حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی قوم

پہلا حصہ:
(تفصیل کے لیے دیکھیے سورۃ الاعراف حاشیہ نمبر: 63،64،65،66،67،68۔ سورۃ الحِجر حاشیہ نمبر: 39۔ سورۃ الشعراء حاشیہ نمبر:109)
سورۃ الاعراف آیت نمبر 80 تا 84 میں ارشاد ہوا: ’’اور لوطؑ کو ہم نے پیغمبر بناکر بھیجا، پھر یاد کرو جب اُس نے اپنی قوم سے کہا ’’کیا تم ایسے بے حیا ہوگئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو، حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو‘‘۔ مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ’’نکالو اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے، بڑے پاک باز بنتے ہیں یہ‘‘۔ آخرِکار ہم نے لوطؑ اور اس کے گھر والوں کو… بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی، بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش، پھر دیکھو کہ اُن مجرموں کا کیا انجام ہوا۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم میں سے صرف ان کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام ان پر ایمان لائے تھے۔ انہوں نے اپنے چچا کے ساتھ عراق سے ہجرت کی اور کچھ عرصے تک شام، فلسطین اور مصر میں حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ دعوت وتبلیغ کا تجربہ حاصل کرتے رہے۔ پھر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے انہیں پیغمبری کے منصب پر سرفراز کیا ’’اور لوطؑ کو ہم نے حکم اور علم بخشا‘‘ (سورہ الانبیا آیت نمبر 74) اور وہ قوم سدوم کی اصلاح پر مامور ہوئے۔ حضرت لوطؑ جب یہاں پہنچے تو جوان تھے اور جب اس قوم پر عذاب آیا تو ان کی اولاد جوان ہوچکی تھی۔ حضرت لوطؑ کی یہاں آمد اہلِ سدوم کے لیے خوش بختی کا ذریعہ تھی کہ وہ ان کی دعوتِ اصلاح قبول کرتے اور اخلاقی طور پر سربلند ہوتے اور خوش حالی پاتے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت لوطؑ کی اپنے یہاں آمد کو خوش دلی سے قبول کیا، کیونکہ حضرت لوطؑ اعلیٰ اخلاق و کردار کے مالک تھے اور اپنی بیٹی کی شادی کرکے انہیں اپنا داماد بھی بنالیا (اسی لیے قرآن انہیں قومِ لوطؑ کہتا ہے)، ان کے اس اچھے آغاز پر اللہ تعالیٰ نے اُنہیں خوش حالی عطا کی۔ یہود کی کتاب تَلمود میں لکھا ہے کہ سدوم کے علاوہ ان کے چار بڑے شہر اور بھی تھے، اور ان شہروں کے درمیان کا علاقہ ایسا گلزار بنا ہوا تھا کہ جہاں تک نگاہ جاتی تھی بس ایک باغ ہی باغ نظر آتا تھا جس کے حُسن و جمال کو دیکھ کر انسان مدہوش ہوجاتا تھا۔ لیکن حضرت لوطؑ ان پر جو اخلاقی پابندیاں لگاتے تھے وہ انہوں نے قبول نہ کیں۔ قرآن مجید کے مطابق ’’وہ پہلے سے بہت برے برے کام کررہے تھے‘‘ (سورہ ہود آیت نمبر 78) وہ سمجھتے تھے کہ حضرت لوطؑ کی باتیں مان کر ان کی خوش حالی کو دوام حاصل نہ ہوگا بلکہ وہ ماند پڑجائے گی۔ سب سے پہلے انہوں نے غیر قوموں سے اپنے معاملات خراب کیے۔ تلمود میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ایک عیلامی مسافر اُن کے علاقے سے گزر رہا تھا۔ راستے میں شام ہوگئی اور اسے مجبوراً ان کے شہر سدوم میں ٹھیرنا پڑا۔ اس کے ساتھ مالِ تجارت اور اپنے کھانے پینے کا سامان تھا۔ کسی سے اُس نے میزبانی کی درخواست نہ کی، بس ایک درخت کے نیچے اُتر گیا۔ مگر ایک سدومی اصرار کے ساتھ اُٹھاکر اُسے اپنے گھر لے گیا۔ رات اُسے اپنے ہاں رکھا اور صبح ہونے سے پہلے اس کا گدھا اُس کے زین اور مالِ تجارت سمیت اڑا دیا۔ اُس نے شور مچایا، مگر کسی نے اس کی فریاد نہ سنی بلکہ بستی کے لوگوں نے اُس کا رہا سہا مال بھی لوٹ کر اُسے نکال باہر کیا۔ اس طرح کے متعدد واقعات بیان کرنے کے بعد تلمود کا مصنف لکھتا ہے کہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں یہ لوگ سخت ظالم، دھوکے باز اور بد معاملہ تھے۔ کوئی مسافر اُن کے علاقے سے بخیریت نہ گزر سکتا تھا۔ کوئی غریب ان کی بستیوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ پا سکتا تھا۔ بارہا ایسا ہوتا کہ باہر کا آدمی اُن کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مرجاتا اور یہ اُس کے کپڑے اتارکر اس کی لاش کو برہنہ دفن کردیتے۔ بیرونی تاجر اگر شامت کے مارے وہاں چلے جاتے تو برسرِعام لوٹ لیے جاتے اور اُن کی فریاد کو ٹھٹھوں میں اُڑا دیا جاتا۔ ایک مرتبہ حضرت سارہؑ نے حضرت لوطؑ کے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے اپنے غلام کو سدوم بھیجا۔ وہ جب شہر میں داخل ہوا تو اُس نے دیکھا کہ ایک سدومی ایک اجنبی کو مار رہا ہے۔ اُس نے اُسے شرم دلائی کہ تم بے کس مسافروں سے یہ سلوک کرتے ہو! مگر جواب میں سرِ بازار اس کا سر پھاڑ دیا گیا۔ ایک مرتبہ ایک غریب آدمی کہیں سے اُن کے شہر میں آیا اور کسی نے اُسے کھانے کو کچھ نہ دیا۔ وہ فاقے سے بدحال ہوکر ایک جگہ گرا پڑا تھا کہ حضرت لوطؑ کی بیٹی نے اُسے دیکھ لیا اور اس کے لیے کھانا پہنچایا۔ اس پر حضرت لوطؑ اور ان کی بیٹی کو سخت ملامت کی گئی اور انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ ان حرکتوں کے ساتھ تم لوگ ہماری بستی میں نہیں رہ سکتے۔ اپنی وادی کو انہوں نے ایک باغ بنا رکھا تھا جس کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا۔ اس باغ میں وہ انتہائی بے حیائی کے ساتھ اعلانیہ بدکاریاں کرتے تھے اور ایک لوطؑ کے سوا کوئی زبان ان کو ٹوکنے والی نہ تھی۔ قرآن مجید میں اس پوری داستان کو سمیٹ کر صرف دو فقروں میں بیان کردیا گیا ہے کہ ’’وہ پہلے سے بہت برے برے کام کررہے تھے‘‘ (سورہ ہود آیت نمبر 78)۔ اور ’’تم مَردوں سے خواہشِ نفس پوری کرتے ہو، مسافروں کی راہ مارتے ہو اور اپنی مجلسوں میں کھلم کھلا بدکاریاں کرتے ہو؟‘‘ (العنکبوت آیت 29) معلوم ہونا چاہیے کہ یہ خوش حال قوم تھی، اپنی خوش حالی میں مست تھی اور اسے اپنی تباہی اور بربادی کے آثار دور دور تک نظر نہ آتے تھے۔ لیکن آج اس قوم کا نام و نشان تک دنیا میں نہیں۔ اب صرف بحرِ مُردار ہی اس کی ایک یادگار باقی رہ گیا ہے جسے آج تک بحِر لوط کہا جاتا ہے۔
حضرت لوطؑ نے ان سے سوال کیا: ’’اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟‘‘(سورۃ الشعراء آیت نمبر 166) مطلب یہ ہے کہ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے جو بیویاں خدا نے پیدا کی تھیں انہیں چھوڑ کر تم غیر فطری ذریعے یعنی مَردوں کا اس غرض کے لیے استعمال کرتے ہو۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود ان بیویوں کے اندر خدا نے اس خواہش کی تکمیل کا جو فطری راستہ رکھا تھا اسے چھوڑ کر تم غیر فطری راستہ اختیار کرتے ہو۔ اس دوسرے مطلب میں یہ اشارہ نکلتا ہے کہ وہ ظالم لوگ اپنی عورتوں سے بھی خلافِ فطرت فعل کا ارتکاب کرتے تھے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ نادان اپنی خوش حالی کے ماند پڑنے یا ختم ہوجانے کے خوف سے آبادی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے یہ حرکت کرتے ہوں۔ یہ اس قوم کا سب سے بڑا جرم تھا جس کی وجہ سے خدا کا عذاب اس پر نازل ہوا۔ اس کے ارتکاب سے تو بدکردار انسان کبھی باز نہیں آئے لیکن یہ قوم اعلانیہ اس کا ارتکاب کرتی تھی اور اسے کوئی قابلِ شرم کام نہیں مانتی تھی۔ آج مغرب میں ’’انسانی آزادی‘‘ کے نام پر اس کی اجازت دی جاتی ہے یا اس کی اجازت کے لیے زبردست پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، لیکن کہیں بھی اسے قابلِ فخر نہیں سمجھا جاتا اور اس کے مرتکب کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے، اور قابل رحم اور بیمار سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم جنسی بالکل فطرت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی نسل کی بقا کے لیے جوڑے بنائے ہیں تاکہ یہ دونوں مل کر ایک خاندان بنائیں اور پھر معاشرہ بڑھے، پھلے، پھولے۔ اسی مقصد کے لیے مرد اور عورت کو دو الگ الگ جنس بنایا، ان میں ایک دوسرے کے لیے کشش پیدا کی، ان کی جسمانی بناوٹ اور نفسیاتی ترکیب ایک دوسرے کی ضرورتوں کے عین مطابق بنائی، اور انہیں ایک دوسرے کے لیے سکون، راحت اور لطف کا ذریعہ بنایا۔ اس جوڑ میں جو لذت ہے وہ بقائے نسل کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ہی دونوں کے لیے خدمت کا نقد صلہ بھی ہے۔ مگر جو شخص فطرت کی اس اسکیم کے خلاف عمل کرکے اپنے ہم جنس سے شہوانی لذت حاصل کرتا ہے وہ ایک ہی وقت میں کئی جرائم کرتا ہے۔ پہلا جرم: وہ اپنی جسمانی بناوٹ اور نفسیاتی ضرورت کے خلاف عمل کرکے اپنے جسم، نفس اور اخلاق کو تباہ کرتا ہے جس کا اسے کوئی حق نہیں، کیونکہ یہ اس کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ دوسرا جرم: جس قوت سے لذت حاصل کرتا ہے اس کے ذریعے بقائے نسل کے فطری نظام سے منہ پھیر کر اپنے فرائض اور ذمے داریوں سے بھاگتا ہے اور فطری نظام سے غداری کرتا ہے۔ جس خاندان کے ذریعے وہ پیدا ہوا، پروان چڑھا، مگر جب اس کی اپنی باری آئی تو حقوق اور فرائض اور ذمے داریوں کا بوجھ اُٹھانے کے بجائے اپنی قوتوں کو پوری خودغرضی کے ساتھ ایسے طریقے پر استعمال کرتا ہے جو خاندان کو تباہ کرنے والا ہے۔ تیسرا جرم: وہ اپنے آپ کو نسل اور خاندان کی خدمت کے لیے نااہل بناتا ہے اور اپنے ساتھ کم از کم ایک مرد کو غیر طبعی زنانہ پن میں مبتلا کرتا ہے، اور کم از کم دو عورتوں کے لیے بھی جنسی بے راہ روی اور اخلاقی پستی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
قرآن مجید میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ عملِ قومِ لوط بدترین گناہ ہے جس پر ایک قوم اللہ تعالیٰ کے غضب میں گرفتار ہوئی۔ اس کے بعد یہ بات ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی سے معلوم ہوئی کہ یہ ایک ایسا جرم ہے جس سے معاشرے کو پاک رکھنے کی کوشش کرنا حکومت ِ اسلامی کے فرائض میں سے ہے۔ لیکن چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسا کوئی مقدمہ پیش نہیں ہوا، اس لیے قطعی طور پر یہ بات متعین نہ ہوسکی کہ اس کی سزا کس طرح دی جائے۔ بعض فقہا اس جرم پر وہی سزا تجویز کرتے ہیں جو زنا کی سزا ہے، یعنی غیر شادی شدہ کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور جلا وطن کردیا جائے گا، اور شادی شدہ کو رجم کیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہؒ کی رائے میں اس پر کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ یہ فعل قانون سازی کا مستحق ہے، جیسے حالات و ضروریات ہوں ان کے لحاظ سے کوئی عبرت ناک سزا اس پر دی جاسکتی ہے۔
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کا صحیح فہم بخشے اور اُس فہم کے مطابق دین کے سارے تقاضے اور مطالبے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین ۔
وآخر دعوانا انالحمد ﷲ رب العالمین۔

حصہ