جمعیت کی یادیں (حصہ اول)۔

احمد حاطب صدیقی
جمعیت کی ایک تاریخ توآپ کوکاغذات اوردستاویزات میں سمٹی ہوئی ملے گی۔ اخبارات کے صفحات پر بکھری ہوئی ہوگی۔ اِسے کوئی دُھن کا پکااور عزم کاپوراجمع کرنا چاہے تو وقت اورمحنت کا صرفہ کرکے جمع کرسکتا ہے۔ ایک بار تو اسے جمع کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی تھی۔’’تاریخِ جمعیت کمیٹی‘‘۔
مگر وہ تاریخ جو کاغذات‘ دستاویزات اور اخبارات کی بجائے سیکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں کی یادداشت میں پیوست ہو گی اُسے کون جمع کرے؟صرف اپنی ہی یادوں کو جمع کرنا چاہا تو بکھر کر رہ گئے۔یادیں تاریخی ترتیب کی پابند توہوتیں نہیں۔ آتی ہیں تو آتی ہی چلی جاتی ہیں۔ ایک یاد سے دوسری یا د یوں پھوٹتی ہے جیسے ایک کرن سے دوسری کرن۔یہ تمام کرنیں مل کر ماضی کی رہ گزاروں کو جگمگا کررکھ دیتی ہیں۔سو آج جب پیچھے مُڑ کر دیکھا تو:
دُور تک دامانِ ہستی کے دیے جلتے رہے
دیر تک عُمرِ گذشتہ کا خیال آتا رہا
بات سے بات نکالنے اورشعرکاجواب شعر سے دینے کی عادت بھی اُسی دورکی یادگار ہے۔ ہم چند ساتھی تو بُری طرح اِس لت میں مبتلاتھے۔ اِس کام میں زبردست ملکہ ہمارے ایک مختصر ساتھی مرزاکلیم اﷲبیگ چُغتائی کو حاصل تھا۔ جو بعد کو مزید مختصرہوکر ’کلیم چغتائی‘ ہوگئے۔(یاد رہے کہ بھائی کلیم چُغتائی ’ہم قدم‘ کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔) اُن کا ایک تاریخی خط شاید آج بھی ہمارے پاس کہیں محفوظ ہو۔ مذکورہ خط میںسلام سمیت نثر کاایک بھی فقرہ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود مدعامکمل اورمکتوبِ مرطوب مربوط ہے۔حیران نہ ہوئیے۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے پوری ملاقات کے ساتھ ساتھ گاہ بگاہ آدھی ملاقات کرتے رہنے کا رواج بھی ہمارے زمانے کے رُفقائے جمعیت میں رائج تھا۔ ہم رہ گئے ‘ ہمارازمانہ گزرگیا۔
اِس یاد سے ایک یاد یہ بھی نکل آئی کہ ہمارے ایک شریر ساتھی رضوان الحسن انصاری چُغتائی کی ’’ت‘‘ پر تشدید لگاکر مرزا عظیم بیگ چُغتائی اورعصمت چُغتائی کو بھی بڑے اہتمام سے ’’چُغَتْ تائی‘‘ کہاکرتے تھے۔
رضوان کا ایک اور قصہ یاد آگیا۔ ہمارے ایک اُستاد تھے جن کا تعلق جمعیت علمائے پاکستان سے تھا۔ اُن سے ہم دونوں نے ناظرۂ قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی۔ہم دونوں نے جب محلے کے طالب علموںمیں اِسلامی جمعیت طلبہ کی دعوت عام کرنی شروع کی تواُستادِ محترم ہمارے سخت مخالف ہوگئے۔لڑکوں کو ہم سے ملنے سے منع کرتے تھے۔ لڑکوں کے والدین کے پاس جاکر اُنھیں منع کرتے تھے کہ اپنے بچوں کو ہم سے بچائیں۔ ایک مسجد سے ہمیں نکلوا بھی دیا تھا۔ایک روز ہم دونوں ساتھ کہیں جارہے تھے کہ وہ سامنے سے آتے نظر آئے۔ رضوان نے اِصرارکیا :
