متحدہ حزبِ اختلاف طاقت کے اظہار میں ناکام

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اِک قطرۂ خوں نہ نکلا

متحدہ حزبِ اختلاف کے مشترکہ احتجاج کا شور بہت دنوں سے بپا تھا، علامہ طاہرالقادری کی طلب کردہ کُل جماعتی کانفرنس کے ذریعے یکجا ہونے والی بکھری ہوئی حزبِ اختلاف کے قائدین کے اعلانات کے ذریعے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ نواز لیگ کی موجودہ حکومت بس چند دنوں کی مہمان ہے جو حزبِ اختلاف کے احتجاج کے سیلاب میں خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گی۔ چنانچہ اس کے لیے جب 17 جنوری کی تاریخ اور لاہور کی شاہراہ قائداعظم پر پنجاب اسمبلی کے سامنے فیصل چوک کے مقام کا اعلان کیا گیا تو حکومت کی جانب سے اس کی اجازت دینے سے انکار کے اعلانات مختلف صوبائی وزرا کی زبانی سامنے آئے، جواز اس کا یہ بتایا گیا کہ شاہراہ قائداعظم پر جلسے جلوسوں، مظاہروں اور ریلیوں وغیرہ پر عدالتِ عالیہ لاہور نے پابندی عائد کررکھی ہے، اس سے شہریوں کو شدید پریشانی اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شاہراہ قائداعظم کی مختلف مارکیٹوں کے تاجروں کو بھی میدان میں اتارا گیا کہ حزبِ اختلاف کے اس احتجاجی پروگرام سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوگا، اس لیے اسے کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔ تاجروں نے اس مقصد کے لیے خود بھی شاہراہِ قائداعظم ہی پر مظاہرے بھی کیے، بینر بھی آویزاں کیے گئے، اخبارات میں مختلف کاروباری تنظیموں کی جانب سے بڑے بڑے اشتہارات بھی شائع کرائے گئے جن میں حزبِ اختلاف کے احتجاج کو ملکی ترقی و خوشحالی کے دشمنوں کی سازش قرار دیتے ہوئے عدالتِ عالیہ لاہور کے منصفِ اعلیٰ سے اسے رکوانے کی درخواست کی گئی۔ ممتاز قانون دان اے۔ کے ڈوگر کے ذریعے ایک درخواست بھی عدالتِ عالیہ میں دائر کی گئی جس کی سماعت عدالت کے تین رکنی فل بینچ نے کی اور اپنی ہی عدالت کے 20 نومبر 2011ء کے شاہراہِ قائداعظم کو ریڈ زون قرار دے کر یہاں ہر قسم کے جلسہ، جلوس، مظاہروں اور دھرنوں پر پابندی کے حکم کے برعکس متحدہ حزب اختلاف کو 17 جنوری کو فیصل چوک شاہراہ قائداعظم پر بعض شرائط کے ساتھ احتجاجی جلسے کی اجازت دے دی کہ اس کے سوا چارہ بھی نہیں تھا، کیونکہ عدالتی فیصلہ 17 جنوری کی دوپہر کو سنایا گیا جب فیصل چوک میں جلسے کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں، اسٹیج سج چکا تھا، کرسیاں لگ چکی تھیں، اور کارکن بھی خاصی بڑی تعداد میں جلسہ گاہ پہنچ چکے تھے، ایسے میں عدالت اگر اس جلسے پر پابندی بھی عائد کرتی تو اس پر عملدرآمد کرانا ممکن نہ ہوتا۔ یوں بھی عدالت نے پابندی کا حکم اگرچہ نومبر 2011ء سے جاری کرا رکھا ہے اور حکومت کی جانب سے اس حکم نامہ کی روشنی میں بڑے بڑے اشتہارات بھی اخبارات میں شائع کرا ئے جاتے رہے ہیں، مگر عملاً شاہراہ قائداعظم پر جلسے جلوسوں، مظاہروں اور دھرنوں وغیرہ کا سلسلہ کبھی رک سکا ہے اور نہ حکومت نے کبھی اس حکم پر عمل درآمدکرانے کے لیے سنجیدگی سے کوئی اقدامات کیے ہیں۔
بہرحال 17 جنوری کے جلسے جسے ’’عوامی احتجاج‘‘ کا نام دیا گیا تھا، کی تشہیر کئی روز سے جاری تھی، جس میں تحریک انصاف سب پر بازی لے گئی… ڈاکٹر طاہرالقادری نے اعلان کیا کہ ’’عوامی احتجاج‘‘ میں آصف زرداری اور عمران خان ایک ہی اسٹیج پر ان کے دائیں بائیں جلوہ افروز ہوں گے۔ یہ دونوں رہنما جو کل تک ایک دوسرے کے لتّے لیتے رہے تھے، فیصل چوک میں ایک ساتھ نہیں آئے، پہلے آصف علی زرداری تشریف لائے اور خطابات کے بعد جب وہ جلسہ گاہ سے چلے گئے تو عمران خان آ گئے… ڈاکٹر طاہرالقادری کا اُن کو بیک وقت اپنے دائیں بائیں بٹھانے کا خواب ادھورا ہی رہا اور انہیں ان دونوں رہنمائوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر الگ الگ اظہارِ یکجہتی کرنا پڑا۔
