بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو

2

قدسیہ ملک
سوال: کلنٹن نے استعفیٰ کیوں دیا؟ جواب: مونیکا اسکینڈل کے بعدرائے عامہ اسکے خلاف ہوگئی تھی، سوال: ہلیری صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں واضح اکثریت سے کیوں ہار گئی؟ جواب: ایجنڈے کے علاوہ رائے عامہ ٹرمپ کے حق میں تھی، سوال: صدر صدام حسین کو اقتدار سے کس نے ہٹایا؟ جواب: رائے عامہ نے، سوال: خمینی انقلاب میں کس کی وجہ سے آیا تھا؟ جواب: رائے عامہ کی، سوال: سیاہ فاموں کے حق میں آواز بلند کرنے والے نیلسن مینڈیلا کو کس نے ہیرو بنایا؟ جواب: رائے عا مہ نے، حسن البناء کس طرح اپنے افکار مصری معاشرے میں پھیلانے میں کامیاب ہوئے؟ جواب: رائے عامہ میں اپنے کردارکے ذریعے، شیخ احمد یاسین نے فلسطینیوں کو کس طرح ایک سپر پاور کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا سیکھایا؟ امام مودودی کی انقلابی سوچ نے اسلامی تحریکوں میں کیسے جان ڈالی؟ رائے عامہ کی بدولت، سندھ محمد بن قاسم کی کوششوں سے باب السلام کیسے بنا؟ رائے عامہ کے ذریعے، مسلمان حکمرانوں نے ہندوستان پر 1000 سال کیسے حکومت کی؟ جواب: رائے عامہ کی بدولت، غرض1857ء کی جنگ آزادی کے محرکات و اسباب ہوں یا قائداعظم کی کوششوں سے الگ مملکت کا قیام، خطے میں 1965ء جنگ کی فتح ہو یا1971ء کی ناکامی ہر جگہ رائے عامہ کے بنیادی و لازمی وناگزیرمحرک کو نظر انداز کیا جانا ناصرف یہ کہ ناممکن ہے بلکہ اس کی موجودگی کے بغیر کوئی بھی تحریک ناکام و نامکمل ہے۔ یہ رائے عامہ آخرہے کیا؟ کس کی بدولت وجود میں آتی ہے؟ اس کی خصوصیات کیا ہیں؟ کیا ایک فرد ایک قوت کے اس رائے عامہ کی بدولت ابھرکر سامنے آسکتاہے؟ کیا یہ رائے عامہ ہیرو کو زیرو اور زیرو کو ہیرو بنانے کا فن رکھتی ہے؟ آئیے غور کرتے ہیں۔۔!!
مشہور سماجی مفکر مورس گنسبرگ (Morris Ginsberg)کہتاہے “رائے عامہ ایک سماجی پیداوار ہے جومعاشرے کے بہت سے اذہان کے باہمی عمل اور ردعمل کے نتیجے میں پیداہوتی ہے”۔ فرہنگ عمرانیات (Dictionary Of Sociology) کے مطابق”آبادی کی اکثریت کاکسی خاص مسئلے کے متعلق ایسے رجحان جو حقیقی گواہی کی قابل مقدار حصہ پر مشتمل ہو اور جس میں کسی قدرغور و فکر، تجربہ و استدلال شامل ہورائے عامہ کہلاتی ہے”۔ ایل ڈبلیوڈ یوب (L.W.Dube) کہتاہے” ایک ہی معاشرتی گروہ سے متعلق افراد کا کسی مسئلہ کے بارے میں رجحان یاکردار رائے عامہ ہے”۔
ان تعریفوں سے رائے عامہ کی جو واضح تعریف ہمارے سامنے آئی ہے وہ یہ کہ رائے عامہ کی کسی ایک فرد کی اس کی ذاتی معاملے پر رائے نہیں بلکہ رائے عامہ عوام کی کسی ایک مسئلے پر رائے ہے۔ عوام کی یہ رائے بھی معاشرے کے مختلف گروہوں، افراد کے آپس میں ایک دوسرے کے خیالات کے بعد جو رائے قائم ہو اسے رائے عامہ (Opinion Public) کہتے ہیں۔
اس رائے عامہ کی بہت سی خصوصیات ہوتی ہیں۔
1۔ رائے عامہ افراد کی سوچی سمجھی رائے ہوتی ہے۔
2۔ رائے عامہ دلائل پر مشتمل ہوتی ہے۔
3۔ رائے عامہ اجتماعی کردار کی ایک بہترین مثال ہے۔
4۔ رائے عامہ میں ہر فرد کی رائے شامل نہیں ہوتی۔