’’ ان سے ملناچاہیے اور ہمیں اپنی طرف سے قطعِ تعلق کی روش اختیار نہیںکرنی چاہیے۔ آخر ہمارے اُستادرہ چکے ہیں۔ وہ خواہ کوئی بھی روش اختیارکریں لیکن اُستاد کا احترم اگرہم نہیں کریں گے تو یہ ہماری غلطی ہوگی‘‘۔
ہم مولوی صاحب کی شدید مخالفت اور اُن کی تلخ مزاجی کے سبب اُن سے ملنے سے گریز کرنے ہی میں عافیت محسوس کررہے تھے۔ مگر رضوان ہمیں گھسیٹتے ہوئے لے کر اُن کے قریب جاپہنچے۔ ہم دونوں نے اُنھیں سلام کیا۔ مگر وہ خاموش کھڑے رہے ‘ جواب نہیں دیا۔ہم ایک طرح سے اُن کا راستہ روکے کھڑے تھے۔ خاصی دیر تک وہ اسی طرح خاموش کھڑے غصے سے ہماری طرف دیکھتے رہے۔ تھوڑی دیر کے سکوت کے بعد فرمایا:’’تم دونوں ہمارے شاگرد تھے‘ بہت افسوس ہوتاہے کہ دونوں کے دونوں نالایق نکل گئے‘‘۔
وہی ہوا جس کا ہمیں ڈر تھا۔اس تلخ جواب کو سُن کر رضوان کی وہ تمام نیک خواہشات اورعزت واحترام کے سارے جذبات ہوا ہوگئے۔بھڑک کر اپنے مخصوص انداز میں تیز تیز بولتے ہوئے کہنے لگے:’’ہم آپ کے شاگرد تھے۔ نالایق نہ نکلتے تو اور کیا نکلتے؟‘‘
اورہماراہاتھ پکڑکر ہمیں گھسیٹتے ہوئے اُتنی ہی تیزی کے ساتھ وہاں سے رفوچکر ہوگئے۔مولوی صاحب دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔
ذکرہورہاتھاذوقِ شعر کا!
کراچی کے شرف آباد کلب میں سہ روزہ تربیتی اجتماع تھا۔ ہم شاعرٹائپ کارکنان کا حدسے بڑھا ہوا شعری ذوق وشوق دیکھ کر ایک چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ٹائپ ناظم صاحب نے بالائی نظم سے ہم پر پابندی لگانے کی پُرزورسفارش پیش کردی۔ ناظمِ کراچی برادر عبدالملک مجاہد پر اِس پُرزور سفارش کا مُنھ زور اثر یہ ہوا کہ اُنھوں نے ہم لوگوںسے تفریح لینے کے لیے فی الفور یہ اعلان کردیا کہ :
’’ کل تفریحی پروگرام کے طورپر اِن صاحبان کے مابین مقابلۂ بیت بازی ہوگا‘‘۔
مجاہد بھائی خود بھی صاحبِ ذوق تھے۔ اُس دورمیں کہ جب ہم امیدوارِ رُکنیت تھے‘ ایک بار اُنھوں نے ہماری رپورٹ ہمیں واپس کرنے کی بجائے اپنے پاس رکھ لی‘ اورہمیں علیٰحدہ سے ملنے کے لیے کہا۔ علیٰحدگی میں ملے توکچھ کہنے سُننے کی بجائے صرف رپورٹ تھمادی۔ اُس پر تبصرہ کے طورپر سُرخ قلم سے نہایت خُوب صُورت خط میں یہ شعر لکھا ہوا تھا:
شکستِ ساغر کی بات ہوتی تو سارامیخانہ چیخ اُٹھتا
شکستِ دل کی حقیقتوں پر کسی کو کیا اعتبار آئے؟
شعرپڑھتے ہی یا دآگیا کہ ناظمِ کراچی نے ہمیں ایک خصوصی فریضہ سونپا تھا ۔ رپورٹ میں اُس کا ذکر توبھلا کیا آتا؟ اداکرنا ہی بھُول گئے تھے۔
مقابلۂ بیت بازی کے لیے جو دو پارٹیاں بنائی گئی تھیں اُن میں برادر حُسین حقانی ہمارے حصے میں آئے تھے۔ ہم دونوں کاتعلق حلقہ ملیر سے تھا۔ اگلے روز بیت بازی تھی۔ رات کو اپنے کیمپ میں جب سونے کے لیے لیٹے توحسین نے تجویز پیش کی کہ حریفوں کو ’’ص‘‘ سے شروع ہونے والے اشعار پر مارناہے۔ چناں چہ ’’ص‘‘ پر ختم ہونے والے اشعاریاد کیے گئے۔ یاد آنے والے اشعار تعداد میں بہت کم نکلے۔ حسین کہنے لگے کہ :’’آؤ ! ص پر ختم ہونے والے اشعار پر مشتمل ایک غزل خودہی کہے لیتے ہیں!‘‘
