پاک فوج کے سپہ سالار ایوان بالا کے بند کمرے میں

مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ستر برس کی تاریخ میں گزشتہ ہفتے ایک نئے خوش آئند اور خوش گوارباب کا اضافہ ہوا ستر برس کے طویل عرصہ میں شاید یہ پہلا موقع تھا کہ مسلح افواج کے سربراہ نے ملک کے ایوان بالا کو ملک کے دفاعی، داخلہ و خارجہ، ملکی سلامتی اور سیاسی امور سے متعلق اعتماد میں لیا جس سے بہت سے ابہام دور ہوئے، شکوک و شبہات سے نجات ملی اور تحفظات کا ازالہ ہوا۔ ملک کے اہم اداروں کے مابین مثبت رابطوں کا آغازہوا اور قومی سالمیت سے متعلق معاملات پر افواہوں اور مفروضوں کی بنیاد پر دور دور رہ کر شکوک و شبہات اور تشویش کے اظہار کی بجائے ایک جگہ بیٹھ کر کھل کر اپنی بات کہنے اور دوسروں کی سننے کی اچھی روایت کی جانب قابل قدر پیش رفعت ہوئی جس سے یقینا غلط فہمیوں کے خاتمہ، حقائق تک پہنچنے، انہیں سمجھنے اور باہم اعتماد اور اعتبار سے آگے بڑھنے میں مدد ملے گی…!!!
چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کچھ عرصہ قبل ملک کے اہم اداروں پارلیمان، عدلیہ اور فوج کے مابین ڈائیلاگ کی ضرورت کا اظہار کیا تھا اور یہ امر اطمینان بخش ہے کہ اس جانب اولین اور اہم پیش رفت بھی انہیں کے ایماء پر سامنے آئی ہے انہوں نے خود مسلح افواج کے سپہ سالارکو دعوت دی کہ وہ ایوان بالا میں آ کر اہم قومی امور سے متعلق ارکان کو اعتماد میں لیں چنانچہ پورے ایوان کو ایک کمیٹی قرار دے کر بند کمرے کے اجلاس کا اہتمام کیا گیا جس میں منگل 19 دسمبر کی شام سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے صورت حال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جس کے بعد نرم و گرم ہر طرح کے سوالات و جوابات کی نشست بھی ہوئی…!!!
ذرائع ابلاغ کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پارلیمنٹ ہائوس پہنچے تو ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری نے ان کا خیر مقدم کیاجب کہ چیئرمین رضا ربانی نے آرمی چیف اور ان کی ٹیم کو پارلیمنٹ ہائوس میں قائم کی گئی اس ’’گلی دستور‘‘ کا دورہ کروایا جہاں، پاکستان میں جمہوری دستوری اور سیاسی جدوجہدکی داستان تصاویر کے ذریعہ بیان کی گئی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ بریفنگ میں آرمی چیف کی معاونت کے لیے موجود تھے۔آرمی چیف جنرل جاوید قمرباجوہ نے کہا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی ایک اہم کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہیں۔ بعض اہم ممالک کے دورے فوجی سفارتکاری کا حصہ ہیں اور علاقائی ممالک سے تعلقات میں بہتری کے لیے آرمی چیف کے دورے معاون ثابت ہوئے خطے کی جیومٹریٹجک صورتحال پر گہری نظر ہے افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ بارڈر مینجمنٹ پاک۔ افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ مشاہد اللہ خان نے آرمی چیف سے سوال پوچھا کہ اسلام آباد میں دھرنا دینے والوںکو کھانا کون سپلائی کرتا تھا جس پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے جواب دیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے ان دھرنوں کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ آرمی چیف کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے انٹرسروسز انٹیلیجنس کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ اس دھرنے کو ختم کرائے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کے ہمراہ سعودی عرب جانا تھا اس لیے وہ چاہتے تھے کہ سعودی عرب رونگی سے پہلے اس دھرنے کو ختم کروایا جائے۔ سینیٹر پرویز رشید کی طرف سے فوج کی طرف سے جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی سرپرستی کے بارے میں بھی سوال کیا جس کا آرمی چیف نے نفی میں جواب دیا کہ فوج حافظ سعید بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اتنے ہی سرگرم ہیں جتنا ایک عام پاکستانی ہے۔ فوج آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے گی۔ سینٹ کے ارکان نے یقین دلایا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملکی سلامتی کے لیے سویلین اور فوجی ادارے ایک ہی پیچ پر ہیں اور اگر ملک کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پوری قوم فوج کا جو کردار ہے اس سے مطمئن ہوں، 41 اسلامی ممالک کا اتحادکسی ملک کیخلاف نہیں، ایران اور سعودی عرب کی لڑائی ہو گی نہ ہونے دیں گے اتحاد کے ٹی او آرز طے ہونا باقی ہیں، ٹی وی پر تبصرہ کرنیوالے ریٹائرڈ افسر ہمارے ترجمان نہیں۔ سینیٹرزکی جانب سے کھل کر سوالات کئے گئے۔ آ رمی چیف نے کہا علاقائی ممالک سے تعلقات میں بہتری کے لیے ہوئے معاون ثابت ہوئے۔ بارڈر مینجمنٹ پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا ماضی میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوںنے کہا کہ دھرنا ہوا تو میرے ذہن میں لال مسجد کا واقعہ بھی آیا، آرمی چیف نے کہا کہ لاپتہ افراد کی مختلف وجوہات ہیں، کچھ لوگ خود غائب ہو کر لاپتہ ظاہر کرواتے ہیں، ایجنسیاں صرف ان افراد کو تفتیش کے لیے تحویل میں لیتی ہیں جو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سوال کیا کہ کیا فوج کو موجودہ رول سے بڑھ کر کردار چاہے جس پر انہوں نے کہا کہ فوج کا آئین میں جو کردار ہے مطمئن ہیں۔!!!
