امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکیاں

ڈاکٹر محمد اقبال خلیل
نئے سال 2018ء کی پہلی تاریخ کو صبح 7 بج کر 12 منٹ پر دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پرانے اتحادی ملک کے نام ایک پیغام لکھا ’’ریاست ہائے متحدہ نے بے وقوفی سے پاکستان کو گزشتہ 15 سال میں 33 ملین ڈالرز کی امداد دی ہے اور اس نے جواب میں ہمیں کچھ بھی نہیں دیا مگر جھوٹ اور دھوکے‘ وہ ہمارے قائدین کو احمق سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ان دہشت گردوں کو پناہ دی جن کو ہم افغانستان میں تلاش کرتے ہیں ایسا اب نہیں ہوگا (No more)‘‘
اس ٹویٹ کے جواب میں اسی دن پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ٹویٹ کیا ’’ہم صدر ٹرمپ کے ٹویٹ کا جواب بہت جلد دیں گے ان شاء اللہ۔ ہم دنیا کو سچ بتائیں گے‘ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق۔
تو یہ ہے موجودہ دنیا کی صورت حال کہ اب خارجہ امور اور دنیا کے مختلف اقوام کے درمیان تعلقات کا فیصلہ ٹوئٹر پر ہوا کرے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک صبح اٹھتے ہی غصے میں آکر کوئی بات کر دی ہو حالانکہ ان کے ٹویٹ اب امریکا میں مذاق بنتے جارہے ہیں۔ وہ اپنے سیاسی مخالفین کے علاوہ کئی حکومتی پالیسیوں کا اعلان ٹوئٹر کے ذریعے کر رہے ہیں جو بہت عجیب وغریب مشغلہ لگتا ہے لیکن پاکستان کے حوالے سے ٹویٹ ان کی مستقل پالیسی کا حصہ ہے ان کی انتخابی مہم کے دوران ہی یہ واضح ہوگیا تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف معاندانہ ذہن رکھتے ہیں اور وہ کسی لگی لپٹی کے بغیر اپنا ذہن واضح کرتے رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ پاکستان کے پڑوسی اور دشمن ملک ہندوستان کے حمایتی تھے اور اس کا اظہار بھی وہ انتخابی مہم کے دوران کرتے رہے۔ انہوں نے ایک انتخابی ریلی میں‘ جو امریکا میں مقیم ہندوستانی لابی نے ان کے لیے منعقد کی تھی‘ واضح الفاظ میں کہا تھا کہ میںجب امریکا کے صدر کی حیثیت سے وہائٹ ہائوس میں بیٹھوں گا تو آپ یوں سمجھیں کہ آپ کا ایک بھائی وہاں بیٹھا ہے۔ اس دوران اس نے ہر موقع پر ہندوستانی قیادت کی تعریف اور حمایت کی اور پاکستان کی مذمت کی۔ سعودی عرب نے مئی میں جب اس کے دورے کے موقع پر 55 اسلامی ممالک کی ایک غیر معمولی سربراہ کانفرنس منعقد کی تو وہاں اس نے بادل نخواستہ پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ہاتھ ملایا اور اس کے علاوہ اس کو بری طرح سے نظر انداز کیا جس پر بعد میں شاہ سلمان نے پاکستان سے معذرت بھی کی۔ اسی طرح اگست میں جب امریکی صدر نے افغانستان کے بارے میں اپنا پالیسی بیان دیا تو اس پر بھی پاکستان پر دہشت گردوں اور حقانی نیٹ ورک کی حمایت کا الزام لگایا اور ان کو محفوظ پناہ گاہیں دینے کی بات کی اور دھمکی کہ اگر پاکستان نے تعاون نہ کیا تو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
