حقیقت

مریم اکمل
یہ سردیوں کی بہت تاریک رات تھی۔ ہوائیں بہت تیزی سے جسم میں تیروں کی طرح پیوست ہو رہی تھیں اور آسمان پر کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ گزشتہ ایک ہفتے سے میں امتحانات کی تیاری کے سلسلے میں اپنے دوست یاسر کے گھر جا کر کمبائن اسٹڈی کر رہا تھا۔ آج کچھ زیادہ ہی دیر ہو گئی تھی۔ اس لیے آس پاس کوئی ذی روح نظر نہیں آرہا تھا۔ واپسی پر اچانک موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ میں نے ایک گھنے درخت کے نیچے پناہ لی اور بارش رکنے کا انتظار کرنے لگا۔ میری پیٹھ قبرستان کی طرف تھی جہاں سے اچانک آوازیں آنے لگیں۔ میں نے اسے اپنا وہم سمجھ کر زیادہ توجہ نہ دی۔ جب آوازیں تیز ہو گئیں تو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دل میں عجیب سا خوف پیدا ہونے لگا۔ بارش کے بے انتہا دباؤ کی وجہ سے قبریں اندر کی طرف دبنے لگی تھیں۔ پھر یکایک ایک قبر بالکل اندر ڈھنس گئی اور اس میں سے ایک سفید کفن پوش نکل کر میری جانب پڑھنے لگا۔ میرے اوسان خطا ہو گئے اور مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کسی نے میرے پاؤں زمین سے جکڑ دیئے ہوں۔ مگر میں نے اپنی قوت مجتمع کرکے ایک طرف دوڑ لگا دی۔ کافی دیر بعد میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دور دور تک کوئی نہ تھا۔ میرے اوسان بحال ہوئے تو میں دعا کرنے لگا کہ کوئی سواری مل جائے حالانکہ اتنی رات گئے کسی سواری کا ملنا ناممکن تھا۔ اتنے میں دور سے ایک ٹرک آتا دکھائی دیا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا اور کہا کہ مجھے بہادر آباد تک پہنچا دو۔ اس نے لے جانے کی حامی بھر لی اور آگے سامان ہونے کی وجہ سے میں پیچھے بیٹھ گیا۔ ٹرک چلا تو پیچھے رکھے تابوت نما صندوق دیکھ کر میرے اندر تجسس پیدا ہوا کہ ان کے اندر کیا ہے؟ میں نے ڈرائیور سے نظر بچا کر ایک صندوق کھولا تو میرے ہوش و حواس قابو میںنہ رہے۔ تابوت کے اندر وہی کفن پوش تھا۔ میں نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر چلتے ٹرک سے چھلانگ لگا دی اور ایک زوردار چیخ کے ساتھ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے خود کو بیڈ کے نیچے رکھے اپنے کپڑوں کے صندوق کے پاس پایا اور میرے ہاتھ میں ’’خوفناک کہانیاں‘‘ کتاب تھی جو میں رات کو پڑھتے پڑھتے سو گیا تھا۔ خود کو صحیح سلامت پا کر میں بے حد خوش ہوا اور خدا کا شکر ادا کیا کہ یہ حقیقت نہیں تھی۔ صبح اٹھ کر جب میں نے سارا خواب اپنی والدہ کو سنایا تو انہوں نے کہا کہ بے مقصد ، فضول اور خوفناک کہانیاں پڑھنے سے نہ صرف وقت کا خیال ہوتا ہے بلکہ اس طرح کیوحشت ناک خواب بھی آتے ہیں۔ اب میں نے ہمیشہ کیلئے ایسی کتابیں پڑھنی چھوڑ دیں جو حقیقت سے ذرا نہ ملتی ہوں اور جنہیں پڑھ کر ہمارا قیمتی وقت برباد ہوجائے۔ امید ہے کہ ’’ ساتھی‘‘ بھی اس سے سبق حاصل کریں گے۔

حصہ