اب آج ہم ذہن پر زوردیتے ہیں تو اُس تاریخی غزل کے مطلع کے سوا کوئی شعر یاد ہی نہیں آرہا ہے۔ ہم نے لیٹے لیٹے ایک مصرع موزوں کیا کہ:
’میری خاطر ڈھونڈکر لائے بلائیں خاص خاص‘
توکچھ دیر سوچنے کے بعد حسین حقانی نے اِس پر یہ گرہ لگائی کہ:
’ غیر کے حصے میں آتی ہیں ادائیں خاص خاص‘
پوری غزل اسی طرح مشترکہ مصرعوں سے تخلیق ہوئی تھی۔ دیگر اشعار بھی ’’وفائیں خاص خاص‘‘ اور ’’جفائیں خاص خاص‘‘ جیسے ردیف قافیوں پر مشتمل تھے۔ اب بقیہ اشعار پوچھیں تو کس سے پوچھیں ؟ حسین حقانی تو اِس مطلع پر عمل پیرا ہوکر امریکا میں غروب ہوگئے۔کسی نے کہا تھا اور نہ جانے کس پس منظر میں کہاتھاکہ:
’’مشرق سے ہر روز ایک نیا سورج طلوع ہوتاہے‘ مگر مغرب میں جاکر غروب ہوجاتاہے‘‘۔
یہ بھی سُن رکھاتھا کہ:
’جہاں میں اہلِ ایماں صُورتِ خورشید جیتے ہیں‘
مگر ہمارے جو’ اہلِ ایمان‘ اِدھر سے ڈُوب کر اُدھر کوجا نکلے ‘ وہ تو بس اُدھر ہی کے ہو کر رہ گئے ۔ اورآج ہمیں … تلخ وشیریں جام یاد آنے لگے۔ دوستوں کے نام یاد آنے لگے۔ زاہد حسین بخاری۔ عبدالملک مُجاہد۔افروزعالم۔ظہوراحمد۔ عُمرناظم۔ شفیع نقی جامعی۔ اور برادر عبیدالرحمٰن۔(اِن میں سے کچھ امریکا کو پیارے ہوگئے اور کچھ برطانیہ کو۔ دیگر یوروپی اور ایشیائی ممالک کی سمت ’’رحلتِ سعیدہ ‘‘کرجانے والوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں۔ایک بار سید خالد جامعی نے اِس موضوع پر ایک بہت دِلچسپ اورمعلوماتی مضمون تحریر کیا تھا۔ ’’ مُلک سے ذہانت کا رضاکارانہ اِنخلاء‘‘۔)
برادرعبیدالرحمن اُس وقت کراچی کے حلقۂ مضافات کے ناظم تھے‘ جب ہم جمعیت کے حلقۂ مدارس میں داخل ہوئے۔حلقۂ مضافات اُس وقت ڈرگ کالونی( اب شاہ فیصل کالونی) سے شروع ہو کر ملیرسے ہوتاہوا لانڈھی کورنگی تک جاپہنچتاتھا۔ اِسلامی جمعیت طلبہ اُس زمانے میں ہرسال ایک بین المدارس تقریری مقابلہ کا اہتمام کیاکرتی تھی۔ یہ مقابلہ تھیوسوفیکل ہال میں (بالمقابل ریڈیوپاکستان کراچی) منعقد ہوتاتھا۔ کراچی کے تقریباً تمام سرکاری اور غیرسرکاری اِسکولوں سے دو‘ دو طلبہ پر مشتمل ٹیمیں اِس مقابلہ میں شرکت کرتی تھیں۔ جس اِسکول کی ٹیم سب سے زیادہ نمبر حاصل کرتی اُس اِسکول کو سال بھر کے لیے ٹرافی دے دی جاتی ۔ جو اُس زمانے میں جمعیت کی وضع کردہ اِصطلاح کے مطابق ’’نشانِ ظفر‘‘ کہلاتی تھی۔ اب توہم فتح وظفر کی بجائے وِکٹری حاصل کر تے ہیں اورنشانِ ظفرکی جگہ ٹرافی۔ جس اِسکول کو یہ ٹرافی ملتی وہ بڑے فخر سے اِس کا اِظہارکیا کرتاتھا۔یہ ٹرافی بالعموم ادارے کے پرنسپل یا ہیڈماسٹر صاحب کے کمرے میں کسی نمایاں مقام پر سجی رہتی۔