یکم جنوری کے ٹویٹ پیغام کے لیے امریکی ادارے تیاری کر رہے تھے اور وہ اس بات کا جائزہ لے رہے تھے کہ کس طرح سے پاکستان پر دبائو بڑھایا جائے۔ سیکورٹی فنڈز کا اجرا اگست 2017ء ہی سے روک دیا گیا تھا یہ سوچا جارہا تھا کہ اگر عسکری امداد بند کی جائے تو پاکستانی فوج کا کیا ردعمل ہوگا۔ سب سے بڑا مسئلہ پاکستانی سرزمین کے ذریعے امریکی فوج کو سامان کی ترسیل ہے جس کے بند ہونے کی صورت میں متبادل راستے اپنانے ہوں گے۔ اس سے پہلے بھی پاکستان سپلائی لائن بند کرچکا تھا اور امریکا کو وسطی ایشیائی ممالک تاجکستان وغیرہ سے معاہدے کرنے پڑے تھے جس کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑی تھی۔ اب بھی یہ معاملہ درپیش ہے کہ کتنی امداد روکنی ہے‘ روکنی ہے یا بند کرنی ہے‘ آئندہ کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہے‘ مزید کیا اقدامات کرنے ہیں ان سب پر غور و خوص جاری تھا کہ اچانک یکم جنوری کو صدارتی ٹویٹ آگیا پھر اعلان کرنا پڑا کہ پہلے مرحلے میں 255 ملین ڈالرز کی ادائیگی جو کرنی تھی اس کو روک دیا جائے یعنی اعلان پہلے کیا گیا اور فیصلہ بعد میں۔
2 جنوری کو پاکستانی وزیر خارجہ نے ایک اور ٹویٹ کیا ’’صدر ٹرمپ نے33 بلین ڈالرز کی جو رقم 15 سال میں پاکستان کو دینے کی بات کی ہے اس کی تصدیق کے لیے وہ ایک امریکی آڈٹ فرم مقرر کرے جس کا خرچا ہم دیں گے تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ کون جھوٹ بھول رہا ہے اور دھوکا دے رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی پاکستانی وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے بھی ایک ٹویٹ کیا ’’پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مہم میں ایک اتحادی کے طور پر امریکا کو اپنی زمین اور فضا کا استعمال کرنے کی اجازت مفت میں دی ہے‘ اس کے علاوہ جنگی اڈے اور جاسوسی کا نظام القاعدہ کے خلاف گزشتہ 16 سال میں‘ جس کی وجہ سے وہ ختم ہوگئی‘ اس سب کے جواب میں ہمیں صرف بداعتمادی اور بدنامی ملی ہے اس کے علاوہ انہوں نے افغانستان میں ان دہشت گردوں کو محفوظ کمین گاہیں فراہم کی ہیں جہاں سے پاکستان پر حملے ہوتے ہیں۔‘‘
پاکستان کے دفتر خارجہ میں ایک طویل عرصے بعد امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو طلب کیا گیا اور ان سے صدر ٹرمپ کے ٹویٹ پر جواب اور وضاحت طلب کی گئی‘ عجیب بات یہ ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں جب ایک امریکن خاتون کولمین اوران کے خاندان کو پاکستان نے بازیاب کرایا تھا جن کو افغانستان میں تین سال پہلے طالبان نے اغوا کیا تھا تو اس وقت امریکی صدر ٹرمپ نے پہلی اور آخری مرتبہ پاکستان کی تعریف میں ٹویٹ کیا تھا ’’یہ ایک اچھا آغاز ہے پاکستان اور اس کی قیادت کے ساتھ بہتر تعلقات کا۔ میں کئی محاذوں پر ان کے تعاون کا شکر گزار ہوں۔‘‘ اسی لیے جب پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک کی قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا‘ جو سابقہ جنرل مشرف کی دورِ صدارت میں قائم کی گئی تھی جس میں قومی سیاسی قیادت کے ساتھ فوجی قیادت جنرل قمر باجوہ بھی شامل ہیں اور چاروں وزراء اعلیٰ تو اس میں امریکی صدر کے ٹویٹ پر سخت افسوس اور مایوسی کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے وہ ناقابل فہم ہے۔ اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور اعتماد کو سخت نقصان پہنچا ہے جو کئی دہائیوں اور نسلوں پر محیط ہے جس طرح پاکستانی قوم نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے جیو ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’’صدر ٹرمپ افغانستان میں امریکی شکست پر دل شکستہ ہے اور اسی وجہ سے پاکستان پر الزام تراشی کر رہا ہے۔ ہم نے امریکا کو پہلے ہی بتا دیا ہے کہ ہم مزید کچھ نہیں کرسکتے اس لیے ٹرمپ کے ’’نومور‘‘ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘‘
