ہر کوئی یکساں نہیں…

عابد علی جوکھیو
خالق کائنات نے ہر انسان کو دوسرے سے مختلف پیدا کیا ہے، ہر ایک کی شکل وصورت سے لے مزاج اور عادات و اطور، سب الگ الگ ہیں۔ کوئی لمبا ہے تو چھوٹے قد والا، کوئی گورا تو کوئی سانولا، کوئی بہت صبر کرنے والا ہے تو کوئی غصے کا تیز… اگر دیکھا جائے تو یہی کائنات کی خوبصورتی ہے، کیونکہ سب ایک ہی شکل و صورت کے ہوتے تو جہاں ایک دوسرے کو پہچاننے میں دشواری ہوتی وہیں ایک جیسی صورتیں دیکھ دیکھ کر خوبصورتی اور حسن کا احساس پھیکا پڑھ جاتا۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ ایک جیسی چیز کو دیکھ دیکھ کر اکتا جاتا ہے، جیسے کبھی کبھار ہم ایک جیسے، لگے بندھے معمولات سے اُکتا جاتے ہیں، پھر اس اکتاہٹ کو دور کرنے کے لیے کچھ ایسا کرنے کا سوچتے ہیں جس سے دوبارہ زندگی میں تازگی کا احساس پیدا ہوجائے۔ یہی اصول دیگر امور میں بھی ہے، انسان کو ایک جیسی اور لگاتار اعلیٰ سے اعلیٰ خوراک دی جائے تو وہ اس سے بھی ایک دن تنگ آجاتا ہے، یہ ناشکری نہیں… یہ انسانی مزاج ہے، انسانی مزاج میں تنوع موجود ہے اسی لیے وہ حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ناشکری تو اس وقت ہوتی ہے جب انسان ایک چیز کی ناقدری کرتے ہوئے اس کی اہمیت سے انکار کرددے، جیسا بنی اسرائیل نے کیا تھا۔ انسان خالق کائنات کی اعلیٰ واشرف مخلوق ہے، جس کے متعلق اس کے فرمایا کہ میں نے اسے بہترین سانچے میں پیدا کیا ہے۔ اور خالق کو اپنی تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ محبت بھی اسی سے ہے۔ انسانوں کا یہ اختلاف بھی خالق کی جانب سے ایک رحمت ہے، اسی سے زندگی میں ایک حسن ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ہر انسان ہمیشہ ایک ہی کیفیت میں رہتا ہو، کوئی ہمیشہ غصے میں رہتا ہو، اس نے خوشی کو کبھی محسوس تک نہ کیا ہو، کبھی مسکرایا نہ ہو، یا کوئی ایسا شخص ہو جو ہمیشہ خوش رہا ہو، اس کے کبھی غم کا سامنا نہ کیا ہو، کبھی رویا نہ ہو، آنسوؤں سے ناواقف ہو… عقل کہتی ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ ہم میں سے ہر ایک نے کبھی نہ کبھی ان تمام احساسات کا ضرور مزہ چکھا ہوتا ہے، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اپنی زندگی میں خوشی کے جذبے کو محسوس نہیں کیا، ایک شخص جس کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہو، پہننے کے لیے پورے کپڑے نہ ہوں، رہنے کے لیے چھت نہ ہو، اس سے بھی پوچھیں تو وہ بھی بتائے گا کہ خوشی کسے کہتے ہیں… اور میں کب خوش ہوا تھا… اور ابھی میرے لیے خوشی کا سامان کیا ہوسکتا ہے… اسی طرح اس حالت میں بھی وہ شخص مزید غمزدہ ہونے سے بھی ڈر رہا ہوگا… یہ انسانی فطرت ہے، یہ کبھی بھی بدل نہیں سکتی۔
