تعلیمی میدان میں پاکستان دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہے‘ شاہد وارثی

شاہد وارثی: پاکستان میں تعلیمی نصابی کتب کی اشاعت سے وابستہ اداروں کی اکثریت تجارتی بنیادوں پر کام کرتی ہے جن کا بنیادی مقصد کاروبار اور نفع کمانا ہے، جب کہ ’’آفاق‘‘ کا مطمح نظر محض نفع کمانا نہیں، بلکہ ہم ایک مقصد کو پیش نظر رکھ کر کام کرتے ہیں اور جو نفع ہمیں حاصل ہوتا ہے وہ بھی ہم تعلیم ہی کی بہتری کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ بچوں میں اسلام، اسلامی اقدار اور پاکستانیت کو فروغ دینا ہماری انفرادیت ہے۔ ہماری دوسری انفرادیت یہ ہے کہ ہم نصابی کتب کی تیاری میں دنیا بھر کے جدید تعلیمی رجحانات کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ ہم دنیا بھر کے اہم ملکوں کے نصاب کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنا نصاب ترتیب دیتے ہیں۔ ہم بیرونی دنیا کی اندھی تقلید بھی نہیں کرتے بلکہ اپنی کتب کے لیے مواد کے حصول اور اس کی ادارت کے دوران پاکستان کی ضروریات کو خاص طور پر ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔ نصابی کتب میں اپنی دینی و ملّی اقدار اور پاکستانی تہذیب و ثقافت کی عکاسی ہمیشہ ہمارے پیش نظر رہتی ہے۔ یہ ایسی انفرادیت ہے جو ’’آفاق‘‘ کو دوسرے اداروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس مقصد کی خاطر ’’آفاق‘‘ میں تحقیق و تجزیے کا ایک مکمل شعبہ قائم ہے جس میں سو سے زائد لوگ کام کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نصاب سازی کے شعبوں سے بھی رابطے میں رہتے ہیں اور ان سے مل کر کام کرتے ہیں تاکہ قومی ضروریات کو بہتر سے بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
جسارت: نصاب اور کتاب کی تیاری کے دوران آپ کی ترجیحات کیا ہوتی ہیں؟
شاہد وار ثی: نصاب کی تیاری کے دوران ہماری توجہ دو چیزوں پر مرکوز رہتی ہے، اول: بچے کے کردار کی تعمیر، اور دوئم: اس کی ذات میں پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان دونوں چیزوں کو بہتر انداز میں پروان چڑھا کر ہی متوازن شخصیت تشکیل دی جا سکتی ہے۔ ہم جس مضمون کی کتاب تیار کرتے ہیں اس میں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ بچے میں وہ مہارت پیدا کی جائے جو آئندہ زندگی میں موجودہ دور کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت پروان چڑھائے اور اس کے کردار کی اٹھان اس انداز میں ہو کہ وہ اپنے دین اور ملک کی بہتر انداز میں خدمت کرسکے۔
جسارت: پاکستان میں پڑھائے جانے والے نصاب اور کتب میں ’’آفاق‘‘کا حصہ اور تناسب کیا ہے؟
شاہد وار ثی: ’’آفاق‘‘ ملک بھر میں خدمات کی فراہمی میں سرفہرست ہے۔ تعلیم سے وابستہ شعبہ جات کے لوگ کتب اور تربیتِ اساتذہ کے حوالے سے سب سے زیادہ ہماری خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس ضمن میں جتنی رسائی ہمیں حاصل ہے نجی شعبے کے کسی دوسرے ادارے کو حاصل نہیں۔ وفاقی حکومت، صوبہ خیبر اور آزاد کشمیر کی حکومتیں اور نجی شعبے کے ہزاروں اسکول ’’آفاق‘‘ کی نصابی کتب سے استفادہ کررہے ہیں۔
جسارت: نظامِ تعلیم میں اساتذہ کی تربیت کی اہمیت کیا ہے اور ’’آفاق‘‘ کا کردار اس ضمن میں کیا ہے؟
شاہد وار ثی: نظامِ تعلیم میں تعلیمی اداروں کے پرنسپلز، اساتذہ، طلبہ اور والدین کی تربیت کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اس لحاظ سے ’’آفاق‘‘ ملک کا سب سے بڑا اور نمایاں ادارہ اور مرکز ہے۔ کتب کی تیاری، اشاعت اور طباعت کے ساتھ ساتھ اساتذہ و طلبہ اور والدین کی تربیت کی خدمات میں بھی ’’آفاق‘‘ کا کوئی ثانی نہیں۔ ہر سال دس ہزار پرنسپلز اور بیس ہزار اساتذہ ہماری خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔ اب تک ہم تین لاکھ اساتذہ اور 35 ہزار پرنسپلز کی تربیت کرچکے ہیں۔ اس شعبے میں ہماری خدمات صرف پاکستان تک محدود نہیں، بلکہ یورپ، مشرق وسطیٰ، افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا خصوصاً سری لنکا، انڈونیشیا اور ملائشیا وغیرہ میں ہم تعلیم کے شعبے میں تربیت کی خدمات فراہم کررہے ہیں۔
