ٹو اِن وَن

تنویر اللہ خان
کراچی آبادی کے لحاظ سے دُنیا کے دس بڑے شہروں میں شامل ہے اس کی آبادی چین کے شہر بیجنگ کے تقریباً برابر ہے، دو بندرگاہیں کراچی کے ساحلوں پر موجود ہیں ، بیس سے زائد یونیورسٹیزاس شہر میں موجود ہیں، تمام بڑے بینکوں کے ہیڈآفس اس شہر میں ہیں، بانی پاکستان قائداعظم کراچی میں پیدا ہوئے اور یہیں ان کی آخری آرام گاہ ہے، بیرونِ کراچی سے آنے والوں کی اپنے صوبوں کے بڑے شہروں سے زیادہ آبادی کراچی میں رہتی ہے، سندھ کا دارلخلافہ کراچی ہے اسلام آباد سے پہلے پاکستان کا دارلخلافہ بھی کراچی تھا، سرکاری ٹیکس کا بڑا حصّہ کراچی سے جمع ہوتا ہے، سیاسی و مذہبی جماعتوں کوچندا، بھتّا بھی سب سے زیادہ اس شہر سے ملتا ہے، دُنیا بھر اور پاکستان میں کہیں بھی اورکوئی بھی کسی مشکل میں مبتلا ہوتا ہے تو کراچی سب سے زیادہ جانی و مالی مدد دیتا ہے پیسہ دینے والے اور خود متاثرہ علاقوں میںجاکر کام کرنے والوں میں تقریباً سارے لوگ مقامی ہوتے ہیں یعنی کراچی دنیا اور پاکستان بھر کے غریبوں کا بڑا سہارا ہے، رمضان المبارک میں ملک بھر سے فقیروں کی بڑی تعداد کراچی آتی ہے جنوبی پنجاب کے فقیر بھی اپنے صوبے کے مرکز لاہور جانے کے بجائے کراچی آتے ہیں اور اپنی مراد پاتے ہیں، اللہ نے کراچی کو بہت کشادہ زمین اور اہل کراچی کو کُھلے دل سے نوازا ہے۔
لیکن اس بڑی آبادی، بڑے وسائل، بڑے مددگار، بڑا روزگار دینے والے شہرکا اپنا حال ایک طوائف سے بھی بدتر ہے پاکستان بھر سے لوگ یہاں آتے ہیں اس شہر میں رہتے ہیں یہاں اُنھیں روزگار ملتا ہے یہاں کی زمین پر عزت سے رہنے کو چھت بھی مل جاتی ہے لیکن اس شہر کو اپنا سمجھنے والے بہت کم ہیں جو یہاں سے رزق حاصل کرتے ہیں وہ بھی اس کو بُرا کہتے ہیں اور اس کے ساتھ سلوک بھی سوتیلوں والا کرتے ہیں لیکن یہاں سے جانا بھی نہیں چاہتے اس سے زیادہ صدمے کی بات یہ ہے کہ اس شہر کے اپنے لوگوں نے اپنے شہر کے ساتھ اور بھی بُرا کیا ہے، الطاف حُسین کی جماعت گزشتہ تیس برسوں سے اس شہر کے اقتدار اس شہر کے گلی محلوں اس شہر کے کاروباری مراکز پر قابض رہی اور ان کے اقتدار کے ان ہی تیس برسوں میں کراچی کی پُرشکوہ عمارتوں میں قائم سرکاری اسکول ویران ہوگئے، کراچی سرکاری ٹرانسپورٹ سے چنگ چی اور موٹر سائیکل رکشہ پر آگیا ہے، صاف پانی سے دُھلنے والی کراچی کی سڑکیں گندے بدبودار پانی کا جوھڑ بنی ہوئی ہیں اس میگا سٹی کی کوئی سڑک ایسی نہیں ہے جس پر سیوریج کا پانی نہ کھڑا ہواور کوئی ایک روڈ ایسا نہیں ہے جس کا ایک کلومیڑ بھی ایسا ہو جہاں گاڑی کے چلنے کو ہموار سڑک موجود ہو، بڑی اور انتہائی مصروف شاہراہوں پر ’’بیچ روڈ مین ہول‘‘ موت کے کنویں کی طرح کھلے ہوئے ہیں۔
سارے پاکستان کے سرکاری ملازمین کا حال کچھ اچھا نہیں ہے اکثر لوگ سرکاری ملازمت کام نہ کرکے تنخواہ لینے کے لیے کرتے ہیںاور پرائیویٹ ملازمت اور کاروبار کے لیے کام کرتے ہیں لیکن اہل سندھ کا حال سارے ملک سے زیادہ خراب ہے۔
