برصغیر میں اسلام کے احیا اور آزادی کی تحریکیں (پندھرواں حصہ)۔

قسط نمبر 116
پاکستان کا آئین نافذ تو ہو چکا تھا مگر اسکندر مرزا کو یہ پوری طرح ہضم نہیں ہو پارہا تھا۔ وہ پہلے دن سے ہی نجی محفلوں میں آئین پاکستان کے خلاف زہر افشانی فرماتے رہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ آئین پاکستان مشرقی اور مغربی پاکستانیوں کے حقوق کا صحیح معنوں میں تحفظ نہیں کرسکتا تھا۔ اور اس آئین کو کٹ ملا افراد نے زبردستی نافذ کروایا ہے۔ سرکاری محافل میں بھی وہ اپنے تحفظات کا برملا اعلان کرنے سے نہیں ہچکچاتے تھے۔ اس دوران مسلم لیگ اپنے اندرونی اختلافات میں الجھ کر رہ گئی۔ اسکندر مرزا کے ماسٹر مائنڈ ذہن کی پیداوار ریپبلکن پارٹی نے مسلم لیگ کا شیرازہ بکھیر دیا تھا گورنر جنرل اور وزیر اعظم چوہدری محمد علی کے درمیان اسی رسہ کشی کی وجہ سے اختلافات بھی پیدا ہوچکے تھے جس کا انجام وزیر اعظم چوہدری محمد علی کے استعفیٰ پر ہوا۔ وزیراعظم چوہدری محمد علی نے نہ صرف وزارت عظمیٰ چھوڑی بلکہ مسلم لیگ کی پارٹی رکنیت سے بھی استعفیٰ دیا۔
پاکستان کے آئین کی منظوری کے بعد گورنر جنرل کا عہدہ ختم ہوچکا تھا۔ لہٰذا اسکندر مرزا کو گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر صدارت کا حلف اٹھانا پڑا۔ اس طرح پہلی بار گورنر جنرل کی جگہ صدر مملکت کا عہدہ وجود میں آیا اور حسین شہید سہروردی جن کا تعلق عوامی لیگ (بنگال) سے تھا، کو 1956 میں وزارت عظمیٰ ملی۔ واضع رہے کہ گورنر جنرل اسکندر مرزا اور وزیر اعظم سہروردی دونوں ہی کا تعلق بنگال سے تھا۔
گورنر جنرل اسکندر مرزا کا آبائی گھر کولکتہ سے 200 کلومیٹر دور مرشد آباد میں واقع تھا۔ ان کے والد محمد فتح علی مرزا بنگال کے آخری نواب منصور علی خان کے پوتے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد اسکندر نے اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان میں رہنے کا انتخاب کیا۔ بنگال کے میر جعفر جو اسکندر مرزا کے پر دادا تھے۔ بنگالی عوام میر جعفر کو‘‘ لارڈ کلائیو کا گدھا‘‘ کہتے تھے۔ پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا اس کی نسل سے تھے۔
علامہ اقبال نے کہا تھا
جعفر از بنگال و صدق از دکن
ننگ آدم ننگ دین ننگ وطن
7جولائی1955کو دوسری قانون ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس مغربی پاکستان کے پر فضاء مقام مری میں طلب ہوا۔ 8جنوری 1956 کو آئین کا ترامیم شدہ ڈرافٹ پیش کیا گیا جسے کچھ تبدیلیوں اور من چاہی رد و بدل کے بعد 29 فروری 1956 کو منظور کر لیا گیا ترامیم شدہ آئین کو 23 مارچ 1956 میں “اپنی مرضی” کی شکل دے کر نافذ کر دیا گیا۔ حسین شہید سہروردی کی حکومت عوامی لیگ اور حکومتی پروردہ ریپبلکن پارٹی کے اشتراک سے وجود میں آئی تھی۔ مگر اس کو محض تیرہ ماہ ہی ہوئے تھے کہ مغربی حصے کی حکومتی پارٹی ریپبلکن پارٹی نے عوامی لیگ پر عدم اعتماد کا مظا ہرہ کرتے ہوئے عوامی لیگ سے تعلق توڑنے کا اعلان کرد یا۔ وزیراعظم حسین شہید سہروردی سے اسکندر مرزا نے استعفیٰ طلب کیا اور ا ن کو وزارت عظمی سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اس کے بعد قرعۂ فال جناب اسماعیل ابراہیم چندریگر کے نام نکلا، وہ بمشکل دو ماہ وزیر اعظم رہے۔ 18 اکتوبر 1957 کو آئی آئی چندریگر مخلوط حکومت میں پاکستان کے چھٹے وزیر اعظم بن گئے آئی۔ آئی۔ چندریگر 1950 سے 1951 تک صوبے سرحد کے گورنر رہے تھے اور پھر 1951 سے 1953 تک پنجاب کے گورنر بھی رہے۔ آئی آئی چندریگر 1955-56 میں وزیر اعظم چوہدری محمد علی کی مرکزی کابینہ میں وزیر قانون بھی رہے اور 1956 کے آئین کا مسودہ تیار کرنے میں بھی آپ کا اہم کردار رہا۔ 16 دسمبر 1957 کو وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔ دو ماہ بعد ہی مغربی پاکستان سے فیروز خان نون جن کو چھ پارٹیوں بشمول ریپبلکن پارٹی حمایت حاصل تھی وزیر اعظم بنایا گیا۔
سوچے سمجھے طریقے سے جمہوری عمل کو کس طرح سے گندا کیا گیا اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ آئین کے نفاذ کے تین سال کے اندر اندر مرکز میں چار حکومتیں بنائی اور ہٹائی گئیں۔ ان حکومتوں میں مجموعی طور پر گیارہ سیاسی جما عتیں شامل رہیں اور ان میں ریپبلکن پارٹی ہر حکومت کا اہم حصہ رہی۔
قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامے میں خیال ظاہر کیا کہ ان سب برخواستگیوں اور جوڑ توڑ میں صدر اسکندر مرزا کا ہاتھ تھا۔ اسطرح اسکندر مرزا تین باتیں ثابت کرنا چاھتے تھے۔ اولا ‘نیا آئین قا بل عمل نہیں’۔ دوئم یہ کہ ‘ملک بھر میں کوئی بھی سیاسی شخصیت ایسی نہیں جو مستحکم سیاسی حکومت بنائے’۔ سوئم یہ کہ ‘عملی سیاست میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں جو ملک کے دونوں حصوں(مشرقی و مغربی) کا اعتماد حاصل کرکے حکومت کا کاروبار سنبھال سکے۔ اور تین سال کے اندر اندر انھوں نے اپنا بڑا مقصد حاصل کرلیا کیونکہ اس عرصے میں ملک میں تقریبا تمام سیاسی پارٹیاں اور اہم رہنما کے بعد دیگرے حکومت میں شامل ہوکر یا ناکام ہوچکے تھے یا ناکام کردئے گئے تھے۔
اسکندر مرزا اپنے منصوبے میں چونکہ خاصی حد تک کامیاب ہوچکے تھے اور عوام بار بار کی حکومتی ناکامیوں سے بد دل بھی تھے چناچہ مقتدر حلقوں نے “جمہوریت کی بساط” لپیٹنے کا اصولی فیصلہ کرلیا۔ اچانک جون1958 میں اسکندر مرزا نے وزیراعظم فیروز خان نون کو ایک مراسلہ لکھا جس میں تاکید کی گئی تھی کہ بری فوج کے کمانڈر انچیف کے طور پر جنرل محمد ایوب خان کی ملازمت میں دو سال کی توسیع کا فرمان جاری کیا جائے۔ اس مراسلے میں”most immediate” کا ٹیگ بھی لگا دیا گیا۔
