موسم سرما اور آپ کی صحت

ڈاکٹر ماریہ عندلیب
قارئین۔۔ٹوٹا رشتہ وہیں سے جوڑتے ہیں جہاں سے توڑا گیا تھا۔
شائید مجھے نکال کر پچھتا رہے ہوں آپ۔۔
محفل میں اس خیال سے پھر آگیا ہوں میں
ٹہرئیے!!
ٹھک۔۔ ٹھک۔۔ٹھک۔۔
کسی نے دروازے پر ناک کیااور بلا اجازت ہیلو ہائے کئے بغیر دھڑام سے اندر ہی گھستا چلا آرہا۔ایسا کہ اسکا جادو سر چڑھ کر بول رہا:
آچھوں،
آچھوں!!
کھوں۔۔کھوں۔۔
سی سی!!
کھانستے لوگ بلنکٹ کے سوزوگداز میں دبکے لوگ،جرسیوں اور گرم شالوں سے سردی بھگاتے لوگ۔۔
کسی کو نزلہ،
کسی کا ماتھا گرم،
کسی کو سردی لگی توکسی کا سینہ جم رہا۔
جی یہ موسم ہے۔جو بنا پوچھے گھروں کی دہلیز ہی نہیں،موسم کی سردوگرم کی حدیں کراس کر گیا۔غرض انڈیا کی طرح دراندازی پر اترا آنکھیں دکھا رہا۔
لوگ اس سے ڈرے، چھپے پھر رہے۔کچھ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ۔۔کچھ رضائیوں کے بوجھ میں دھنسے۔۔
اور کچھ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسکی ٹھٹھرتی شاموں کا مزہ چلغوزے، اخروٹ، کاجو، پستہ، بادام اور مونگ پھلی کھا کر لے رہے۔
ڈرائی فروٹ کی دکانیں سج گئیں۔۔بلکہ انکی تو چاندی ہو گئی۔۔منہ مانگے دام وصولے جا رہے۔
تو دوسری جانب کافی کے دور،چائے کی طلب اور سوپ کی ڈیمانڈ بڑھ گئی۔
کچھ من چلے فطرت کے نظاروں کے دلدادہ ،سردی منانے مری چلے آئے تھے۔حسین موسم کا مزہ دوبالا کرنے ۔۔گہری ٹھنڈی یخ بستہ شامیں۔۔
جسم و جاں گرم گرم دھوپ کے تمنائی۔۔دل چاہتا ہے سورج کی گرم دھوپ موسم کو شکست دے کر آسودگی دے۔۔عین ان ہی ظالم لمحوں سورج جل دے گیا۔
ٹھنڈ میں ٹھٹھر گیا،سہم گیایا ڈر کے چھپ ہی تو گیا۔
ایسے میں جب اسکی ضرورت پوری شدت سے جسم و جان کر رہے تھے ۔۔سورج بادلوں کی اوٹ سے منہ چڑاتا گزر گیا۔۔یا۔۔نرا کنجوس نکلا۔مجال جو کوئی گرم گرم کرن اسکی آغوش سے نکل کر زمین پر پڑے ۔۔ بلکہ اپنی حدت اور گرمی لئے بادلوں کی اوٹ سے منہ چڑاتا یہ جا وہ جا!!
مری کا مال روڈ۔۔کشمیر پوائنٹ اور سرپھرے قدرتی حسن کے دلدادہ لوگ سورج کی اس کم ظرفی کا برا منا رہے نا گلہ کر رہے بلکہ ایسے ڈھیٹ ،تغیر پسندسنو فال کے مزے لوٹ رہے۔خون تک منجمند کر دینے
والے موسم میں برف کے گولے بنا بنا کے ایک دوسرے پر اچھال رہے۔
موٹے موٹے گرم اونی کپڑوں میں لپٹے ، سرخ سرخ ناک کے ساتھ،گرم گرم کافی اورچکن کارن سوپ کے سپ لیتے۔۔موون پکِ کے ٹیرس میں ،بھوربن PCکیTopپر چڑھے ان نظاروں سے محظوظ ہو رہے ۔
خوبصورت مناظر میں مگن و مست ہیٹر لگائے خوش گپیاں کررہے ۔تو کچھ ڈیز اِن میں اپنے کمروں کو لاک کر کے سیڑھیاں پھلانگتے ڈائننگ ہال میں اوپر آگئے۔اور پھرویٹر کو آرڈر آنے لگے ۔ ۲ کپ چائے،چار کپ کافی،اتنے عدد سوپ!!
کوئی منیو کارڈ لئے آرڈر کر رہا تو کوئی زنگر۔۔کوئی فنگر فش۔۔کوئی فش اینڈ چپس۔۔
سامنے لگی بڑی سکرین پر نیوز کاسٹر ملک کے حالات بتلا رہی لیکن ڈائننگ ہال میں بیٹھے افراد حال احوال سننے کو تیار نہیں۔
انکی اپنی مرضی ۔۔
اپنی خواہشیں۔۔
اپنے موسم۔۔
موسم کے تقاضے اورنازک نازک چینی کے کپوں سے اٹھتی بھانپ۔۔کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبوئیں، کھانوں سے سجی ٹیبلس،ٹیبلس کے درمیان رکھے گرمی پہنچاتے ہیٹرز۔۔ایسے میں کوئی کافی کا کپ تھامے باہر شوں شوں چلتی ہوائوں اور گرتی برف کو کیمرے کی آنکھ میں قید کر رہا تو کوئی موسم کے حسن میں گم!
موسم کے نئے نئے رنگ چہار سو بکھرے تھے۔فر کے کوٹ،گلوز،سوکس اورلیدر کے کیپ کچھ بھی اس سردی کو کم نہیں کر پارہے تھے۔ وہ باقائدہ اس موسم سے نبردآزما گویا کانپ رہے تھے۔

حصہ