پاک فوج کے سربراہ نے ایوان بالا کے ارکان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایاکہ دھرنے کے شرکاء میں پیسے وزیر اعظم کی ہدایت پر تقسیم کئے گئے۔ یہ بات انہوں نے دھرنے کے شرکاء کو واپسی پر ہزار ہزار روپے دینے کے جواب میں کہی۔ آرمی چیف نے کہا دھرنے کے معاہدے میں فوجی افسروں کا نام نیک نیتی سے لکھا گیا فوجی افسر کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو رہا تھا تاہم ایسا ہونا نہیں چاہئے تھا۔ ہمارے پاس ڈرون گرانے کی صلاحیت موجود ہے اگر حکومت ڈرون گرانے کا کہے تو گرا دیں گے، بیرونی سازشوں سے باخبر ہیں۔ ملک میں جمہوری عمل کے ساتھ کھڑے ہیں، ملک کے کے استحکام کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا کسی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں…!!!
ملک کی دفاعی صورت حال کے بارے میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایوان بالا کے ارکان کو بتایا کہ بھارت نے اپنی فوج کی 9 کورڑ میں سے 6 کوریں پاکستان کے خلاف متعین کر رکھی ہیں۔ بھارت کی موجودہ حکمران جماعت پاکستان کے خلاف معاندانہ پالیسی پر گامزن ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ اس کا شاخسانہ ہے۔ آرمی چیف نے بھارت کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں کہا کہ حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں کہا کہ حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرے ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، مسائل بات چیت کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں جنگ مسائل کا حل نہیں ہے اگر چار سال تک پاکستان وزیر خارجہ کے بغیر ہو گا تو اس خلاء کو کسی نہ کسی کو تو پر کرنا ہو گا۔
پاکستان کے پاس و سائل کا مسئلہ ہے ہمیں اپنے وسائل کے تحت ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانا ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں آرمی چیف نے بتایا کہ افغانستان کی داخلی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے، افغانستان کا حالات پر مکمل کنٹرول نہیںہے اس لیے افغانستان کی سرزمین پر دہشت گرد اور انتہا پسند موجود ہیں جو وہاں سے آ کر پاکستان کے اندر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ امریکہ نے افغانستان میں کھربوں ڈالر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جھونک دیئے ہیں لیکن وہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا صفایا نہیں کر سکا۔ پاکستان کی اپنی مجبوریاں ہیں، پاکستان میں 27 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں جو ہمارے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے ان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجا جائے۔ پاکستان سے اب ڈومور کا مطالبہ نہ کیا جائے پاکستان اپنے حصے کا کام کر چکا ہے۔
پاک فوج کے سربراہ کی ایوان بالا آمد اور ارکان کے سامنے قومی امور پر پیش کئے گئے۔ جائزے سے ایک جانب جہاں اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ فوج کا ادارہ پارلیمنٹ کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور آئین و قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے وہیں اس جائزے میں اس خواہش کا اظہار بھی موجود ہے کہ حکمران اور سیاست دان خواہ مخواہ ہر اچھے برے کام کی ذمہ داری فوج پر عائد کرنے کی روش ترک کر کے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں کا بھی احساس کریں اور قانون سازی کے ضمن میں ان پر جو فرض ادا ہوتا ہے اسے پورا کریں تو فوج بھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرے گی لیکن جب حکومت اور پارلیمنٹ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کے مرتکب ہوں گے تو اس سے پیدا شدہ خلا کسی نہ کسی کو تو پورا کرناہو گا جس پر گلے شکوے کا کوئی جواز نہیں…!!!
