نسخہ یہی ہے کہ وہ اپنے غصے پر قابو پاکر سامنے والے کو معاف کردے۔ ایسا کرنے والے کے لیے انعام کے طور پر خالقِ کائنات کی رضا اور خوشی کی نوید سنائی گئی ہے۔ اسی سلسلے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(ترجمہ) ’’دوڑ کر چلو اُس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کر تے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں… ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔‘‘ (آل عمران 133۔134)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلوان وہ شخص نہیں جو بدلہ لینے میں زیادہ سخت ہو، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ (بخاری)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کا علاج بھی مختلف طریقوں سے بیان فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کی حالت میں وضو کرنے کا حکم بھی دیا۔ اس سے شیطان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ غصے کی حالت میں اگر کوئی کھڑا ہے تو بیٹھ جائے۔ (ابوداؤد)
سورہ الاعراف (آیت 200۔202) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(ترجمہ) ’’اگر کبھی شیطان تمہیں اُْکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو، وہ سب کچھ سُننے اور جاننے والا ہے۔ حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر اُنہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ اُن کے لیے صحیح طریقِ کار کیا ہے۔ رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند، تو وہ اُنہیں ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی توضیح فرمائی کہ شیطان اس بات سے تو مایوس ہوگیا ہے کہ اس کی پوجا کی جائے، لیکن وہ لوگوں کو آپس میں بھڑکائے گا۔ فرمایا کہ شیطان اپنے کارندوں کو بھیجتا ہے کہ لوگوں کو بھڑکائیں، اور اُس کے نزدیک سب سے بڑا مقرّب وہ کارندہ ہوتا ہے جو لوگوں کو بھڑکاتا ہے۔ اس کے کارندے اس کے سامنے اپنی اپنی کارگزاری پیش کرتے ہیں اور جن جن جرائم کا ارتکاب انہوں نے لوگوں کو اکسا کر کروایا ہوتا ہے ان کا ذکر کرتے ہیں، لیکن بڑا شیطان لڑائی کے لیے بھڑکانے والے کارندے پر سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ (مسند احمد)
احادیثِ مبارکہ میں بھی لڑائی جھگڑے سے بچنے والوں کی تعریف بیان کی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس نے باطل چیز (جس پر اس کا حق نہیں تھا) کے لیے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا، اللہ اس کے لیے جنت کے کنارے پر محل تیار کرے گا، اور جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑے سے اجتناب کیا تو اللہ جنت کے عین بیچ میں اس کے لیے محل تیار کرے گا، اور جس نے (نہ صرف جھگڑا کرنے سے اجتناب کیا بلکہ) حسنِ خلق کا بھی مظاہرہ کیا تو اس کے لیے جنت کے اعلیٰ درجے میں محل تیار کردیا جائے گا۔ (ترمذی) میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جاؤ۔ (ابوداؤد) جب دو مسلمان آپس میں تلوار لے کرلڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔ (ابن ماجہ) آپؐ نے مقتول کے جہنمی ہونے کا سبب یہ بیان فرمایا کہ وہ بھی تو دوسرے کو قتل کرنے کے لیے تلوار لے کر نکلا تھا۔ اگر اس کا داؤ چلتا تو یہ اسے قتل کردیتا۔ اب دوسرے کا داؤ چل گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے اور بدامنی کے ماحول میں خصوصی طور پر ہدایات دی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ فتنوں سے بچو کیونکہ ایسی صورت میں زبان تلوار سے بھی بدتر کردار ادا کرتی ہے۔ (ابن ماجہ) جب مسلمانوں کے اندر فتنہ فساد پیدا ہوجائے اور اس بات کی وضاحت نہ ہورہی ہو کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون، تو ان سب سے کنارہ کشی اختیار کرلو۔ آپؐ نے فرمایا کہ فتنے کے زمانے میں جو شخص بیٹھا ہے وہ کھڑے ہوئے شخص سے بہتر ہے، اور کھڑا ہوا شخص اُس شخص سے بہتر ہے جو چل رہا ہے، اور جو چل رہا ہے وہ بہتر ہے اُس سے جو دوڑ رہا ہو۔ ان فتنوں میں اپنی کمانیں توڑ ڈالو۔ کمانوں کے چلّے کاٹ ڈالو اور اپنی تلواریں پتھر پر مارکر کند کردو۔ اگر کوئی فتنہ باز کسی کے گھر میں گھس آئے کہ اسے قتل کرے تو وہ ایسا ہی کرے جیسا آدم کے بیٹوں میں سے اس نے کیا تھا جو بہتر تھا۔‘‘ (ابوداؤد) یعنی لڑائی جھگڑے کے معاملات سے حتی الامکان بچنا چاہیے۔ اگر حق و باطل کا پتا نہ چل رہا ہو تو دوسروں سے جھگڑا کرنے سے بہتر ہے کہ خاموش رہے، حتیٰ کہ اپنی جان قربان کرنی پڑجائے تو کرلے۔
بات بات پر لڑائی جھگڑا کرنے سے برکت اور اللہ کی رحمت اٹھ جاتی ہے۔ مولانا ساجد جمیل اس حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا مارنے سے بنی اسرائیل کے لیے پانی کے چشمے جاری کیے، اور اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے بھی زم زم کا چشمہ جاری کیا۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام والے چشمے آج موجود نہیں، جبکہ زم زم کا چشمہ اپنی آب و تاب کے ساتھ موجود ہے، اور لوگ بلاتخصیص اس سے فیضیاب ہورہے ہیں۔ یہ اسی لیے ہے کہ بنی اسرائیل نے اپنے چشموں کے معاملے میں لڑائی جھگڑے اور فساد کا معاملہ کیا، چشموں کو اپنے لیے مخصوص کردیا… جبکہ زم زم کے پانی کے حصول کے لیے کوئی تخصیص نہیں، جو بھی مکہ، مدینہ جائے، خوب پیے اور اپنے ساتھ لے بھی آئے۔ زم زم کا پانی فروخت نہیں ہوتا، اور ہر ایک کے لیے میسر ہے۔ اسی لیے اس میں برکت اور اللہ کی رحمت ہے۔ آج بھی جو لوگ صرف اپنے فائدے اور اپنی ذات کو دیکھتے ہیں وہ فساد کے مرتکب ہوتے ہیں، ان کی ساری کوشش اپنی ذات کے لیے ہی ہوتی ہے، وہ لوگوں کے حقوق غصب کرتے ہیں اور فساد پھیلاتے ہیں، جب کہ وہ لوگ جو اپنی ذات سے بڑھ کر دوسروں کے لیے بھی سوچتے ہیں، ان کے فائدے کی بات کرتے ہیں، فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، اور ’’میں‘‘ سے نکل کر ’’ہم‘‘ کا سوچتے ہیں، وہی دنیا میں امن کے پیامبر ہیں۔

حصہ