پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

قدسیہ ملک
قرآن مجید میں اللہ کے رسولؐ کی زندگی کو اہل ایمان کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا رسول اکرمؐ کی مبارک زندگی ہر شعبے سے منسلک افراد کے لیے اسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی مذہبی پیشوا، سیاسی لیڈر، کسی نظریے کا بانی حتی کہ سابقہ انبیائے کرامؐ کے ماننے والے بھی اپنے پیغمبروں کی زندگیوں کو ہرشعبے سے منسلک افراد کے لیے نمونہ کامل پیش نہیں کرسکتے۔ یہ یگانہ اعزاز وامتیاز صرف رسالت مآبؐ ہی کو حاصل ہے۔ نبی کریمؐ کا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا پھرنا، کھانا، پینا، سونا، جاگنا اور 24 گھنٹے میں دن رات کے معمولات زندگی ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہیں۔
مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دارارقم، درس گاہ مسجد قبا، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترے پر تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ چوتھی وپانچویں صدی ہجری کی معروف دینی درس گاہوں میں مصر کا جامعہ ازہر، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔ غرض یہ کہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرمؐ تک پہنچتا ہے۔ برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اور جب دہلی میں مسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں و قصبوں و دیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم، توضیح وتشریح، تعمیل واتباع، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے کہ ہر انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے۔ لیکن افسوس کہ اس وقت دینی مدارس اپنوں کی بے وفائیوں اور غیروں کی سازشوں کا نشانہ ہیں۔
قرآن انسٹیٹوٹ پچھلے سترہ سال سے اللہ کے دین کی دعوت اللہ کی بندیوںکو پہنچانے اور بنی نوع انسان کو اپنے اصل مقصد سے روشناس کرانے اور ایسا نافع علم کا شوق دینے کے لیے ہرآن ہمہ تن مصروف عمل ہے جو قرآن وسنت کی روشنی میں دنیامیں عمل اور حقیقی اخروی کامیابی کی راہ اللہ کی بندیوں پر آسان کردے۔ قرآن انسٹیٹوٹ اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے جہاں اسلامی قرآنی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم کے بہت سے شعبہ جات میں بھی طالبات کی رہنمائی کی جاتی ہے۔ طالبات کی دینی و روحانی تربیت کے لیے مختلف کورسز تمام کیمپسز میںکروائے جاتے ہیںجن میں دو سالہ مدرسات کورس، ششماہی سہ ماہی دو سالہ فہم القرآن کورس، عربی بول چال کورس، ورکنگ ویمن کورس، ترجمہ قرآن کورس، بچیوںکے لیے ناظرہ قرآن بمع تجویدکورس، انگریزی زبان میں فہم القرآن کورس اس کے علاوہ کمپیوٹر کورسز، تدریب المعلمات کورس، غسل میت کا عملی طریقہ، ماہانہ لیکچرز اور حالات حاضرہ سے باخبر رہنے کے لیے طالبات کے لیے مختلف مذاکروں، سیمینارز اور لیکچر کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کے ایک واحد مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن انسٹیٹیوٹ کراچی نے گذشتہ رمضان میںچند مخلص داعی دین اور اسلام مشنری افراد کے تعاون سے اپنے تمام کیمپس میں دورۂ قرآن کا انعقاد کیا۔ جس میں عالم دین و مولانا حضرات کے ذریعے آسان فہم زبان میں قرآن کریم کی تعلیم کو عام کیا گیا۔ پچھلے ماہ کے اواخر میں کیمپس ون قرآن انسٹیٹوٹ میں”سیرت النبیؐ کی روشنی میں معاشرے کی تعمیر و ترقی میں علمی اداروں کے کردار” کے عنوان سے ایک فکری مباحثہ تشکیل دیا گیا۔ جس میں مختلف مکاتب فکر کے تعلیمی اداروں نے شرکت کی۔ مباحثے کے مقاصد یہ تھے۔
1۔ مختلف مکاتب فکر کی دینی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا۔
2۔ معاشرے میں مختلف طبقہ ہائے فکر میں ذہنی ہم آہنگی پیدا کرنا۔
3۔ دینی تعلیمی اداروں کی سوچ کو امت کی وحدت کے لیے اکھٹا کرنا۔
جس کے تناظر میں پینل کے شرکاء سے گفتگو کی گئی۔ شرکاء سے سوالات کے لیے وائس پرنسپل قرآن انسٹیٹوٹ ڈاکٹر یاسمین اور مرکزی نائب نگراں قرآن انسٹیٹیوٹ فریدہ یاسمین نے شرکاء سے سوالات کیے۔
پینل کے شرکاء میں 1۔ پرنسپل قرآن اکیڈمی ام شہزاد 2۔ پرنسپل جامعتہ المحصنات ساجدہ و آسیہ عمران 3۔ پرنسپل الفجر اکیڈمی عاصم صاحبہ4۔ پرنسپل العلم اکیڈمی ہما نجمی صاحبہ5۔ مذہبی اسکالر حمیرا خالد 6۔ پروفیسر پی سی ایچ ایس کالج و پاکستان کی پہلی نابینا صدارتی ایوارڈ یافتہ فرزانہ سلیمان صاحبہ7۔ جناح یونیورسٹی فار ویمن میں ڈین آف سوشل سائنسز ثریا قمر صاحبہ 8۔ پرنسپل النور اکیڈمی نعیم نور صاحبہ 9۔ اسٹارلنگ اسکول کی پرنسپل نورین صاحبہ 9۔ سابقہ پرنسپل قرآن انسٹیٹوٹ افشاں نوید شامل تھیں۔ اس کے علاوہ سامعات میں مختلف مدرسہ و جامعات کے اساتذہ و طالبات نے شرکت کی۔ مجلس صدارت کے فرائض ڈائریکٹر قرآن انسٹیٹوٹ اقبال النساء نے انجام دیے۔
شرکاء سے سوالات کا آغاز کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین نے سیرت النبیؐ کی روشنی میں اسلام کے تصور تعلیم کے بارے میں پوچھا جس کا جواب دیتے ہوئے العلم اکیڈمی کی پرنسپل ہما نجم نے سورۃ الجمعہ کی روشنی میں اپنے جواب کی وضاحت کی اورکہاکہ آپؐ کا طریقہ تعلیم 4 نکات پر مشتمل تھا جس میں تلاوت، تزکیہ، کتاب و حکمت کی تعلیم کے ذریعے ذہنوں کی آبیاری کی گئی۔ سوال “ہم ادارے میںتعلیم دیتے ہوئے ہم آپؐ کے اسوہ کی کن کن اصولوں کو مدنظر رکھتے ہیں؟ کے جواب میں قرآن اکیڈمی کی ام شہزاد نے کہا کہ بنیادی مقصد تو یہی ہوتا ہے کہ ہم اپنے طلباء کے سامنے خود سیرت النبویؐ کا نمونہ بن کر آئیں۔ آپؐ مسجد بنوی ہی میں تعلیم نہیں بلکہ چلتے پھر تعلیمی نمونہ بھی پیش کرتے۔ ہم اسی سوچ کی اتباع کرتے ہوئے بچوں کو تعلیم دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی سوال کے جواب میں افشاں نوید نے کہا کہ کار نبوتؐ میں تعلیم و تزکیہ نفس کے ذریعے علم دیا جاتا تھا۔ اس روشنی میں اگر ہم اپنے تعلیمی اداروں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ادارے کہاں کھڑے ہیں۔ انقلابی شخصیت پیدا کرنا ہمارے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ سب سے بڑی ذمہ داری استاد کی ہے۔ تعلیمی ادارے نہیں بلکہ استاد اہم ہے۔ اسی حوالے سے کردار سازی تعلیمی ادارے کے لیے کتنی ضروری ہے کہ جواب میں فرزانہ عاصم نے کہا کہ دینی اداروں میں یہ ضرور ہونا چاہیے کہ ماں باپ اور اساتذہ کی پہلے تربیت ضروری ہے۔ ہمارے ہاں روزانہ کی بنیادوں پر بچے کی دینی تربیت کی جاتی ہے۔ سیرت النبیؐ ایک یاد دہانی کے طور پر اسی وقت کام کرتا ہے جب اس کو روز مرہ کے معمولات میں شامل کیا جائے۔ حمیرا خالد نے کہا کہ ہمارے ملک کے تعلیمی نظام کا المیہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نصاب اداروں کے مقاصد ہماری سرکاری وزارت تعلیم تشکیل دیتی ہے۔ جو خود مغربی نظریات کے زیر اثر ہے۔ اس مادیت پسندی و فحاشی کے سیلاب کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم نظام تعلیم و نظام تشہیر (ذرائع ابلاغ) صالح و خدا سے ڈرنے والوں کے ہاتھوں میں دے دیں۔ ہما نجم نے کہا کہ نظام سے زیادہ بچوں کے اپنے اندر خوف خدا پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر نظام بنابھی لیا جائے توایک انسان کو چھپ کر گناہ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا اس کے لیے فطرت سے آشنائی ضروری ہے۔ حضرت آدمؑ کو بنانے کا مقصد بچوں کو سمجھایا جائے اور بنادی عقائد مضبوط کیے جانے چاہیے تاکہ بچہ بھٹکنے سے محفوظ رہے۔ ام شہزاد نے کہا کہ ناصرف اسکولوں میں بلکہ گھروں میں بھی اس بنیادی نکتے پر کام کیا جائے۔ والدین و اساتذہ دونوں بچے کی اس تربیت کے پورے ذمہ دار ہیں۔ ایک سوال کہ جتنی جلدی انحطاط ہورہا ہے اداروں کو اس میں کیا کردار ادا کرنا چاہیے پر افشاں نوید نے کہا کہ ہمیں فکر معاش دے کر ہماری روح قبض کرلی گئی ہے ہمارے معاشرے کا ذہین بچہ ڈاکٹری، انجینئرنگ اور ایم بی اے کرتا ہے اور ذہنی کمزور بچہ مدارس میں جاتاہے۔ جودین کی طرف آنا چاہتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم کون سے دین کی طرف آئیں۔ سوال کہ تعلیم کے اچھے معاشرت اثرات معاشرے پر نظر نہیں آتے کہ جواب میں اسٹارلنگ اسکول کی نورین نے کہا کہ ہمیں شدید اذیت اس وقت ہوتی ہے جب ہمارے برابر والے اسکول سے روزانہ گانوں اور میوزک کی آوازیں آتیں ہیں۔ بعض اسکولوں میں ایمانیات و سیرت سے بالکل الگ سمت میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ اور اسکول لیول ہی صرف ہمارا ہدف نا ہو بلکہ یونیورسٹیوں کی سطح پر بھی طالب علموں میں اسلام کی بنیادی تعلیم کو نافذ العمل ہوناچایئے۔ سمیہ سلمان نے کہا کہ نابالغ ذہنوں میں خدا کے وجود سے متعلق شبہات پیدا کیے جارہے ہیں۔ ایک خاص ایجنڈے کے تحت ethiesisume اور feminism کے متعلق تعلیمی اداروں میں مباحثے کروائے جاتے ہیں۔ اللہ پر یقین و معرفت کا سبق کہیں نہیں سکھایا جا رہا۔ ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان کہ ہرتعلیمی ادارے کو اسلامی ہی ہونا چاہیے۔ اس کے لیے بچپن سے ہی بچوں کا عقیدہ مضبوط کرنا اور انہیں شیطان سے نفرت دلوانی چاہیے۔ معاشرے کی ترقی میں اداروں کے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نورین نے کہا کہ ہماری ٹیچرز اسلام سے دور ہیں۔ ان کو دین سے قریب کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ شدت پسندی اور اسلام کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں آسیہ عمران نے کہا کہ شدت پسندی کوختم کرنے کے لیے فقہی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے امت مسلمہ کے سلگتے مسائل پر توجہ دینا ہی دور حاضر کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ قرآن انسٹیٹوٹ کی معلمہ انوری بیگم نے کہا کہ اساتذہ کو بھی اپنے روّیوں سے شدت پسندی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ معاشرہ ایک جانب انحطاط پذیری کاشکار ہے اور دوسری جانب ترقی بھی ہورہی کہ جواب میں جناح یونیورسٹی کی ڈین ثریا قمر نے کہا کہ گھر کے بنیادی مرکز کو نظر اندازکیے جانے کے باعث تمام انحطاط پذیری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ رشتے کمزور ہورہے ہیں اور انٹرنیٹ سے تعلق مضبوط ہورہے ہیں۔ آج اگر ہم اپنے اوپر اسلام کو نافذ کرلیں گے تو معاشرے کی انحطاط پذیری خود بخود ختم ہوجائے گی۔ تامرون بالمعروف اور تنھون عن المنکر کا فریضہ انجام دینے میں اداروں کے کردار کے حوالے سے مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے حمیرا خالد نے کہا کہ معاشرے میں بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ برائی سے روکنا ایک جرم سمجھاجانے لگاہے۔ نیکی اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتی جب تک برائی کو نہ روکاجائے۔ نیکی کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ سیرت النبیؐ کی روشنی میں پیغام کے حوالے سے فرزانہ سلیمان نے کہا کہ علم قربانی مانگتا ہے۔ صوبائی سطح پر تعلیم کا منظم اسلامی نصاب ہونا چاہیے۔ جو اسکول کالج یونیورسٹی میں یکساں نافذالعمل ہو۔ اساتذہ کے اندر کچھ واضح اوصاف ہونے چاہئیں۔ جس کے بعد ہی معاشرے میں تبدیلی آسکتی ہے۔ مجلس صدارت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ڈائریکٹر قرآن انسٹیٹوٹ اقبال النساء نے تمام شرکاء و حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ اور یہ سفارشات پیش کیں۔
1۔ بالعموم خواتین و بالخصوص نوجوان نسل کو قرآن سنت سے جوڑا جائے۔
2۔ تعاون و علی البر کے تحت اصلاح معاشرہ کے سلسے میں ایک دوسرے کے ساتھ روابط کو مضبوط بنایاجائے۔
3۔ اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں آنحضورؐ کو بحثیت رول ماڈل روشناس کروایا جائے۔
4۔ وحدت امت کے لیے اپنے جزوی اختلافات کو بھلاکر ایسے پلیٹ فارم مہیا کرنا جہاں اتحاد امت و تعلیمی اداروں پر مل بیٹھ کر بات چیت کی جاسکے۔
5۔ سرکاری سطح پر ایک تعلیمی بورڈ تشکیل دیا جانا چاہیے۔ جہاں سیرت کے آئینے میں بچوں کی تربیت کے امور زیر غور لائے جاسکیں۔
پروگرام کے آخر میں شرکاء نے واعتصمو بحبل اللہ جمعیا پر بنائی گئی ہاتھوں کی زنجیر والی تصویر پر اپنے اپنے اداروں کے نام اور اپنے دستخط کیے۔ یوں اس علمی و فکری مباحثے کا اختتام ہوا۔ نفرتوں کے اس معاشرے میں اس طرح کی محافل ایک حسین ہوا کا جھونکا ہیں۔ جس سے معاشرے میں اتحاد ویگانگت کو فروغ ملے گا۔ پاکستانی معاشرہ کی انحطاط پذیری کی حد تک کم ہوگی۔ اور ہم پھراپنی ان آنکھوں سے اسلامی نشاۃ الثانیہ کا سورج طلوع ہوتے دیکھیں گے۔ ان شاء اللہ
یہ دیس جگمگائے گا نور لاالہ سے یہ شہر جگمگائے گا نور لاالہ سے
کفر تلملائے گا نور لاالہ سے سکون چین آئے گا نور لاالہ سے

حصہ