مثلاً ٹریفک پولیس یا تو اپنی چوکیوں میں بیٹھی رہے گی اور اگر اُسے کام کرنا پڑے تو وہ اپنے کام کا آغاز ایسے کاموں سے کرتے ہیں جس میں اوپر کی کمائی کھل کر ہومثلاً موٹرسائیکل سواروں کو ہیلمٹ نہ پہننے پر پکڑنا یا کار سواروں کا سیٹ بیلٹ نہ باندھنا وغیرہ ۔
سب سے زیادہ ذہنی اذیت دینے والے مسائل میں اول مسئلہ قریبی عزیز کی موت ہے جب کہ دوسرا مسئلہ ٹریفک ہے کراچی کا حال یہ کہ ہر چھوٹی بڑی شاہراہ پر رانگ سائیڈ ٹریفک چل نہیں بلکہ دوڑ رہا ہے، شہر کی چھوٹی بڑی ہر سڑک پر واٹرٹینکر، ڈمپر دندناتے پھرتے ہیں ان بڑی گاڑیوں کو کسی زمانے میں تربیت یافتہ ڈرائیور چلایا کرتے تھے لیکن اب ان ہیوی گاڑیوں کو چلانے کے لیے ڈرائیونگ آنا شرط نہیں ہے، بڑی چھوٹی گاڑیوں حتی کہ موٹرسائیکلوں میں بھی خوفناک آواز والے پریشر ہارن لگے ہوئے ہیں اور ایسا مناظر اکثر دیکھنے میں آتے ہیں موٹر سائیکل کے پیچھے کھڑا ٹرک زور زور سے پریشر ہارن بجا رہا ہوتا ہے لیکن پولیس تماشا دیکھتی رہتی ہے۔
کراچی کا ٹریفک آسیب کی شکل اختیار کرچکا ہے گاڑیوں کے چلنے کی کوئی سمت متعین نہیں ہے ہر طرف سے چھوٹی بڑی گاڑیاںکیڑے مکوڑوں کی طرح ابلتی نظر آتی ہیں، اگر ٹریفک کی یہی صورت حال رہی تو مستقبل میں یہ کراچی کے امن و امان کو کو بھی تباہ کرسکتا ہے۔
کراچی جیسے دُنیا کے ہر بڑے شہر میں گاڑیوں کے لیے کچھ نہ کچھ اصول اور ضابطے بنے ہوئے ہیں جن پر عمل بھی ہوتا ہے مثلاً چین کے ایک بڑے صنعتی و تجارتی شہر گانزو میں موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں ہے ایک متعین تعداد سے زیادہ گاڑیوں کو رجٹریشن نہیں دی جاتی، جب کہ کراچی میں ہر روز ہزاروں نئی موٹرسائیکلیں رجسٹرڈ ہوتی ہیں مگر اس محکمے کے متعلقہ وزیر اور افسران کو صرف رشوت وصول کرنے سے غرض ہے۔
’’جناب امین صادق مرحوم ہوگئے اللہ اُن کے درجات بلند کرے یوں تو وہ اپنے اعمال نامے میں بخشے جانے کا بہت سا سامان لے کر گئے ہیں لیکن اپنے اعمال کے زور پر کس کی خلاصی ہوگی! بخشش کے لیے تو سراسر اللہ کا خاص رحم، اُس کا خصوصی کرم، اس کا درگزر چاہیے لہٰذا ہم اللہ سے اپنے بھائی کی جنت کے لیے خصوصی درخواست کرتے ہیں۔
امین صادق سے میرا کئی سال دفتری تعلق رہا ان کا شعبہ الگ تھا لہٰذا اُن سے معاملات تو بہت کم ہوئے لیکن روزانہ کی ملاقات علیک سلیک ضرور تھی، اور اب امین صادق کے اس دُنیا سے جانے کے بعد اُن کی جو خصوصیات پڑھنے میں آئی ہیں اُن کی زندگی میں اس کا عشر عشیر بھی میرے علم میں نہیں آیا تھا اس کی ایک وجہ تو یہ سمجھ آتی ہے کہ جب آدمی کے اچھا یا بُرا کرنے کی مہلت ختم ہوجاتی ہے تو اس کا خدشہ نہیں رہتا کہ جو آج اچھا یا بُرا ہے نہ جانے کل کیسا ہو گا لہٰذا ہم کُھل کر کسی کی شخصیت پر اظہارخیال کرنے میں احتیاط کرتے ہیں، اس کا امکان بھی ہوتا ہے کہ صلاحیتوں اور اچھی خصوصیات کا اعتراف خود اعتراف کرنے والے کی راہ کی رکاوٹ نہ بن جائے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ لمحوں پہلے جب انسان زندہ ہوتا ہے تو ہمیں اُس کی اتنی بڑی بڑی اور اہم خصوصیات کیوں معلوم نہیں ہوتیں اور اگر معلوم ہوتی ہیں تو ہم ان