خالق کائنات نے انسانوں کے مزاج اور حالات میں اختلاف اس لیے بھی رکھا کہ وہ دوسرے کے جذبات کو محسوس کر سکیں، انہی جذبات کے احساس سے ہی ایک انسان دوسرے کی مدد کرتا ہے، غمگساری کرتا ہے، اس کی پریشانی کو دور کرکے اس کے لیے آسانیاں فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ احساس ہے جو انسانوں کو آپس میں رہنے پر مجبور کرتا ہے، ایک دوسرے کی مدد کرنے پر اکساتا ہے، ہر جاندار کے لیے دل میں درد محسوس کرتا ہے، ایک محروم کو دیکھ کر انسان کے دل میں احساس شکر وہمدردی کا اظہار ہوتا ہے، یہی وہ جذبہ ہے جو انسان سے مطلوب ہے ۔ خواجہ میر درد نے کیا خوب کہا ؎
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں
جہاں تک بات انسانی مزاج کے اختلاف کی ہے وہ تو رحمت ہے کہ ہر مختلف مزاج رکھنے والا شخص مختلف صلاحیتوں کا بھی مالک ہوتا ہے، اس کی شخصیت اور عمل بھی مزاج کے مطابق ہوتی ہے، ایک مزاج والا بندہ ایک کام کر سکتا ہے لیکن دوسرے مزاج والا بندہ وہ کا م نہیں کر سکتا، ایک واقعے پر کسی کی رائے کچھ ہوتی ہے اور کسی کی کچھ… یہ بھی مزاج اور سوچنے کے انداز پر منحصر ہوتا ہے۔ لیکن مزاج کے اختلاف میں مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم صرف اپنے ہی مزاج کے مطابق دوسروں کو دیکھنا اور پرکھنا شروع کردیتے ہیں، ہماری نظر میں ہم ہی درست ہوتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی ہماری طرح ہوجائیں، اور جب کسی کو اس کے خلاف کرتا دیکھتے ہیں کہ تو ہم یک دم اس کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اسے احساس دلاتے ہیں کہ آپ غلط کر رہے ہیں، ایسے نہیں ہوتا، ایسے ہوتا ہے… یہ آپ نے غلط بات کہی، درست بات یہ ہے… اور جب کوئی ہماری بات نہیں مانتا تو ہم کُڑھنا شروع کردیتے ہیں، اس اختلاف کو ہوا دے کر خود بھی کُڑھ رہے ہوتے ہیں اور سامنے کو بھی پریشان کرتے رہتے ہیں۔ مزاج کے اختلاف کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ضروری نہیں کہ جس زاویے سے ہم سوچتے ہیں باقی بھی اسی زاویے سے سوچیں، جو میری نظر میں درست ہو، وہی دوسرے کے لیے بھی ٹھیک ہو… اس طرح کے رویے سے کبھی بھی اجتماعیت وجود میں نہیں آسکتی، اگر وجود میں آگئی تو دیر پا قائم نہیں رہ سکتی، یا مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکتی۔
اسی لیے جہاں بھی افراد کسی مقصد کے لیے جمع ہوں، ان کو چاہیے کہ اپنے تمام ساتھیوں کو ان کی تمام تر کمزوریوں، کوتاہیوں اور مزاج کے ساتھ قبول کریں۔ کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو ہمیں مقصد کے پہنچنے میں مدد کر سکتے ہیں، ہم کوئی نئی مخلوق نہیں لاسکتے، نہ ہی کہیں سے اپنی مرضی کے مطلوبہ افراد تیار کرسکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کو قبول کرنا ہوگا کہ جہاں مزاج کا اختلاف فطری امر ہے، وہیں جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں اس کے بھی اپنے اثرات ہیں، افراد پر مزاج کے ساتھ ساتھ معاشرے کے بھی اثرات ہوتے ہیں، جو ہمیں موقع بموقع نظر بھی آتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم ان افراد کی تربیت کریں، انہیں بہترین عادات سکھائیں، ان کی کمزوریوں کی تشخیص کرتے ہوئے تدارک کی کوشش کریں۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر ان کے لیے تربیت کے مواقع پیدا کریں۔ انہیں حالات سے سیکھنے کا موقع دیں۔ ان کو ان کی غلطیوں کو ساتھ قبول کریں، ان کی غلطیوں کی اصلاح کی کوشش کریں، اس عمل کے دوران ہمیں یہ فائدہ ہوگا کہ جو افراد بھی ہمارے ساتھ ہونگے، وہ چھٹ کر الگ ہوجائیں گے، جن لوگوں کے سامنے مقصد واضح ہوگا وہ آپ کے ساتھ رہیں گے اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں گے، اگرچہ یہ عمل بہت سست ہوگا لیکن اس کے نتائج ضرور نظر آئیں گے، اس کے ساتھ ساتھ جو افراد آپ کے مقصد اور فکر سے ہم آہنگ نہیں ہونگے وہ خود ایک طرف علیحدہ کھڑے ہوجائیں گے، اور آپ سے کنارہ کشی کرلیں گے، اب آپ کے ساتھ صرف وہی لوگ رہ جائیں گے، جو آپ کے مقصد اور نصب العین کو سمجھتے ہیں، اور اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہاں یہ بات بھی مدنظر رہ کہ انسان اتنا ہی کردار ادا کر سکتا ہے جتنی اس میں صلاحیت یا اس کی حد ہوتی ہے، کسی سے اس کی صلاحیت سے زیادہ کی امید رکھنا بھی غلط ہے، ہر انسان کو وہی کام دینا چاہیے جو وہ کر سکتا ہے، اور اس کے اسی کی امید رکھنی چاہیے۔ اسی طرح یہ عمل جاری رہے گا، نئے لوگ آتے رہیں گے، کام کے لوگ آپ کے ساتھ رہیں گے اور باقی جھاگ اڑ جائے گی۔
یہ عمل انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے یکساں ہے، کیونکہ انسان کا خاصہ ہے کہ وہ تنہا نہیں رہ سکتا، اسے زندگی کے ہر موڑ پر انسانوں کی ہی ضرورت پڑتی ہے، انسانوں سے سامنا ہوتا ہے، انہی کے ساتھ معاملات کرنے ہوتے ہیں۔ اسی لیے چاہے ہماری گھریلو زندگی ہو، باہر کے معاملات ہوں، یا دفتری امور ہوں… ہرایک جگہ انسانوں کے ساتھ ہی معاملات ہوتے ہیں، اور چونکہ ہر ایک کی جبلت اور مزاج دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اس لیے اس کے اعمال و اقوال بھی مختلف ہونگے، ہمیں افراد سے تعلق قائم کرتے وقت اس کا ادراک کرلینا چاہیے کہ سامنے والا کس مزاج کا مالک ہے، اور کوشش کرنی چاہیے کہ اس سے اسی کے مزاج کے مطابق ہی معاملہ کریں تا کہ دونوں کے لیے آسانی ہو، ایسا نہ ہو سامنے والے کے مزاج کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہم دوسروں سے صرف اپنے ہی مزاج کے مطابق معاملات کریں اور دوسروں سے اسی کے مطابق توقعات رکھیں۔ ایسے رویے کے ساتھ ہم کبھی بھی ایک بہترین اجتماعیت قائم نہیں کر سکیں گے۔ نہ ہم بہتر راعی (قائد) بن سکیں گے اور نہ ہی رعیت (متبع)…
خوشگوار اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو ہر وقت سامنے رکھیں اور ان پر عمل کی کوشش کریں، بظاہر یہ بہت چھوٹی سی باتیں ہیں، لیکن ان کے اثرات بہت ہی گہرے اور دورس ہیں… کسی کا دل جیتنے کے لیے یہی چھوٹے چھوٹے کام ہی کرنے ہوتے ہیں، انہی کاموں سے لوگ ہمارے نزدیک یا دور ہوجاتے ہیں، دوسروں کی عزت کا خیال رکھیں، انہیں عزت دیں، انہیں تکلیف نہ پہنچے، کوئی بات ناگوار نہ گزرے… بس یہی چھوٹے سے کام ہم سب زندگی کو پرسکون بناسکتے ہیں۔ آئیے… ابھی سے آغاز کریں۔

حصہ