17 جنوری کے اس ’’عوامی احتجاج‘‘ کو متحدہ حزبِ اختلاف کی طاقت کا مظاہرہ قرار دیا جا رہا تھا، اس لیے اس کی بھرپور حاضری اہمیت رکھتی تھی۔ ایسے بڑے جلسوں میں عام طور پر کرسیاں بھرنے کے بعد شرکاء کی بڑی تعداد کھڑے ہوکر تقریریں سنتی اور نعروں اور تالیوں سے اپنے جوش و جذبے کا اظہار کرتی ہے، مگر ماضی کی روایات اور سیاسی مبصرین کی عمومی توقعات کے برعکس ہوا یہ کہ پنڈال میں بچھائی گئی کرسیاں بھی بھری نہ جا سکیں اور ٹیلی ویژن چینلز کے کیمرے خاصی بڑی تعداد میں خالی کرسیوں کی تصویرکشی کرتے رہے جس سے احتجاج کے بارے میں منفی اور ناکامی کا تاثر فطری امر تھا، جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ متحدہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں میں فکری ہم آہنگی موجود نہیں، اور کوئی بھی جماعت اپنی صلاحیتوں اور افرادی قوت سے دوسری کسی سیاسی جماعت کی قیادت کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دینا چاہتی، جس کی ایک نمایاں جھلک اُس وقت نظر آئی جب آصف علی زرداری اسٹیج سے اتر کر واپس گئے، اُس وقت پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی اُن کے ساتھ ہی جلسہ گاہ سے اٹھ کر چلی گئی۔
حاضری کے علاوہ تقاریر اور اعلانات کے حوالے سے بھی یہ احتجاج مثبت کے بجائے منفی تاثر کو نمایاں کرنے کا باعث بنا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری جنہوں نے پہلے آصف زرداری اور پھر عمران خان کے بعد یعنی دو دفعہ جلسے سے خطاب کیا حسبِ عادت حکمرانوں کو ’’تکہ بوٹی‘‘کردینے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شریف برادران کو بتادینا چاہتا ہوں کہ یہ تحریک صرف عوامی تحریک کی نہیں پوری قوم کی تحریک بن چکی ہے، یہ قوم کی آواز ہے۔ میں نے جاتی عمرہ جانے کا سوچا، پنجاب اسمبلی آنے کا بھی سوچا، بہت کچھ سوچا۔ اگر شہدا کے انصاف کے لیے کارکنوںکو کہہ دوں تو اللہ رب العزت کی قسم وہ تمہاری تکہ بوٹی کردیں، کپڑے نوچ ڈالیں۔ ہم نہ بزدل ہیں، نہ ڈرتے ہیں، مگر داد دو ہمارے حوصلے اور صبر کی… قانون کو ہاتھ میں لینے کا فیصلہ، آئین توڑنے کا فیصلہ نہ کیا ہے نہ کریں گے۔ اگر ہم سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو لے کر چل پڑیں اور سارے کارکن جاتی عمرہ کی جانب منہ کرکے تھوک دیں تو محلات سیلاب میں بہہ جائیں۔ چاہیں تو تمہارے محلات کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔
پیپلز پارٹی کے قائد سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ وہ جب چاہیں شریف برادران کو ایوانِ اقتدار سے نکال سکتے ہیں اور انہیں اس میں دیر نہیں لگے گی، شریفوں کو اب جانا ہوگا۔ وہ چاہتے ہیں کہ جمہوریت کا سفر پورا نہ ہو… وہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کو اصل خطرہ جاتی عمرہ سے ہے، نواز شریف سے ہے۔ اس خطاب کے دوران آصف علی زرداری معلوم نہیں یہ کیوں بھول گئے کہ جس جاتی عمرہ کو وہ پاکستان کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں، اسی جاتی عمرہ میں ایک سے زائد بار وہ شریف برادران کی میزبانی سے فیض یاب ہوچکے ہیں اور انہی شریف برادران کو اسی جاتی عمرہ میں انہوں نے اپنے بھائی قرار دیا تھا اور اس رشتہ کو یہیں تک محدود رکھنے پر اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ اسے دونوں خاندانوں کی اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کا اعلان بھی جناب زرداری صاحب نے شریف برادران کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنسوں میں کیا تھا۔
پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے بارے میں ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب نے فتویٰ دیا کہ آج کا میلہ انہوں نے لوٹ لیا ہے۔ جناب شیخ نے حسبِ معمول اپنے سابق قائدین شریف برادران کو آڑے ہاتھوں لیا اور کسی بھی سیاسی اخلاقیات کا لحاظ کیے بغیر جو منہ میں آیا کہتے چلے گئے، ان کا فرمانا تھا کہ میں ایسی پارلیمنٹ پر ایک ہزار بار لعنت بھیجتا ہوں، ایسے وزیراعظم پر، ایسے وزیراعلیٰ پر، ایسے قاتلوں پر لعنت بھیجتا ہوں، جمہوریت پر لعنت بھیجتا ہوں، میں تھوکتا ہوں ایسے بددیانت اور خائن حکمرانوں پر… میں سانحہ ماڈل ٹائون پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیتا ہوں۔ تقاریر سے یہ بے شرم لوگ نہیں جائیں گے، میں عمران خان سے کہتا ہوں کہ نکلو باہر آئو، رائے ونڈ چلیں۔ عمران استعفیٰ دو، جاتی عمرہ کی جانب مارچ کرو، باہر آئو… یہ کہہ کر شیخ رشید نے اپنا استعفیٰ ہوا میں لہرا دیا۔ انہوں نے نوازشریف کو چور کہا، ’’مودی کا یار نوازشریف غدار ہے‘‘ کہا، اور کہا کہ میں خانہ کعبہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اجمل قصاب کا پتا بھی رائٹرز کو نوازشریف نے دیا تھا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے خطاب میں دوسری بہت سی باتوں کے علاوہ شیخ رشید احمد کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ میں مجرم کو پارٹی سربراہ بنانے والی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں، شیخ رشید کی قومی اسمبلی کی نشست سے استعفے سے متعلق باتوں سے اتفاق کرتا ہوں، ہم نے پہلے بھی استعفے دیے تھے لیکن انہوں نے قبول نہیں کیے، شیخ رشید کا استعفوں کا خیال اچھا ہے، اپنی جماعت سے بات کروں گا، ہوسکتا ہے جلد آپ کو جوائن کرلیں۔
عمران خان نے شیخ رشید کے استعفے کے اعلان کی زبانی تائید تو کردی مگر عملاً میدان میں نکلنے اور لڑ مر جانے کی درخواست کو درخورِ اعتناء نہیں سمجھا۔ جہاں تک استعفوں کا تعلق ہے اس ضمن میں پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے جلسے سے قبل یہ اعلان کیا تھا کہ متحدہ حزب اختلاف نے سندھ اور صوبہ خیبر کی اسمبلی توڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے، اور ’’عوامی احتجاج‘‘ سے خطاب کے دوران آصف زرداری سندھ اور عمران خان صوبہ خیبر کی اسمبلی توڑنے کا اعلان کریں گے۔ یوں گویا ان کے بقول سینیٹ کے انتخابات بروقت نہ ہونے دینے کا ہدف حاصل کرلیا گیا تھا، مگر ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے… !!!
سوال یہ ہے کہ جس پارلیمنٹ پر شیخ رشید احمد اور عمران خان جلسے میں ہزار بار لعنت بھیج رہے تھے کیا اُس کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے وہ کل تک ایک ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر ووٹ کی بھیک نہیں مانگتے رہے؟ اور چند ماہ بعد جب نئے انتخابات کا ڈول ڈالا جائے گا تو یہ دونوں قائدین اسی پارلیمنٹ کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے پھر سے یہی عمل دہرائیں گے کہ نہیں…؟
متحدہ حزبِ اختلاف کے برائے نام اتحاد میں انتشار کی بنیاد بھی اس جلسے میں رکھ دی گئی ہے اور جلسے کے فوری بعد قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کے بیان پر برہمی کا اظہار کیا اور اسے مسترد کرتے ہوئے یہ تک کہنے سے گریز نہیں کیا کہ عمران خان اور نوازشریف میں کوئی فرق نہیں۔
جلسے سے پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ متحدہ حزب اختلاف کے احتجاجی پروگرام کے آئندہ مرحلے کا اعلان جلسے کے دوران کیا جائے گا، مگر نامعلوم وجوہ کی بناء پر اس کی نوبت نہ آسکی، چنانچہ اب کسی کو نہیں معلوم کہ احتجاج کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا اور اس کی نوعیت کیا ہوگی…!!!
یوں اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میں شروع ہونے والا متحدہ حزب اختلاف کا یہ احتجاج پہلے ہی مرحلے میں اپنے مقاصد کے حصول میں بری طرح ناکام رہا ہے، بلکہ اس کے مثبت کے بجائے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور جو دبائو پہلے سے حکومت اور حکمرانوں پر موجود تھا، یہ جلسہ اس کو بھی ختم کرنے کا باعث بنا ہے۔

حصہ