ہم سرکاری مدرسۂ ثانویہ برائے طلبہ(گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول) سعودآبا دکے طالب علم تھے۔ ہمارے اِسکول میں جمعیت کا دعوت نامہ پہنچا تو ہمارے محترم اُستاد افسرعمران صاحب اِسکول کی طرف سے دوطلبہ کو اِس بین المدارس مقابلے کے لیے تیارکرنے پر مامور ہوئے۔ اُن کی نظرِ انتخاب دسویں جماعت کے طلبہ میں سے ہم پر پڑی اورنویں جماعت کے طلبہ میں سے سیدلیاقت علی پر۔ اِسکول میں کُل آٹھ پیریڈ ہوتے تھے۔ ہرروز نواں پیریڈ ہماری تقریر کی مشق کے لیے مختص ہوگیا ۔ ’’بزمِ مقررین‘‘ کے ممبران کوہمارے سامعین کے طورپر اِس نویں پیریڈ کے لیے رُکنا پڑتاتھا۔ مقابلے والے دِ ن افسرعمران صاحب اِسکول کے خرچے پر ہمیں ٹیکسی میںلے کر تھیوسوفیکل ہال پہنچے۔
کوئی پینتیس‘ چھتیس اِسکولوں کے ستّربہتر مقررین تھے۔ ہرایک کو پانچ پانچ منٹ کا وقت دیا گیا تھا۔ مجموعی طورپر چھہ گھنٹے سے زائد کا وقت صرف ہونا تھا۔(بعد کے برسوں میں جب شرکت کرنے والے اِسکولوں کی تعداد تجاوز کرگئی تو حتمی مقابلے سے قبل جمعیت نے ایک ابتدائی مقابلہ بھی کراناشروع کردیا ۔ اِس ابتدائی مقابلہ میں منتخب ہونے والی دس بارہ ٹیموںکو حتمی مقابلے میں مدعو کیاجاتا۔)
اُس روزمقابلہ صبح نوبجے شروع ہوا اور ہماری ٹیم کی باری دس سے گیارہ بجے کے درمیان آئی۔ ایک بجے نمازِ ظہر اور کھانے کا وقفہ ہوگیا۔ اُس دِن زندگی میں پہلی بار ہم نے ہوٹل میں کھانا کھایا۔افسرعمران صاحب نماز کے بعد ہم دونوں کولے کر دہلی مُسلم کالی ہوٹل پہنچے اور انواع واقسام کی نعمتیں میز پر چنوادیں۔بیرے کو ٹِپ دیتے ہوئے بھی اُس دِ ن ہم نے پہلی بار دیکھا۔
دوبجے دوسرے سیشن کا آغاز ہوا۔ مُنصفین میں دوست محمد فیضی‘ ظہورالحسن بھوپالی اور ضیاء الاسلام زبیری جیسے منجھے ہوئے مقررین تھے۔ مقابلہ ختم ہونے کے بعد جتنی دیر میں منصفین نے نتیجہ مرتب کیا اُتنی دیر تک ہم نے جمعیت کامختصر تعارُف اور جمعیت کی دعوت کا خلاصہ سُنا ۔ موقع سے فائدہ اُٹھا کر مہمانِ خصوصی نے بھی خطا ب کرلیا اور بلاامتیاز تمام مقررین کو سراہا۔فرمایاکہ بعض مقررین کی تقریریں تو ہمارے اراکین اسمبلی کی تقریروں سے بھی زیادہ معیاری تھیں۔
ضیاء الاسلام زُبیری صاحب نتائج کا اعلان کرنے اسٹیج پر آئے۔ تیسرے انعام سے اعلان کا آغاز کیا گیا جو سیدلیاقت علی کوملا تھا۔ ہمارا دِل دھڑدھڑدھڑدھڑکنے لگا۔ دوسراانعام کسی اور اِسکول کے حصے میں آگیا۔مگرجب پہلے انعام کااعلان ہوا تو بہت دیرتک یقین ہی نہیں آیا۔ بہر حال ’’نشانِ ظفر ‘‘ ہمارے اِسکول کومل چُکا تھا۔ دس انعامات پیچھے رہ جانے والے مقررین کی حوصلہ افزائی کے لیے تھے۔ انعام یافتگان سمیت تمام شُرکائے مقابلہ کو ’’نشانِ شرکت‘‘ بھی دیا گیا جو ایک ’’صداقت نامہ‘‘ اورکتابوں کے ایک خوب صُورت پیکٹ کی صُورت میں تھا۔ انعام یافتگان کو جمع کرکے مہمانِ خصوصی جناب محموداعظم فاروقی کے ساتھ ایک گروپ فوٹو کھنچوایاگیاجواگلے روز کے اخبارات میں شائع ہوا۔
جاری ہے

حصہ