5۔ رائے عامہ کا تعلق جمہوری معاشرے سے ہوتاہے۔ بادشاہت اور آمریت میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی
رائے عامہ کے لیے ضروری ہے کے معاشرے کے مختلف افراد اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ رائے عامہ کے لیے تعداد کا ہونا بھی ضروری نہیں۔ یہ تھوڑے افراد کی رائے بھی ہو سکتی ہے اور ایک بہت بڑی تعداد کی رائے بھی ہو سکتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک میں رائے عامہ کے محرکات مختلف ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی خاص ایجنڈے کے تحت رائے عامہ کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن ترقی پذیر ممالک میں آج تک رائے عامہ سے زیادہ قلیل لیکن مقتدر حلقوں کی رائے کی اہمیت زیادہ ہے۔ اس کے پیچھے بہت سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ کہیں امداد کی شرائط کہیں اقتدار کے ٹولے کی بیجا آزادی کہیں رائے عامہ کی آواز کو مختلف حربوں سے ناکام بناناتو کہیں مقتدر حلقوں کی نافرمانی شمار کرتے ہوئے عوامی رائے کو جرم سے تشبیہ دیتے ہوئے رائے عامہ کودبایا جاتا ہے۔ الحمدللہ پاکستان ایک آزاد اور جمہوری ملک ہے لیکن یہاں فیصلے آمریت اور بادشاہی نظام سے مماثل ہوتے ہیں۔ یہاں جمہوری رائے سے زیادہ فرد واحد کی رائے کو فوقیت حاصل ہے۔ مثال کے طور پرگیلپ سروے 2011 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 80 فیصد آبادی پاکستان میں مکمل اسلامی نظام کے حق میں ہے۔ لیکن اس آواز یعنی رائے عامہ کی آواز کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دبایا جاتا ہے اور دبایا جاتا رہے گا۔ پاکستان کی70 فیصد آواز کو دباتے ہوئے بیرونی قرضے میں جکڑے ہمارے حکمران نے اپنے اثاثوں کی حفاظت کرتے ہوئے ایمان کا سودا کرلیا۔ اورعاشق رسولؐ کو تختہ دار پر چڑھا دیا، خود ساختہ آقاوں کی غلامی کرتے ہوئے رائے عامہ کی بھی پروا ناکی اور امریکی جاسوس ریمنڈڈیوس کو اپنے آقاوں کے حوالے کردیا، رائے عامہ کی مکمل مخالفت کے باوجود لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو فاسفورس بموں سے ختم کردیا، مغربی پاکستان کی مخالفت کے باوجود مشرقی پاکستان حکمرانوں کے فیصلوں اور سازشوں کی نظر ہوگیا۔ وانا وزیرستان امریکی چھاونیاں بن گئیں، تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت اپنے ہی ملک میں اپنے ہی مکین بے آسراء اور لاوارث ہوکر ہجرت پر مجبور ہوگئے۔ اصولی طور پر جمہوری رائے کا احترام کرتے ہوئے رائے عامہ کے فیصلوں کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنا ایک ذمہ دار معاشرے کی نشانی ہوتی ہے۔ معاشرے اسی طرح ترقی کا سفر کرتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات سے بھی یہی زریں اصول نکلتے ہیں۔ حضرت عمر بطور حاکم وقت عوام میں اس بات کے جواب دہ تھے کہ ان کے پاس قمیض کا کپڑا زیادہ کیسے ہوگیا کیونکہ وہ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھتے تھے۔ بقول شاعر
بجاکہے جسے عالم اسے بجا سمجھو
زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو
آنحضورؐ نے امیر عورت کے چوری کرنے پر بھی اسی سزا کا اطلاق کیا جو اسلام کے نزدیک چور کی سزا تھی۔ اس وقت سفارش کرنے والے صحابی پر غضب ناک ہوئے اور فرمایا تم سے پہلے کی امتیں بھی اسی وجہ سے تباہ ہوئی کہ جب کوئی امیر آدمی چوری کرتا تو اسے معاف کردیا جاتا لیکن غریب کو سزادی جاتی خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بنت محمد چوری کرتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیئے جاتے۔ رائے عامہ کو اپنے کردار اپنے بہترین ابلاغی حکمت عملیوں سے ہموار کیا یہاں تک کہ مسلمان آدھی سے زیادہ دنیا کوفتح کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ دن کے راہی رات کے سپاہی ہواکرتے تھے۔ راتوں میں اپنی بستیوں میں میں پہرہ دیتے تاکہ عوام کو کوئی تکلیف نا ہو۔ حضرت عمر کا یہ جملہ کہ “اگر دریائے فرات کے کنارے بکری کا بچہ بھی بھوک سے مرجائے تو عمر رب کے آگے جواب دہ ہے” رائے عامہ تشکیل دینے کی بہترین حکمت عملی تھا اور صرف گفتار ہی نہیں کردار کے بھی غازی تھے کہ آج تک مغربی ممالک میں عمر لاء پر تحقیق در تحقیق ہو رہی ہے اور یہ قانون ترقی یافتہ معاشروں میں نافذ العمل بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن یہاں پاکستان میں رائے عامہ اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے میڈیا، پریشرگروپوں، قانون ساز اداوروں اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ذریعے رائے عامہ تشکیل دی جاتی ہے۔ ایک خاص اپجینڈے کے تحت سماج کو اپنی رائے پر ہموار کرکے رائے عامہ کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں رائے عامہ دبتے دبتے ایک لاوے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ پھر دھونس، زبردستی ان سرفروشوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی وہ حق کی پاداش میں تختہ دار سے بھی نہیں ڈرتے اور قانون کی نظر میں مجرم ٹھہرتے ہیں۔ مصر میں اخوان المسلمون کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کا قصور صرف اتنا ہے کہ مذہب اسلام کی صحیح تعلیمات ایک اسلامی ملک میں بذریعہ تبلیغ پھیلاتے رہے اور حاکم وقت کے ہاتھوں تختہ دار کو چومتے رہے، اذیت ناک مظالم بھی ان کو ان کے مقصد سے ناہٹا سکے۔ وہ بنگلہ دیش ہو یا مصر وہ فلسطین ہو چیچنیا رائے عامہ کے یہ رہنما بظاہر کسی جگہ پذیرائی نہ پا سکے لیکن رب کی نظر میں اپنا مقام بناگئے۔
بقول شاعر
گر اک چراغ حقیقت کو گل کیا تم نے
تو موج خون سے صد آفتاب ابھریں گے
بحثیت امت مسلمہ ہم ایک جسم کی مانند ہیں۔ ہر فرد کی ایک اہمیت ہے ، ہر فرد ملت کے مقرد کاستارہ ہے، ہر فرد اپنی جگہ اہم ہے۔ انقلاب بھی رائے عامہ ہموار کرنے سے ہی آتے ہیں ہر فرد جب اپنی ذمہ داری ادا کرے گا تو معاشرہ خود بخود صحیح اصولوں پر استوار ہوگا۔ پھر کوئی شارخ جتوئی کسی غریب کی اولاد کو قتل کرکے بیرون ملک نہیں بھاگے، کوئی بسمہ وی آئی پی پروٹوکول کے ہاتھوں جان کی بازی نہیں ہارے گی، کوئی ملک کے ذخائر سوئس بینکوں میں رکھوا کر کروڑ پتی نہیں بنے گا، کوئی پانامہ لیکس میں کرپشن کا مجرم عدلیہ پر انگلی نہیں اٹھائے گا، کوئی آمر ملکی ذخائر غیروں کے پاس رہن رکھوا کر غیر ملکی جائدادیں نہیں بنائے گا، کوئی ملک کی زمینیں بیرون ملک نہیں رکھوائے گا۔ رائے عامہ اتنی مضبوط بنانے کے لیے ہر فرد کو اپنے حصے کاکام کرنا ہے۔ ہم فرقوں، ذاتوں، گروپوں اور مسلکوں میں اسٹیٹس میں بٹے ہوئے ہیں، ہم اپنے سے کم درجہ رکھنے والوں کو سلام میں پہل نہیں کرتے، ہم دنیا کی دوڑ میں اتنے آگے جا چکے ہیں کہ دوسروں کو نیچا دکھا کر تسکین حاصل کرتے ہیں۔ پھر ہم یہ کہتے ہیں کہ حکومت خراب ہیں کیا ہم نے اپنے گھر کی حکومت کو اسلامی طرز پر استوار کیا ہے؟ ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو روز قیامت نبیؐ کیے دیدار کی حسرت لیے ہیں یقینا ہم سب ہی یہ خواہش رکھتے ہیں لیکن کیا ہم یہ بات جانتے ہیں کہ آنحضورؐ کے وصال کے وقت ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا لیکن اس وقت گھر میں گیارہ تلواریں موجود تھیں۔ تو کیا یہ سب باتیں صرف زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں؟ کیا آج بھی ہم امریکہ کینیڈا کی شہرت حاصل کرنے کے لیے بے چین نہیں؟
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ “ہم پاکستانیوں کا سب سے بڑا المیہ ہماری سوچ ہے۔ ہم امریکی شہرت تو چاہتے ہیں لیکن دفن مکے مدینے مین ہونا چاہتے ہیں”
کیا آپ جانتے ہیں امریکہ کی شہرت حاصل کرنے کے لیے آپ کو جن وعدوں پر دستخط کرنا پڑتا ہے اس میں آپ کے ایمان، ملک اور قوم سب کو رہن رکھوانا پڑتا ہے۔ دارلکفر اور دارلاسلام کا فرق کیا صرف کتابوں کی حد تک محدود ہے۔ میں یہ نہیں کہتی وہاں سب خوشی سے رہتے ہوں گے۔ اسلام کا کام کرنے والے ہم سے زیادہ وہاں نو مسلم موجود ہیں۔ اب پاکستان میں رہتا ہوا مالی لحا ظ سے مستحکم شخص اپنا سب کچھ چھوڑ کرصرف اس لیے امریکہ چلا جائے کہ یہاں زندگی کو خطرہ ہے تو موت تو وہاں بھی آنی ہے۔ موت تو اٹل ہے کسی وقت کسی جگہ بھی آسکتی ہے۔ سسٹم کو برا کہنے سے بہتر ہے اپنے حصے کی شمع جلا دیجیے۔ اس چڑیا کی طرح چونچ میں پانی کا قطرہ جمع کر کے حاکم وقت کی لگائی ہوئی آگ میں ڈالیے کہ آپ کا فرض ادا ہوجائے۔ حالات کا شکوہ کرنے والے بزدل لوگ ہوتے ہیں بقول شاعر
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
تو حصے کی شمع جلانے کے لیے مجھے آپ کو زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں یہ کام گھرکی اکائی سے شروع ہوکر سماجی و معاشرتی اداروں تک پہنچے گا۔ امام مودودی کی 75 نفوس پر مشتل جماعت اسلامی آج پوری دنیا میں اپنا مشن لیے پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہی ہے۔ فوت فیصلہ مضبوط کیجیے، لوگوں سے محبت کیجیے، لوگوں کو اپنے ساتھ ملائے، محبتیں باٹیے، اپنی اور اپنے جیسے ہم خیال افراد کے ساتھ محبت و ربط کا بندہن باندھ کر رکھئے۔ رائے عامہ ہم ہی جیسے مٹھی بھر افراد مل کر قائم کرتے ہیں۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا
فرد سے افراد، افراد سے معاشرے اور معاشروں سے ہم خیال تحریکیں وجود میں آتی ہیں۔ فرد کا ربط آپس میں مضبوط ہوگا تو اس آواز کو بڑھنے سے پھر کوئی نہیں روک سکتا۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہاکچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

حصہ