کا اعتراف کر نے سے کیوں گریز کرتے ہیں اور لمحوں کے فرق سے ایک آدمی اچانک اتنا باصلاحیت، دین دار، باکردار کیوں نظر آنے لگتا ہے مجھے تو یوں نظرآتا ہے کہ کسی کے مرنے سے زندہ رہ جانے والے قریبی لوگوں کی حسیات میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے اور ان ہی جاگ جانے والی خاص حسیات کی مدد سے وہ مردہ جسم میں کیسی کیسی اعلی صفات کو دیکھ لیتا ہے جو زندگی میں اُسے نظر نہیں آتیں۔
موت بڑی کرشماتی سواری ہے جو اس پر سوار ہوجاتا ہے اچانک معتبر ہوجاتا ہے جسے کوئی ایک قدم چلنے کی جگہ نہیں دیتا مرنے کے بعد اُس کی سائرن بجاتی ایمبولینس کو وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے لوگ چلتی سڑک پر جنازے کو دیکھ کر بہت دیر تک احترام سے کھڑے ہوجاتے ہیں چند قدم جنازے کے ساتھ بھی چل لیتے ہیں، کفن پہنانے والے پورا کپڑا پہناتے ہیں، مردے کو بہت احترام اور محبت سے نہلایا جاتا ہے، بہت نفاست اور نرمی سے قبر میں اتارا جاتا ہے۔
موت بھی عجب تماشا ہے، کئی دہائیوں پہلے جناب ممتاز قیصر لانڈھی سے ممبر سندھ اسمبلی تھے اُن کی والدہ کا انتقال ہوگیا ان کے جنازے میں بہت بڑا مجمع موجود تھا اور غم کے ایسے ایسے مظاہرے دیکھنے میں آرہے تھے کہ خود ممتاز قیصر بھی حیران نظر آرہے تھے، موت جناب ممتاز قیصر کی والدہ کی ہوئی تھی لیکن غم کرنے والے ممتازقیصر سے کئی ہاتھ آگے تھے بعض لوگوں کو مرحومہ کے بیٹے تسلی دیتے نظر آرہے تھے۔
میرے استاد قاری خورشید تنہا رہتے تھے ایک بار میں نے انھیں بہت ویرانے میں رہتے دیکھا تو اُن سے کہا قاری صاحب یہاں سے تو مرنے کی خبر بھی کئی دن بعد ملے گی جواب میں اُنھوں نے خوب بات کہی ’’مرنے کے بعد میرا جسم میرا مسئلہ نہیں ہے اسے کیڑے کھائیں پرندے کھائیں دفنایا جائے یا یوں ہی بے گوروکفن پڑا رہنے دیا جائے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن مجھے یقین ہے کہ آج جو لوگ زندہ قاری خورشید سے بے خبر اور بے نیاز ہیں وہ مردہ قاری خورشید کو بے سہارا نہیں چھوڑیں گے‘‘۔
کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ مرنے والے کے عزت احترام میں کمی کردی جائے یا اُس سے منہ پھیر لیا جائے اس ساری بات کا مقصد یہ کچھ احترام کچھ اکرام زندہ آدمی کا بھی ہونا چاہیے، جب تک آدمی زندہ رہتا ہے اور کھڑا رہنا چاہتا ہے تو ہم اُسے گرانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اورجب آدمی مر جاتا ہے اور کسی اچھے بُرے رویے سے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا تونہایت ادب و احترام سے اُسے اپنے کندھوں پر اُٹھاتے ہیں ۔
بہنوں بھائیوں! مردے کو دی جا نے والی عزت کا کچھ حصہ، اچھے سلوک کا کوئی چھوٹا سا اظہار، محبت کا کوئی معمولی سا اعتراف زندہ آدمی کے حصے میں بھی ضرور آنا چاہیے، ابھی اپنے پیاروں کے ساتھ اچھا سلوک کرلوگے تو جانے والے کی یاد سکون، اطمینان کا سبب بنے گی اور اگر اس کے برعکس کوئی عمل ہوا تو پچھتاوے اور ہاتھ ملنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ۔‘‘

حصہ