جسارت سنڈے میگزین: آپ کو مختلف کانفرنسوں اور تربیتی ورکشاپس میں شرکت کے لیے بیرونِ ملک دوروں کا موقع بھی ملتا رہتا ہے، ہم تعلیمی نظام کے حوالے سے بین الاقوامی برادری میں کہاں کھڑے ہیں اور دیگر ممالک کے تجربات سے ہم کیونکر استفادہ کرسکتے ہیں؟
شاہد وار ثی: تعلیم کے میدان میں حکومتی سطح پر ہم دیگر ممالک سے خاصے پیچھے ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اقتصادی لحاظ سے بعض ہم سے غریب ممالک میں بھی تعلیم کی صورت حال ہم سے بہتر ہے۔ سری لنکا اور جنوبی ایشیا کے بعض ممالک اپنی معاشی پسماندگی کے باوجود شرح خواندگی اور تعلیمی معیار کے لحاظ سے ہم سے آگے ہیں۔ مجھے تیس سے زیادہ ملکوں کے دورے کا موقع ملا ہے، ان میں اکثریت کے مقابلے میں نظام تعلیم، نصاب اور تربیتِ اساتذہ کے حوالے سے پاکستان بہت پیچھے ہے۔
جسارت: آپ اپنے تجربات کی روشنی میں صورتِ حال کی بہتری کے لیے کیا اقدامات تجویز کریں گے؟
شاہد وارثی: درحقیقت نجی شعبے میں تو اس میدان میں اب خاصا کام ہورہا ہے مگر حکومتی سطح پر ابھی خاصی کوششوں کی ضرورت ہے۔ تربیتِ اساتذہ کے مراکز کو مؤثر بنانا بہت ضروری ہے۔ بیرونی ادارے تو اس شعبے میں کافی متحرک ہیں مگر خود حکومت کی اس جانب بہت زیادہ توجہ نہیں ہے۔ جن ملکوں نے تعلیم کے میدان میں بہتر نتائج حاصل کیے ہیں وہاں اساتذہ کی تربیت کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ’’آفاق‘‘ میں باقاعدہ ایک شعبۂ تحقیق قائم ہے جو دنیا بھر میں ہونے والی تحقیق سے استفادہ کرتا ہے۔ ملائشیا کی ’’انٹرنیشنل کونسل فار ایکسیلنس‘‘ سے ہم باقاعدہ رابطے میں ہیں اور ایک معاہدے کے ذریعے نئی نسل کے کردار کی تعمیر کے حوالے سے ہونے والے بین الاقوامی ٹیسٹ کے لیے باہمی تعاون کیا جاتا ہے۔ امریکا میں اساتذہ کی تربیت کے اداروں سے مشاورت اور شراکت داری بھی ’’آفاق‘‘ کو حاصل ہے جس سے پاکستانی طلبہ اور اساتذہ کی تربیت کے سلسلے میں بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے حوالے سے ہم نے حال ہی میں روس سے بچوں کی کتب کی تحقیق کے ضمن میں ایک معاہدہ کیا ہے۔ اسی طرح برطانیہ میں بھی تعلیمی میدان کے دو بڑے اداروں کے ساتھ معاہدہ کرکے ان کی تحقیق اور تجربات سے استفادے کے حقوق حاصل کیے گئے ہیں۔ ہم نے برطانیہ کی ممتاز کیمبرج یونیورسٹی سے بھی شراکت داری کا معاہدہ کیا ہے تاکہ بچوں، اساتذہ اور والدین کی تربیت کے حوالے سے ان کی تحقیق سے پاکستان میں فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اسی طرح ہم جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات، جرمنی اور دیگر ممالک میں ہونے والے کتب میلوں میں بھی شرکت کرتے ہیں۔
جسارت: کراچی میں گزشتہ دنوں ایک بڑا ’’کتاب میلہ‘‘ منعقد کیا گیا۔ تعلیم کے فروغ میں ایسے کتب میلوں کے کردار کو آپ کسی نظر سے دیکھتے ہیں؟
شاہد وارثی: ایسے کتاب میلوں کا زیادہ سے زیادہ اہتمام ہونا چاہیے، کیوں کہ ان سے نئی نسل میں مطالعے کی عادت کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ بات مسلمہ ہے کہ مطالعے کی عادت تعلیم کے فروغ میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اور اس عادت کو طلبہ میں راسخ کرنے میں کتاب میلہ بہت معاون ثابت ہوتا ہے۔ میری کتاب میلہ کے شرکاء اور قارئین سے یہ اپیل ہے کہ وہ خود بھی زیادہ سے زیادہ کتب کے مطالعے پر وقت صرف کریں اور اپنے دوستوں اور اردگرد کے ماحول میں بھی مطالعے کی عادت بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

حصہ