سمندر میں غذا کا انتظام

1

قاضی مظہر الدین طارق
حیوانی پلنکٹنز (Zooplanktons) اور ان دونوں کو کھانے والی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں (Anchoes) اور جیلی مچھلیاں (jelly fishes) بھی موجود ہوتیں ہیں، چھوٹی مچھلیوں کو ان سے بڑی مچھلیاں کھاتی ہیں، بڑی مچھلیاں ان ’فائلوپلنکٹنز‘ اور ’زوپلنکٹنز‘ کو بھی کھاتی ہیں۔
٭۔دوسرا، مدھم روشن خطہ (Twilight Zone): چھ۶۰۰ سو فِٹ کی گہرائی سے تین ہزار تین سو۳۳۰۰ فِٹ کی گہرائی تک جاتا ہے، اس خطے میں ہلکی ہلکی روشنی ہوتی ہے اور درجۂ حرارت پانچ درجہ سنٹی گریڈ 5oC تک رہتا ہے ، یہاں چھوٹی مچھلیوں کو کھانے والی ان سے قدرے بڑی مچھلیاں بھی ہوتیں ہیں، ان میں بحری اسکوئرٹس (Sea Squirts) ، اوراُور فِش (Ore fish)، اور وائیپرِفِش(Wiper fish) اورضوفشانی مچھلیاں (Bioluminecent glittring fishes) بھی موجود ہوتی ہیں، ان میں دیوقامت اسکویڈز(Giant Squids) پائے جاتے ہیں یہ دنیا کے سب سے بڑے غیرفقاریہ(Invertebrate)حیوان ہوتے ہیں جن کی لمبائی چھیاسٹھ ۶۶ فٹ تک ہوسکتی ہے، سب کے علاوہ اِسپرم وہیل(Sperm Whale) بھی اپنے شکار کی تلاش میںیہاں آتی جاتی رہتی ہے۔
٭۔تیسرا،تاریک خطہ(Dark Zone): یہ خطہ، سطح سمندر سے تین ہزار تین سو۳۳۰۰ فٹ سے تیرا ہزار دو سو۱۳۲۰۰فٹ تک ہوتا ہے، یہاں پانی کا دبائو سطح سمندر سے ایک ہزار۱۰۰۰ گنا زیادہ رہتا ہے اور پھر یہاں بہت کم غذائی اجزاء پائے جاتے ہیںاور کم ہی جاندار یہاں بستے ہیں۔
٭۔چوتھا، عمیق خطہ(Abyssal Zone): یہ خطہ، تیرا ہزار دو سو۲۰۰,۱۳فِٹ سے انیس ہزار۸۰۰,۱۹فِٹ تک گہرا ہوتا ہے، یہاں سمندر کی گہرائیوں میںمسطح خطے ہوتے ہیں ان کو (Abyssal Plains) کہتے ہیں، ان میدانوں میں نرم ریت ہوتی ہے، ٹھنڈ اورمکمل اندھیراہوتا ہے، اس خطے میں بھی زندگی کم ہی ہوتی ہے، مگر کیونکہ یہاں آکسیجن نہیں ہوتی، سخت دباؤہوتا ہے، روشنی بھی نہیں ہوتی، جہاں سمندر کی تہہ میں دراڑیں (Vents) ہوتی ہیں اور ان سے لاوا اُبل رہا ہوتا ہے وہاں سخت گرمی ہوتی ہے اتنی حرارت کہ سیسہ (lead) اور قلعی (tin) بھی پگھل جائے تیل بھی اُبل جائے ایسے مقام پر ایسی مخلوقات ہوتی ہیں جو آکسیجن کے بجائے گندھک کے مرکبات استعمال کرتے ہیںاور یہ دیگر سختیاں دبائو گرمی اور اندھیرا بھی برداشت کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔
غور کریں! کیسا زبردست انتظام ہے، سمندر کے کسی بھی حصے میں کسی بھی گہرائی میںکوئی بھی جاندار غذا کی کمی کا شکار نہیں ہوتا، غذا سمندر کے ہر خطے میں پہنچتی ہے اور سمندر کی تہوں میں بھی پھیل جاتی ہے۔ ہر خطے میں اس کے ماحول کے مطابق جاندار پائے جاتے ہیں، اندھیرے میں رہنے والے، بہت زیادہ دبائو برداشت کرنے والے، پھر ایسے بھی جو آکسیجن کے بغیربھی زندہ رہ سکیں، پھر ایسے بھی جاندار ہیں جو سمندر میں قشرِارض کی دراڑوں (Vents) کے قریب رہنے والے ہیں، جہاں لاوا ابلتا رہتا ہے اور سخت گرمی ہوتی ہے اتنی گرمی کہ سیسہ(Lead) اور قلعی(Tin) بھی پگھل جائے روشنی اور آکسیجن ناپید ہو، یہاں آرکیہ بکٹیریا پائے جاتے ہیں جو گندھک کھاتے ہیں، جس کیمیائی عمل سے وہ اس کو ہضم کرتے ہیں اس سے ایک اور کیمیائی مرکب بنتا ہے، ان کو بھی کھانے والے عجیب و غریب قسم کے بہت سے جانور ہیں ان میں سے ٹیوب وارمز تو تیس تیس فِٹ تک لمبے ہوتے ہیں ۔
یہ سب حقیقتیں ہیں، کیا یہ حقیقتیں واضح اشارہ نہیں دے رہیں ہیںکہ کوئی قوت ہے جس نے اس سارے کام کی منصوبہ بندی کی ہے کہ کیسا جان دار کس مقام پر ہو اور اس کوکس طرح کی غذا کی ضرورت پڑے گی، اس کا انتظام اور پھراس غذا کے حصول کے لیے اس جان دار کی جسمانی ساخت کیسی ہونی چاہیے اس کے کھانے کے اعضاکیسے ہونا ضروری ہیں، منہ میں دانت ہوں یا نہ ہوں، دانت ہوں تو کیسے ہوں، منہ چونچ دار نوکیلا ہو یا نہیں، کسی کے آری جیسا منہ دیا، کسی کو ہتھوڑے جیسا، اس کے ماحول میں اُس کی جان اُس کو کھانے والوں سے محفوظ رکھنے کا انتظام اسی نے کیا اوریہ بھی کہ کتنا محفوظ رکھنا ہے کہ کھانے والے بھی بھوک سے نہ مریں اور کھائے جانے والوں کی نسل بھی ختم نہ ہو جائے، اُس قوت نے نہ صرف اس کا منصوبہ بنایا ہے بلکہ ہر وقت اِس کے مطابق عمل کا اہتمام کر رہا ہے، پھر ہرلمحہ اِن سب کاموں کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔

حصہ