قدرت اللہ شہاب جن کے ذریعے یہ مراسلہ اسکندر مرزا نے وزیر اعظم سے دستخط کے لیے بھجوایا تھا ‘ان کے مطابق’ کاغذ کے اس چھوٹے سے پرزے نے ہمارے ملک کی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر جون 1958 میں جنرل ایوب خان کی ملازمت میں دو سال کی توسیع نہ ہوتی تو پاکستان کی تقدیر کا ستارہ جس انداز سے چمکتا، اس کا زائچہ تیار کرنے میں کسی خاص علم نجوم کی ضرورت نہیں ہے’۔
یہی سال ملک میں عام انتخابات کا سال بھی تھا۔ اگر انتخابات کا اعلان ہوتا تو دستور کی رو سے اسکندر مرزا کو صدارت سے دستبردار ہونا پڑتا۔ کیونکہ دستوری لحاظ سے کوئی سربراہ مسلسل دو مرتبہ صدر نہیں رہ سکتا تھا۔ یا تو میجر جنرل اسکندر مرزا کو صدارت سے الگ ہونا تھا یا پھر استعفیٰ دے کر اسمبلی سے دوبارہ منتخب ہونا تھا۔ اپنے سر پر الیکشن کی تلوار لٹکتے دیکھ کر زیرک اسکندر مرزا نے انتخابات کو ایک سال آگے بڑھادیا۔
اسکندر مرزا نے انتخابات کے عمل سے مستقل جان چھڑانے کے لیے کئی حربے آزمائے۔ سیاسی رہنماؤں کو پیسے کی لالچ بھی دی اور انقلابی کونسل کی تجویز بھی سیاسی حلقوں میں پھیلائی جس کا مقصد یہ تھا کہ خود مارشل لاء ایڈمنسٹر بن کر راج کرسکے۔ اس کے لیے نواب آف بھوپال کو وزیراعظم بنانے کا جھانسہ بھی دیا اور بالاخر نواب آف بھوپال کو کراچی بھی طلب فرمالیا۔ راجہ صاحب محمود آباد کو بھی اسی طرح کی آفرز دی گئیں۔ نواب آف قلات کو بھی اس منصوبے میں شامل کیاگیا۔ اقتدار اور تسلط کی اس جنگ میں ایک جانب زیرک اسکندر مرزا تھا تو دوسری جانب مقتدر حلقوں کا نمائندہ محمد ایوب خان تھا۔ کمانڈر انچیف محمد ایوب خان اس تمام صورتحال کو عقابی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
7 اور 8 اکتوبر 1958 کے درمیان ملک بھر میں مارشل لاء نافذ ہوچکا تھا اور جنرل محمد ایوب خان چیف مارشل لاء ایڈ منسٹر بن چکے تھے۔
بعد ازاں اسکندر مرزا کی صدارتی کرسی ڈا نما ڈ ول رہنے کے بعد پر امن طور پر ساحل پر لگ چکی تھی مگر اس حال میں کہ جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو معزول کر دیا تھا۔ 26 اکتوبر1958 کو آرمی کے کمانڈو دستوں نے ایوان صدر کو اپنے حصار میں لے لیا۔ تین جرنیل اور ایک برگیڈیئر نے اسکندر مرزا سے مذاکرات کیے اور کرسی صدارت سے اتا ر کر کوئٹہ روانہ کیا۔
اس طرح جو جمہوریت پہلے ہی سسک سسک کر جی رہی تھی آئین کی منسوخی نے اس کا گلا اور بھی گھونٹ دیا۔ مرکزی اورصوبائی کابینہ برطرف اور قومی اور صوبائی مقنّہ تحلیل کردی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ایوب نے کہا کہ ہمارا پہلا اورآخری مقصد جمہوریت کی بحالی ہے لیکن ایسی جمہوریت جسے لوگ سمجھ سکیں اور جو لوگوں کے کام آسکے۔ یہ مارشل لاء 8 جون 1962 تک نافذ رہا۔
( جاری ہے )

حصہ