سپہ سالار جنرل قمر جاوید باوجوہ کی ایوان بالا آمد ایک اچھی مثبت اور قابل ستائش روایت ہے جسے مزید آگے بڑھایا جانا چاہئے مگر اس موقع پر بعض ارکان سینٹ کا طرز عمل کسی طرح بھی مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا… ان کی جانب سے بعض سوالات بھی اگرچہ نا مناسب تھے تاہم اجلاس چونکہ بند کمرے کا تھا اور سوالات کرنا ارکان کا حق ہے اس لیے ان کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے مگر اجلاس کے دوران نواز لیگ کے سینئر یعقوب ناصر نے بدمزگی اور ہنگامہ اٹھانے کی جو کوشش کی اس کا بہرحال کوئی جواز موجود نہیں تھا اور ان سب کے بڑھ کر یہ کہ پوری دنیا کو معلوم تھا کہ یہ بند کمرے کا اجلاس ہے جس کے اصول و آداب ایوان بالا کے ارکان کو معلوم ہونا چاہئیں اس کے باوجود چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے اجلاس کے آغاز ہی میں ارکان کو یاد دہانی کرا دی تھی اور واضح ہدایت کی تھی کہ کسی رکن کو کارروائی تحریر کرنے اور ایوان سے باہر جاکر بتانے کی اجازت نہیں… لیکن اس کے باوجود ارکان نے چھپ چھپا کر نہیں کھلم کھلا ٹی وی کیمروں کے سامنے آ کر اس خفیہ اجلاس کی تفصیلات اور جزئیات بیان کیں جوچینلز پر نشر اور اخبارات میں شائع ہو گئیں… سوال یہ ہے کہ اگر اس اجلاس کی کارروائی کو یوں ہی نشر کیا جانا تھا تو اسے بند کمرے تک محدود کرنے کی کیا ضرورت تھی… سپہ سالار یا ان کا کوئی ترجمان از خود ذرائع ابلاغ پر خطاب اور گفتگو کر سکتے تھے…!!!
چیئرمین سینٹ کی اس طرز عمل پر برہمی بالکل بجا ہے۔ ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ کارروائی کو افشاء کرنے والے ارکان، ایوان کا استحقاق مجروح کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں، اگر ہم اہم معلومات صیغہ راز میں نہیں رکھ سکتے تو کوئی ادارہ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے پائے گا۔ اس شگاف کو پر نہ کیا گیا تو مستقبل میں ایوان بالا میں آنے والی اہم شخصیات حساس معاملات پر ارکان کو اعتماد میں لینے سے گریز کر سکتی ہیں اس لیے راز افشاء کئے جانے کے اس اقدام پر کارروائی کی جانا ضروری ہے… چنانچہ چیئرمین نے یہ معاملہ ایوان کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کو بھجوا دیا ہے جس میں قائد ایوان، قائد حزب اختلاف اور دیگر جماعتوں کے ارکان شامل ہیں۔ دیکھئے یہ کمیٹی اس نازک معاملہ میں کیا کارروائی عمل میں لائی ہے اور مستقبل کے لیے ایسے اجلاسوں کے حوالے سے کیا پالیسی وضع کرتی ہے…!!!
چیئرمین سینٹ نے اچھا کیا کہ اپنی گفتگو میں یہ وضاحت کر دی کہ ان کی جانب سے کی گئی کارروائی کا مقصد ذرائع ابلاغ پر کس قسم کی قدغن عائد کرنا نہیں ہے کیونکہ اس سارے عمل میں ذرائع ابلاغ کا کوئی قصور نہیں ان کا تو کام ہی خبرتلاش کرنا اور اسے نشر کرنا ہے لیکن اگر ایوان کے ارکان خود ہی کیمرہ کے سامنے کھڑے ہو کر معاملے کی حساسیت کا احساس کئے بغیر بلا تکان بولنا اور سب کچھ اگلنا شروع کر دیں تو اس کے لیے ذرائع ابلاغ کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا …!!!
رضا ربانی صاحب نے اگرچہ اس ضمن میں کسی رکن کا نام اپنی زبان پر لانے سے گریز کیا ہے مگر یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ یہ سینٹر نہال ہاشمی تھے جنہوں نے کیمروں کے سامنے کھڑے ہو کر گفتنی ناگفتنی سب کچھ بیان کر دیا تھا جو صرف چیئرمین ہی نہیں پورے ایوان بالا کے لیے شرمندگی اور سراسیمگی کا باعث بنا… یادش بخیر… یہ وہی نہال ہاشمی ہیںجنہوں نے کچھ عرصہ پیشتر کراچی میں ایک تقریر کے دوران اس قدر ناگفتہ بہ باتیں کہہ دی تھیں کہ جو جب سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے منظر عام پر آئیں تو وہ خود سینٹ سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گئے اور اگرچہ وہ باتیں میاں نواز شریف کی محبت میں کہی گئی تھیں مگراس قدر نامناسب، تلخ او رقابل اعتراض تھیں کہ نواز لیگ کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے خود نواز شریف کو نہال ہاشمی کو پارٹی سے خارج کرنخے کے سوا کوئی راستہ دکھائی نہ دیا… مگر پارٹی سے اخراج کے بعد انہوں نے سینٹ سے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا اور چیئرمین نے ان کی رکنیت بحال کر دی… مگر سوال یہ ہے کہ جب انہیں نواز لیگ کی بنیادی رکنیت سے ہی فارغ کر دیا گیا تو وہ سینٹ میں کس جماعت کے اور کس طرح رکن ہیں…؟؟؟

حصہ