اسی دوران امریکی سی آئی اے کے چیف نے بھی ایک بیان میں پاکستان کے خلاف الزامات عائد کیے اور امریکی صدر کے مؤقف کی تائید کی البتہ امریکی دفاعی ادارے پینٹا گون کے ایک اعلیٰ افسر کرنل روپ میٹنگ کا بیان تھوڑا سا مختلف ہے جو امریکی قومی سلامتی کے ادارے کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا نے پاکستان کو بتا دیا ہے کہ اسے اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لیے کیا مخصوص اقدامات کرنے ہیں۔ اگر پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے تو امریکا اس کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکا کی توقعات بالکل واضح اور صاف ہیں کہ طالبان‘ حقانی نیٹ ورک اور افغانستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں اب نہیں ملنی چاہئیں۔ اس نے واضح کہاکہ امریکا نے پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ میں دیے جانے والے 90 کروڑ ڈالر معطل کیے ہیں یہ رقم منسوخ یا اس پر نظر ثانی نہیں کی گئی بلکہ یہ پاکستان کی جانب سے تعاون کرنے تک معطل کیے گئے ہیں۔ یہ رقم اس امید پر روکی گئی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں اور شدت پسند گروہوں کے خلاف امریکی خواہشات کے مطابق کارروائی کرے گا۔
اس لحاظ سے پینٹا گون کا مؤقف قدرے نرم ہے اور زمینی حقائق سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ پاکستان کا اب تک کا مؤقف بھی غیر جذباتی اور ٹھوس ہے جس کو برقرار رکھنا چاہیے۔ امریکی حکام کے اب تک کے بیانات کے مطابق جو رقم روکی گئی ہے اس کی مالیت ایک ارب 90 کروڑ ڈالر ہے جو امریکی محکمہ دفاع اور خارجہ نے سیکورٹی کی مد میں پاکستان کو دینی ہے۔ اس رقم میں امریکا کی جانب سے پاکستان کو دیے جانے و الے فوجی سازوسامان کی مالیت‘ سیکورٹی فنڈ اور انسداد دہشت گردی کی سرگرمیوں کا معاوضہ ہے۔
اس دوران جہاں پاکستان نے ایک مضبوط مؤقف اپنایا وہاں اس کے اتحادی ممالک نے بھی اس کا ساتھ دیا۔ چین نے پاکستان کے حق میں اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے اس کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور اس پر امریکی دبائو کو بلاجواز قرار دیا۔ اسی طرح ترکی کے صدر طیب اردگان نے بھیء پاکستان اور ایران کے خلاف امریکی صدر کے بیانات کی مذمت کی اور پوری طرح سے ان ملکوں کی حمایت کا اعلان کیا۔ برطانیہ اور جاپان نے بھی پاکستانی کردار کی تعریف کی جب کہ حسب روایت ہندوستان میں امریکی صدر کے بیان پر جشن منایا گیا اور ان کی پوری میڈیا اور حکومت ان کے لیے رطب اللسان رہی۔ افغانستان کے سابق صدر احمد کرزئی اور اقوام متحدہ میں افغانستان کے سفیر نے امریکی صدر کے مؤقف پر خوشی کا اظہا رکیا لیکن بھارت میں نئے امریکی سفیر کینتھ جسٹر نے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ امریکی امداد معطل کی گئی ہے بند نہیں کی گئی۔ اس بیان سے جہاں بھارتی میڈیا کچھ ٹھنڈی پڑ جائے گی وہاں امریکی ’’نو مور‘‘ حسب سابق ’’ڈومور‘‘ میں بدل جائے گا۔

حصہ